دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

گزرتا جائے وہی صف کھڑی ہوتی جائے اور اگر سامنے سے آئے تو اُسے دیکھتے ہی سب کھڑے ہوجائیں اور اگر خود امام ہی تکبیر کہے تو جب تك پُوری تکبیر سے فارغ نہ ہولے مقتدی اصلًا کھڑے نہ ہوں بلکہ اگر اس نے تکبیر مسجد سے باہر کہی تو فراغ پر بھی کھڑے نہ ہوں جب وہ مسجد میں قدم رکھے اُس وقت قیام کریں ، ہندیہ میں بعد عبارت مذکور ہے :

فامااذاکان الامام خارج المسجد فان دخل المسجد من قبل الصفون فکلماجاوز صفا قام ذلك الصف والیہ مال شمس الائمۃ الحلوانی والسرخسی وشیخ الاسلام خواھرزادہ وان کان الامام دخل المسجد من قدامھم یقومون کماراؤا الامام وان کان المؤذن والامام واحدا فان اقام فی المسجد فالقوم لایقومون مالم یفرغ عن الاقامۃ وان اقام خارج المسجد فمشایخنا اتفقوا علی انھم لایقومون مالم یدخل الامام المسجد ویکبر الامام قبیل قولہ قدقامت الصلاۃ قال الشیخ الامام شمس الائمۃ الحلوانی وھو الصحیح ھکذا فی المحیط [1]۔

اگر امام مسجد سے باہر ہو اگر وہ صفوں کی جانب سے مسجد میں داخل ہوتوجس صف سے وہ گزرے وہ صف کھڑی ہوجائے ، شمس الائمہ حلوانی ، سرخسی ، شیخ الاسلام خواہر زادہ اسی طرف گئے ہیں ، اور اگر امام اُن کے سامنے سے مسجد میں داخل ہوتواُسے دیکھتے ہی تمام مقتدی کھڑے ہوجائیں ، اگر مؤذن اور امام ایك ہی ہے پس اگر اس نے مسجدکے اندر ہی تکبیر کہی تو قوم اس وقت تك کھڑی نہ ہو جب تك وہ تکبیر سے فارغ نہ ہوجائے اور اگر اس نے خارج ازمسجد تکبیر کہی تو ہمارے تمام مشائخ اس پر متفق ہیں کہ لوگ اس وقت تك کھڑے نہ ہوں جب تك امام مسجد میں داخل نہ ہواور امام “ قدقامت الصلاۃ “ کے تھوڑا پہلے تکبیر تحریمہ کہے امام شمس الائمہ حلوانی کہتے ہیں کہ یہی صحیح ہے ، محیط میں اسی طرح ہے۔ (ت)

جمعہ بھی ہمارے امام کے نزدیك اس بارے میں مثل اور نمازوں کے ہے سلام سے پہلے جو شریك ہو لیا اس نے جمعہ پالیا دو۲ ہی رکعت پڑھے ، درمختار میں ہے :

من ادرکہافی تشہداوسجود سھوعلی القول بہ فیھایتمھا جمعۃ خلافا لمحمد[2]۔  والله تعالٰی اعلم۔

جس شخص نے جمعہ کی نمازمیں تشہد یا سجدہ سہو میں اس قول پر جو جمعہ میں سجدہ سہو کا قول کرتے ہیں امام کو پایاتو وہ نماز کو جمعہ کے طورپر پُورا کرے اس میں امام محمد کا اختلاف ہے۔ (ت)

مسئلہ(۳۴۵) ایك طالب علم اذان میں حی علی الصلاۃ  ایك بار دہنی طرف منہ پھیر کر کہتے ہیں اور پھر بائیں طرف مُنہ پھیر کر ایك بار حی علی الفلاح کہتے ہیں اور پھر دہنی طرف منہ پھیر کر ایك بار حی علی الصلاۃ  اور پھر بائیں طرف منہ پھیر کر حی علی الفلاح کہتے ہیں اور اس طرح اذان دینے کو افضل کہتے ہیں اور حاشیہ ہدایہ کا حوالہ دیتے ہیں کہ اس میں اس طرح آیا ہے ، یہ قول اُن کا درست ہے یا نہیں ؟ اور اس طرح اذان دیا کریں یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔

الجواب :

یہ محض غلط وخلافِ سنّت ہے ، عٰلمگیریہ ومحیط سرخسی میں ہے : یرتب بین کلمات الاذان والاقامۃ کماشرع [3]  کلماتِ اذان وتکبیر میں اسی ترتیب کا قائم رہنا ضروری ہے جس پر مشروع ہوئے ہیں ۔ ت)مسند احمد وسُنن ابی داؤد وغیرہما میں عبدالله  بن زید عبد ربّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے حدیث تعلیمِ اذان میں ہے

فرشتے نے کہا یوں کہا کرو (کلماتِ اذان یہ ہیں ) :

الله اکبر ، الله اکبر ، الله اکبر ، الله اکبر ، اشھد ان لا اِلٰہ الا اللّٰہ ، اشھد ان لا الٰہ الااللّٰہ ، اشھد ان محمدًا رسول اللّٰہ ، اشھد ان محمدًا رسول اللّٰہ ، حی علی الصلوٰۃ ، حی علی الصلٰوۃ ، حی علی الفلاح ، حی علی الفلاح ، الله اکبر ، الله اکبر ، لاالٰہ الّا الله [4]۔

عبدالله  بن زیدنے فرمایا حضور سید عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے میں نے عرض کی ، حضور نے فرمایا :

ان ھذہ لرؤیا حق ان شاء الله تعالٰی ، ثم امر بالتاذین ، فکان بلال مولی ابی بکر یؤذن بذلك [5]۔

اِن شاء الله  تعالٰی یہ خواب بیشك حق ہے ، پھررسول الله  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے بلال مولٰی ابی بکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُماکو اذان کا حکم دیاوہ اس طورپر مذکور پر اذان دیا کرتے تھے۔

صحیح مسلم وسنن نسائی وغیرہما میں ابومحذورہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے جو حدیث ہے کہ رسول الله  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے اُنہیں اذان تعلیم فرمائی اس میں بھی شہادتیں کے بعد یوں ہی ہے : حی علی الصلاۃ ، حی علی الصلاۃ ، حی علی الفلاح ، حی علی الفلاح ، الله اکبر ، الله اکبر ، لاالٰہ الا الله [6]۔ غرض دونوں حی علی الصلاۃ ایك ساتھ ، پھر دونوں حی علی الفلاح ایك ساتھ پڑھنے میں کوئی شك نہیں ، ہاں بعض علما نے مُنہ پھیرنے میں یہ طریقہ رکھاہے کہ ایك بار دہنی طرف کہے حی علی الصلاۃ پھر اسی کو بائیں طرف کہے ، پھر ایك بار دہنی طرف کہے حی علی الفلاح پھر اسی کو بائیں طرف کہے ، فتح القدیر حاشیہ ہدایہ میں اسی کو ترجیح دی ، مگر صحیح وہی ہے کہ دونوں بار حی علی الصلاۃ دہنی طرف کہہ کر دونوں بار حی علی الفلاح بائیں طرف کہے۔ ردالمحتار میں ہے : یلتفت فیھمایمینًا بالصلٰوۃ ویسارًا بالفلاح وھو الاصح(اصح یہ ہے دونوں میں حی علی الصلاۃ کے وقت دائیں طرف حی علی الفلاح کے وقت بائیں طرف منہ پھیرے۔ ت) “ قہستانی عن المنیۃ “ وھو الصحیح کمافی البحر والتبیین (اور صحیح یہی ہے جیسا کہ بحر وتبیین میں ہے۔ ت) وقال مشایخ مرویمنۃ ویسرۃ فی کل ، قال فی الفتح  الثانی اوجہ وردہ الرملی بانہ خلاف الصحیح المنقول عن السلف [7] اھ باختصار مشایخ مرو نے کہا ہے کہ ہر ایك میں دائیں اور بائیں منہ پھیرے (جیسے کہ قہستانی میں ہے) فتح میں ہے کہ دوسرا قول اوجہ ہے ، اور رملی نے اس کا رَد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اسلاف سے منقول صحیح قول کے منافی ہے اھ اختصار۔ ت) والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ (۳۴۶)            ۲۱ ذی قعدہ ۱۳۲۲ھ

 بعد اذان کے پھر کسی خاص شخص کو پکارنا بالخصوص خودی والے کو درست ہے یا نہیں ؟

الجواب :

بعد اذان کے سلطانِ اسلام وقاضی شرع وعالم دین کی خدمتوں میں مؤذن دوبارہ اطلاع کے واسطے مؤدبانہ حاضر ہو یہی سنّت ہے باقی لوگوں میں اگر سامنے سے گزریں توکہہ دینا کہ نماز کو آؤ جماعت تیار ہے ، یا مسجد کو جاتے راہ میں جو ملیں اُنہیں تاکید کرتے آنا مضائقہ نہیں رکھتا مگر گھر پر آدمی بھیج کر بلانے کی حاجت نہیں خصوصًا خودی والے متکبرکوکہ متکبر شرعًا مستحقِ توہین ہے نہ لائقِ رعایت جبکہ مظنہ فتنہ نہ ہو ، والله تعالٰی اعلم

مسئلہ (۳۴۷)            منشی عبدالقادر صاحب میسوری

 



[1]   فتاوٰی ہندیۃ الفصل الثانی فی کلمات الاذن والاقامۃ الخ $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن