30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور علماء جائز رکھتے ہیں کہ جہاں اذان ہُوئی وہیں اقامت بھی کہی جائے ، اور ظاہر ہے کہ اذان مسجد کے اندر نہیں ہوتی بلکہ مکروہ ہے پھر جب بیانِ افضلیت پر آتے ہیں تو اسی قدر فرماتے ہیں کہ اقامت کا مسجدمیں ہونا بہتر ہے اور یہاں لفظ کو مطلق چھوڑتے ہیں تخصیصِ جہت کچھ نہیں کرتے ،
فی البحرالرائق یستحب التحول للاقامۃ الی غیر موضع الاذان[1] انتھی وفیہ یسن الاذان فی موضع عال والاقامۃ علی الارض [2]۔
البحرالرائق میں ہے تکبیر کے لئے اذان کی جگہ بدل لینامستحب ہے انتہی۔ اور اسی میں ہے اذان کا بلند جگہ اور تکبیر کا نیچے زمین پر ہونا مسنون ہے۔ (ت)
ہاں اس قدر کہہ سکتے ہیں کہ محاذاتِ امام پھر جانبِ راست مناسب ہے والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ (۳۳۴) ۳ربیع الآخر شریف ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اذانیں واسطے طلبِ باراں کے مسجدوں میں کہنا درست ہے
یا نہیں ؟ اور اس طرح سے بھی واسطے طلبِ باراں کے اذانیں کہنے کا ثبوت ہے کہ امام سورہ پڑھے اور ہرمبین پر اذان کہے اور سب مقتدی بھی اس کے ساتھ اذانیں کہیں ، مطلق اذان میں کانوں میں انگلیاں رکھ کر ان کو ہلانا اور گھمانا کیسا ہے؟ بینّوا توجروا۔
الجواب :
مسجد کے اندر وقتی اذان کہنا مکروہ ہے کمافی فتح القدیر وغیرہ (جیسا کہ فتح القدیر وغیرہ میں ہے۔ ت) مگر اذان بغرضِ طلب باراں یا دفعِ وبا بہ نیت اذان واعلان وطلب مردمان نہیں ہوتی بلکہ بہ نیت ذکر اور ذکر مسجد میں جائزہے پھراولٰی یہ ہے کہ بیرون مسجد فیصل وغیرہ رہواوراس میں اصلًا کوئی حرج نہیں کہ اذان ذکرِالٰہی ہے اور بارش رحمتِ الٰہی ، اور ذکرِ الٰہی باعث نزولِ رحمتِ ہے ، یونہی طریقہ مذکورہ ٰیس واذان بھی ازقبیل اعمال ہے جس کے لئے اس سے زیادہ کسی ثبوت کی حاجت نہیں کہ شرع سے اس کی ممانعت نہیں آئی ٰیس شریف کیلئے حدیث میں آیا : ٰیس لماقرء لہ سورہ ٰیس اُس کام کے لئے ہے جس لئے پڑھی جائے یعنی جس نیت سے پڑھی جائے الله تعالٰی عطا فرمائے۔ اذان میں انگلیاں کان میں رکھنا مسنون ومستحب ہے مگر ہلانا اور گھمانا حرکت فضول ہے والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ (۳۳۵) ۴ جمادی الاخری ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین بے وضو اذان کہناجائز ہے یا ناجائز؟
الجواب :
جائز ہے با یں معنے کہ اذان ہوجائے گی مگر چاہئے نہیں ، حدیث میں اس سے ممانعت آئی ہے ، ولہذا علّامہ شرنبلالی نے نظر بحدیث کراہت اختیار فرمائی ، والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ (۳۳۶) از ریاست رام پور بزریہ ملا ظریف بنگلہ متصل مسجد مرسلہ مولوی علیم الدین صاحب اسلام آبادی
۱۵ جمادی الاخرٰی ۱۳۱۴ھ
الاستفتاء ماقولکم رحمکم الله ربکم فی اذان رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ، ھل ھواذن بنفسہ علیہ الصلاۃ والسلام ام لاولوکان مرۃ فی عمرہ علیہ الصلاۃ والسلام ، وفی ابتداء وجوب صلاۃ الجنازۃ علی المیت ایّ زمان کان وعلی من صلی اوّلا ، فی المدینۃ المنورۃ وجبت ام فی المکّۃ المعظمۃ واول الصلاۃ صلیھا رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم علی ای صحابی کانت ، وما کان اسمہ رضی الله تعالٰی عنہ بینّوا توجروا۔
سوال : اے علماء(الله تعالٰی تم پر رحم فرمائے)اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ، کیا نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے خود اذان دی ہے یا نہیں ، اگرچہ تمام عمر میں ایك دفعہ ہو۔ اور میت پر نماز جنازہ کے وجوب کی ابتداء کب ہُوئی؟سب سے پہلے کس کی نمازِ جنازہ پڑھائی گئی؟کیا یہ مدینہ منورہ میں لازم ہوئی یا مکہ مکرمہ میں ؟سب سے پہلے نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے کس صحابی کی نمازِ جنازہ ادا فرمائی؟اس صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا نام کیا ہے؟ بینوا توجّروا۔
الجواب :
قال فی الدرمختار وفی الضیاء انہ علیہ الصّلاۃ والسّلام اذن فی سفربنفسہ واقام وصلی الظھر وقد حققناہ فی الخزائن [3] اھ قال فی ردالمحتار ، حیث قال بعد ماھنا ھذا وفی شرح البخاری لابن حجر ومما یکثر السؤال عنہ ، ھل باشر النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم الاذان بنفسہ وقداخرج الترمذی ، انہ صلی الله تعالٰی علیئہ وسلم اذن فی سفر وصلی باصحابہ وجزم بہ النووی وقواہ ، ولکن وجد فی مسند احمد من ھذا الوجہ فامر بلالًا فاذن فعلم ان فی روایۃ الترمذی اختصارا وان معنی قولہ اذن امر بلالًا کمایقال اعطی الخلیفۃ العالم الفلانی کذاوانما باشر العطاء غیرہ [4] اھ ورأیتنی کتبت فیماعلقت علی ردالمحتار مانصہ اقول لکن سیأتی صفۃ الصلاۃ عند
ذکر التشھدعن تحفۃالامام ابن حجرالمکی انہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلّم اذن مرّۃ فی سفر فقال فی تشھدہ “ اشھد انّی رسول اللّٰہ “ وقد اشارابن حجرالی صحتہ ، وھذانص مفسر لایقبل التأویل ، وبہ یتقوٰی تقویۃ الامام النووی رحمہ الله تعالٰی اھ ماکتبت ، وبہ ظھر الجواب عن المسألۃ الاولٰی ، واما بدء صلاۃ الجنازۃ فکان من لدن سیدنا اٰدم علیہ الصّلاۃ والسلام ، اخرج الحاکم فی المستدرك والطبرانی والبیھقی فی سننہ عن ابن عباس رضی الله تعالٰی عنھماقال اٰخرماکبرالنبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم علی الجنازۃاربع تکبیرات ، وکبر عمر علٰی ابی بکرا ربعا ، وکبر ابن عمر علٰی عمر اربعا وکبر الحسن بن علٰی علی اربعا ، وکبر الحسین بن علی علی الحسن بن علی اربعا ، وکبرت الملٰئکۃ علی اٰدم اربعا [5] ، ولم تشرع فی الاسلام فی المدینۃ المنورۃاخرج الادم الواقدی من حدیث حکیم بن حزام رضی الله تعالٰی عنہ فی ام المؤمنین خدیجۃرضی الله تعالٰی عنھا انھاتوفیت سنۃ عشر من البعثۃبعدخروج بنی ھاشم من الشعب ودفنت بالحجون ونزل النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فی حفرتھا و لم تکن شرعۃ الصلاۃ علی الجنائز[6] اھ وقال الامام ابن حجر العسقلانی فی الاصابۃ فی ترجمۃ اسعد بن زرارہ رضی الله تعالٰی عنہ ذکر الواقدی انہ مات علی راس تسعۃ اشھر من الھجرۃ رواہ الحاکم فی المستدرك وقال الواقدی کان ذلك فی شوال قال البغوی بلغنی انہ اول من مات من الصحابۃ بعد الھجرۃ وانہ اوّل میت صلی علیہ النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم [7] اھ وبہ اتضح الجواب۔ والله تعالٰی اعلم۔
درمختار میں فرمایا اور الضیاء میں ہے کہ رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے سفرمیں بنفسِ نفیس اذان دی ، تکبیر کہی اور ظہر کی نماز پڑھائی اور ہم نے خزائن میں اس بارے میں تحقیق کی ہے اھ ردالمحتار میں کہا وہاں اس گفتگو کے بعد یہ فرمایا کہ ابنِ حجرکی فتح الباری شرح البخاری میں ہے کہ اکثر طور پر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ کیا نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے خود اذان دی ہے؟اور ترمذی نے روایت کیا ہے کہ آپ نے دورانِ سفر خود
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع