30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ختم سحری کے لئے صلاۃ وغیرہ کوئی اور اصطلاح مقرر کرسکتے ہیں اور وہ بھی چار پانچ منٹ سے زیادہ وقت صحیح سے مقدم نہ ہوکہ تاخیرِ سحورسنّت اور اس میں برکت ہے اور زیادہ اول سے منع کردینا فتوائے باطل وبدعت وخلافِ شریعت ہے پھر یہ بھی اس کے لئے ہے جو وقت صحیح جانتا ہو نہ وہ آج کل کی عام جنتریوں میں چھپا یاچھپتا ہے کہ اکثر باطل وضلالت ہے اُنہیں میں سے میرٹھ کی “ دوامی جنتری “ بھی سراپا غلط وبطالت ہے یوہیں ہمیشہ رات کا فلاں معین حصّہ چھوڑنا محض نادانی وجہالت ہے ان مجمل الفاظ کی تشریح اول طبع ہوچکی اور بعض فتوائے دیگر مفصلہ سے معلوم ہوگی بعونہ تعالٰی ، والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ(۳۵۰) از ملك گجرات بھڑوچ محلہ گھونسواڑہ آملہ مسجد مرسلہ محمد الدین مجددی ۱۷جمادی الاخری ۱۳۲۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ سنّتِ جمعہ پڑھنے کے لئے ملك گجرات کے بعض مقام میں جو ایك صلاۃ سنت قبل جمعہ پڑھنے کے واسطے مؤذن بلند آوازسے روز جمعہ کے پکارتا ہے اور بغیر صلاۃ سنت قبل الجمعہ پکارنے کے سنت قبل الجمعہ کی لوگ نہیں پڑھتے اوراس صلاۃ سنت قبل جمعہ کا مسجد میں جمع ہوکرانتظار کرتے ہیں تاکہ مؤذن یہ صلاۃ سنت کی پکارے توسنت قبل جمعہ پڑھیں الفاظ یہ ہیں : الصلاۃ سنۃ قبل الجمعۃ الصلاۃ رحمکم اللّٰہ(جمعہ سے پہلی سنتیں ادا کرو الله تم پر رحم فرمائے۔ ت)کیا ان الفاظ سے صلاۃ کہنافرض ہے یا واجب ہے یا سنّت ہے یا مستحب ہے اور کس مجتہد نے اسلام میں اس کو جاری کیاہے اور یہ صلاۃ سنت قبل الجمعہ اگر کوئی شخص نہ پکارے اور سُنتیں جمعہ کی پڑھ لے تو سنتیں ہوجاتی ہیں یا نہیں اور نہ پکارنے سے مرتکب گناہ کا ہوگایا نہیں ، نماز جمعہ اور سنتِ جمعہ میں بھی نہ پکارنے سے قصور لازم آتاہے یا نہیں ، اور نہ کہنے والا مذہب امام اعظم کامقلّد رہتا ہے یا وہابی نجدی ہوکر اسلام سے خارج ہوجاتا ہے ، کیا وہ بے ایمان ہوجاتا ہے ، کیا تثویب جس کو فقہائے حنفیہ نے مستحسن فرمایا ہے وہ یہی صلاۃ سنت قبل الجمعہ ہے یااُس کی کوئی اور صورت ہے؟ مستند کتب حنفیہ سے ثبوت مع دلائل تحریر فرماکر اجرِ عظیم پائیں مہر مع دستخط علمائے کرام ثبت ہو۔
الجواب :
تثویب جسے ہمارے علمائے متاخرین نے نظر بحال زمانہ جائز رکھااور مستحب ومستحسن سمجھا وہ اعلام بعد اعلام ہے اور اس کے لئے کوئی صیغہ معین نہیں بلکہ جو اصطلاح مقرر کرلیں اگرچہ انہیں لفظوں سے کہ الصلاۃ السنۃ قبل الجمعۃ الصلاۃ رحمکم الله تعالٰی(نماز جمعہ سے پہلے سنت نماز ادا کرلو الله تم پر رحم فرمائے۔ ت) تو اس وجہ پر کہنا زیر مستحب داخل ہوسکتا ہے۔ درمختار میں ہے :
یثوب بین الاذان والاقامۃ فی الکل للکل بماتعارفوہ الافی المغرب[1]۔
مغرب کے علاوہ ہر نماز کے وقت میں تمام لوگوں کے لئے اذان واقامت کے درمیان معروف طریقہ پر تثویب کہی جائے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
بما تعارفوہ کتنحنح اوقامت قامت ، اوالصلٰوۃ الصلٰوۃ ، ولواحد ثوا اعلامامخالفا لذلك جاز ، نھر عن المجتبٰی[2]۔
بماتعارفوہ سے مراد مثلًا کھانسنا ، نماز کھڑی ہوگئی ، نماز کھڑی ہوگئی ، نماز ، نماز ، اور اگر اس کے علاوہ کوئی الفاظ اطلاع کے لئے مخصوص کرلیے جائیں تو جائز ہیں ۔ نہر نے مجتبٰی سے نقل کیا ہے۔ (ت)
اسی میں عنایہ سے ہے :
احدث المتاخرون التثویب بین الاذان والاقامۃ ، علی حسب ماتعارفوہ فی جمع الصلوات سوی المغرب ، مع ابقاء الاول ، یعنی الاصل ، وھو تثویب الفجر ، وماراٰہ المسلمون حسنًا ، فھو عندالله حسنٌ [3]۔
کہ متاخرین نے اصل یعنی تثویبِ فجر کو باقی رکھتے ہوئے معروف طریقہ پر مغرب کے علاوہ ہر نماز کی اذان واقامت کے درمیان متعارف طریقہ پر تثویب کو جاری کیا ہے ، اور جسے مسلمان بہتر جانیں وہ الله تعالٰی کے ہاں بھی بہتر ہوتا ہے۔ (ت)
مگر اس پر اور باتیں جو اضافہ کیں بے اصل وباطل ہیں : (مثلًا)
(۱) جب تك یہ صلاۃ نہ پکاری جائے سنّتِ جمعہ نہ پڑھنا۔
(۲) مسجد میں جمع ہوکر اس پکارنے کا منتظر رہناگویا سنتِ قبل الجمعہ کو اذان مؤذن کا محتاج کررکھا ہے کہ وہ صلاۃ پکار کر اجازت دے تو پڑھیں یہ بدعت ہے۔
(۳) بغیر اس کے یہ سمجھا کہ سُنّتیں نہ ہوں گی۔
(۴) نہ پکارنے کو گناہ جاننا۔
(۵) نہ پکارنے سے نمازِ جمعہ میں قصور سمجھنا۔
(۶) نہ پکارنے والے کو تقلیدِ سیدنا امام اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے باہر خیال کرنا۔
(۷) معاذالله اسے وہابی وبے ایمان گمان کرنایہ پانچوں اعتقاد باطل وضلال ہیں ، ان کے معتقدین پر توبہ فرض قطعی ہے اور ان ساتوں رسوم وخیالاتِ باطلہ کا ہدم واعدام لازم ہے۔
قال رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم من احدث فی امرناھذا مالیس منہ فھو رد [4]۔ والله تعالٰی اعلم
رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : جس نے ہمارے دین میں ایسی چیز ایجاد کی جو دین میں سے نہیں پس وہ مردود ہوگی۔ (ت)
مسئلہ (۳۵۱) جمادی الاخرٰی ۱۳۲۹ھ
نمازِ جمعہ میں اذان کے بعد پھر صلاۃ کہنا جائز ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع