دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

ناجائز نہیں ، ہاں خلاف اولی ہے اگر مؤذن حاضر ہو اور اسے گراں گزرے ورنہ اتنا بھی نہیں ۔ مسند امام احمد وسنن اربعہ وشرح معانی الآثار میں زیاد بن حارث صدائی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ، میں نے اذان کہی تھی بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے تکبیر کہنی چاہی فرمایا : یقیم اخو صداء فان من اذن فھو یقیم [1] قبیلہ صداء کا بھائی اقامت کہے گا کہ جواذ ان دے وہی تکبیر کہے۔ فی الدرالمختار (درمختار میں ہے) :

اقام غیر من اذن بغیبتہ ای المؤذن لایکرہ مطلقا وان بحضورہ کرہ ان لحقہ وحشۃ [2]۔

مؤذن کی غیر موجودگی میں غیر کا تکبیر کہنا مطلقًا مکروہ نہیں البتہ جب مؤذن موجود ہو اور اس پر گراں گزرے تو مکروہ ہے۔ (ت)

ردالمحتار میں ہے :

ھذااختیارخواہر زادہ ومشی علیہ فی الدرر والخانیۃ لکن فی الخلاصۃ وان لم یرض بہ یکرہ وجواب الروایۃ انہ لاباس بہ مطلقا اھ قلت وبہ صرح الامام الطحاوی فی معانی الآثار معزیاالی ائمتناالثلثۃوقال فی البحر ویدل علیہ اطلاق قول الممجمع ولانکرھھامن غیرہ فمافی شرحہ لابن ملك من انہ لوحضرولم یرض یکرہ اتفاقا فیہ نظر اھ وکذایدل علیہ اطلاق الکافی معللا بان کل واحد ذکر فلاباس بان یأتی بکل واحد رجل اٰخر ولکن الافضل ان یکون المؤذن ھو المقیم [3] اھ الخ                    

یہ خواہر زادہ کامختارہے اوریہی درراورخانیہ میں ہے لیکن خلاصہ میں ہے اور اگر وہ راضی نہ ہو تو کراہت ہے اور روایت کا جواب یہ ہے کہ اس میں مطلقًا کوئی حرج نہیں اھ میں کہتا ہوں امام طحاوی سے معانی الآثارمیں ہمارے تینوں ائمہ کی طرف نسبت کرتے ہوئے یہی تصریح کی ہے ، اور بحر میں فرمایا قول مجمع کا اطلاق کہ ہم اسے غیر سے مکروہ نہیں سمجھتے اسی پر دال ہے اس کی شرح لابن ملك میں جو ہے کہ اگر مؤذن موجود ہواور وہ راضی نہ ہو تو اتفاقًا مکروہ ہے اس میں نظر ہے اور کافی کا اطلاق بھی اسی پر دال ہے اور استدلال یہ ہے کہ ہر ایك ذکر ہے اگر ہر ایك ذکر کو دُوسرا بجالائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ، ہاں افضل یہ ہے کہ مؤذن ہی تکبیر کہے۔ (ت)

اقول :  اذاحملناالکراھۃعلی کراھۃالتنزیہ ونَفَیھا علی التحریم حصل الوفاق الاتری الٰی قول الکافی النافی کیف یقول لاباس ولکن الافضل وکذلك عبرالامام الطحاوی وغیرہ بلاباس وقدصرحوا ان مرجعہ الی کراھۃ التنزیہ۔                                           

اقول : جب ہم کراہت کو کراہت تنزیہی اور اسکی نفی کو کراہت تحریم پر محمول کریں تومسئلہ میں اتفاق ہوجائے گا۔ کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ کافی نے نفیِ کراہت کا قول کرتے ہوئے “ لاباس “ اور “ لکن الافضل “ کہا اور اسی طرح امام طحاوی وغیرہ نے بھی “ لابأس “ سے تعبیر کیا حالانکہ فقہأ نے تصریح کی ہے کہ اس سے کراہت تنزیہی ثابت ہوتی ہے۔ (ت)

پھر یہ استمرار کا دعوٰی کہ حضرت بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاذان کہتے اور اقامت دوسرے صاحب کہا کرتے تھے کسی حدیث سے ثابت نہیں ، ہاں حدیث میں ایك بار کا یہ ذکر آیا ہے کہ جب عبدالله  بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے خواب میں اذان دیکھی اورحضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے عرض کی ، ارشاد ہوا : بلال کو سکھا دو کہ اُن کی آواز بلند تر ہے۔ بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اذان کہی جب تکبیر کہنی چاہی عبدالله  بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنادم ہُوئے اور عرض کی : خواب تو میں نے دیکھا تھا میں تکبیر کہنا چاہتا ہوں ۔ فرمایا : تو تمہیں کہو۔ انہوں نے تکبیر کہی رواہ الامام احمد وابوداود [4] والطحاوی عنہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ(اسے امام احمد ، ابوداؤد اور طحاوی نے اُنہیں صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کیا ہے۔ ت)یہ حدیث کچھ ہمارے مخالف نہیں کہ کلام اُس صورت میں ہے جب مؤذن کو ناگوار گزرے اور حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے اذن کے بعد بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی ناگواری کاکیا احتمال ، مع ہذا یہ حدیث ابتدائے امر کی ہے کہ وہ پہلی اذان تھی کہ اسلام میں کہی گئی اور حدیث متقدم اُس سے متأخر ہے تاہم ثبوت صرف افضلیت کا ہے نہ کہ اقامتِ غیر کی ممانعت کمالایخفی والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ (۳۲۸)            ۶ رمضان المعظم ۱۳۱۱ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ خطیب کے سامنے جو اذان ہوتی ہے مقتدیوں کو اُس کا جواب دینا اور جب وہ خطبوں کے درمیان جلسہ کرے مقتدیوں کو دُعا کرناچاہئے یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔

الجواب :

ہرگز نہ چاہئے یہی احوط ہے ردالمحتار میں ہے : اجابۃ الاذان حَ مکروھۃ [5] (اذان کا جواب  اُس وقت مکروہ ہے۔ ت)نہرالفائق پھر دُرمختار میں ہے :

ینبغی ان لایجیب بلسانہ اتفاقا فی الاذان بین یدی الخطیب [6]۔

اس بات پر اتفاق ہے کہ خطیب کے سامنے کی اذان کا جواب زبانی نہیں دینا چاہئے۔ (ت)

اُسی میں ہے :

اذا خرج الامام من الحجرۃ ان کان والا فقیامہ للصعود فلاصلاۃ ولاکلام الی تمامھا وقالا لاباس بالکلام قبل الخطبۃ وبعدما اذاجلس عندالثانی والخلاف فی کلام یتعلق بالاٰخرۃ اماغیرہ فیکرہ اجماعًا وعلی ھذا فالترقیۃ المتعارفۃ فی زماننا تکرہ عندہ والعجب ان المرقی ینھی عن الامر بالمعروف بمقتضی حدیثہ ثم یقول انصتوا رحمکم الله [7] اھ ملخصا                                                                                                                                                                          

اور جب امام حجرہ سے نکلے اگر حجرہ ہو ورنہ امام کا منبر پر چڑھنے کے لئے کھڑا ہونا معتبر ہے۔ تو اس وقت سے تمام خطبہ تك نہ کوئی نماز جائز ہے نہ کوئی کلام۔ اور صاحبین نے کہا : خطبہ سے پہلے اور بعد کلام میں کوئی حرج نہیں ۔ اور امام ابویوسف کے نزدیك جب امام بیٹھے اس وقت بھی کلام میں حرج نہیں ۔ اور اختلاف امام صاحب اور صاحبین کا اس کلام میں ہے جو آخرت سے متعلق ہو ، کلامِ آخرت کے علاوہ دنیاوی کلام بالاتفاق مکروہ ہے۔ اسی بنا پر(خطیب کے سامنے) آیہ کریمہ ان الله وملئکۃ الخ کا پڑھنا جیسا کہ ہمارے زمانے میں معروف ہے امام اعظم کے نزدیك مکروہ ہے ، تعجب اس بات کا ہے کہ آیت مذکورہ کو پڑھنے والا حدیث شریف کے تقاضے کے مطابق دوسروں کو نیکی کا حکم دینے سے منع کرتا ہے پھر خود کہتا ہے چُپ رہو۔ الله  تعالٰی تم پر رحم فرمائے اھ ملخصا (ت)

ہاں یہ جوابِ اذان یا دُعا اگر صرف دل سے کریں زبان سے تلفّظ اصلًا نہ ہوتو کوئی حرج نہیں کماافادہ کلام علی القاری وفروع فی کتب المذہب(جیسا کہ ملّا علی قاری کے بیان سے مستفاد ہے اور دیگر فروع کتب مذہب میں ہیں ۔ ت)اور امام یعنی خطیب تو اگر زبان سے بھی جوابِ اذان دے یا دعا کرے بلاشبہہ جائز ہے وقدصح کلا الامرین عن سیدالکونین صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فی صحیح البخاری وغیرہ (صحیح بخاری وغیرہ میں ہے یہ دونوں امورسید کونین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ



[1]   شرح معانی الآثار باب الرجلین یؤذن احدہما ویقیم الآخر مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۸

[2]   الدرالمختار باب الاذان  مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۶۴

[3]   ردالمحتار مطلب فے المؤذن اذاکان غیر مستحب فی اذانہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۹۱

[4]   سنن ابی داؤد الرجل یؤذن ویقیم آخر مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۷۶

[5]   ردالمحتار باب الجمعہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۶۰۷

[6]   الدرالمختار ، باب الاذان ، مطبوعہ مجتبائی $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن