دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-[1]۔

نیکی اور تقوٰی پر ایك دوسرے کی مدد کرو۔ (ت)

اور اگر آپ کی نظر میں یہ مسئلہ صحیح نہیں تو غصہ کی حاجت نہیں بے تکلّف بیان حق فرمائیے اور اس وقت لازم ہے کہ ان دسوں ۱۰ سوالوں کے جداجدا جواب ارشاد ہوں اور ان کے ساتھ ان پانچ سوالوں کے بھی :

(۱۱) اشارت مرجوح ہے یا عبارت اور ان میں فرق کیا ہے؟

(۱۲) کیا محتمل صریح کا مقابل ہوسکتا ہے؟

(۱۳) تصریحات کتب فقہ کے سامنے کسی غیر کتاب فقہ سے ایك استنباط پیش کرنا کیسا ہے خصوصًا استنباط بعید یا جس کا منشا بھی غلط؟

(۱۴) حنفی کو تصریحات فقہ حنفی کے مقابل کسی غیر کتاب حنفی کا پیش کرنا کیسا ہے؟

(۱۵) قرآن مجید کی تجوید فرضِ عین ہے یا نہیں ، اگر ہے تو کیا سب ہندی علما اسے بجالاتے ہیں یا سو۱۰۰ میں کتنے؟ بینوا توجروا۔ والله  تعالٰی اعلم

مسئلہ (۳۵۶) از بدایوں مرسلہ مولوی عبدالمقتدر صاحب ۱۰ ربیع لاول ۱۳۳۲ھ

حضرت جناب مخدوم ومحترم ومکرم ومعظم ادام الله  تعالٰی برکاتکم ، السلام علیکم ورحمۃ الله  وبرکاتہ ، یہ بات کہ اس اذان کا کب سے داخل مسجد ہونامعمول ومروج ہُوا ، یقینی طور سے محقق نہیں ہوا ، علی الباب اذان کا مسنون ہونا اگر کسی کتاب فقہ میں نظر پڑا ہوتو لکھئے اکثر لوگ اس کے طالب ہیں فقط۔

الجواب :

علی الباب اذان مسنون ہونے کی سند فقہی کے اکثر لوگ کیوں طالب ہیں یہ دعوٰی کس کاہے یہاں سے تو دو۲ باتیں کہی گئی ہیں ، ایك یہ کہ “ بین یدیہ “ (خطیب کے سامنے۔ ت) دوسرے یہ کہ داخل مسجد مکروہ ہے ، دونوں کی روشن سندیں کتب فقہ سے دے دی گئیں مسجد کریم میں زمانہ اقدس میں دروازہ شمالی خاص محاذات منبر اطہرمیں تھا کمافی الصحیح البخاری (جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے۔ ت) لہذا درِمسجد پر یہ اذان ہوتی نہ یہ کہ خصوصیت باب ملحوظ تھی یہاں کے فتوے میں جواب سوالِ دہم ملاحظہ ہو سنیت خصوص علی الباب کاکون قائل ہے اذان اول کی سنیت پر زاد عثمان علی الزوراء “ (حضرت عثمان نے مقامِ زورأ پر اذان کا اضافہ کیا۔ ت)سے استناد کرنے والے علما کیااس کے قائل ہیں کہ پہلی اذا بالخصوص بازارمیں ہوناسنت ہے یا ان سے یہ مطالبہ ہوسکتا ہے کہ فقہا نے اس خصوصیتِ بازار کو کہاں مسنون لکھا ہے ، والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ (۳۵۷) مسئولہ قاضی محمد عمران صاحب ازبریلی شہر کہنہ محلہ قاضی ٹولہ ۱۲ ربیع الاول شریف ۱۳۳۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں بروز جمعہ بزمانہ حضرت تاجِ مدینہ ختم المرسلین کَے اذانیں ہواکرتی تھیں اور ان کے کون کون موقع تھے۔ آیا پہلی اذان جو ہوتی ہے وہ کہاں  ہوتی تھی اور دوسری جو اس زمانہ میں وقتِ خطبہ خطیب کے سامنے قریب منبر ہوتی ہے وہ کہاں ہوتی تھی اوراگر حضرت کے زمانہ میں ایك ہی “ اذان علی باب المسجد “ ہوتی تھی تو دوسری جو خطیب کے سامنے قریبِ منبرہوتی ہے وہ کس کے حکم سے شروع ہوئی اور ائمہ کرام کے نزدیك اس کے جواز کی بابت کیا حکم ہے؟ فقط۔

الجواب :

زمانہ اقدس حضورسید عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّممیں صرف ایك اذان ہوتی تھی جب حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّممنبرپرتشریف فرماہوتے حضور کے سامنے مواجہہ اقدس میں مسجد کریم کے دروازے پر۔ زمانہ اقدس میں مسجد شریف کے صرف تین دروازے تھے ایك مشرق کو جو حجرہ شریفہ کے متصل تھاجس میں سے حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّممسجدمیں تشریف لاتے اس کی سمت پر اب بابِ جبریل ہے ، دوسرا مغرب میں جس کی سمت پر اب باب الرحمۃ ہے ، تیسرا شمال میں جو خاص محاذیِ منبر اطہر تھاصحیح بخاری شریف میں انس بن مالك رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے ہے :

دخل رجل یوم الجمعۃ من باب کان وجاہ المنبر ، ورسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم قائم یخطب ، فاستقبل رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم قائما ، فقال یارسول الله الحدیث [2]۔

ایك شخص جمعہ کے دن اس دروازے سے داخل ہوا جو منبرکے سامنے ہے اوررسالتمآب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکھڑے ہوکر خطبہ ارشاد فرمارہے تھے تو وہ شخص آپ کی طرف منہ کرکے کھڑا ہوکر عرض کرنے لگا یا رسول الله   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم۔ الحدیث (ت)

اس دروازے پر اذانِ جمعہ ہوتی تھی کہ منبر کے سامنے بھی ہوئی اور مسجد سے باہر بھی۔ زمانہ صدیق اکبر وعمر فاروق وابتدائے خلافتِ عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُممیں یہی ایك اذان ہوتی رہی جب لوگوں کی کثرت ہُوئی اور شتابی حاضری میں قدرے کسل واقع ہوا امیرالمومنین عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے ایك اذان شروع خطبہ سے پہلے بازارمیں دلوانی شروع کی ، مسجدکے اندراذان کاہونا ائمہ نے منع فرمایا اور مکروہ لکھا ہے اور خلافِ سنّت ہے ، یہ نہ زمانہ اقدس میں تھا نہ زمانہ خلفائے راشدین نہ کسی صحابی کی خلافت میں ، نہ تحقیق معلوم کہ یہ بدعت کب سے ایجاد ہوئی نہ ہمارے ذمہ اس کا جاننا ضرور ، بعض کہتے ہیں کہ ہشام بن عبدالملك مروانی بادشاہ ظالم کی ایجادہے والله  تعالٰی اعلم بہرحال جبکہ زمانہ رسالت وخلافت ہائے راشدہ میں نہ تھی اور ہمارے ائمہ کی تصریح ہے کہ مسجدمیں اذان نہ ہو مسجد میں اذان مکروہ ہے تو ہمیں سنّت اختیار کرنا چاہئے بدعت سے بچنا چاہئے اس تحقیقات سے پہلے کہ سنّت پہلے کس نے بدلی ، الله  تعالٰی ہمارے بھائیوں کو توفیق دے کہ اپنے نبی کریم علیہ افضل الصلاۃ والتسلیم کی سنّت اور اپنے فقہائے کرام کے احکام پر عامل ہوں اور ان کے سامنے رواج کی آڑ نہ لیں وبالله  التوفیق والله  تعالٰی اعلم۔

مسئلہ (۳۵۸)             از پیلی بھیت محلہ غفار خاں مرسلہ حافظ محمد صدیق امام مسجد چھیپیاں ۱۰ ربیع الاول ۱۳۳۲ھ

اذان جو خارج مسجد کہنمسنون ثابت ہوا ہے اب بنظر رفع فساد پھر بدستورِ قدیم اذان منبرکے پاس دینا جائز ہے یا نہیں کیونکہ درصورت عدمِ جواز فساداورفتنے کا احتمال قوی ہے بینوا بالصواب وتوجروا یوم الحساب۔

الجواب :

یہاں دو۲چیزیں ہیں ایك اتیان معروف واجتناب منکر ، دوسرے امر بالمعروف ونہی عن المنکر ، مسجد میں اذان دینا ممنوع ہے اور اس میں دربارِ الٰہی کی بے ادبی ہے تو جو مسجد اپنی ہے اس میں خود مخالفتِ سنتِ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّموارتکابِ بے ادبیِ دربار عزّت کامؤاخذہ اس کی ذات پرہے اور جو مسجد پرائی ہے اوروں کااس میں اختیار ہے اُس کا مواخذہ اُن پر ہے اس کے ذمّے صرف اتنارکھاگیا ہے کہ ازالہ منکر پر قدرت نہ ہوتو زبان سے منع کردے اور اس میں بھی فتنہ وفساد ہوتو دل سے بُراجانے ، پھر اُن کے فعل کا اس سے مطالبہ نہیں ، وقال الله تعالٰی : [3] $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن