دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے نیابت کی پھر اعلحٰضرت اور اُن کے والد ماجد قدس سرہ ، کے فتاوٰی ومستقل تصانیف اس مجلس مبارك کے استحباب واستحسان میں موجود ہیں ، معتقدینِ اعلحٰضرت اس تمام آفتاب عالمتاب سے معاذالله  آنکھیں بند کرکے کوّوں کی شہادت پر دیوبندیوں کی مان لیں گے کہ اعلحٰضرت کے نزدیك معاذالله  مجلس مبارك حرام بلکہ کفر ہے تف تف ہزارتف مسلمانو! دیوبندی صاحبوں کی دیوبندگی دیکھی ، پھر دعوائے دین ودیانت باقی ہے ، سبحٰن الله  یہ منہ اور یہ دعوٰی خیر اتنی اچھی کہی کہ معتقدینِ اعلحٰضرت کے لئے خوف کا مقام ہے الحمدلله خوف کا مقام اولیاء وصلحاء کو ملتا ہے مگر دیوبندیوں کو نہ خوفِ خدا نہ شرمِ رسول دِن دہاڑے مسلمانوں کی آنکھوں میں خاك جھونکتے پھرتے ہیں کہ اُن کو دھوکے دیں اُن کے عقائد کو ضرور پہنچائیں ان کے اکابر کی نیك نامی کو دھبّا لگائیں مگر بحمدالله  ان کی خاك اُلٹ کر اُنہیں کے منہ اور اُن کے پیشوا حضرت گنگوہی صاحب کی آنکھوں میں پڑی اور پڑتی ہے حق بحقدار رسید۔

گیارھویں خیانت خیر یہ “  تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌؕ- “ جیسی تھیں اب ان کی وہ لیجئے جس کے آگے یہ اور ان جیسی سَو خیانتیں اور ہوں تو کان ٹیك دیں وہ کیا وہ رسا لہ خبیثہ سیف النقی کے کوتك کہ اعلحٰضرت مجدد المائۃ الحاضرہ دام ظلہم العالی کے حضرات عالیہ والد ماجد وجدِ امجد وپیر ومرشد وحضور پُرنور سیدنا غوثِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکے نام سے کتابیں تراش لیں ان کے مطبع گھڑلئے صفحے دل سے بنالیئے عبارتیں خود ساختہ لکھ کر اُن کی طرف بے دھڑك نسبت کرکے چھاپ دیں اور سرِبازار اپنی حیا کی اوڑھنی اتار ، آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بَك دیا کہ آپ تو یوں کہتے ہیں اور آپ کے والد ماجد وجدامجد وپیر ومرشد وغوث اعظم فلاں فلاں کتابوں مطبوعات فلاں فلاں مطابع کے فلاں فلاں صفحہ پر یہ فرماتے ہیں حالانکہ دنیا میں نہ اُن کتابوں کا پتا نہ نشان سب بالکل افترا اور من گھڑت ، جرأت ہوتو اتنی تو ہو ، اس کا حال العذاب البئیس وابحاثِ اخیرہ ورماح القہار وغیرہا میں بارہا چھاپ دیا ، اب پھر سُن لیجئے اسی رسالہ خبیثہ کے صفحہ تین پر ایك کتاب بنام تحفۃ المقلدین اعلحٰضرت کے والد ماجد اقدس حضرت مولٰنا مولوی محمد نقی علی خان صاحب قدس سرہ العزیز کے نام سے گھڑلی حالانکہ حضرت ممدوح کی کوئی تصنیف اس نام کی نہیں عــہ۔

مسئلہ (۳۵۳) از نجیب آباد ضلع بجنور محل مجید گنج مرسلہ کریم بخش صاحب ٹھیکیدار ۱۷ جمادی الاولٰی ۱۳۳۱ھ

ایك بار اذان ہوچکی ہے کہ کسی دُوسرے شخص نے لاعلمی میں پھر اذان پڑھنا شروع کردی درمیان میں کسی ہمسایہ نے اطلاع دی کہ پڑھی جاچکی ہے اب یہ شخص معًا رك جائے یا اذان کو پُورا پڑھے۔

الجواب :

اگر مسجد مسجدِ محلہ ہے جہاں کے لئے امام وجماعت متعین ہے اور جماعت اولٰی ہوچکی اور اب کچھ لوگ جماعت کو آئے اور ان کو اذان کی خبر نہ تھی اور شروع کی اور اطلاع ہوئی تو معًا رك جائے اور اگر مسجد عام ہے ، مثلًا مسجد بازار وسراواسٹیشن وجامع تو ہرگز نہ رُکے اذان پُوری کرے ممانعت جہالت ہے اور اگر مسجد محلہ یا عام ہے اور جماعت اولٰی ابھی نہ ہُوئی تو اختیار ہے چاہے رك جائے یا پُوری کرے اور اتمام اولٰی ہے۔

وذلك لان فی الاولی اعادۃ اذان لجماعۃ ثانیۃ فی مسجد محلۃ 'وھو لایجوز' وفی الثانیۃ اعادۃ اذان لجماعۃ اخری فی مسجد شارع 'وھو مسنون' فلایترک' وفی الثالثۃ لانھی ولاطلب فخیر واتمام ذکر شرع فیہ افضل لاسیما وقد استحسنواالتثویب۔

والله سبحنہ وتعالی اعلم۔                                                                                                                                                         

اور یہ اس لئے ہے کہ پہلی صورت میں محلے کی مسجد میں دوسری جماعت کے لئے دوبارہ اذان دی جارہی ہے جو کہ ممنوع ہے اور دوسری صورت میں شارع عام کی مسجد میں دوسری جماعت کے لئے اذان کا اعادہ ہے اور یہ مسنون ہے ، تیسری صورت میں نہ منع ہے اور نہ حکم ، پس اب اختیار ہے ، اور جب شروع کرلی گئی تو اب اس سے مکمل کرنا افضل ہے خصوصًا اس حال میں جبکہ فقہأ نے “ تثویب “ کے عمل کو مستحسن قرار دیا ہے۔ (ت)

 

عــہ یہ یہیں تك ناتمام تھا لیکن مفید تھا اس لئے چھاپ دیا ۱۲

مسئلہ (۳۵۴) از مقام کبیر کلاں ڈاك خانہ خاص علاقہ ڈہائی ضلع بلند شہر مرسلہ عطاء الله  ٹھیکیدار۲۹ صفر المظفر ۱۳۳۲ھ
اقامت صف کے دہنی جانب کہی جائے یا بائیں ، اس میں کوئی فضیلت دہنے بائیں کی ہے یا نہیں فقط۔

الجواب

اقامت امام کی محاذات میں کہی جائے یہی سنّت ہے وہاں جگہ نہ ملے تو دہنی طرف لفضل الیمین عن الشمال (کیونکہ دائیں جانب کو بائیں پر فضیلت ہے۔ ت) ورنہ بائیں طرف لحصول المقصود بکل حال (کیونکہ مقصود ہر حال میں حاصل ہوتا ہے۔ ت) والله تعالٰی اعلم

مسئلہ (۴۵۵) کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ :

(۱)جمعہ کی اذان ثانی جو منبر کے سامنے ہوتی ہے رسول الله  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے زمانہ میں مسجد کے اندر ہوتی تھی یا باہر؟

(۲)خلفائے راشدین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکے زمانہ میں کہاں ہوتی تھی؟

(۳)فقہ حنفی کی معتمد کتابوں میں مسجد کے اندر دینے کو منع فرمایا اور مکروہ لکھا ہے یا نہیں ؟

(۴)اگر رسول الله  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّماور خلفائے راشدین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکے زمانہ میں اذان مسجد کے باہر ہوتی تھی اور ہمارے اماموں نے مسجد کے اندر اذان کو مکروہ فرمایا ہے تو ہمیں اسی پر عمل لازم ہے یا رسم ورواج پر ، اور جو رسم ورواج حدیث شریف واحکامِ فقہ سب کے خلاف پڑجائے تو وہاں مسلمانوں کو پیرویِ حدیث وفقہ کا حکم ہے یا رسم ورواج پر اڑارہنا؟

(۵)نئی بات وہ ہے جو رسول الله  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّموخلفائے راشدین واحکام ائمہ کے مطابق ہو یا وہ بات نئی ہے جو اُن سب کے خلاف لوگوں میں رائج ہوگئی ہو؟

(۶)مکہ معظمہ ومدینہ منورہ میں یہ اذان مطابق حدیث وفقہ ہوتی ہے یا اس کے خلاف ، اگر خلاف ہوتی ہے تو وہاں کے علمائے کرام کے ارشادات دربارہ عقائد حجت ہیں یا وہاں کے تنخواہ دار مؤذنوں کے فعل اگرچہ خلافِ شریعت وحدیث وفقہ ہوں ؟

(۷)سنت کے زندہ کرنے کا حدیثوں میں حکم ہے اور اس پر سَو شہیدوں کے ثواب کا وعدہ ہے یا نہیں ، اگر ہے تو سنت زندہ کی جائے گی یا سنت مردہ۔ سنت اُس وقت مُردہ کہلائے گی جب اُس کے خلاف لوگوں میں رواج پڑ جائے یا جو سنت خود رائج ہو وہ مُردہ قرار پائے گی؟

(۸)علماء پر لازم ہے یا نہیں کہ سنتِ مردہ زندہ کریں ، اگر ہے تو کیا اُس وقت اُن پر یہ اعتراض ہوسکے گاکہ کیا تم سے پہلے عالم تھے ، اگر یہ اعتراض ہوسکے گا تو سنت زندہ کرنے کی صورت کیا ہوگی؟

(۹)جن مسجدوں کے بیچ میں حوض ہے اُس کی فصیل پر کھڑے ہوکر منبر کے سامنے اذان ہوتو بیرون مسجد کا حکم اداہوجائیگا یا نہیں ؟

(۱۰)جن مسجدوں میں منبر ایسے بنے ہیں کہ ان کے سامنے دیوار ہے اگر مؤذن باہر اذان دے تو خطیب کا سامنا نہ رہے گا وہاں کیا کرنا چاہئے؟ امید کہ دسوں مسئلوں کا جداجدا جواب مفصل مدلل ارشاد ہو ، بینوا توجروا۔

الجواب :

اللھم ھدایۃ الحق والصّواب

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن