دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

وَسَلَّمسے ثابت ہیں ۔ ت) یہ قول مجمل ہے وتفصیل المقام مع نھایۃ العنایۃ وازالۃ الاوھام فی فتاوٰنا بتافیق الملك العلام(اس مقام کی خوب تفصیل اور ازالہ اوہام الله  تعالٰی کی توفیق سے ہم نے اپنے فتاوٰی میں ذکر کئے ہیں ۔ ت) والله سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔

مسئلہ (۳۲۹) از موضع بکہ جبنی والہ علاقہ جاگل تھانہ ہری پور ڈاك خانہ نجیب الله  خان مرسلہ مولوی شیر محمد صاحب ۲۳ رمضان المبارك ۱۳۱۱ھ

۱ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسائل میں اذان دینی واسطے بارش کے درست ہے یا نہیں ؟

الجواب :

درست ہے اذلا حظرمن الشرع (اس میں شرعًا کوئی ممانعت نہیں ۔ ت) اذان ذکرِ الٰہی ہے اور بارش رحمتِ الٰہی ، اور ذکرِ الٰہی باعثِ نزول رحمتِ الٰہی۔ والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ (۳۳۰) ۲دفعِ وبا کے لئے اذان درست ہے یا نہیں ؟

الجواب :

درست ہے ، فقیر نے خاص اس مسئلہ میں رسالہ نسیم الصبافی ان الاذان یحول الوبا لکھا والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ (۳۳۱) ۳بعد دفن میت قبر پر اذان جائز ہے یا نہیں ؟

الجواب :

جائز ہے ، فقیرنے خاص اس مسئلہ میں رسالہ ایذان الاجر فی اذان القبر لکھا ، والله سبحٰنہ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ (۳۳۲)            ۲۹ ذی قعدہ ۱۳۱۱ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعض لوگ کہتے ہیں اذان دہنے ہاتھ کو ہونا چاہئے کہ دہنے ہاتھ کو فضیلت ہے اور بعض کہتے ہیں بلکہ بائیں ہاتھ کو ، اس میں شرعًا کیاحکم ہے؟ بینوا توجروا۔

الجواب :

اذان منارہ پر کہی جائے جس طرف واقع ہو یا بیرونِ مسجد جدھر زیادہ نافع ہو ، مثلًا ایك جانب کوئی موضع رفیع زائد ہے یا اُس طرف مسلمانوں کی آبادی دُور تك ہے تو اُسی سمت ہونی چاہئے کہ اصل مقصود اذان تبلیغ واعلام ہے جس طرف یہ مقصود زیادہ پایا جاوے وہی افضل ہے باقی دہنے بائیں کی کوئی تخصیص شرع مطہر سے ثابت نہیں ، ہندیہ میں ہے :

ینبغی ان یؤذن علی المئذنۃ اوخارج المسجد ولایؤذن فی المسجد کذافی فتاوی قاضی خان السنۃ ان یؤذن فی موضع عالٍ یکون اسمع لجیرانہ ویرفع صوتہ کذافی البحر الرائق[1]اھ۔

اذان منارہ پر یامسجد سے باہر دی جائے مسجد کے اندر اذان نہ دی جائے کذافی فتاوٰی قاضی خان سنّت یہ ہے کہ اذان ایسے بلند مقام پر دی جائے کہ گردونواح کے لوگوں کوآواز خوب سنائی دے اور اذان میں آواز بلند رکھے ، کذا فی البحرالرائق۔ (ت)

مع ہذاکہہ سکتے ہیں کہ دونوں جانبیں دہنی اور دونوں بائیں ہیں کہ جو قبلہ رُو کھڑا ہواس کی دہنی طرف کعبہ معظمہ ومسجد کی بائیں ہے اور اُس کی بائیں کعبہ ومسجد کی دہنی تو جب دونوں طرف نفع برابر ہو دونوں یکساں ہیں ، والله سبحٰنہ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ (۳۳۳)            اذان واقامت کس جانب کو چاہئے۔  بینوا توجروا۔

الجواب :

جس مسجد میں اذان کے لئے منارہ بناہو جب تو اُس کی جہت خود معین ہے اُس منارہ پر اذان دینا چاہئے خواہ وہ کسی جانب ہو ۔

فی البحرالرائق تحت قولہ ویجلس بینھما السنۃ ان یکون الاذان فی المنارۃ [2] الخ۔

البحرالرائق میں ماتن کے قول “ و یجلس بینھما “ کے تحت ہے کہ سنّت یہ ہے کہ اذان منارہ پر دی جائے الخ (ت)

اور جہاں نہ ہوتو نظر فقہی میں انسب یہ کہ جس طرف حاجت زائد ہو اُسی جانب کو اختیار کرے مثلًا ایك جانب مسلمان زیادہ رہتے ہیں یااُس طرف مکان اُن کے دُور ہیں تو وہی جانب اذان کے لئے انسب ہے۔

فانہ انما شرع للاعلام فماکان ادخل فی المقصودکان احسن بل رایت ائمتناربمامالوا الی ھذا المعنی والیہ اشاروا من دون تعیین لجھۃ ففی البحرالرائق وردالمحتارعن السراج ینبغی للمؤذن ان یؤذن فی موضع یکون اسمع للجیران [3]۔                             

اذان کی مشروعیت نماز کی اطلاع کے لئے ہے تو یہ مقصود جس احسن طریقہ سے حاصل ہوگااسے اپنایا جائے بلکہ میں نے دیکھا ہے کہ ہمارے ائمہ عمومًا اسی معنی کی طرف مائل ہوئے ہیں اور اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کسی جہت کا تعین نہیں کیا۔ البحرالرائق اور ردالمحتار میں سراج کے حوالے سے ہے مؤذن ایسی جگہ اذان دے کہ وہاں سے گردونواح کے لوگوں کو زیادہ آواز پہنچے۔ (ت)

اوراقامت کی نسبت بھی تعیین جہت کہ دہنی جانب ہویابائیں فقیرکی نظر سے نہ گزری بلکہ ہمارے ائمہ تصریح فرماتے ہیں کہ افضل یہ ہے کہ امام خوداذان واقامت کہے ،

فی الدرالمختارالافضل کون الامام ھو المؤذن [4] انتھی وفی فتح القدیر الافضل کون الامام ھو المؤذن وھذامذھبنا وعلیہ کان ابوحنیفۃ [5] انتھی وفی ردالمحتار السنۃ ان یقیم المؤذن[6] انتھی وفیہ عن السراج ان اباحنیفۃ کان یباشرالاذان والاقامۃ بنفسہ[7]۔                            

درمختار میں ہے کہ افضل یہی ہے کہ امام خود مؤذن ہو ، انتہی۔ اور فتح القدیر میں ہے کہ امام کا ہی مؤذن ہونا افضل ہے ، یہی ہمارا مذہب ہے اور یہی امام اعظم کی رائے ہے ، انتہی۔ اور ردالمحتار میں ہے سنت یہ ہے کہ مؤذن تکبیر کہے ، انتہی۔ اور اسی میں سراج سے ہے کہ امام اعظم ابوحنیفہ اذان واقامت خود کہتے تھے۔ (ت)

 



[1]   فتاوٰی ہندیہ الفصل الثانی فی کلمات الاذان والاقامۃ وکیفیتہا مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۵۵

[2]   البحرالرائق باب الاذن مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی  ۱ / ۲۶۱

[3]   ردالمحتار باب الاذن مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۸۳

[4]   الدرالمختار باب الاذان مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۶۵

[5]   فتح القدیر باب الاذن مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۲۳

[6]   ردالمحتار باب الاذن مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن