30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پاك چیز مثلًا اُشنان ، زعفران ، پھل اور درختوں کے پتّے مل جائیں اگرچہ وہ اس کے تمام اوصاف بدل دے۔ (ت)
(۶) دہ دَردہ کے عرض و طول میں کچھ اختلاف نہیں ہوسکتا کہ اس کا مفاد ہی سو۱۰۰ ہاتھ ہے ، ہاں اس میں اختلاف ہے کہ عرض وطول دس دس ہاتھ ہونا ضرور یا صرف حاصل ضرب سو۱۰۰ ہاتھ ہونا کافی مثلًا ۲۵ ہاتھ طول ۴ ہاتھ عرض یا ۵۰ ہاتھ طول ۲ ہاتھ عرض اور یہی صحیح ہے اور عمق ہیں صحیح ومعتمد یہی ہے کہ پانی لینے سے زمین نہ کھلے ہمارے فتاوی میں اس مسئلہ میں خاص ایك رسالہ ہے ھبۃ الحبیر فی عمق ماء کثیر۱۳۳۴ جسے تحقیق بازغ وتنقیح بالغ دیکھنی ہو اس کی طرف رجوع کرے۔
(۷) کراہت طبعی کوئی مسئلہ شرعی نہیں ، ہاں کوئی محل شك ہو تو احتیاط مناسب ہے او یہ بھی نہ ہو کہ شرعًا جس کی طہارت ثابت ہو اُسے اپنی اوہام پرستی سے ناپاك سمجھے یا اس کے استعمال کرنے والوں پر طعن کرے۔ حکم وہی ہے جو اللہورسول کا ہے اور حکم نہیں مگر اللہرسول کےلئے جل وعلا وصلی اللہتعالٰی علیہ وسلم۔ والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۴ : از بلند شہر بالائے کوٹ محلہ قاضی واڑہ مرسلہ محمد عبدالسلام صاحب ۳۰۔ رمضان ۱۳۳۷ھ
یہاں جامع مسجد میں ایك حوض وضو کے لئے تعمیر ہوا اس کے بنانے میں جو خرچ ہوا اس کی کیفیت یہ ہے کہ کچھ روپیہ تو اہلِ محلہ سے لیا گیا اور اس کے علاوہ مبلغ عــہ۱۰روپیہ مرغ بازی کی شرط کے بھی اسی حوض میں خرچ ہوئے اور کچھ روپیہ جو برادری میں کسی آدمی پر ایك مقدمہ میں ڈنڈ ڈالا گیا تھا وہ بھی اس حوض میں صرف ہوا۔ آ یا اس حوض کے پانی سے وضو جائز ہے یا نہیں؟
الجواب :
اس سے وضو جائز ہے اول تو حرام روپیہ حوض میں خود نہ لگا یا گیا بلکہ اُس کے عوض اینٹ یا مسالا خریدا یا راج مزدوروں کی اُجرت میں د یا ہوگا بصورتِ اجرت تو ظاہر ہے کہ اُس خبیث مال کو حوض سے تعلق نہ ہوا اور بصورت خریداری یہاں عام خریدار یاں یوں ہوتی ہیں کہ اتنے کی فلاں چیز دے دو اُس نے دی اس کے قبضے میں آگئی بیع تمام ہوگئی اس کے بعد قیمت دی جاتی ہے تو عقد ونقد زرحرام میں جمع نہ ہوا تو خریدی شے میں خباثت نہ آئی کماھو قول الامام الکرخی المفتی بہ علی مافصلناہ فی فتاوٰنا (جیسا کہ امام کرخی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکا مفتٰی بہ قول ہے ہم نے اپنے فتاوٰی میں اسے مفصل بیان کیا ہے۔ ت) اور اگر بالفرض عقد و نقد اُس شرا میں حرام پر جمع ہوئے ہوں مثلًا وہ زرحرام دکھا کر کہا اس کے بدلے فلاں چیز دے اُس نے دے دی اس نے زرحرام ثمن میں دے د یا تو اگرچہ اب وہ خریدی ہوئی شے خبیث ہُوئی مگر کیا معین کرسکتا ہے کہ وہ اینٹ یا مسالا کون سا ہے مجہول حالت میں حکم ممانعت نہیں ہوسکتا۔ امام محمد فرماتے ہیں :
بہ ناخذ مالم یعرف شیئا حراما بعینہ ھند یۃ عن الذخیرۃ$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع