30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۱) رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے زمانہ اقدس میں یہ اذان مسجد سے باہر دروازے پر ہوتی تھی۔ سنن ابی داؤد شریف جلد اول صفحہ ۱۵۵ میں ہے :
عن السائب بن یزید رضی الله تعالٰی عنہ قال کان یؤذن بین یدی رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم اذاجلس علی المنبر یوم الجمعۃ علی باب المسجد وابی بکر وعمر[1]۔
سائب بن یزید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے فرمایا جب رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمجمعہ کے دن منبر پر تشریف رکھتے تو حضور کے سامنے مسجد کے دروازے پر اذان ہوتی اور ایسا ہی ابوبکر وعمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے زمانے میں ۔
اور کبھی منقول نہیں کہ حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمیا خلفائے راشدین نے مسجد کے اندر اذان دلوائی ہو ، اگر اس کی اجازت ہوتی تو بیان جواز کے لئے کبھی ایسا ضرور فرماتے۔
(۲)جوابِ اول سے واضح ہوگیا کہ خلفائے راشدین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمسے بھی (اذان کا) مسجد کے باہر ہی ہونا مروی ہے۔ اور یہیں سے ظاہر ہوگیا کہ بعض صاحب جو “ بین یدیہ “ سے مسجد کے اندر ہونا سمجھتے ہیں غلط ہے۔ دیکھو حدیث میں “ بین یدی “ ہے اور ساتھ ہی “ علٰی باب المسجد “ ہے۔ یعنی حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّموخلفائے راشدین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکے چہرہ انور کے مقابل مسجد کے دروازے پر ہوتی تھی بس اسی قدر “ بین یدیہ “ کے لئے درکار ہے۔
(۳)بیشك فقہ حنفی کی معتمد کتابوں میں مسجد کے اندر اذان کو منع فرمایا اور مکروہ لکھا ہے۔ فتاوٰی قاضی خان طبع مصر جلد اول صفحہ۷۸ لایؤذن فی المسجد [2] (مسجد کے اندر اذان نہ دی جائے)فتاوی خلاصہ قلمی صفحہ ۶۲ لایؤذن فی المسجد [3] (مسجد میں اذان نہ ہو) خزانۃ المفتین قلمی فصل فی الاذان لایؤذن فی المسجد [4] (مسجد کے اندر اذان نہ کہیں )خزانۃ المفتین فصل فی الاذان (قلمی نسخہ)ص ۱۹ فتاوٰی عالمگیری طبع مصر جلد اول صفحہ ۵۵ لایؤذن فی المسجد [5] (مسجد کے اندر اذان منع ہے)بحرالرائق طبع مصر جلد اول صفحہ ۲۶۸ لایؤذن فی المسجد [6](مسجد کے اندر اذان کی ممانعت ہے)شرح نقایہ علامہ برجندی صفحہ ۸۴ (فیہ اشعار بانہ لایؤذن فی المسجد [7](اس میں اس بات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ مسجد میں اذان نہ دی جائے۔ ت)امام صدرالشریعۃ کے کلام میں اس پر تنبیہ ہے کہ اذان مسجد میں نہ ہو) غنیہ شرح منیہ صفحہ ۳۵۷ الاذان انما یکون فی المئذنۃ اوخارج المسجد والاقامۃ فی داخلہ [8] (اذان نہیں ہوتی مگر منارہ یا مسجد سے باہر اور تکبیر مسجد کے اندر)فتح القدیر طبع مصر جلد اول صفحہ ۱۷۱ قالوا لایؤذن فی المسجد[9] (علماء نے مسجد میں اذان دینے کو منع فرمایا ہے) ایضا باب الجمعۃ صفحہ ۴۱۴ ھو ذکر الله فی المسجد ای فی حدودہ لکراھۃ الاذان فی داخلہ [10] (جمعہ کا خطبہ مثل اذان ذکرِ الٰہی ہے مسجد میں یعنی حدودِ مسجد میں اس لئے کہ مسجد کے اندر اذان مکروہ ہے)طحطاوی علی مراقی الفلاح طبع مصر صفحہ ۱۲۸ یکرہ ان یؤذن فی المسجد کمافی القھستانی عن النظم [11] (یعنی نظم امام زندویسی پھر قہستانی میں ہے کہ مسجد میں اذان مکروہ ہے۔ )یہاں تك کہ اب زمانہ حال کے ایك عالم مولوی عبدالحی صاحب لکھنوی عمدۃ الرعایۃ حاشیہ شرح وقایہ جلد اول صفحہ ۲۴۵ میں لکھتے ہیں : “ قولہ بین یدیہ “ ای مستقبل الامام فی المسجد کان اوخارجہ والمسنون ھو الثانی[12] (یعنی بین یدیہ کے معنی صرف اس قدر ہیں کہ امام کے رُوبرو ہو مسجد میں خواہ باہر اور سنّت یہی ہے کہ مسجد کے باہر ہو )جب وہ تصریح کرچکے کہ باہر ہی ہونا سنّت ہے تو اندر ہونا خلافِ سنّت ہُوا تو اُس کے یہ معنی نہیں ہوسکتے کہ چاہے سنّت کے مطابق کرو چاہے سنت کے خلاف دونوں باتوں کا اختیار ہے ایسا کون عاقل کہے گا بلکہ معنی وہی ہیں کہ “ بین یدیہ “ (امام کے سامنے۔ ت) سے یہ سمجھ لینا کہ خواہی نخواہی مسجد کے اندر ہو غلط ہے اُس کے معنے صرف اتنے ہیں کہ امام کے روبرو اندر باہر کی تخصیص اس لفظ سے مفہوم نہیں ہوتی لفظ دونوں صورتوں پر صادق ہے اور سنّت یہی ہے کہ اذان مسجد کے باہر ہو تو ضرور ہے کہ وہی معنے لیے جائیں جو سنت کے مطابق ، بہرکیف اتنا ان کے کلام میں صاف مصرح ہے کہ اذانِ ثانی جمعہ بھی مسجد کے باہرہی ہونا مطابق سنّت ہے تو بلاشبہہ مسجد کے اندر ہونا خلافِ سنّت ہے ولله الحمد۔
(۴) ظاہر ہے کہ حکم حدیث وفقہ کے خلاف رواج پر اَڑا رہنا مسلمانوں کو ہرگز نہ چاہئے۔
(۵) ظاہر ہے جو بات رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّموخلفائے راشدین واحکام فقہ کے خلاف نکلی ہو وہی نئی بات ہے اُسی سے بچنا چاہئے نہ کہ سنت وحکم حدیث وفقہ سے۔
(۶) مکہ معظمہ میں یہ اذان کنارہ مطاف پر ہوتی ہے رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے زمانہ اقدس میں مسجد حرام شریف مطاف ہی تك تھی مسلك متقسط علی قاری طبع مصر صفحہ ۲۸۰ :
المطاف ھو ماکان فی زمنہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم مسجدا [13]
(رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی ظاہر ی حیات میں مسجد حرام مطاف تك ہی تھی)۔ (ت)
تو حاشیہ مطاف بیرون مسجد ومحل اذان تھا اور مسجد جب بڑھالی جائے تو پہلے جو جگہ اذان یا وضو کے لئے مقرر تھی بدستور مستثنٰی رہے گی ولہذا مسجد اگر بڑھاکر کنواں اندر کرلیا وہ بند نہ کیا جائے گا جیسے زمزم شریف ، حالانکہ مسجد کے اندر کنواں بنانا ہرگز جائز نہیں ، فتاوٰی قاضیخان وفتاوٰی خلاصہ وفتاوٰی علمگیریہ صفحہ۴۰ :
تکرہ المضمضۃ والوضوء فی المسجد الاان یکون ثمہ موضع اعد لذلك ولایصلی فیہ $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع