30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یعملون لہ مایشاء من محاریب کان مماعملوا لہ بیت المقدس ، ابتدأہ داؤد علیہ الصلوۃ والسلام ، فلما توفاہ الله تعالی استخلف سلیمٰن علیہ الصلٰوۃ والسلام ، فبنی المسجد بالرخام والجواھر واللاٰلیئ والیواقیت ، فلم یزل بیت المقدس علی مابناہ سلیمٰن علیہ الصلوۃ والسلام ، حتی غزاہ بخت نصر ، فخرب المدینۃ ونقض المسجد [1] اھ ملتقطا۔
(بناتے تھے اس کے لئے جو وہ چاہتا تھا یعنی محراب وغیرہ) جِنوں نے جو کُچھ ان کے لئے بنایا ان میں ایك بیت المقدس بھی تھی جس کی ابتداء داؤد علیہ السلام نے کی تھی ، ان کی وفات کے بعد سلیمان علیہ السلام ان کے جانشین ہوئے تو انہوں نے مسجد کو سنگ رخام ، ہیروں موتیوں ، اور یاقوتوں سے بنوایا ، یہ مسجد مدتوں اسی طرح برقرار رہی جس طرح سلیمان علیہ السلام نے بنوائی تھی تا آنکہ بخت نصر اس پر حملہ آور ہوا ، اس نے شہر برباد کردیا اور مسجد گرادی اھ ملتقطا (ت)
بخلاف قول چہارم کہ اس کی کسی بات پر اعتراض نہیں تو ظاہرًا وہی مرجح وقرین قیاس اور حقیقتِ حال کا علم مولٰی سبحٰنہ کے پاس والله تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم۔
_________________
جمان التاج فی بیان الصلاۃ قبل
المعراج ۱۳۱۶ھ
(تاج کے
موتی،معراج سے پہلے نماز کے بیان میں)
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
مسئلہ ۲۵۰ : از ریاست رام پور بزریہ ملاظریف گھیر عبدالرحمن خان مرحوم مرسلہ عبدالرؤف خان ۲۷ محرم الحرام ۱۳۱۶ھ
بگرامی خدمت فیض درجت جناب مولٰنا بحرالعلوم صاحب زاد کرمہ ، حضرت رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمبعد نبوت قبل شبِ معراج جو دو۲ وقتوں میں نماز پڑھتے تھے وہ کس طور پر ادا فرماتے تھے۔ بینوا توجروا۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
الحمدلله وکفٰی٭وسلام علی عبادہ الذین اصطفی٭ لاسیما علی صاحب المعراج المصطفٰی واٰلہٖ وصحبہ المقیمین الصلاۃ والعدل والوفاء٭
الله ہی کی حمد ہے اور وہ کافی ہے اور سلام ہو اس کے منتخب بندوں پر ، مصطفی پر اور ان کے آل واصحاب پر جنہوں نے نماز کو اور عدل و وفا کو قائم کیا۔ (ت)
الجواب :
پیش ازاسراء دووقت یعنی قبل طلوعِ شمس وقبلِ غروب کے نمازیں مقرر ہونے میں علماء کو خلاف ہے اور اصح یہ ہے کہ اس سے پہلے صرف قیام لیل کی فرضیت باقی پر کوئی دلیل صریح قائم نہیں ۔
فی الدرالمختار اول کتاب الصلٰوۃ الصلاۃ فرضت فی الاسراء ، وکانت قبلہ صلاتین ، قبل طلوع الشمس وقبل غروبھا۔ شمنی [2] اھ۔
وفی المواھب ، من المقصد الاول ، قبیل ذکر اول من امن ، قال مقاتل : کانت الصلاۃ اول فرضھا رکعتین بالغداوۃ و رکعتین بالعشی ، لقولہ تعالٰی وسبح بحمد ربك بالعشی والابکار۔ قال فی فتح الباری : کان صلی الله تعالٰی علیہ وسلم قبل الاسراء یصلی قطعًا ، وکذلك اصحابہ ؛ ولکن اختلف ھل افترض قبل الخمس شیئ من الصلاۃ ام لا ؟ فقیل ان الفرض کان صلاۃ قبل طلوع الشمس وقبل غروبھا۔ والحجۃ فیہ قولہ تعالٰی وسبح بحمد ربك قبل طلوع الشمس وقبل غروبھا انتھی [3]۔
وقال النووی : اوّل ماوجب الانذار والدعاء الی التوحید ، ثم فرض الله تعالٰی من قیام اللیل ماذکرہ فی اول سورۃ المزمل ثم نسخہ بمافی آخرھا ثم نسخہ بایجاب الخ بایجاب الصلٰو ۃ والخمس لیلۃ الاسراء بمکہ[4]۔ اھ مافی المواھب وفی شرحھا للعلامۃ الزرقانی من المقصد التاسع ، ذھب جماعۃ الی انہ لم تکن قبل الاسراء صلاۃ مفروضۃ الاماوقع الامر بہ من صلاۃ اللیل بلا تحدید۔ وذھب الحربی الی ان الصلاۃ کانت مفروضۃ ، رکعتین بالغداۃ و رکعتین بالعشی۔ و ردہ جماعۃ من اھل العلم [5]۔ اھ
وفیھما من المقصد الخامس فی الاسراء ، عند ذکر صلاتہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم بالانبیاء بیت المقدس ، (قداختلف فی ھذہ الصلاۃ) ھل ھی الشرعیۃ المعروفۃ او اللغویۃ؟ وصوّب الاول لان النص یحمل علٰی حقیقۃ الشرعیۃ ، مالم یتعذر۔ وعلی ھذا اختلف (ھل ھی فرض) ویدل علیہ کماقال النعمانی حدیث انس عند ابی حاتم المتقدم قریبا للمصنّف۔ (اونفل؟ واذا قلنا انھا فرض ، فای صلاۃ ھی؟ قال بعضھم الاقرب انھا الصبح ، ویحتمل ان تکون العشاء) والاحتمالان ، کماقال الشامی ، لیسابشیئ؛ سواء قلنا صلی بھم قبل العروج اوبعدہ لان اول صلاۃ صلاھا النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم من الخمس مطلقا ، الظھر بمکۃ باتفاق۔ ومن حمل الاولیۃ علی مکۃ فعلیہ الدلیل۔ قال : والذی یظھر انھا کانت من النفل المطلق ، اوکانت من الصلاۃ المفروضۃ علیہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم قبل لیلۃ الاسراء۔ وفی فتاوی النووی مایؤید الثانی اھ[6] باختصار۔
اقول : وفی الاستدلال بقولہ عز اسمہ وسبح بحمد ربك قبل طلوع الشمس وقبل غروبھا [7] نظر۔ فان تتمۃ الاٰیۃ
وَ مِنْ اٰنَآئِ الَّیْلِ فَسَبِّحْ وَ اَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضٰى(۱۳۰) [8] ، فان حمل التسبیح علی الصلاۃ لقول ابن عباس رضی الله تعالٰی عنھما کل تسبیح فی القراٰن صلاۃ [9] اخرجہ الفریابی عن سعید بن جبیر وان کان ربما یفید الاستثناء من کلیتہ علی ما اقول : قولہ جل ذکرہ ، كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَ تَسْبِیْحَهٗؕ- [10] ، وقولہ تعالٰی
فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ(۱۴۳)
[1] معالم التنزیل مع الخازن آیت یعملون لہ مایشاء الخ کے تحت مصطفی البابی مصر ص۲۸۴۔ ۲۸۵
[2] درمختار کتاب الصلٰوۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۵۸
[3] شرح الزرقانی علی المواہب المقصد الاول فی تشریف اللہ تعالٰی لہ علیہ وسلم مطبوعہ المطبعۃ العامرہ مصر ۱ / ۲۷۴
[4] المواہب اللدنیہ مقصد اول اول امر الصلٰو ۃ المکتب الاسلامی بیروت ۱ / ۱۱ ، ۲۱۲
[5] شرح الزرقانی علی المواہب المقصد التاسع فی عبادتہٖ صلی اللہ علیہ وسلم مطبعۃ عامرہ مصر ۷ / ۳۲۳
[6] شرح الزرقانی علی المواہب المقصد الخامس فی المعراج والاسراء مطبوعہ المطبعۃ العامرہ مصر ۶ / ۶۳
[7] القرآن سورۃ طٰہ آیت ۱۳۰
[8] القرآن سورۃ طٰہ آیت ۱۳۰
[10] القرآن سورہ النور ۲۴ آیت ۴۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع