30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تومکہ معظمہ میں اذان ٹھیك محل پر ہوتی ہے مدینہ طیبہ میں خطیب سے بیس بلکہ زائد ذراع کے فاصلہ پر ایك بلند مکبّرہ پر کہتے ہیں طریق ہند کے تو یہ بھی خلاف ہوااور وہ جو “ بین یدیہ “ وغیرہ سے منبر کے متصل ہونا سمجھتے تھے اس سے بھی رَد ہوگیا تو ہندی فہم وطریقہ خود ہی دونوں حرم محترم سے جدا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ یہ مکبّرہ قدیم سے ہے یا بعدکو حادث ہوا اگر قدیم ہے تو مثل منارہ ہواکہ وہ اذان کے لئے مستثنٰی ہے جیسا کہ غنیہ سے گزرا ، اور اسی طرح خلاصہ وفتح القدیر وبرجندی کے صفحات مذکورہ میں ہے کہ اذان منارہ پر ہو یا مسجد سے باہر مسجد کے اندر نہ ہو۔ اس کی نظیر موضع وضو وچاہ ہیں کہ قدیم سے جُدا کردئے ہوں نہ اس میں حرج نہ اس میں کلام ، اور اگر حادث ہے تو اس پر اذان کہنا بالائے طاق پہلے یہی ثبوت دیجئے کہ وسط مسجد میں ایك جدید مکان ایساکھڑا کردینا جس سے صفیں قطع ہوں کس شریعت میں جائز ہے قطع صف بلاشبہہ حرام ہے ، رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں : من قطع صفا قطعہ الله [1]۔ (جو صف کو قطع کرے الله اُسے قطع کردے) رواہ النسائی والحاکم بسند صحیح عن ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما۔ نیز علماء نے تصریح فرمائی کہ مسجد میں پیڑ بونا منع ہے کہ نمازکی جگہ گھیرے گا نہ یہ کہ مکبّرہ کہ چار جگہ سے جگہ گھیرتا ہے اور کتنی صفیں قطع کرتا ہے بالجملہ اگر وہ جائز طور پر بنا تو مثل منارہ ہے جس سے مسجدمیں اذان ہونا نہ ہو اور ناجائز طور پر ہے تو اسے ثبوت میں پیش کرنا کیا انصاف ہے۔ اب ہمیں افعال موذنین سے بحث کی حاجت نہیں مگر جوابِ سوال کو گزارش کہ ان کا فعل کیاحجت ہو حالانکہ خطیب خطبہ پڑھتا ہے اور یہ بولتے جاتے ہیں جب وہ صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکا نام لیتاہے یہ بآواز ہر نام پر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکہتے جاتے ہیں جب وہ سلطان کا نام لیتا ہے یہ بآواز دُعا کرتے ہیں اور یہ سب بالاتفاق ناجائز ہے صحیح حدیثیں اور تمام کتابیں ناطق ہیں کہ خطبہ کے وقت بولناحرام ہے۔ درمختار وردالمحتار جلد اول صفحہ ۸۵۹ :
اماما یفعلہ المؤذنون حال الخطبۃ من الترضی ونحوہ ، فمکروہ اتفاقا [2]۔
یعنی وہ جو یہ مؤذن خطبے کے وقت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُوغیرہ کہتے جاتے ہیں یہ بالاتفاق مکروہ ہے۔
یہی مؤذن نماز میں امام کی تکبیر پہنچانے کو جس وضع سے تکبیر کہتے ہیں اسے کون عالم جائزکہہ سکتا ہے مگر سلطنت کے وظیفہ داروں پر علما کا کیا اختیار۔ علمائے کرام نے تو اس پر یہ حکم فرمایا کہ تکبیر درکنار اس طرح تو اُن کی نمازوں کی بھی خیر نہیں ، دیکھو فتح القدیر جلد اول صفحہ ۲۶۲ و ۲۶۳ ودرمختار وردالمحتار صفحہ ۲۱۵ خود مفتیِ مدینہ منورہ علامہ سید اسعد حسینی مدنی تلمیذ علامہ صاحب مجمع الانہر رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی نے تکبیر میں اپنے یہاں کے مکبروں کی سخت بے اعتدالیاں تحریر فرمائی ہیں دیکھو فتاوٰی اسعدیہ جلد اول صفحہ۸ آخر میں فرمایا ہے :
اماحرکات المکبرین وصنعھم ، فانا ابرأالی الله تعالٰی منہ [3]۔
یعنی ان مکبروں کی جو حرکتیں جو کام ہیں میں ان سے الله تعالٰی کی طرف برأت کا اظہار کرتا ہوں ۔
اور اُوپر اس سے بڑھ کر لفظ لکھا ، پھر کسی عاقل کے نزدیك اُن کا فعل کیاحجت ہوسکتا ہے نہ وہ علماء ہیں نہ علماء کے زیرحکم۔
(۷) بیشك احادیث میں سنّت زندہ کرنے کا حکم اور اُس پر بڑے ثوابوں کے وعدے ہیں انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی حدیث میں ہے کہ رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں :
من احیاسنتی ، فقدا حبنی ، ومن احبنی کان معی فی الجنۃ [4]۔ اللھم ارزقنا۔
جس نے میری سنت زندہ کی بیشك اُسے مجھ سے محبت ہے اور جسے مجھ سے محبت ہے وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔ اے الله ! ہمیں یہ رفاقت عطا فرما ، رواہ السجزی فی الابانۃ والترمذی بلفظ من احب (اسے سجزی نے ابانۃ میں روایت کیا اور ترمذی نے “ من احب “ کے الفاظ سے روایت کیا ہے۔ ت)
بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی حدیث ہے رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں :
من احیاسنۃ من سنتی قدامیتت بعدی فان لہ من الاجرمثل اجور من عمل بھامن غیران ینقص من اجورھم شیئا [5]۔ رواہ الترمذی ورواہ ابن ماجۃ عن عمروبن عوف رضی الله تعالٰی عنہ۔
جو میری کوئی سنت زندہ کرے کہ لوگوں نے میرے بعد چھوڑدی ہو جتنے اس پر عمل کریں سب کے برابر اسے ثواب ملے اور ان کے ثوابوں میں کچھ کمی نہ ہو۔ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور اس کو ابن ماجہ نے حضرت عمروبن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کیا ہے۔
ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکی حدیث ہے رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں :
من تمسك بسنتی عن فسادا متی فلہ اجر مائۃ شھید [6]۔ رواہ البیھقی فی الزھد۔
جو فسادِ اُمت کے وقت میری سنت مضبوط تھامے اسے سَو شہیدوں کا ثواب ملے۔ اسےبیھقی نے زہد میں روایت کیا۔
اور ظاہر ہے کہ زندہ وہی سنّت کی جائے گی جو مُردہ ہوگئی اور سنت مُردہ جبھی ہوگی کہ اُس کے خلاف رواج پڑ جائے۔
(۸) احیاء سنت علما کا تو خاص فرض منصبی ہے اور جس مسلمان سے ممکن ہو اس کے لئے حکم عام ہے ہر شہر کے مسلمانوں کو چاہئے کہ اپنے شہر یا کم ازکم اپنی اپنی مساجد میں اس سنّت کو زندہ کریں اور سَوسَو شہیدوں کا ثواب لیں اور اس پر یہ اعتراض نہیں ہوسکتاکہ کیاتم سے پہلے عالم نہ تھے یوں ہوتو کوئی سنّت زندہ ہی نہ کرسکے ، امیرالمومنین عمر بن عبدالعزیزرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے کتنی سُنتیں زندہ فرمائیں اس پر ان کی مدح ہُوئی نہ کہ الٹا اعتراض کہ تم سے پہلے تو صحابہ وتابعین تھے رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم۔
(۹) حوض کہ بانیِ مسجد نے قبل مسجدیت بنایااگرچہ وسط مسجد میں ہو وہ اوراُس کی فصیل ان احکام میں خارج از مسجد ہے لانہ موضع اعد للوضوء کماتقدم(کیونکہ یہ جگہ وضو کیلئے بنائی گئی ہے جیسا کہ گزر چکا ہے۔ ت)
(۱۰) لکڑی کا منبر بنائیں کہ یہی سنتِ مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمہے اسے گوشہ محراب میں رکھ کر محاذات ہوجائے گی اوراگر صحن کے بعد مسجد کی بلند دیوار ہے تواُسے قیامِ مؤذن کے لائق تراش کر باہر کی جانب جالی یا کواڑ لگالیں ۔
مسلمان بھائیو! یہ دین ہے کوئی دنیوی جھگڑا نہیں دیکھ لوکہ تمہارے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی سنت کیا ہے ، تمہاری مذہبی کتابوں میں کیالکھا ہے۔
حضرات علمائے اہلسنت سے معروض:حضرات!احیائے سنت آپ کا کام ہے اس کا خیال نہ فرمائیے کہ آپ کے ایك چھوٹے نے اسے شروع کیاوہ بھی آپ ہی کا کرنا ہے ، آپ کے رب کا حکم ہے :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع