دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 4 | فتاوی رضویہ جلد ۴

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۴

حوالہ سے گزرا کہ اگر اس پانی کو وضو میں صرف کرلیا تو جائز ہے۔ ہندیہ وکافی نے اتفاقا (بالاتفاق) کا اضافہ کیا۔ اور اس کا پھر جنب ہوجانا حدث کا وضو کرنے سے مانع نہیں اس لئے کہ یہ جنابت مقتصرہ ہے اور حدث اس میں مندرج نہیں۔ دوم : جواز بمعنی حلت ہو یعنی مسئلہ نجاست میں اگر اس پانی سے وضو کرلیا تو حلال ہے بخلاف مسئلہ لمعہ کے۔ اس لئے کہ پھر جنب ہوگیا تو اسے جنابت میں صرف کرنا واجب ہے۔ اقول : اس میں بھی کلام ہے۔ اولًا : ہم نہیں مانتے کہ مسئلہ نجاست میں حلت ہے کیونکہ اس میں نجاست حقیقیہ کے ساتھ نماز کی ادائےگی کو قصدًا اختیار کرنا ہے اس لئے کہ اسے قدرت تھی کہ دونوں نجاستیں دُور کرے حقیقیہ کو پانی

بالماء والحکمیۃ بالتراب کماقال ملك العلماء ولم یکن للماء خلف فی الحقیقۃ فاذاصرفہ الی الحکمیۃ التی کان یجدلہ خلفا فیھا فقدازمع واجمع علی ان یصلی فی نجس مانع مع القدرۃ علی ازالتہ فکیف یحل ھذا اما الاجزاء فلانہ عاجز عن الماء عند ایقاع الصلاۃ وانما النظر فیہ الی الحالۃ الراھنۃ۔

فان قلت بل یدل علی الحل قول ملك العلماء فکان اولٰی من الصلاۃ بطھارۃ واحدۃ [1] وقول الخانیۃ والخلاصۃ والحلیۃ والبحر لوتوضأ وصلی فی الثوب النجس جاز ویکون مسیئا[2]  اھ فان(۱) الاساء ۃ دون کراھۃ التحریم۔

اقول :  تعلیل ملك العلماء ادل دلیل کماعلمت علی ان(۲) لفظۃ الاولی فیہ مثلھا فی قول عــہ التجنیس والمزید ان      

سے اور حکمیہ کو مٹّی سے جیسا کہ ملك العلماء نے فرما یا ہے اور نجاست حقیقیہ میں پانی کا کوئی بدل اور نائب نہیں تو جب اس نے پانی کو حکمیہ میں صرف کیا جس میں پانی کا ایك بدل اسے دستیاب تھا تو اس نے اس بات کا پختہ ارادہ اور عزم محکم کرلیا کہ نجس مانع کے ازالہ پر قدرت کے باوجود اُس نجس مانع کے ساتھ نماز ادا کرے گا تو یہ حلال کیسے ہوگا؟ -رہا کفایت کر جانا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز کی ادائےگی کے وقت وہ پانی سے عاجز ہے اور اس بارے میں صرف حالت موجودہ پر نظر کی جاتی ہے۔ (ت)

اگر یہ سوال ہو کہ ملك العلماء کی یہ عبارت حلت پر دلالت کررہی ہے : “ تو ایك طہارت سے نماز کی ادائےگی سے اولٰی ہے “ ۔ اور خانیہ ، خلاصہ ، حلیہ اور بحر کی یہ عبارت : “ اگر وضو کرلیا اور نجس کپڑے میں نماز ادا کی تو جائز ہے اور اسأت والا (بُرا کرنے والا) ہوگا “ اھ اس لئے کہ اساءت کا درجہ کراہت تحریم سے نیچے ہے۔ اقول : ملك العلماء کی تعلیل سب سے بڑی دلیل ہے جیسا کہ ناظر کو معلوم ہے مگر یہ ہے کہ جیسے اس میں لفظ “ اَولی “ ہے ویسے ہی تجنیس اور مزید کی اس عبارت میں ہے : “ بیشك

 

عــہ بل فی نفس البدائع من کتاب الاستحسان الامتناع من المباح اولی من ارتکاب المحظور [3] اھ ۱۲ منہ غفرلہ (م)

بلکہ خود بدائع کتاب الاستحسان میں یہ عبارت ہے : مباح سے باز رہنا ممنوع کے ارتکاب سے اولٰی ہے اھ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)

مراعاۃ فرض العین اولی قال الشامی فحیث ثبت انہ فرض کان خلافہ حراما[4] اھ ،

من صدر الجہاد واطلاق(۱) المسیئ علی من ترك واجبا غیر نادر لاجرم ان قال فی الغنیۃ لوازال بذٰلك الماء الحدث وبقی الثوب نجسا لکان قدترك الطھارۃ الحقیقۃ مع قدرتہ علیھا بغیر عذر فیکون اٰثما لکن تصح صلاتہ لثبوت العجز بعد نفاد الماء[5] اھ وھذا عین مافھمت وقداداہ بلفظ اوجز وا حسن رحمہ الله تعالٰی والعلماء جمیعا۔

وثانیا :  اذن ینقلب الفرق فحیث جازلہ صرف الماء الی الوضوء وابقاء النجاسۃ المانعۃ بلامزیل لان یحل لہ صرفہ الی الوضوء مع ازالۃ الجنابۃ بالتیمم لاولی وای مدخل فیہ لکون الجنابۃ اغلظ فان الکل ینتفی اما بالماء اوبالتراب وای دلیل علی انہ تجب ازالۃ الاغلظ بالماء دون التراب        

فرض عین کی رعایت “ اولٰی “ ہے اس پر شامی نے فرما یا : تو جب یہ ثابت ہوا کہ وہ فرض ہے تو اس کا خلاف حرام ہوا ، اھ  ازشروع کتاب الجہاد اور واجب ترك کرنے والے پر لفظ “ مُسِیئ “ (بُرا کرنے والا) کا اطلاق کوئی نادر بات نہیں۔ لاجرم غنیہ میں لکھا ہے : “ اگر اس پانی سے حدث دُور کیا اور کپڑا نجس رہ گیا تو وہ طہارت حقیقیہ پر قادر ہونے کے باوجود بلاعذر اس کا تارك ہوا تو گنہ گار ہوگا لیکن اس کی نماز صحیح ہوجائے گی کیوں کہ پانی ختم ہوجانے کے بعد عجز ثابت ہوگیا “ اھ یہ بعینہ وہ ہے جو میں نے سمجھا اور انہوں نے اسے ز یادہ مختصر اور بہتر الفاظ میں ادا کیا ان پر اور تمام علما پر خدا کی رحمت ہو۔

ثانیا : ایسا ہے تو فرق پلٹ جائے گا۔ جب اس کےلئے یہ جائز ہے کہ پانی وضو میں صرف کردے اور بغیر کسی زائل کرنے والی چیز کے نجاست مانعہ کو باقی رکھے تو اس کےلئے جنابت کو تیمم سے زائل کرنے کے ساتھ پانی کو وضو میں صرف کرلینا بدرجہ اولٰی جائز وحلال ہوگا اور اس میں نجاست کے ز یادہ سخت ہونے کا کیا دخل؟ سبھی تو دور ہوجارہا ہے یا پانی سے یا مٹی سے اس پر کیا دلیل ہے کہ جو

وبالجملۃ ظھر بحمدالله تعالٰی ان النظر لامرد لہ وان الاظھر فی مسألۃ النجاسۃ مااستظھرہ فی الحلیۃ والبحر وجزم بہ فی شرح الوقا یۃ والدرالمختار۔

اقول :  وبہ ترجح ولله الحمد ماسلکہ المحقق الحلبی صاحب الغنیۃ فی تقر یر منشأ الخلاف(۱) فان القول بجواز الصرف الی الوضوء مع اولو یۃ الصرف الی اللمعۃ ھو الذی یقتضیہ الدلیل وعلی تسلیم وجوب الصرف الیھا ترد مسائل کثیرۃ ثبت فیھا العجز عن الماء لاجل المنع الشرعی کمابیناھا فی رسالۃ قوانین العلماء وقد(۲) یکون الوجوب فی کلام الکافی من باب قولك حقك واجب علی فظھران الاظھر فی ھذہ خلاف مااستظھرہ فی الحلیۃ فالراجع فیہ قول محمد وقدذیل بالاصح وھو تصحیح صریح وصاحب(۳) الحلیۃ رحمہ الله تعالٰی لیس من اصحاب الترجیح۔

فان قلت کونہ مستحق الصرف الٰی حاجۃ اھم لایختص بالوجوب الاتری ان المعد لعجن منہ مع ان العجن غیر واجب۔     

زیادہ سخت ہے اسے مٹی سے نہیں پانی ہی سے زائل کرنا واجب ہے؟ بالجملہ بحمدِ خدائے برتر یہ واضح ہوگیا کہ اس کلام کو کوئی بات رَد کرنے والی نہیں اور مسئلہ نجاست میں اظہر وہی ہے جو حلیہ اور بحر میں ظاہر کیا گیا اور جس پر شرح وقایہ اور درمختار میں جزم ہوا۔ (ت)اقول : اسی سے بحمدہ تعالٰی اسے بھی ترجیح حاصل ہوگئی جس پر محقق حلبی منشأ خلاف کی تقر یر میں چلے ، اس لئے کہ مقتضائے دلیل یہی قول ہے کہ لمعہ میں پانی صرف کرنے کے اولٰی ہونے کے ساتھ وضو میں اس کے صرف کا جواز ہے اور لمعہ میں صرف کا وجوب مان لینے پر ان بہت سے مسائل سے اعتراض ہوگا جن میں کسی شرعی ممانعت کی وجہ سے پانی سے عجز ثابت ہے جیسا کہ انہیں ہم نے رسالہ “ قوانین العلماء “ میں بیان کیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کافی کی عبارت میں وجوب “ حقّك واجب علیَّ “ (تمہارا حق میرے اوپر واجب ہے یعنی بقوّت ثابت ہے) کے باب سے ہو۔ اس سے یہ بھی واضح ہوا کہ اس بارے میں اظہر اس کے برخلاف ہے جو حلیہ میں ظاہر کیا اور کہا “ تو اس میں راجح امام محمد کا قول ہے “ اور اس کے آخر میں “ اصح “ بھی لکھ د یا یہ صریح تصحیح ہے جبکہ صاحبِ حلیہ ان پر خدا کی رحمت ہو اصحابِ ترجیح سے نہیں ہیں۔ (ت) اگر سوال ہو پانی کا ز یادہ اہم ضرور میں صَرف کئے جانے کا مستحق ہونا وجوب سے ہی خاص نہیں ، دیکھئے آٹا گوندھنے کے لئے رکھا ہوا پانی اسی باب سے ہے باوجودیکہ آٹا گوندھنا واجب نہیں۔

اقول :  ذلك تخفیف(۱) من ربکم ورحمۃ یراعی حاجات عبادہ بالنقیر والقطمیر فجاز التیمم اذاکان یبیع الماء من عندہ بفلس وقیمتہ ثمہ نصف فلس وجاز لبعد میل وانکان فی جھۃ مذھبہ وھویسیر الیہ لحاجۃ نفسہ انما المنع لحق الشرع فلایتحقق الابالوجوب اذمالایجب شرعا لایمنع ترکہ شرعا فظھر الفرق والحمدلله رب العٰلمین ولذا مشیت فی الجدول علی قول محمد لانہ المذیل بالتصحیح الصریح ولانہ الاظھر من حیث الدلیل



[1]                 بدائع الصنائع فصل بیان ماینقض التیمم مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۵۷

[2]   البحرالرائق باب التیمم مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۳۹

[3]                 بدائع الصنائع کتاب الاحسان ایم ایم سعید کمپنی ، کراچی ۵ / ۱۳۰

[4]   ردالمحتار ، کتاب الجہاد ، مصطفی البابی مصر ۳ / ۲۴۱

[5]   غنیۃ المستملی فصل فی التیمم سہیل اکیڈمی لاہور ص۸۶

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن