30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
التسلیم بعد الاذان حدث فی عشاء لیلۃ الاثنین ثم یوم الجمعۃ ثم بعدعشر سنین فی الکل الاالمغرب ثم فیھا مرتین وھو بدعۃ حسنۃ[1]۔
اذان کے بعد صلاۃ وسلام ہر سوموارکو عشاء کی نماز کے موقعہ پرپڑھا جاتا تھا پھرجمعہ کے دن شروع ہوا اس کے دس سال بعد مغرب کے علاوہ ہر نماز کی اذان کے بعد شروع کردیاگیا پھر مغرب میں بھی دو دفعہ پڑھاجانا شروع ہوگیا اور بدعتِ حسنہ ہے۔ (ت)
اُسی میں ہے :
یؤذن ثانیا بین یدی الخطیب افاد بوحدۃ الفعل ان المؤذن اذاکان اکثر من واحد اذنوا واحدا بعد واحد ولایجتمعون کمافی الجلابی والتمرتاشی ذکرہ القھستانی[2]۔ والله تعالٰی اعلم
اور مؤذن دُوسری بار خطیب کے سامنے اذان دے (جب خطبہ پڑھنے کے لئے وہ منبر پر بیٹھے)ماتن نے فعلِ مؤذن کو بصیغہ واحد لاکر افادہ کیا کہ جب مؤذن ایك سے زیادہ ہوں تو اذان یکے بعد دیگرے کہیں سب مل کر نہ کہیں ۔ جیسا کہ جلابی اور تمرتاشی میں ہے۔ اس کو قہستانی نے ذکر کیا ہے۔ (ت)
مسئلہ (۳۵۲) اوّلًا از شہر بہڑوچ لال بازار چنار واڑ مرسلہ عباس میاں صاحب ومولوی علی میاں صاحب ابن مولوی محمد نصرالله صاحب صدیقی۔
ثانیًا از احمد آباد محلہ خان پور متصل درگاہ حضرت شاہ وجیہ الدین صاحب علوی مرسلہ جناب شاہ سید احمد صاحب ابن سید غلام وجیہ الدین صاحب علوی ۱۹ جمادی الاولی ۱۳۳۰ھ
مرشدناجناب مولٰناحاجی مولوی احمد رضاخان صاحب بعد سلام علیك کے بندہ ، غلام خاکسار عباس میاں کی طرف سے عرض خدمت بابرکات میں یہ ہے کہ ایك سال سے یہ فتنہ ہمارے شہر میں پڑاہے کہ جو شخص صلاۃِ جمعہ کہے وہ گناہ کرتاہے اوربدعتی اُس کو کہتے ہیں اور گمراہ جانتے ہیں اور دلیلیں مولوی خُرم علی اور ترجمہ غایۃ الاوطار سے اور مأتہ مسائل کی پیش کرتے ہیں اورمولوی اشرف علی اور گنگوہی کی کتابوں کی سند لاتے ہیں اور آپ کا فتوٰی جو اس خط کے ہمراہ رکھا ہے جس کی مہر میں ۱۳۰۱ھ ہے وہ ہر ایك کو دکھاتے ہیں حضور جو آپ نے سات۷اعتقاد باطل وضلال لکھے ہیں وہ ہماراکہنا نہیں فقط اتنا ہے کہ روزِ جمعہ کوندا جو معمول مدتِ مدید سے چلاآتا ہے اور اس کے لئے اول ایك رسالہ نور الشمعہ چھپ گیا ہے اس میں لکھا ہے یہ ندا جائز بلکہ مستحسن ہے اور جناب مولوی نذیر احمد خان صاحب احمد آبادی نے ایك فتوٰی اس ندا کے جواز میں دیا ہے اور تمام کہتے ہیں مدت مدیدسے اس کو اب یہ شخص منع کرتااوربدعتی کہناگناہ بتانا ہے اور جھُوٹے سوال لکھتا اور جواب منگواتا ہے غلام گنہگار ہے خدا آپ بزرگوار کی دعا اور طفیل غوث الورٰی کے میرے گناہ بخشے آمین! عباس میاں ولد علی میاں ۔
خط ثانی السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ ، مجمع البرکات حامی شرع مبین مولاناواولٰنا جناب مولوی احمد رضا خان صاحب ازجانب فقیر حقیر سید احمد علوی الوجیہی بعد تبلیغ مراسم نیازعرض خدمت فیض درجت میں یہ ہے کہ جناب عالی بندہ نے مستشار العلماء لاہور آپ کی خدمت میں روانہ کیاہے کہ اس اشتہار کو ملاحظہ فرمائیں اس کا بانی کار محمددین ایك پنجابی ہے پہلے ہندو تھا پھر مسلمان ہوا اور دیوبند وگنگوہ میں جاکرکچھ پڑھا فی الحال بہڑوچ میں رہتاہے اور سلسلہ پیری مریدی کا ضلع بہڑوچ کے گاؤں میں جاری کیا ہے قبلہ عالم نفس تثویب کا یہ شخص منکر ہے کہ تثویب کا ثبوت کسی کتاب حنفیہ سے نہیں یہ بدعتِ مذمومہ ہے آپ نے تثویب کواسی مستشار العلما میں بہت اچھی طرح سے ثابت کردیاہے بندہ جب یہ پیش کرتا ہے کہ دیکھو اسی اشتہار میں مولوی صاحب نے تثویب کوبحمدالله کتاب حنفیہ سے ثابت کیاہے اور تم لوگ نفسِ تثویب کے منکرہو اورجو شخص پکارتاہے اس کو بدعتی کہتے ہو ، تو وہ اور اس کے لواحق جواب دیتے ہیں کہ ایك شخص کے فتوے پر عمل چاہئے یا دس کے ایسے جواب دیتے ہیں ، یہ مستشار العلما اس نے چھپواکر تمام گاؤں میں بانٹ دیے ہیں تحریرات سے بہت جلد مشرف فرمانا کہ جو کدورتیں ان کے دلوں میں جم گئی ہیں آپ کی تحریر کی برکت سے الله پاك دُور فرمائے ، آمین۔ رقیمہ نیاز سید احمد علوی الوجیہی
الجواب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
اللھم لك الحمد صل علی المصطفی واٰلہ وصحبہ وبارك وسلم
وعلیکم السلام ورحمۃ الله وبرکاتہ ہم خادمان دارالافتاء جواب سے پہلے کچھ دیوبندی خیانتیں گزارش کریں جن سے واضح ہوکہ ان حضرات کی حیاودیانت کس درجہ تك پہنچتی ہے اور ایسوں سے مخاطبہ کاکیاموقع رہا ہے اُس کے بعد اصل سوال تثویب کاجواب جو بعون الوہاب اعلحٰضرت مولانامولوی احمد رضا خان صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے ارشاد فرمایامجموعہ مبارکہ فتاوائے رضویہ سے نقل کریں وبالله التوفیق یہاں خیانت ہائے دیوبندیہ پریہ امریہاں داعی ہواکہ دارالافتاء کافتوٰی تثویب جمعہ جوجناب کے مرسلہ رسالہ میں محمد دین صاحب یا ان کے طرفداروں نے شائع کیا جس کاسوال دارالافتا میں ملك گجرات شہر بہڑوچ محلہ گھونسواڑہ مسجد آملہ سے محمد دین مجددی نے بھیجا ، اور ۱۷ جمادی الاخرٰی ۱۳۲۹ھ کو اس کا جواب دارالافتا سے امضاہواجس کی نقل فتاوائے اعلحٰضرت کی جلددوم کتاب الصلاۃ میں ہے۔ اس میں شائع کنندہ نے سخت تحریفیں کیں جو کسی حیادار مسلمان کو زیبا نہیں اور آپ فرماتے ہیں کہ یہ بزرگ نو مسلم دیوبند وگنگوہ کے تعلیم یافتہ ہیں تو اس کا تعجب جاتا رہا کہ حضرات دیوبند کا یہ قدیم شیوہ ہے لہذااطلاع مسلمین کے لئے ان کی خیانتوں کا تذکرہ ضرور ہواکہ مسلمان ان صاحبوں کی عادت پہچان لیں اور ان کے ضرر سے محفوظٖ رہیں کسی مسئلہ میں ان کے شورغل پر کبھی کان نہ رکھیں کہ کوئی عقل مند ایسی خصلت والوں کی بات پر کان نہیں دھرتا۔
جو شخص کلمہ پڑھتا اور الله تعالٰی کو ایك رسول کوبرحق جانتا ہو وہ ایك ساعت انصاف وایمان کی نگاہ سے ملاحظہ کرے آیاایسی خیانتیں اہلِ حق کرتے ہیں یاوہ کھلے باطل والے جوہرطرح اپنی باطل پروری سے عاجز آگئے اور ناچار ایسی شرمناك حرکات پر اُترے ، کیاکوئی ذی عقل ایسوں کی کسی بات پر کان دھرناگواراکرے گا یا اُنہیں کسی انسان کا قابل خطاب جانے گا ، جو ایمان سے کچھ بھی علاقہ رکھتا ہے وہ ایمان کی نگاہ سے دیکھے اور انصاف کرے اور ہٹ دھرم بے حیا کا کہیں علاج نہیں ، ہم پہلے فتوائے تثویب میں اُن کی خیانتوں کوذکر کریں گے کہ یہ سوال اسی سے متعلق ہے پھران کے بڑوں کی بھاری خیانتیں زیرِ ذکر لائیں گے کہ معلوم ہوکہ یہ خُوبیاں چھوٹوں نے بڑوں ہی سے سیکھیں ع
ایں خانہ تمام آفتاب است
پہلی خیانت فتوائے مبارکہ میں اس عبارت کے بعد کہ اس کیلئے کوئی صیغہ معین نہیں یہ عبارت تھی بلکہ جو اصطلاح مقرر کرلیں اگرچہ انہیں لفظوں سے کہ الصلاۃ السنۃ قبل الجمعۃ الصلاۃ رحمکم الله تو اس وجہ پر یہ کہنا زیر مستحب داخل ہوسکتا ہے بھلا اس کا زیر مستحب داخل ہونا انہیں کب گوارا ہوتا لہذا اسے ایك دم ہضم فرمالیا۔
دوسری خیانت عبارت ردالمحتار اوقامت تك نقل کرکے “ الخ “ بنادیاحالانکہ فتوائے مبارکہ میں وہ یوں تھی :
اوقامت قامت اوالصلاۃ الصلاۃ ولواحدثوا اعلاما مخالفا لذلك جاز نھر عن المجتبی [3]۔
نماز کھڑی ہوگئی ، نماز کھڑی ہوگئی ، نماز ، نماز ، اگر کوئی اور اصطلاح بھی اطلاع کے لئے بنائی جائے تو جائز ہے یہ نہر میں مجتبٰی سے نقل ہے۔ (ت)
یہ عبارت اعلحٰضرت مجدد مأتہ حاضرہ کے اس ارشاد کی صریح دلیل تھی کہ اس وجہ پر الصلاۃ السنۃ قبل الجمعۃ کہنا بھی مستحب ہوگا لہذا اسے بھی کترلیا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع