30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اشھد ان محمدارسول الله جو اذان واقامت میں واقع ہے اُس میں انگوٹھوں کا چُومنا جو مستحب ہے اگر کوئی شخص باوجود قائل ہونے استحباب کے احیاناعمدًا ترك کرے تو وہ شخص قابلِ ملامت ہے یا نہیں ۔
الجواب :
جبکہ مستحب جانتا ہے اور فاعلون پر اصلًا ملامت روا نہیں جانتا فاعلون پر ملامت کرنے والوں کو بُرا جاننا ہے تو خود اگر احیانا کرے احیانا نہ کرے ہرگز قابلِ ملامت نہیں فان المستحب ھذا شانہ(کہ مستحب کادرجہ ومقام یہی ہے۔ ت) والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ (۳۶۶) از مراد آباد مدرسہ اہلسنت بازار دیوان مرسلہ مولوی عبدالودود قاری برکاتی رضوی طالبعلم مدرسہ مذکور ۲ جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ :
حضور پُرنور کے نام مبارك سُن کر ہاتھ چُوم کر آنکھوں پر لگانا کیسا ہے؟
الجواب :
جائزبلکہ مستحب ہے جبکہ کوئی ممانعت شرعی نہ ہو مثلًا حالت خطبہ میں یا جس وقت قرآن مجید سُن رہاہے یا نماز پڑھ رہا ہے ایسی حالتوں میں اجازت نہیں باقی سب اوقات میں جائز بلکہ مستحب ہے جبکہ بہ نیتِ محبت وتعظیم ہو اور تفصیل ہمارے رسالہ منیر العین میں ہے والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ (۳۶۷) ازاوریا ضلع اٹاوہ مدرسہ اسلامیہ مرسلہ عبدالحی صاحب مدرس ۹ شعبان ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اذان کے وقت انگوٹھے چُومنااس کا جو طریقہ ہو اوردعا وغیرہ اور جس جس موقع پر کیا جائے مفصل اطلاع بخشیے۔
الجواب :
جب مؤذن پہلی بار اشھد ان محمدا رسول الله کہے یہ کہے صلی الله علیك یارسول الله جب دوبارہ کہے یہ کہے قرۃ عینی بك یارسول الله اور ہر بار انگوٹھوں کے ناخن آنکھوں سے لگالے آخر میں کہے اللھم متًعنی بالسمع والبصر [1](اے الله ! میری آنکھوں اور سمع کو نفع عطا فرما۔ ت)ردالمحتار عن جامع الرموز عن کنز العباد (ردالمحتار میں جامع الرموز سے اور اس میں کنز العباد سے منقول ہے۔ ت)یہ اذان میں ہے اور تکبیر کے وقت بھی ایسا ہی کرے تو کچھ حرج نہیں کمابیناہ فی رسالتنا(جیسے ہم نے اسے اپنے رسالہ میں بیان کیا۔ ت) والله تعالٰی اعلم
مسئلہ (۳۶۸) از حبیب والہ ضلع بجنور تحصیل وہامپور مرسلہ منظور صاحب ۱۱ شوال ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہمارے یہاں دستور ہے کہ قبل صلاۃ عیدین دو۲ شخص کھڑے ہوکر کانوں میں انگلیاں دے کر الصلٰوۃ یرحمکم الله الصلٰوۃ کئی مرتبہ پڑھتے ہیں آیا یہ فعل جائز ہے یا بدعت ، رسول مقبول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے یہ فعل منقول ہے یا نہیں ؟
الجواب :
جائز ہے کہ منع نہیں اگرچہ منقول نہ ہو جیسے تثویب۔ نہیں نہیں بلکہ خود صاحبِ شریعت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے منقول کہ عیدین میں مؤذن کو حکم فرماتے کہ الصلاۃ جامعۃ پکارے
روی الامام الشافعی عن الزھری قال کان رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم یامر المؤذن فی العیدین ، فیقول الصلاۃ جامعۃ [2]۔
امام شافعی نے زہری سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمعیدین کے لئے مؤذّن کو حکم دیا کرتے تھے (کہ یہ بلند آواز سے کہے) تو وہ کہتے تھے الصّلٰوۃ جامعۃ (جماعتِ نماز تیار ہے)۔ (ت)
لاجرم علمائے کرام نے بالاتفاق عیدین میں صلاۃ پکارنا مستحب فرمایا ، شرح صحیح مسلم امام نووی میں ہے :
یقول اصحابنا وغیرھم انہ یستحب ان یقال الصلاۃ جامعۃ[3]۔
ہمارے علماءِ شوافع اور دیگر علماء کہتے ہیں کہ “ الصلاۃ جامعۃ “ کہنا مستحب ہے۔ (ت)
مرقاۃ علی قاری میں ہے :
یستحب ان ینادی لھا الصلاۃ جامعۃ [4]۔
نماز کے لئے “ الصلٰوۃ جامعۃ “ کہنا مستحب ہے۔ (ت)
وہ الفاظ کہ سائل نے ذکر کئے الصلاۃ یرحمکم اللّٰہ(نماز پڑھو الله تم پر رحم کرے۔ ت) انہیں کے معنی میں ہیں پس بدعت نہیں مستحب ہیں ۔
اقول : وماروی مسلم عن جابر رضی الله تعالٰی عنہ : ان لااذان للصلاۃ یوم الفطر ، ولا اقامۃ ولانداء ولاشیئ فھی فتوی منہ رضی الله تعالٰی عنہ انما روایتہ ماذکر اولًا قال لم یکن یؤذن یوم الفطر ولایوم الاضحی [5] ، ولیس فیہ الانفی الاذان ، وزاد جابر بن سمرۃ وغیرہ نفی الاقامۃ ، وقد انعقد علی نفیھماالاجماع ، ولانظر لخلاف شاذ ، فلاحاجۃ الی ماذکر الامام النووی فی قول جابر رضی الله تعالٰی عنہ ، یتاول علی ان المراد الاذان ، ولااقامۃ ولانداء فی معناہما ولاشیئ من ذلك[6] اھ ومن العجب ماوقع فی الاشعۃ تحت حدیث جابربن سمرۃ رضی الله تعالٰی عنہ صلیت مع رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم العیدین غیرمرۃ ولامرتین بغیر اذان ولااقامۃ ، انہ زاد فی روایۃ ، ولاالصلٰوۃ جامعۃ [7] اھ فلااثرلہ فی صحیح مسلم ، ولوکان لم یدل الاعلی عدم المواظبۃ ، ولم یعارض ماثبت فی مرسل الزھری ، ومرسل الثقۃ حجۃ عندنا۔ والله تعالٰی اعلم۔ $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع