30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہاں یہ دستور ہے کہ نماز پنجگانہ وعیدین ونمازِ جنازہ میں شہروں اور قریہ وغیرہ سب جاصلاۃ صلاۃ پکار کر کہتے ہیں یہ صلاۃ پکارنا کیسا ہے کس زمانہ وکن بزرگوں سے ابتدا جاری ہے اس کے پکارنے سے نماز میں خلل ہے یا نہیں ، یہاں چند صاحبان صلاۃپکارنا بدعت یعنی ناجائزسمجھتے ہیں ازراہِ مہربانی جواب تحریر کریں ۔
الجواب :
عیدین میں الصّلاۃ جامعۃ [1]
(نماز کی جماعت تیار ہے۔ ت)
بآواز بلند دو بار پکارنا مستحب ہےمرقاۃ شرح مشکوٰۃ شریف میں ہے :
یستحب ان ینادی لھا الصلٰوۃ جامعۃ بالاتفاق [2]۔
یہ آواز دینا کہ جماعت تیار ہے بالاتفاق مستحب ہے۔ (ت)
سوائے مغرب ہر نماز میں صلاۃ پکارنا یعنی دوبارہ اعلان کرنا ائمہ متاخرین نے مستحب رکھا ہے بلکہ درمختار میں سب نمازوں کی نسبت لکھا :
یثوب بین الاذان والاقامۃ فی الکل للکل بماتعارفوہ [3]۔
متعارف طریقہ پر تمام نمازوں میں ہر ایك کے لئے اذان واقامت کے درمیان تثویب کہنی چاہئے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ فی الکل ای کل الصلوات لظھورالتوانی فی الامور الدینیۃ قال فی العنایۃ احدث المتاخرون التثویب بین الاذان والاقامۃ علی حسب ماتعارفوہ فی جمیع الصلوات سوی المغرب مع ابقاء الاول یعنی الاصل وھو تثویب الفجر وماراٰہ المسلمون حسنًا فھو عندالله حسنٌ [4]۔ اھ
“ فی الکل “ سے مراد یہ ہے کہ تمام نمازوں میں تثویب کہے کیونکہ دینی امور میں سُستی غالب آچکی ہے۔ عنایہ میں ہے کہ متاخرین نے اصل یعنی تثویب فجر کو باقی رکھتے ہوئے مغرب کی نماز کے علاوہ ہر نماز کی اذان واقامت کے درمیان متعارف طریقہ پر تثویب کو جاری کیا ہے اور جسے مسلمان بہتر جانیں وہ الله تعالٰی کے ہاں بھی بہتر ہوتا ہے اھ (ت)
نمازِ جنازہ میں حرمین شریفین میں دستور ہے کہ مؤذن بآواز بلند کہتے ہیں : الصلاۃ علی المیت یرحمکم اللّٰہ(میت پر نمازِ جنازہ ادا کرو الله تم پر رحم فرمائے۔ ت)اور یہ سب اس آیہ کریمہ کے تحت میں داخل ہے کہ وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ [5](اس سے کس کی بات بہتر جو الله کی طرف بُلائے) رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں :
من دعا الی الھدٰی فلہ اجرہ واجر من تبعہ [6]۔
جو کسی نیك بات کی طرف بُلائے اُس کے لئے اُس کا خود اپنا اجر ہے اور جتنے اُس نیك فعل میں شریك ہوں ان سب کا ثواب ہے ، اور انکے ثوابوں میں کچھ کمی نہ ہو۔
اور زعمِ بدعت کا رَد ہزار بار ہوچکا ، ہر نَو پیدا بات ناجائز نہیں ورنہ خود مدرسے بنانا ، کتابیں تصنیف کرنا ، صرف ونحو وغیرہما علوم کہ زمانہ رسالت میں نہ پڑھے تھے ، پڑھنا پڑھانا سب حرام ہوجائے اور اسے کوئی عاقل نہیں کہہ سکتا خود یہ اہلِ بدعت ہزارہاجدید باتیں کرتے ہیں کہ زمانہ رسالت میں اس ہئیت کذائی سے موجود نہ تھیں ، بعد کو حادث ہوئیں مگر اپنے لئے جو چاہیں حلال کرلیتے ہیں والله سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ (۳۴۸) از دمن خر وعملداری پرتگال مسئولہ مولوی ضیاء الدین صاحب ۱۵ ذیقعدہ ۱۳۱۸ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیداقامت کے قبل درود شریف بآوازبلندپڑھتاہے اوراس کے ساتھ ہی اقامت یعنی تکبیر شروع کردیتا ہے کہ جس سے عوام کو معلوم ہوتا ہے کہ درود شریف اقامت کا جزئ ہے اور عمرو درود شریف نہیں پڑھتا صرف اقامت کہتا ہے تو زید کو یہ فعل اس کا ناپسند آتا ہے اور اصرار سے اس کو پڑھنے کو کہتا ہے اس صورت میں درود شریف جہر سے پڑھنا اور زید کا اصرار کرنا کیسا ہے؟ بینوا توجروا۔
الجواب :
درود شریف قبلِ اقامت پڑھنے میں حرج نہیں مگر اقامت سے فصل چاہئے یا درود شریف کی آوازآواز اقامت سے ایسی جدا ہوکہ امتیاز رہے اور عوام کو درود شریف جزء اقامت نہ معلوم ہو ، رہا زید کا عمرو پر اصرار کرنا وہ اصلًا کوئی وجہ شرعی نہیں رکھتا یہ زید کی زیادتی ہے والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ (۳۴۹) از کیمپ میرٹھ کوٹھی خان بہادر کمرہ شیخ علاءُ الدین صاحب مرسلہ سید حسن صاحب۱۲ رمضان المبارك ۱۳۲۶ھ
باعثِ استفساریہ ہے کہ اگرصبح کی اذان لوگوں کوسحری کے وقت کے اختتام سے آگاہی کے واسطے صبح صادق نکلنے سے آٹھ یا دس منٹ پہلے دے دی جایاکرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے؟ بینوا توجروا۔
الجواب :
اذان وقت سے پہلے دینی مطلقًا ناجائز وممنوع ہے ، تبیین الحقائق میں ہے :
لایؤذن قبل الوقت ویعادفیہ وانکار السلف علی من یؤذن بلیل دلیل علی انہ لم یجز قبل الوقت[7]۔
قبل از وقت اذان نہ دی جائے اور اگر دے دی جائے تو وقت کے اندر پھر لوٹائی جائے اوراسلاف کا رات کو اذان دینے والے پر انکار اس بات کی دلیل ہے کہ قبل ازوقت اذان جائز نہیں ۔ (ت)
البحرالرائق میں ہے : لایجوز قبلہ[8] (قبل ازوقت اذان جائز نہیں ۔ ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع