30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ولانہ الاحوط فی الدین وان کان قول ابی یوسف ایضالہ قوۃ لانہ قول ابی یوسف ولانہ فی الاصل وقداستظھر اوجھیتہ فی الحلیۃ واومی الی ترجیحہ فی شرح الوقا یۃ واخردلیلہ فی الکافی غیر انھم اعتمدوا حرفا واحدا وھو استحقاق الصرف وقدعلمت جوابہ ولله الحمد۔
اقول : (میں کہتا ہوں) یہ تمہارے رب کی جانب سے آسانی اور رحمت ہے وہ نقیر وقطمیر (کھجور کی چھال اور گٹھلی کے چھلکے) میں اپنے بندوں کی حاجتوں کی رعایت فرماتا ہے یہی وجہ ہے کہ اس صورت میں تیمم جائز ہوگیا جب پانی والا ایك پیسے میں پانی بیچ رہا ہے اور وہاں اس کی قیمت آدھا پیسہ ہے۔ اور ایك میل پانی دُور ہوتو تیمم جائز ہوگیا اگرچہ وہ اس کے راستے ہی کی سمت میں ہو۔ اور اس طرف وہ اپنی ضرورت کےلئے جابھی رہا ہے لیکن حق شرع کی وجہ سے ممانعت تو یہ بغیر وجوب کے متحقق نہ ہوگی اس لئے کہ شرعًا جو واجب نہیں اس کا ترك شرعًا ممنوع نہیں اس سے فرق واضح ہوگیا ، اور تمام حمد خدا کےلئے ہے جو سارے جہانوں کا مالك ہے اسی لئے میں نقشہ میں امام محمد کے قول پر چلاہُوں اس لئے کہ اس پر صریح تصحیح کا نشان د یا گیا ہے اور اس لئے کہ دلیل کے اعتبار سے وہی اظہر ہے اور اس لئے کہ دین میں وہی احوط ہے۔ اگرچہ امام ابویوسف کے قول میں بھی قوت ہے اس لئے کہ وہ امام ابویوسف کا قول ہے اور اس لئے کہ وہ “ اصل “ میں ہے اور حلیہ میں اس کے اوجہ ہونے کو ظاہر بتا یا ، اور شرح وقایہ میں اس کی ترجیح کی طرف اشارہ کیا اور کافی میں اس کی دلیل مؤخر رکھی۔ مگر ان سب حضرات کا معتمد ایك ہی حرف ہے اور وہ ہے استحقاق صرف اور اس کا جواب معلوم ہوچکا اور خدا ہی کےلئے حمد ہے۔ (ت)
بالجملہ۲ حاصل تحقیق یہ ہوا کہ اگر کپڑے یا بدن پر کوئی نجاست حقیقیہ مانعہ ہے اور وضو نہیں اور پانی اتنا ملا کہ چاہے نجاست دھولے چاہے وضو کرلے دونوں نہیں ہوسکتے تو واجب ہے کہ اُس سے نجاست ہی دھوئے اگر خلاف کرے گا گنہگار ہوگا حدث کےلئے تیمم کرے خواہ نجاست دھونے سے پہلے یا بعد اور بعد اولٰی ہے کہ خلاف علماء سے بچنا ہے اور اسی لئے اگر پہلے کرچکا ہے نجاست دھونے کے بعد دوبارہ تیمم کرلینا انسب واحری ہے اور۱ اگر جنابت کا لمعہ باقی ہے اور حدث بھی ہوا اور وہ لمعہ غیر مواضع وضو میں ہے یا کچھ مواضع وضو کے ایك حصے میں کچھ دوسرے عضو میں اور پانی اتنا ملا کہ دونوں میں جس ایك کو چاہے دھولے دونوں نہیں ہوسکتے تو اُس پانی کو لمعہ دھونے میں صرف کرے اور حدث کےلئے لازم کہ جب پانی خرچ ہولے اس کے بعد تیمم کرے اگرچہ پہلے بھی کرچکا ہوکہ وہ منتقض ہوگیا ظاہر ہے کہ تیمم بعد کو کرنے یا بعد کو دوبارہ کرلینے میں نہ کچھ خرچ ہے نہ کچھ حرج۔ تو اگر قول امام محمد کی صریح تصحیح نہ بھی ہوتی خلاف ائمہ سے خروج کے لئے اسی پر عمل مناسب ومندوب ہوتا نہ کہ اس طرف صراحۃً لفظ اصح موجود اور یہی دلیل کی رُو سے ظاہرتر اور اسی میں احت یاط اور امر نماز میں احتیاط باعث فلاح وصلاح۔
اصلح الله سبحٰنہ وتعالٰی بالنامع سائر اخواننا فی الدین٭ وجعلنا جمیعا من المفلحین٭ وحشرنا فی زمرۃ الصلحین٭ تحت لواء سید المرسلین٭ صلی الله تعالٰی علیہ وعلیھم وعلٰی اٰلہ واٰلھم وحزبہ وحزبھم اجمعین٭ ابد الاٰبدین٭ والحمدلله ربّ العٰلمین٭ وصلی الله تعالٰی علی المصطفی واٰلہ وصحبہ٭ وابنہ وحزبہ٭ وعلینا بھم ولھم وفیھم ومعھم اٰمین٭ یاارحم الرحمین والله تعالٰی اعلم٭ وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم٭
خدائے پاك برتر ہمارا حال ہمارے تمام دینی بھائیوں کے ساتھ درست فرمائے اور ہم سب کو فلاح والوں میں سے بنائے اور ہمیں صالحین کے زمرے میں سید المرسلین کے جھنڈے تلے جمع فرمائے۔ خدائے برتر کا درود ہو حضور پر اور رسولوں پر اور حضور کی آل اور رسولوں کی آل اور حضور کی جماعت اور رسولوں کی جماعت سب پر ہمیشہ ہمیشہ اور تمام حمد خدا کےلئے ہے جو تمام جہانوں کا مالك ہے اور اللہ تعالٰی رحمت فرمائے سرکار مصطفی ، ان کی آل ، ان کے اصحاب ، ان کے فرزند ، ان کے گروہ پر اور ہم ان کے طفےل ، ان کے سبب ، ان کے اندر اور ان کے ساتھ قبول فرما اے سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم فرمانے والے اور خدائے برتر ہی خوب جاننے والا ہے اور اس کا علم بہت تام اور محکم ہے اس کا مجد جلےل ہے۔ (ت)
الحمدلله کتاب مستطاب حسن التعّمم لبیان حد التیمم مسودہ فقیر سے اٹھارہ۱۸ جز سے زائد میں باحسن وجوہ تمام ہوئی جس میں صدہا وہ ابحاثِ جلےلہ ہیں کہ قطعًا طاقتِ فقیر سے بدر جہاورا ہیں مگر فیض قد یر عاجز فقیر سے وہ کام لے لیتا ہے جسے دیکھ کر انصاف والی نگاہیں کہ حسد سے پاك ہوں ناخواستہ کہہ اُٹھیں ع :
کم ترك الاول للاخر
(اگلے پچھلوں کے لئے کتنا چھوڑ گئے۔ ت)
کتنے مسائل جلےلہ معرکۃ الآرا بحمدہٖ تعالٰی کیسی خُوبی وخوش اسلوبی سے طے ہوئے ولله الحمد (اور خدا ہی کےلئے حمد ہے۔ ت) کتاب میں اصل مضمون کے علاوہ آٹھ۸ رسائل ہیں :
(۱) سمح الندرٰی فیما یورث العجز عن الماء۱۳۳۵ھ۔
کہ وقتِ طبع حاشیہ پر اس عــہ کا نام لکھنارہ گیا۔
(۲) الظفر لقول زفر۱۳۳۵ھ۔
(۳) المطرالسعید علی نبت جنس الصعید۱۳۳۵ھ۔
(۴) الجد السدید فی نفی الاستعمال عن الصعید۱۳۳۵ھ۔
یہ چار ضمنیہ ہیں۔
(۵) باب العقائد والکلام۱۳۳۵ھ۔
(۶) قوانین العلماء فی متیمم علم عند زید ماء۱۳۳۵ھ۔
(۷) الطلبۃ البدیعۃ فی قول صدر الشریعۃ۱۳۳۵ھ۔
(۸) مجلی الشمعۃ لجامع حدث ولمعۃ ۱۳۳۵ھ۔
یہ چار ملحقہ ہیں سوال وشروع جواب ۱۳۲۵ میں ہے لہذا نام کتاب میں یہی عدد ہیں پھر بحمدہ تعالٰی اس مقام کے طبع کے وقت کے اوائل ماہ رمضان مبارك ۱۳۳۵ سے ہے یہ رسائل اور ان کے ساتھ اور مضامین کثیرہ$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع