دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 4 | فتاوی رضویہ جلد ۴

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۴

المحیط الرضوی ثم الھند یۃ لوتیمم اولاثم غسل النجاسۃ یعید التیمم لانہ تیمم وھو قادر علی مایتوضأ بہ [1] اھ ورأیتنی کتبت علیہ سابقا مانصہ۔

اقول :  ھذا علی قول محمد اماعلی قول ابی یوسف فلا لکونہ مشغولا بحاجۃ فکان کالمعد لعطش وبہ جزم فی الدر المختار اھ ثم رأیت بعدہ بزمان نظر فیہ المحقق الحلبی فی الحلیۃ کمانظر فیہ المحقق الحلبی فی الحلیۃ کمانظر الفقیر ولله الحمد فقال بعد نقل مافی البدائع والمحیط قال العبد الضعیف غفرالله تعالٰی لہ فیہ نظر بل الظاھر الحکم بجواز التیمم تقدم علی غسل الثوب اوتأخر لانہ مستحق الصرف الی الثوب علی ما قالوا والمستحق الصرف الی جھۃ منعدم حکما بالنسبۃ الی غیرھا کما فی مسألۃ اللمعۃ مع الحدث قبل التیمم لہ اذاکان الماء کافیا لاحدھما فبدأ بالتیمم للحدث قبل غسلھا کماھو روا یۃ الاصل وکمافی مسألۃ خوف                         

کپڑے سے نجاست دھوئے پھر تیمم کرے اور اگر پہلے تیمم کرلیا تو یہ کفایت نہیں کرسکتا اس لئے کہ وہ اتنے پانی پر قادر ہے کہ اگر اس سے وضو کرے تو اس کی نماز ہوجائے “ اھ اور محیط رضوی پھر ہندیہ میں ہے : “ اگر پہلے تیمم کیا پھر نجاست دھوئی تو تیمم کا اعادہ کرے اس لئے کہ اس نے اس حالت میں تیمم کیا جب کہ وہ اتنے پانی پر قادر تھا جس سے وضو کرے “ ۔ اھ اس پر میں نے زمانہ سابق میں اپنی لکھی ہوئی یہ عبارت دیکھی :

اقول : یہ حکم امام محمد کے قول پر ہے لیکن امام ابویوسف کے قول پر اعادہ نہیں اس لئے کہ وہ پانی حاجت میں مشغول تھا تو اس پانی کی طرح ہوا جو پ یاس کےلئے رکھا ہوا ہو۔ اسی پر درمختار میں جزم کیا ہے “ اھ پھر اس کے کچھ عرصہ کے بعد میں نے دیکھا کہ اس پر محقق حلبی نے حلیہ میں بھی ویسے ہی کلام کیا ہے جیسے فقیر نے کلام کیا اور خدا ہی کےلئے حمد ہے انہوں نے بدائع اور محیط کی عبارتیں نقل کرنے کے بعد لکھا ہے : بندہ ضعیف کہتا ہے خدائے برتر اس کی مغفرت فرمائے یہ محلِ نظر ہے بلکہ ظاہر جواز تیمم کا حکم ہے۔ کپڑا دھونے سے پہلے تیمم ہو یا اس کے بعد ہو۔ اس لئے کہ حسبِ ارشادِ علماء وہ پانی کپڑے میں صرف کیے جانے کا مستحق ہے اور جو کسی ایك جانب صرف کئے جانے کا مستحق ہوچکا ہو وہ دوسری جانب کی بہ نسبت حکمًا معدوم ہے جیسے حدث کے ساتھ لمعہ کے مسئلہ میں اس سے پہلے کہ

العطش ونحوہ نعم یتمشی ذلك علی روا یۃ الزیادات [2] اھ ، وتبعہ فی البحر الرائق علی الفاظہ وزاد بعدہ ولھذا قال فی شرح الوقا یۃ وانما تثبت القدرۃ اذا لم یکن مصروفا الی جھۃ اھم [3] اھ  لکن زعم فی السراج ان وجوب تاخیر التیمم فی مسألۃ النجاسۃ مجمع علیہ بخلاف مسألۃ اللمعۃ فاذن لایکون جزم البدائع والمحیط فیھا بوجوب التاخیر دلیل المشی علی قول محمد فی اللمعۃ۔

اقول :  لکن(۱) قداسمعناك نص الامام صدر الشریعۃ اٰنفا انما تثبت القدرۃ اذا لم یکن مصروفا الی نجاسۃ [4]۔ ونص الدر المختار المشغول بحاجۃ غسل نجس کالمعدوم [5] فاین الاجماع وقد جزما بہ کأنہ لاخلاف فیہ فضلا عن الاجماع علی خلافہ ثم اذقد ذکر الاجماع ھھنا

حدث کا تیمم کیا ہو۔ جب پانی دونوں میں سے کسی ایك کے لئے کافی ہو تو لمعہ دھونے سے پہلے تیمم حدث سے ابتدا کی ہو۔ جیسا کہ اصل کی روایت ہے اور جیسا کہ خوفِ تشنگی و غیرہ کے مسئلہ میں ہے ہاں وہ حکم روایت ز یادات پر چل سکتا ہے اھ اور البحرالرائق میں ان ہی کے الفاظ کے ساتھ ان کا اتباع کیا ہے۔ اور اس کے بعد مزید یہ لکھا ہے : “ اسی لئے شرح وقایہ میں فرما یا : “ اور قدرت اسی وقت ثابت ہوتی ہے جب اس سے ز یادہ اہم جانب میں مصروف نہ ہو “ اھ لیکن سراج میں یہ خیال کیا ہے کہ مسئلہ نجاست میں تیمم مؤخر کرنے کا وجوب متفق علیہ اور اجماعی ہے بخلاف مسئلہ لمعہ کے اس کے پیش نظر مسئلہ نجاست میں وجوب تاخیر پر بدائع ومحیط کا جزم مسئلہ لمعہ میں امام محمد کے قول پر مشی کی دلیل نہ ہوگا۔ (ت)اقول : لیکن امام صدر الشریعۃ کی عبارت ہم ابھی پیش کرچکے کہ “ قدرت اسی وقت ثابت ہوتی ہے جب نجاست کی جانب مصروف نہ ہو “ ۔ اور دُرمختار کی یہ عبارت کہ “ جو کسی نجس کو دھونے کی ضرورت میں مشغول ہے معدوم کی طرح ہے “ تو اجماع کہاں؟ جب کہ ان دونوں نے اس پر یوں جزم کیا ہے جیسے اس میں کوئی خلاف ہی نہیں اس کے خلاف پر

وقدم نقل الخلاف فی مسألۃ اللمعۃ ابدی بینھما فارقا بہ تشبت العلامۃ الشامی فی دفع نظر الحلیۃ والبحر۔ فقال فی منحۃ الخالق ذکر فی السراج لوبدأ بالتیمم ثم غسل النجاسۃ اعاد التیمم اجماعا بخلاف المسألۃ الاولی ای مسألۃ اللمعۃ علی قول ابی یوسف لانہ تیمم ھنا وھو قادر علی ماء لوتوضأ بہ جاز وھناك ای فی مسألۃ اللمعۃ لوتوضأ بذلك الماء لم یجز لانہ عاد جنبا برؤ یۃ الماء اھ وبہ یندفع النظر فتدبر [6] اھ و اوردہ ایضا فی ردالمحتار فقال وھو فرق حسن دقیق فتدبرہ [7] اھ

 اقول :  وبالله التوفیق لہ محملان۔

الاوّل :  الجواز بمعنی الصحۃ کماتعطیہ عبارۃ ملك العلماء حیث نسب الجواز الی الصلاۃ وفیہ۔

اوّلًا (۱) :  ان مجرد صحۃ الوضوء بہ لایثبت القدرۃ ولاینفی العجز

اجماع تو درکنار- پھر جب سراج میں یہاں اجماع ذکر کیا اور اس سے پہلے مسئلہ لمعہ میں اختلاف نقل کیا تو ان دونوں کے درمیان ایك وجہ فرق بھی ظاہر کی جس سے علّامہ شامی نے حلیہ وبحر کا کلام دفع کرنے میں تمسُّك کیا۔

منحۃ الخالق میں لکھتے ہیں : “ سراج میں ذکر کیا ہے کہ اگر پہلے تیمم کرلیا پھر نجاست دھوئی تو اسے اجماعًا تیمم کا اعادہ کرنا ہے بخلاف پہلے مسئلہ کے یعنی مسئلہ لمعہ کے برخلاف ، امام ابویوسف کے قول پر اس لئے کہ یہاں اس نے اس حالت میں تیمم کیا کہ وہ ایسے پانی پر قادر تھا جس سے اگر وضو کرتا تو جائز ہوتا اور وہاں یعنی مسئلہ لمعہ میں اگر اس پانی سے وضو کرتا تو جائز نہ ہوتا اس لئے کہ پانی دیکھنے کی وجہ سے وہ پھر جنب ہوگیا “ ۔ اھ اور اسی سے وہ کلام دفع ہوجاتا ہے۔ فتدبر (تو غور کرنا چاہئے) اھ—سراج کا کلام ردالمحتار میں بھی ذکر کرکے فرما یا ہے : “ وھو فرق حسن دقیق فتدبرہ (اور یہ ایك عمدہ دقیق فرق ہے جس میں تدبر کرنا چاہئے) “ اھ (ت) اقول : (میں کہتا ہوں) اور توفیق خدا ہی سے ہے اس کے دو۲ محمل ہیں : اوّل : جواز بمعنی صحت ہو جیسا کہ ملك العلماء کی عبارت سے مستفاد ہوتا ہے اس طرح کہ انہوں نے جواز کی نسبت نماز کی طرف کی ہے۔ اب اس میں کلام ہے اوّلًا محض اتنا کہ اس سے وضو درست ہے نہ قدرت کا اثبات کرتا ہے نہ عجز کی نفی کرتا ہے۔

الاتری ان المریض اوالبعید میلا لوتحمل الحرج وتوضأ بہ لصح وجازت صلاتہ بہ بل الشغل بحاجۃ اھم ایضا من وجوہ العجز کالمدخر لعطش اوعجن مع جواز صلاتہ بہ قطعا ان فعل۔

وثانیا :  علی(۱) السراج خاصۃ اذن یطیح الفرق فالصحۃ وجواز الصلاۃ حاصل قطعا فی مسألۃ اللمعۃ ایضا الا تری الی ماتقدم عن الھند یۃ والکافی وشرح الوقا یۃ لوصرفہ الی الوضوء جاز زاد الاولان اتفاقا وعودہ جنبا لایمنعہ عن التوضی للحدث لان ھذہ الجنابۃ مقتصرۃ والحدث غیر مندمج فیھا۔

الثانی :  بمعنی الحل ای لوتوضأ بہ فی مسألۃ النجاسۃ حل بخلاف مسألۃ اللمعۃ لانہ عادجنبا فوجب صرفہ الی اجنابۃ۔

اقول :  وفیہ

اولا :  لانسلم الحل فی النجاسۃ فان فیہ اختیار الصلاۃ مع نجاسۃ حقیقیۃ عمدا لانہ کان قادرا علی ان یزیل النجاستین الحقیقۃ              

 



[1]       فتاوٰی ہندیہ فصل بیان ماینقض التیمم نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۹

[2]   البحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۳۹

[3]   البحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۳۹

[4]   شرح الوقا یۃ باب التیمم المکتبۃ الرشیدیہ دہلی ۱ / ۱۰۵ 

[5]              الدرالمختار باب التیمم مجتبائی دہلی ۱ / ۴۵

[6]   منحۃ الخالق علی البحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۳۹ 

[7]   ردالمحتار باب التیمم مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۸۷

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن