30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو الله کے سوا معبود بنالو؟ اور یہ خطاب غروبِ شمس کے بعد ہوا تھا ، میں کہتا ہوں مشہور تو یہ ہے کہ یہ خطاب بروزِ حساب ہوگا ، کیا تم نہیں دیکھتے کہ اس کے جواب میں عیسٰی علیہ السلام کا یہ قول مذکور ہے کہ جب تُونے مجھے پُورے طور پر اٹھالیا تو تُو ہی ان کا نگہبان تھا ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
بل اقول : عسی ان یکون ماذکر الامام ابو الفضل بمعزل عما نحن فیہ ، فانہ انما ذکرالتطوعات ، والکلام فی المکتوبات ، لاایقاع نفل فی ھذہ الاوقات ، فانہ ثابت فی جمیع الساعات فی المعالم عن جعفر بن سلیمٰن قال سمعت ثابتا یقول : کان داؤد نبی الله علیہ الصلاۃ والسلام قدجزأ ساعات اللیل والنھار علی اھلہ ، فلم تکن تأتی ساعۃ من ساعات اللیل والنھار
لیکن میں کہتا ہوں : ایسے لگتا ہے کہ امام ابوالفضل نے جو کچھ کہا ہے وہ زیرِ بحث مسئلے سے غیر متعلق ہے کیونکہ انہوں نے نوافل کا ذکر کیا ہے جبکہ بحث فرائض سے ہورہی ہے۔ ان اوقات میں نوافل اداکرنا بحث سے خارج ہے کیونکہ نوافل تو ان اوقات کے علاوہ بھی ہروقت اداکیے جاسکتے ہیں ۔ معالم میں جعفر ابن سلیمٰن سے منقول ہے کہ میں نے ثابت کو کہتے سنا ہے کہ الله کے نبی داؤد علیہ السلام نے رات اور دن کی گھڑیوں کو اپنے اہلِ خانہ پر نماز کے لئے تقسیم کر رکھا تھا
الا وانسان من اٰل داؤد قائم یصلی [1] اھ۔
تو رات اور دن کی گھڑیوں میں کوئی ایسی گھڑی نہیں ہوتی تھی جس میں آلِ داؤد کا کوئی فرد نماز نہ پڑھ رہا ہو۔ (ت)
معہذا اُن سب اقوال میں کہیں کہیں گرفت ضرور ہے اوّل نے صاف تصریح کی کہ عشاء انبیائے سابقین علیہم الصّلاۃ والتسلیم میں کسی نے نہ پڑھی اور سوم کا بھی یہی مفاد کہ صدر کلام میں انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کا ذکر کیا ہے اور اُمتوں سے موازنہ مقصود نہیں کماقدمنا (جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا ہے۔ ت) تو یہ اطلاق تخصیص اپنے عموم پر ہے جس طرح اشعہ وغیرہا کی عبارتوں میں تھا نہ بلحاظ امم۔ اور ہم اوپر بیان کرچکے کہ یہ ظاہر دلائل کے خلاف وقول مرجوح ہے۔ اول ودوم نے عصر کو عزیر ویونس علیہما الصّلاۃ والسلام کی طرف نسبت کیا حالانکہ حضرت سلیمٰنعَلَيْهِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کا عصر پڑھنا روشن ثبوت سے ثابت۔ قال تعالٰی :
وَ وَهَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیْمٰنَؕ-نِعْمَ الْعَبْدُؕ-اِنَّهٗۤ اَوَّابٌؕ(۳۰) [2]
اِذْ عُرِضَ عَلَیْهِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُۙ(۳۱) ھ[3]
فَقَالَ اِنِّیْۤ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّیْۚ-حَتّٰى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِٙ(۳۲) [4]
اور ہم نے داؤد کو سلیمان عطا کیا وہ بہت اچھا بندہ ہے الله کی طرف رجوع کرنے والا ، جب اس کے سامنے اصیل اور عمدہ گھوڑے پیش کیے گئے تو اس نے کہا کہ مجھے اچھی چیز کی محبّت نے اپنے رب کی یاد سے غافل کردیا۔ (ت)
علماء فرماتے ہیں یہ نماز نمازِ عصر تھی ، جلالین میں ہے :
عن ذکرربی ای صلاۃ العصر [5]۔
(اپنے رب کی یاد سے مراد نمازِ عصر ہے۔ ت)
مدارك میں ہے :
غفل عن العصر وکانت فرضا فاغتم [6]۔
عصر سے غافل ہوگئے تھے اور وہ ان پر فرض تھی اس لئے غمزدہ ہوگئے۔ (ت)
اور سلیمٰنعَلَيْهِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کا زمانہ یونس وعزیر علیہم الصّلاۃ والسلام سے مقدم ہے تو اولیت صلاۃ عصران دونوں صاحبوں کیلئے کیونکر ہوسکتی ہے۔ نسیم الریاض میں زیرِ حدیث ماینبغی لاحد ان یقول اناخیر من یونس بن متی
کسی کیلئے یہ کہنا روا نہیں کہ میں یونس ابن متی سے افضل ہوں ۔ ت) ہے :
ھو من ولد بنیامین بن یعقوب علیھم الصلاۃ و السلام ، وکان بعد سلیمٰن علیہ الصلاۃ والسلام [7] اھ وفیہ فی فصل حکم عقد قلب النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ، یونس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ، کمافی مراٰۃ الزمان ، کان بعد سلیمٰن نبی اللّٰہ ، علیہ الصلاۃ والسلام[8]۔
یونس ، بنیامین ابن یعقوب علیہم السلام کی اولاد میں سے تھے اور سلیمان علیہ السلام کے بعد تھے اھ نسیم الریاض ہی کی اس فصل میں ، جس کا عنوان ہے حکم عقد قلب النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم، مرأۃ الزمان کے حوالے سے مذکور ہے کہ یونس علیہ السلام الله کے نبی سلیمانعَلَيْهِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے بعد تھے۔ (ت)
یہ تو یونس علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نسبت تصریح تھی اور حضرت عزیر کا سیدنا سلیمان علیہما الصلاۃ والسلام کے بعد ہونا خود ظاہر کہ اُن کا واقعہ موت وحیات کہ قرآن عظیم میں مذکور بعد اس کے ہوا کہ بخت نصربیت المقدس کو ویران کرگیا تھا اور احادیث سے ثابت کہ بیت المقدس کی بناء داؤدعَلَيْهِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے شروع اور سلیمان علیہ الصّلاۃ نے ختم فرمائی تو سلیمان وعزیر علیہما الصلاۃ والسلام میں صدہاسال کا فاصلہ تھا ، معالم التنزیل میں ہے :
قال الذی قال ان المارکان عزیرا : ان بختنصر لماخرب بیت المقدس واقدم سبی بنی اسرائیل ببابل ، کان فیھم عزیر ودانیال وسبعۃ الاف من اھل بیت داؤد علیھم الصلاۃ والسلام ، فلما نجاعزیر من بابل ارتحل علی حمارلہ [9]۔ الخ
جس نے کہا ہے کہ گزرنے والے عزیر تھے ، اس نے بیان کیا ہے کہ بخت نصر نے جب بیت المقدس کو برباد کردیا اور بنی اسرائیل کو قید کرکے بابل لے آیا تو ان میں عزیر اور دانیال کے علاوہ داؤد علیہم السلام کے خاندان سے تعلق رکھنے والے سات ہزار افراد بھی تھے۔ پھر جب الله تعالٰی نے عزیر کو نجات دی اور وہ اپنے گدھے پر سوار ہوکر سفر کے لئے نکلے۔ الخ (ت)
اُسی میں ہے :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع