دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

الاقامۃ فی المسجدولابدمنہ واماالاذان فعلی المئذنۃ فان لم تکن ففی فناء المسجد وقالوا لایؤذن فی المسجد[1]۔

تکبیر مسجد کے اندر کہی جائے اور اس کے بغیر کوئی اور صورت نہیں البتہ اذان منارہ پر دی جائے ، اگر وہ نہ ہوتو فنائے مسجد میں دینی چاہئے اور فقہا نے بیان کیا ہے کہ مسجد میں اذان نہ دی جائے۔ ت)

اور اس مسئلہ میں نوع کراہت کی تصریح کلمات علما سے اس وقت نظرِ فقیرمیں نہیں ہاں صیغہ “ لایفعل “ سے متبادر کراہت تحریم ہے کہ فقہائے کرام کی یہ عبارت ظاہرًا مشیر ممانعت وعدم اباحت ہوتی ہے علامہ محمد محمد محمد ابن امیرالحاج نے حلیہ میں فرمایا : قول المص لایزید یشیر الی عدم اباحۃ الزیادۃ [2](مصنف کا قول “ لا یزید “ اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ زیادتی جائز نہیں ۔ ت) نظیر اس کی “ یفعل ویقول “ ہے کہ ظاہرًا مفید وجوب ہے کمانص علیہ ایضًا فیھا(جیسا کہ اس پر بھی اس میں تصریح ہے۔ ت)یونہی عبارت نظم میں لفظ “ یکرہ “ کہ غالبًاکراہت مطلقہ سے کراہت تحریم مراد ہوتی ہے :

کمافی الدرالمختاروردالمھتار وغیرھما من الاسفار ویؤیدہ منع رفع الصوت فی المساجد کمافی حدیث ابن ماجۃ جنبوا مساجدکم صبیانکم ومجانینکم وسل سیوفکم ورفع اصواتکم[3] وقدنھوا عن رفع الصوت بحضرۃ النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم وحذروا علی ذلك من حبط الاعمال والحضرۃالالٰھیۃ احق بالادب کماتری یوم القیمۃ “ وخشعت الاصوات للرحمٰن فلاتسمع الاھمسا “ وبھذا یضعف مایظن ان لیس فیہ الاخلاف السنۃ فلایکرہ الاتنزیھا علی ان التحقیق ان خلاف السنۃ المتوسطۃ متوسط بین کراھتی التنزیہ والتحریم وھو المُعبّر بالاساء ۃ کماسیظھر لمن لہ المام بخدمۃ العلمین الشرفین الفقہ والحدیث فلیراجع ولیحرر والله سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔  

جیسا کہ دُرمختار ، ردالمحتار اور دیگر معتبر کتب میں ہے اور مساجدمیں بلندآواز سے منع کرنا بھی اس کی تائید کرتا ہے جیسا کہ حدیث ابن ماجہ میں ہے ، اپنی مساجد کو اپنے ناسمجھ بچّوں سے ، دیوانوں سے ، تلواروں کو سَونتنے سے اور آوازوں کو بلند کرنے والوں سے محفوظ رکھو ، اور بارگاہِ نبوی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّممیں آواز بلند کرنے سے منع کیا گیا ہے اور اس پر تمام اعمال کے ضائع ہونے کی دھمکی دی گئی ہے ، اور بارگاہِ خداوندی اس ادب واحترام کے زیادہ لائق ہے جیسا کہ تم قیامت کے روز دیکھو گے رحمٰن کے لئے تمام آوازیں پست ہوجائیں گی تو تُو نہیں سنے گا مگر بہت آہستہ آواز۔ اس گفتگو سے یہ گمان وقول ضعیف ہوجاتا ہے کہ یہ عمل صرف خلاف سنت ہے تو اس میں صرف کراہت تنزیہی ہے۔ علاوہ ازیں تحقیق یہ ہے سنتِ متوسطہ کا خلاف کراہت تنزیہی اور تحریمی کے درمیان ہوتا ہے اور اس کو “ اساءۃ “ سے تعبیر کیا گیا ہے جیسا کہ یہ اس شخص پر ظاہر ہوجائیگا جس نے دو۲ مقدس علوم حدیث وفقہ کی خدمت کی ہے اس کی طرف رجوع کیا جائے اور اسے ذہن نشین کرنا چاہئے۔ والله سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔ (ت)

مسئلہ (۳۲۶)            ۲۹ صفر ۱۳۱۱ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ جمیع وقت پنجگانہ نماز میں بعد اذان کے لازم پکڑنا مؤذن کا ہر نمازی کوبآواز بلانا اور نمازیوں کااسی لحاظ سے اذان پر خیال نہ رکھنا بلکہ بعد اذان کے بُلانے سے آنا اس صورت میں بلانا مؤذن کا بعد اذان کے چاہئے یا نہیں ، دوسرے یہ کہ امام کے انتظار میں وقت میں تاخیر کرنامقتدیوں کو درست ہے یا نہیں ؟اور فجر کی سنتیں بعد جماعتِ فرض مسبوق ادا کرے درست ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔

الجواب :

جب نمازی اذان سے آجاتے ہوں توبلاوجہ بعداذان ہر شخص کو جُداجدابلانے کا التزام کرناجس سے اُنہیں اذان پرآنے کی عادت جاتی رہے نہ چاہئے فان فیہ علی ھذا التقدیراخلاء للاذان عمایقصد بہ(کیونکہ ایسی صورت میں اذان کا مقصد فوت ہوجاتا ہے۔ ت)اور وقت کراہت تك انتظارِ امام میں ہرگز تاخیر نہ کریں ، ہاں وقتِ مستحب تك انتطار باعثِ زیادت اجر وتحصیلِ فضیلت ہے پھر اگر وقت طویل ہے اورآخر وقت مستحب تك تاخیر حاضرین پرشاق نہ ہوگی کہ سب اُس پر راضی ہیں تو جہاں تك تاخیر ہو اُتنا ہی ثواب ہے کہ یہ ساراوقت اُن کا نماز ہی میں لکھا جائیگا ،

وقدصحّ عن الصحابۃ رضی الله تعالٰی عنھم انتظار النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم حتی مضی نحومن شطر اللیل وقداقرھم علیہ النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم وقال انکم لن تزالوا فی صلاۃ                                                                                                                                                                                                                                                          ما انتظرتم الصلاۃ[4]۔

یہ بات صحت کے ساتھ ثابت ہے کہ صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمرات گئے تك نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا انتظار کرتے حتی کہ رات کا ایك حصہ گزرجاتااور آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے انکے اس عمل کی تصویب فرمائی اور ارشاد فرمایا : جتنا وقت تم نماز کا انتظار کرتے ہو یہ سارا وقت تم نماز میں ہی ہوتے ہو۔ (ت)

ورنہ اوسط درجہ تاخیر میں حرج نہیں جہاں تك کہ حاضرین پر شاق نہ ہو۔

فی الانقرویۃ عن التاتارخانیۃعن المنتقی للامام الحاکم الشھیدان تاخیرالمؤذن وتطویل القرأۃ لادراك بعض الناس حرام ھذا اذاکان لاھل الدنیا تطویلًا وتاخیرًا یشق علی الناس والحاصل ان التاخیر القلیل لاعانۃاھل الخیرغیرمکروہ ولاباس بان ینتظر الامام انتظارًا وسطا [5]۔

انقرویہ میں تاتارخانیہ سے اور اس میں امام حاکم الشہید کی منتقی سے ہے کہ مؤذن کااقامت کو مؤخر کرنا اور امام کا قرأت کو لمبا کرنا تاکہ بعض خاص لوگ جماعت کو پالیں حرام ہے یہ حرمت اس وقت ہے جب یہ طوالت وتاخیر کسی دنیا دار کے لئے ہو اور لوگوں پر یہ شاق گزرے حاصل یہ ہے کہ تھوڑی تاخیر تاکہ اہلِ خیر شریك ہوجائیں مکروہ نہیں ، امام کو اوسط درجہ کا انتظار کرنا جائز ہے۔ (ت)

اورسنّتِ فجرکہ تنہافوت ہوئیں یعنی فرض پڑھ لیے سُنّتیں رہ گئیں اُن کی قضا کرے تو بعد بلندیئ آفتاب پیش ازنصف النہارشرعی کرے طلوعِ شمس سے پہلے اُن کی قضا ہمارے ائمہ کرام کے نزدیك ممنوع وناجائز ہے ،

لقول رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم لاصلاۃ بعد الصبح حتی ترتفع الشمس [6]۔

کیونکہ نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا ہے : صبح کے بعد کوئی نماز جائز نہیں یہاں تك کہ سورج بلند ہوجائے۔ (ت)

والله سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔

مسئلہ (۳۲۷)            از کلکتہ دھرم تلا ۶ مرسلہ جناب مرزا غلام قادر بیگ صاحب      ۵رجب ۱۳۱۱ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مؤذن کی بغیر اجازت دوسرا شخص اقامت کہہ سکتا ہے یا نہیں ؟درصورت عدمِ جواز بدون اجازتِ مؤذن سائل حدیث شریف سے سند چاہتاہے اور کہتاہے کہ حضرت بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاذان کہتے اور اقامت دوسرے صاحب کہاکرتے۔ بینوا توجروا۔

الجواب :

 



[1]   فتح القدیر باب الاذان مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۱۵

[2]   حلیہ

[3]   سُنن ابن ماجہ باب مایکرہ فی المساجد مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۵۵

[4]   الصحیح لمسلم باب فضل الصلواۃ المکتوبۃ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۳۴

[5]   فتاوٰی انقرویہ کتاب الصلوٰۃ  مطبوعہ الاشاعۃ العربیہ قندھار افغانستان ۱ / ۵

[6]   صحیح بخاری  کتاب الصلوٰۃ قدیمی کتب خانہ کراچی $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن