30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تیسری خیانت اس کے بعد فتوائے مبارکہ میں یہ عبارت تھی : اُسی میں عنایہ سے ہے :
احدث المتاخرون التثویب بین الاذان والاقامۃ علی حسب ماتعارفوہ فی جمیع الصلوات سوی المغرب مع ابقاء الاول یعنی الاصل وھوتثویب الفجروماراٰہ المسلمون حسنا فھو عندالله حسن [1]۔
متاخرین نے اصل یعنی تثویبِ فجر کو باقی رکھتے ہوئے معروف طریقہ پر مغرب کے علاوہ ہر نماز کی اذان واقامت کے درمیان متعارف طریقہ پر تثویب کو جاری کیا ہے ، اور جسے مسلمان بہتر جانیں وہ الله تعالٰی کے ہاں بھی بہتر ہوتا ہے۔ (ت)
یہ بھی اسی جرم پر اڑالی گئی کہ اُس میں بھی اس کی دلیل کو علی حسب ماتعارفوہ موجود تھا۔
چوتھی خیانت فتوائے مبارکہ میں تھایہ پانچوں اعتقاد باطل وضلال ہیں اس میں ساتوں اعتقاد بنالیے کہ اگر پانچ اعتقاد اخیر جو مسلمانوں کی طرف نسبت کیے ثابت نہ ہوسکیں تو اگلی دو۲ باتوں کو بھی بزورِ خیانت اعتقاد میں داخل کرکے مسلمانان بہڑوچ اہل سنّت کا فاسد العقیدہ ہونا بتاسکیں ۔
پانچویں خیانت اس کے اخیر میں اعلحٰضرت کی مہر یہ چھاپی محمدی سنی حنفی قادری عبدالمصطفٰی احمد رضا خان ۱۳۰۱ یہ مہر بھی اپنی طرف سے بنالی یہ مہر ۱۳۲۷ھ میں گم ہوگئی تھی تو ۱۳۲۹ھ کے فتوے میں کہاں سے آئی بلکہ اس پر ۱۳۲۸ھ کی مہر تھی جواصل مسئلہ کے جواب پر اخیرمیں آپ ملاحظہ کریں گے اس میں شعرکندہ ہے : ؎
یامصطفٰی یارحمۃ الرحمٰن
یامرتضٰی یاغوثنا الجیلانی
غالبًا انہیں کلمات طیبہ کی ناگواری اشاعت کنندہ کو تبدیل مہر پر باعث ہُوئی۔
چھٹی خیانت ایك ان کی خیانتوں پر کیا تعجب عام دیوبندیوں خصوصًا ان کے بڑوں کا قدیم سے یہی مسلك ہے ، ایك صاحب مذہبًا دیوبندی سکنا رام پوری سُنّی بن کر یہاں آئے بعض مسائل لکھوائے نقل کے لئے فتاوائے مبارکہ کی کتاب الحظر عطا ہُوئی ایك مسئلہ میں جس کا سوال محمد گنج سے عبدالقادر خان رام پوری نے بھیجا تھا اور اس میں پانچ سوال تھے ، سوال چہارم یہ تھا تین برس کے بچّے کی فاتحہ دوجے کی ہونا چاہئے یا سوم کی ، اس کا جواب اعلحٰضرت نے یہ ارشاد فرمایا تھا شریعت میں ثواب پہنچانا ہے دوسرے دن ہو یا تیسرے دن ، باقی یہ تعینیں عرفی ہیں جب چاہیں کریں انہیں دنوں کی گنتی ضروری جاننا جہالت ہے والله تعالٰی اعلم۔ ان بزرگ نے بین السطور میں موٹے قلم سے کہ وہی اس وقت ایك بچّے سے انہیں مل سکا جہالت ہے کہ بعد لفظ وبدعت اور بڑھادیا وہ اب تك فتاوائے مبارکہ میں غیر قلم کا سطر سے اوپر لکھا ہوا موجود ہے فتاوائے مبارکہ کی جلد ہشتم کتاب الحظر ص ۳۱۰ ملاحظہ ہو لطف یہ کہ عیب بھی کرنے کو ہنر چاہئے جہالت سے یہ لفظ جہالت ہے کے بعد بڑھایا اور وبدعت عطف واو سے رکھا کہ جملہ اردو پر جملہ فارسی کا عطف ہوگیا جو ہرگز اعلحٰضرت بلکہ کسی زبان دان کا بھی محاورہ نہیں ، افترأ کرنا تھا تو لفظ جہالت کے بعد وبدعت بڑھایا ہوتا کہ لفظ مفرد عربی پر اس کے مثل کا عطف واؤ سے ہوتا ، طرہ یہ کہ مجموعہ فتاوٰی گنگوہی صاحب حصہ اول میں ان کے حواریوں نے مجدد المائۃ الحاضرہ کا یہ فتوٰی مع زیادت مفتری چھاپ دیا اور اس میں ص۱۵۰ پر یوں بنادیا جہالت وبدعت ہے ان کو سُوجھی کہ عبارت یوں ہونی چاہئے تھی۔
ساتویں خیانت ظلم پر ظلم یہ کہ فہرست میں یوں لکھا فتوائے مولوی احمد رضا خاں صاحب بریلوی تعینِ سوم کی جہالت اور بدعت ہونے میں ، حالانکہ فتوائے اقدس میں تصریح تھی جب چاہیں کریں ہاں دوجے یا تیجے کی گنتی ضروری جاننے کو ضرور جہالت فرمایا تھا کہاں یہ کہ خاص اس تعین کو ضروری جانناجہالت ہےاورکہاں یہ کہ سرے سےتعین ہی جہالت وبدعت ہے اُن رام پوری دیوبندی نے خیانت لفظی کی تھی ان دیوبندی دیوبندیوں نے دیکھا کہ کام اب بھی نہ چلا اصل سوم تو جائز ہی رہا ، لہذا یوں اس کے ساتھ خیانت معنوی کا گنٹھ جوڑا ملایا ، غرض ؎
بیباك ہو عیار ہو جو آج ہو تم ہو
بندے ہو مگر خوف خدا کا نہیں رکھتے
آٹھویں خیانت یونہی مجموعہ گنگوہی صاحب حصہ دوم صفحہ ۹۷ پر مجدد المائۃ الحاضرہ کا ایك فتوٰی چھاپا جس میں حاصل سوال یہ تھا کہ جو شخص بے نماز شراب خور داڑھی منڈا گستاخی سے جھوٹی روایتیں پڑھنے والا شریعت پر ہنسنے والا ہو ایسے شخص سے مولود شریف پڑھانا یا منبر پر تعظیمًا بٹھانا جائز ہے یا نہیں ، اور حاصل ارشاد جواب یہ تھا کہ افعال مذکورہ سخت کبائر اور مرتکب اشد فاسق اور مستحق نار وغضب الرحمن ہے اُسے منبر پر بٹھانا اُس سے مجلس مبارك پڑھوانا حرام ہے اور ذکر شریف حضور سید عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع