دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 4 | فتاوی رضویہ جلد ۴

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۴

الجواب :

(۱) دہ در دہ ہونے کو عرض و طول اتنا چاہئے جن کا حاصل ضرب سو۱۰۰ ہاتھ ہو اور عمق اتنا کہ لپ سے پانی لیں تو زمین نہ کھلے۔
(
۲) دَہ در دہ حکم جاری میں ہے اور اس کی وجہ اندازہ ائمہ کہ مائے کثیر کی یہ تقد یر فرمائی کمابیناہ فی فتاوٰنا (جیسے ہم نے اپنے فتاوٰی میں بیان کیا ہے۔ ت)

ردالمحتار میں ہے :

ذکر بعض المحشین عن شیخ الاسلام العلامۃ سعد الدین الد یری فی رسالتہ القول الراقی انہ حقق فیھا ما اختارہ اصحاب المتون من اعتبار العشر و اورد نحومائۃ نقل ناطقۃ بالصواب ولایخفی ان الذین افتوا بالعشر کصاحب الھدا یۃ وقاضی خان و غیرھما من اھل الترجیح ھم اعلم بالمذھب منا فعلینا اتباعھم[1]۔ ۔ ۔ الخ۔       

بعض حاشیہ نگاروں نے شیخ الاسلام علامہ سعد الدین د یری سے نقل کیا ، انہوں نے اپنے رسالہ “ القول الراقی فی حکم الفساقی “ میں دہ در دہ کے اعتبار میں اصحابِ متون کی مختار بات کو صحیح ثابت کرتے ہوئے (اس کی تائید میں) تقریبًا ایك سو صحیح اقوال نقل کےے ہیں۔ مخفی نہ رہے کہ متاخرین مثلًا صاحبِ ہدایہ اور قاضیخان نے جو (ہرطرف سے دس گز کا) فتوٰی تو وہ لوگ اہلِ ترجیح میں سے ہیں مذہب کا علم ہم سے ز یادہ رکھتے ہیں لہذا ہم پر ان کی اتباع ضروری ہے الخ (ت)

(۳) مینہ کا پانی جب تك بہہ رہا ہے اگرچہ اُس میں نجس پانی یا اور نجاستیں ملیں ناپاك نہ ہوگا جب تك اس کا رنگ یا مزہ یا بُو نجاست کے سبب نہ بدلے فان الماء طھورلاینجسہ شیئ مالم یتغیر احد اوصافہ [2] (بے شك پانی پاك ہے اسے کوئی چیز ناپاك نہیں کرتی جب تك اس کا کوئی وصف نجاست کی وجہ سے نہ بدلے۔ ت)

تو بارش کا پانی جب تك بہتا ہُوا اس گڈھی کے کناروں تك آ یا اور اس کا کوئی وصف نجاست نے نہ بدلا پاك ہے اگرچہ اس میں ناپاك نالیوں کے پانی و غیرہ شامل ہوں اگرچہ گڈھی کے کنارے پر نجاستیں پڑی ہوں۔

ایك حالت تو یہ تھی ، دُوسری حالت اُس پانی کے گڈھی میں داخل ہونے کی ہے اس وقت اگر اس میں کوئی نجاست مرئیہ نہیں صرف ناپاك نالیوں کے پانی اس کے ساتھ بہہ کر آئے ہیں اور اُن سے اس کا کوئی وصف نہ بدلا اور دَہ در دَہ کی مساحت میں پھیلنے تك گڑھی کے اندر بھی کسی نجاست سے نہ ملا اگرچہ آگے بڑھ کر نجاستوں سے ملے تو اندر بھی یہ پانی پاك ہی رہے گا وہ ناپاك پانی جو اُس کے ساتھ بہہ کر آئے تھے اُن کو بھی اس نے پاك کرد یا فان الماء الجاری یطھر بعضہ بعضا [3] (جاری پانی کا بعض (اس کے) دوسرے بعض کو پاک کردیتا ہے۔ ت)  اور اب یہ پانی کبھی ناپاك نہ ہوگا اگرچہ گڑھی کے اندر کتنی ہی نجاستیں ہوں اور اُوپر سے کتنی ہی نجاستیں ڈالی یا دھوئی جائیں جب تك خاص نجاست کی وجہ سے اُس کا کوئی وصف بدلنا معلوم نہ ہو خواہ گڑھی سے باہر اُبل کر بہے یا اُس میں رُکا رہے۔

اور اگر گڑھی میں داخل ہوتے وقت اس میں نجاست مرئیہ تھی یا اس کا کوئی وصف نجاست سے بدلا ہوا تھا یا دَہ در دَہ کی مساحت میں پھےلنے سے پہلے گڑھی کے اندر کسی نجاست سے ملا تو یہ پانی ناپاك ہے اس قسم کا پانی جتنا بھی آتا جائے گا سب ناپاك ہوگا اگرچہ اس سے ساری گڑھی بھر جائے مگر یہ کہ گڑھی میں پہلے سے دَہ در دَہ پاك پانی ہوکر اب یہ بھی اس سے مل کر پاك ہوتا جائےگا جب تك نجاست تبدےل وصف نہ کرے یا یہ ہوکہ مثلًا بارش کا پانی پاك اس پر آکر اُسے بہادے اُبال کر گڑھی سے باہر نکال دے تو پاك ہوجائےگا اور پھر ٹھہر کر بھی پاك ہی رہے گا اگرچہ نالہ و غیرہ سے اُس میں نجاستیں آکر شامل ہوں جب تك نجاست اُس کا کوئی وصف نہ بدل دے اور اگر گڑھی میں مثلًا دو طرف سے بارش کا بہاؤ آ یا ایك جانب دہ در دہ کی مساحت سے پہلے ہی نجاستیں تھیں یا خود اس بہتے پانی میں نجاست مرئیہ موجود تھی کہ گڑھی میں داخل ہوکر ناپاك ہوگیا اور دوسری جانب کا پانی کوئی نجاست مرئیہ بہاکر نہ لا یا تھا اور گڑھی کے اندر بھی دہ در دہ ہونے سے پہلے کسی نجاست سے نہ ملاکہ پاك رہا اب یہ دونوں پانی مل گئے تو ناپاك طرف کا پانی بھی پاك ہوگیا لانہ فی حکم الجاری [4] (کیونکہ وہ جاری پانی کے حکم میں ہے۔ ت) اس طرح پاك وناپاك پانی مل کر گڑھی بھرے تو سب پاك ہے اور نہ بھرے تو سب پاك ہے جب تك نجاست تبدیل وصف نہ کرے۔

(۴ و ۸) یہ گڑھی دہ در دہ سے بہت زائد ہے کہ اُسے سو۱۰۰ ہاتھ درکار ہے اور یہ ہزاروں ہاتھ ہے۔

(۵) دہ در دہ کا رنگ یا بُو یا ذائقہ اگر نجاست ملنے کے سبب بدل جائے تو ضرور ناپاك ہوجائے گا اور پاك چیزوں کے سڑنے یا بہت دن گزرنے سے تینوں وصف بدل جائیں تو کچھ حرج نہیں اور تحقیق نہ ہوکہ یہ تغیر کس وجہ سے ہے تو حکم جواز ہے ، درمختار میں ہے :

ینجس بتغیر احد اوصافہ من لون اوطعم اوریح بنجس لا لوتغیر بطول مکث ولوشك فالاصل الطھارۃ ویجوز بماء خالطہ طاھر جامد کاشنان وزعفران

نجاست ملنے سے پانی کے رنگ ، ذائقے اور بُو میں کسی ایك وصف کے بدلنے سے پانی ناپاك ہوجاتا ہے ز یادہ ٹھہرنے کی وجہ سے تبدےل ہوتو ناپاك نہیں ہوتا کیونکہ طہارت اصل ہے اور اس پانی سے وضو جائز ہے جس میں کوئی ٹھوس

وفاکھۃ ورق شجر وان غیر کل اوصافہ$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن