دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 4 | فتاوی رضویہ جلد ۴

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۴

وفی الھندیۃ صرفہ الی اللمعۃ واعاد تیممہ للحدث                              

کہ جو زیادات میں ہے وہ امام محمد کا قول ہے اور جو اصل میں ہے وہ امام ابویوسف کا قول ہے۔ اھ حلیہ میں یہ بھی ہے کہ ظاہر یہ ہے کہ امام ابویوسف کا قول زیادہ مناسب ہے اھ۔

ردالمحتار میں اس کی تعبیر ان الفاظ میں کی ہے : “ تیمم حدث امام ابویوسف کے نزدیك نہ ٹوٹے گا اور امام محمد کے نزدیك ٹوٹ جائےگا اور ظاہر یہ ہے کہ اول درجہ ہے اھ۔ پھر اس صورت کے متعلق جبکہ پانی ملنے سے پہلے تیمم نہ کیا ہو لکھا ہے : “ ایك روایت میں اس پر تیمم حدث سے پہلے لمعہ دھونا لازم ہے اور ایك روایت میں اسے اختیار ہے “ اھ۔ ملخصًا من الحلیہ اھ۔

شرح وقایہ میں ہے : “ جب لمعہ دھولیا تو کیا تیمم کا اعادہ کرے گا؟ دو۲ روایتیں ہیں اور اگر پہلے تیمم کرلیا پھر لمعہ دھو یا تو بھی اعادہ تیمم میں دو روایتیں ہیں۔ اور اگر حدث میں صرف کریں تو حق لمعہ میں اس کا تیمم باتفاق روایتیں ٹوٹ گیا “ ۔ اھ پھر اس صورت سے متعلق جبکہ حدث کا تیمم پہلے نہ کیا ہو ، لکھا ہے : “ اگر تنہا ہر ایك کے لئے کافی ہوتو اسے لمعہ میں صرف کرے گا اور حدث کا تیمم کرے گا پھر اگر اس سے وضو کرلیا تو جائز ہے اور تیمم کا اعادہ کرنا ہے اور اگر حدث کا تیمم پہلے کیا تو کیا تیمم لوٹائے گا؟ روایت ز یادات میں ہے کہ لوٹائے گا اور روایت اصل میں ہے کہ : نہیں لوٹائے گا پھر

عند محمد وعند ابی یوسف لاولو صرفہ الی الوضوء جاز وتیمم لجنابتہ اتفاقا فان لم یکن تیمم للحدث قبل وجود ھذا الماء فتیمم قبل غسل اللمعۃ لم یجز عند محمد وعند ابی یوسف یجوز والاول اصح ھکذا فی الکافی[1]  اھ۔

اقول :  قولہ والاول اصح لیس فی نسختی الکافی والعبارۃ غیر منقولۃ کماھی فی الکافی کمایظھر بالمقابلۃ وقد(۱)نبہ علیہ بقولہ ھکذا فی الکافی کماذکر فی خطبۃ الکتاب اصطلاحہ فی کذا وھکذا نعم ذکر بعض العصریین ان فی شرح الز یادات للعتابی انہ وھواللکنوی۱۲ الاصح ولم یذکر الواسطۃ فی النقل فان صح ھذا فلعلہ زید فی الھند یۃ من ثمہ اومن غیرہ اولعلہ ساقط من نسختی الکافی وعلی کل فالھند یۃ ثقۃ فی النقل والله تعالٰی اعلم وفی الکافی ان کفی واحدا غیر عین صرفہ الی اللمعۃ لانہ اھم واعاد تیممہ للحدث

قدرت اس وقت ثابت ہوتی ہے جب ز یادہ اہم جانب میں مصروف نہ ہو۔ یہاں تك کہ اگر اس کے بدن یا کپڑے پر کوئی نجاست ہو تو اسے نجاست کی جانب صرف کرے گا “ اھ یہ کلام روایت اصل کی ترجیح کی جانب اشارہ کررہا ہے جیسا کہ سامنے ہے۔

ہندیہ میں ہے : اسے لمعہ میں صرف کرے اور تیمم حدث کا اعادہ کرے امام محمد کے نزدیك اور امام ابویوسف کے نزدیك اعادہ نہیں اور اگر اسے وضو میں صرف کرلیا جائے تو جائز ہے اور اسے جنابت کا تیمم کرنا ہے بالاتفاق اگر یہ پانی ملنے سے پہلے حدث کا تیمم نہیں کیا تھا اب لمعہ دھونے سے پہلے تیمم کیا تو امام محمد کے نزدیك جائز نہیں اور امام ابویوسف کے نزدیك جائز ہے اور اول اصح ہے اسی طرح کافی میں ہے “ اھ۔ (ت)

اقول : والاول اصح (اور اول اصح ہے) کافی کے میرے نسخہ میں نہیں اور عبارت جیسے کافی میں ہے ویسے منقول نہیں جیسا کہ مقابلہ کرنے سے ظاہر ہوتا ہے اس پر اپنے الفاظ “ ھکذا فی الکافی “ سے تنبیہ بھی کردی ہے جیسا کہ خطبہ کتاب میں لفظ کذا اور ھکذا سے متعلق اپنی اصطلاح بتائی ہے ہاں بعض معاصرین (فاضل لکھنوی ۱۲) نے ذکر کیا ہے کہ عتابی کی شرح ز یادات میں ہے کہ “ وہی اصح ہے “ واسطہ نقل نہ بتا یا۔ اگر یہ صحیح ہے تو شاید ہندیہ میں وہیں سے یا اور کسی کتاب سے یہ اضافہ کرد یا گیا ہے یا ہوسکتا ہے یہ لفظ میرے نسخہ کافی میں چھُوٹ گیا ہو۔ بہرحال ہندیہ نقل میں ثقہ ہے ، اور خدائے برتر ہی خوب جاننے والا ہے

عند محمد لقدرتہ علی الماء ووجوب صرفہ الی الجنابۃ لاینافی قدرتہ علی صرفہ الی الحدث ولھذا لوصرفہ الی الوضوء جاز وتیمم لجنابۃ اتفاقا وعند ابی یوسف لایعید لانہ مستحق الصرف الی اللمعۃ والمستحق بجھۃ کالمعدوم فان لم یکن تیمم للحدث [2] الخ وقد سبق۔

اقول :  اخردلیل ابی یوسف فافاد ترجیحہ وصرح فی تعلیل محمد بوجوب صرفہ الی اللمعۃ وانہ لاینافی قدرتہ علی الوضوء وفی الغنیۃ (علیہ ان یبدأ بغسل اللمعۃ) لیصیر عادما للماء فی حق الحدث ولایجوز تیممہ للحدث قبلہ عند محمد لان صرف ذلك الماء الی اللمعۃ دون الحدث لیس بواجب عندہ بل علی سبیل الاولو یۃ فوجودہ یمنع التیمم للحدث وعند ابی یوسف صرفہ الی اللمعۃ واجب فھو کالمعدوم بالنسبۃ الی الحدث فیجوز التیمم لہ قبل غسل اللمعۃ ولوکان تیمم بعد ما احدث

کافی میں ہے : “ اگر غیر معین طور پر ایك کےلئے کافی ہو تو اسے لمعہ میں صرف کرے کیونکہ وہ اہم ہے اور امام محمد کے نزدیك تیمم حدث کا اعادہ ہے کیونکہ وہ پانی پر قادر ہوگیا تھا اور جنابت میں اسے صرف کرنے کا وجوب حدث میں صرف کرنے پر قدرت کے منافی نہیں۔ اسی لئے اگر اسے وضو میں صرف کرلیا تو جائز ہے اور اسے جنابت کا تیمم کرنا ہے بالاتفاق۔ اور امام ابویوسف کے نزدیك (تیمم حدث کا) اعادہ نہیں اس لئے کہ وہ پانی لمعہ میں صرف کیے جانے کا مستحق ہوچکا تھا اور جو کسی جانب کا مستحق ہو معدوم کی طرح ہے۔ تو اگر اس نے حدث کا تیمم نہ کیا توتھا الخ یہ کلام گزرچکا۔ (ت)

اقول : امام ابویوسف کی دلیل مؤخر کرکے اس کی ترجیح کا افادہ کیا اور امام محمد کی تعلیل میں اس بات کی تصریح فرمائی کہ لمعہ میں اسے صرف کرنا واجب ہے اور یہ وضو پر قدرت کے منافی نہیں۔ غنیہ میں ہے (اس پر یہ ہے کہ پہلے لمعہ دھوئے) تاکہ حق حدث میں پانی نہ رکھنے والا ہوجائے۔ امام محمد کے نزدیك اس سے پہلے اس کا تیمم حدث جائز نہیں ، کیونکہ ان کے نزدیك اس پانی کو حدث چھوڑ کر لمعہ میں صرف کرنا واجب نہیں بلکہ بطور اولٰی کے ہے ، تو اس کا وجود تیمم حدث سے مانع ہے اور امام ابویوسف کے نزدیك اسے لمعہ میں صرف کرنا واجب ہے تو وہ حدث کی بہ نسبت کالمعدوم ہے اس لئے لمعہ دھونے سے پہلے حدث کا تیمم جائز ہے اور اگر حدث ہونے کے

لاجل عــہ الحدث ثم وجد ماء یکفی لاحدھما ینتقض تیممہ عند محمد لاعند ابی یوسف بناء علی ماتقدم [3]  اھ  ثم ھھنا مسألۃ اخری من ھذا القبیل مشی فیھا الامام ملك العلماء والامام رضی الدین السرخسی علی وجوب تأخیر التیمم فظاھر قیاسہ المشی علی قول محمد ھنا ففی البدائع بعد ذکر القدرۃ علی الماء الکافی وعلی ھذا الاصل مسائل فی الزیادات مسافر(۱) محدث علی ثوبہ نجاسۃ اکثر من قدر الدرھم ومعہ مایکفی لاحدھما غسل بہ الثوب وتیمم للحدث عندعامۃ العلماء لان الصرف الی النجاسۃ یجعلہ مصلیا بطھارتین حقیقیۃ وحکمیۃ فکان اولی من الصلاۃ بطھارۃ واحدۃ ویجب ان یغسل ثوبہ من النجاسۃ ثم یتیمم ولو بدأبالتیمم لایجزء بہ لانہ قدر علی ماء لوتوضأ بہ تجوز صلاتہ [4]  اھ  وفی          

بعد حدث کے لئے تیمم کرلیا تھا پھر اسے اتنا پانی ملا جو کسی ایك کے لئے کافی ہو تو اس کا تیمم امام محمد کے نزدیك ٹوٹ جائےگا ، امام ابویوسف کے نزدیك نہ ٹوٹے گا۔ اسی بنیاد پر جو پہلے بیان ہوئی “ اھ۔

 پھر یہاں اسی قبیل کا ایك اور مسئلہ ہے جس میں امام ملك العلماء اور امام رضی الدین سرخسی کی روش اس پر ہے کہ تیمم مؤخر کرنا واجب ہے تو اس کا ظاہر قیاس یہ ہے کہ یہاں امام محمد کے قول پر چلے ہیں۔ بدائع میں آب کافی پر قدرت کا ذکر کرنے کے بعد ہے : “ اس اصل کے تحت ز یادات میں چند مسائل میں کوئی حدث والا مسافر ہے جس کے کپڑے پر قدر درہم سے ز یادہ نجاست ہے اور اس کے پاس اتنا پانی ہے جو دونوں میں سے کسی ایك کےلئے کافی ہے تو اس سے کپڑا دھوئے اور حدث کےلئے تیمم کرے۔ عامہ علماء کے نزدیك اس لئے کہ نجاست میں صرف کرنا اسے حقیقی وحکمی دو طہارتوں سے نماز ادا کرنے والا بنادے گا تو یہ ایك طہارت سے نماز ادا کرنے سے بہتر ہے اور واجب ہے کہ

 

 



[1]      فتاوٰی ہندیہ فصل فیما ینقض التیمم نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۹

[2]     کافی

[3]   غنیۃ المستملی باب التیمم مطبع سہیل اکیڈمی لاہور ص۸۶

[4]   بدائع الصنائع فصل فی بیان ماینقض التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۵۷

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن