30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مصنف کا ضابطہ کلیہ:ثمّ اقول علمائے کرام نفعنا اللہ تعالٰی برکاتہم فی الدارین نے یہ تقسیم وتفصیل بغرض تفہیم وتسہیل اختیار فرمائی جو بحمدہٖ تعالٰی اپنے منتہائے کمال کو پہنچی اب ہم بغرض ضبط وربط وقلت انتشار انہیں کے کلمات شریفہ کے استفادہ سے ضابطہ کلیہ لکھیں کہ جملہ اقسام واحکام کو حاوی ہو جنب کہ بعد جنابت ہنوز پُورا نہ نہا یا مگر بعض یا کُل اعضائے وضو کی تطہ یر پانی سے یا تیمم کرچُکا اُس کے بعد حدث ہوا کہ دو۲ صورت اخیرہ میں بتمامہ مستقل ہے اور صورت اولٰی میں صرف اُتنا کہ حصّہ مغسولہ اعضائے وضو میں ہے اس صورت میں پانی کہ پا یا اگر بقیہ جنابت وحدثِ مستقل دونوں میں سے صرف ایك کو کافی ہے اس میں صرف کرے اُس کےلئے اگر پہلے تیمم کرچکا تھا ٹوٹ گیا اور دوسرے کےلئے نہ کیا تھا تو اول کے حق میں ٹوٹ گیا ثانی کے حق میں باقی رہا اور اگر پانی دونوں کو معًا کافی ہے تو دونوں کا وہ حکم ہے جو اول کا تھا بجالائے طہارت ہوگئی اور اگر کسی کو کافی نہیں تو دونوں کا وہ حکم ہے جو ثانی کا تھا اگر کسی کےلئے تیمم نہ کیا تھا اب دونوں کےلئے ایك تیمم کرے اور کرلیا تھا تو باقی رہا بہرحال لمعہ کی تقلیل کرے کہ مستحب ہے اور اگر ہر ایك کو جدا جدا کافی ہے تو لمعہ میں صرف کرے تیمم ان میں جس ایك کا یا دونوں کےلئے ایك یا جدا جدا جیسا بھی کرچکا تھا کسی کے حق میں باقی نہ رہا۔ پانی نہ رہنے کے بعد حدث کےلئے تیمم کرے پہلے کرلے گا تو بعد صرف پھر کرنا ہوگا یہی اصح ہے جس کی تفصےل وتحقےق اس تنبیہ آئندہ میں آتی ہے وبالله التوفیق (اور اللہ تعالٰی کی توفیق سے۔ ت) اور اگر اس نے برخلاف حکم اُسے حدث میں صرف کرلیا حدث تو زائل ہوگیا مگر جنابت کے لئے تیمم بالاجماع لازم ہوا اگرچہ پہلے کر بھی چکا ہو یہ ہے قول جامع ونافع٭
باذن الجامع النافع٭ عزجلالہ٭ وعم نوالہ٭ والحمدلله ربّ العٰلمین٭ وصلی الله تعالٰی وسلم وبارك علی سیدنا ومولٰنا محمد واٰلہٖ وصحبہ اجمعین٭ ابد الاٰبدین اٰمین٭
باذن جامع نافع ، اس کی بزرگی غالب اور اس کی عطا وبخشش عام ہے۔ اور تمام تعریف اللہ کےلئے جو تمام جہانوں کا مالك ہے۔ اور خدائے برتر درود وسلام اور برکت نازل فرمائے ہمارے آقا ومولٰی محمد اور ان کی آل واصحاب سب پر ، ہمیشہ ہمیشہ ، الٰہی! قبول فرما۔ (ت)
تنبیہ : اس جدول کے ۱۸ نمبروں میں یعنی ۱۴۔ ۱۹۔ ۳۰۔ ۳۵۔ ۴۷۔ ۵۱۔ ۶۶۔ ۷۱۔ ۸۳۔ ۸۷ دس۱۰ یہ اور ۴۰۔ ۴۵۔ ۵۵۔ ۵۹۔ ۷۶۔ ۸۱۔ ۹۱۔ ۹۵ آٹھ۸ یہ ان میں اختلاف روا یات ہے ان اٹھارہ۱۸ میں پانی لمعہ وحدث مستقل ہر ایك کےلئے جدا جدا کافی ہے کہ اُن میں جس ایك کو چاہے دھولے دونوں کے قابل نہیں ان میں اتنا حکم تو بالاتفاق ہے کہ اس سے لمعہ دھوئے حدث میں صرف نہ کرے کہ جنابت سخت تر ہے۔ اس میں اختلاف ہوا کہ پہلی دس۱۰ صورتوں میں جو حدث کے لئے تیمم کرے گا آ یا یہ ضرور ہے کہ اول لمعہ دھوئے جب پانی نہ رہے اُس وقت حدث کے لئے تیمم کرے یا پہلے پےچھے ہر طرح کرسکتا ہے دونوں روایتیں ہیں اور پچھلی آٹھ میں کہ حدث کا تیمم پہلے کرچکا تھا اس پانی کے ملنے سے ٹوٹا یا نہیں دونوں قول ہیں پھر جن کے نزدیك نہ ٹوٹا جب تو اس پر تیمم کا اعادہ ہی نہیں اور جن کے نزدیك ٹوٹ گیا وہ لازم کرتے ہیں کہ پہلے لمعہ دھوکر تیمم کا اعادہ کرے ورنہ جس پانی کے پانے نے پہلا تیمم توڑ د یا اس کا موجود رہنا دوسرا تیمم باطل کرے گا۔ منشاء اختلاف تمام صورتوں میں ایك ہے کہ آ یا یہ پانی جو ازالہ حدث مستقل کے بھی قابل ہے اگرچہ اس سے لمہ ہی دھونے کا حکم ہے اس کے ملنے سے حدث کے لئے پانی پر قدرت ثابت ہوئی یا نہیں جنہوں نے خیال فرما یا کہ ہوئی حکم د یا کہ جب تك یہ پانی خرچ نہ ہولے حدث کا تیمم نہ کرے اور اگر پہلے کرچکا ہے ٹوٹ گیا کہ پانی پر قدرت تیمم گزشتہ کی ناقض اور آئندہ کی مانع ہے اور جنہوں نے لحاظ فرما یا کہ اگرچہ پانی اس کے بھی قابل پا یا مگر وہ بحکمِ شرع دوسری حاجت کی طرف مصروف ہے لہذا اس سے ازالہ حدث پر قدرت نہ ہُوئی انہوں نے حکم د یا کہ یہ پانی نہ اگلے تیمم حدث کو توڑے گا نہ اس کے ہوتے حدث کےلئے تیمم ممنوع ہوگا۔
اقول : ایك اختلاف تو یہ اصل مسئلے میں تھا ثانیا ان روایتوں کی طرز نقل بھی مختلف آئی بعض عــہ۱میں یوں کہ ایك روایت یہ ہے ایك وہ جس سے اُن کی مساوات ظاہر اور یہ نہ کھلا کہ روا یات ظاہرہ ہیں یا نادرہ بعض میں عــہ۲ یوں کہ دوم روایت نوادر ہے جس سے ظاہر کہ اول ظاہر الروا یۃ ہے۔
بعض عــہ۳ میں یوں کہ اول روایت ز یادات ہے اور دوم روایت اصل۔ اصل وز یادات دونوں کتب ظاہر الروا یۃ سے ہیں اقول اور ہے یہی کہ دونوں روایتیں ظاہر الروا یۃ ہیں کہ مثبت نافی پر مقدم ہے نافی کو اُس وقت روایت اصل خیال میں نہ تھی اور نوادر سے یاد لہذا اسے روایت نادرہ فرما یا اور جب حسبِ تصریح ثقات وہ کتاب الاصل میں موجود تو ضرور ظاہر الروا یۃ ہے بلکہ اول سے بھی اولٰی کہ اصل ز یادات پر مرجح ہے۔ شرح وقایہ حلیہ بحر ۱۲ (م )
ثالثا : قائلین کرام کی طرف اس کی نسبت بھی مختلف طور پر آئی بعض نے عــہ۴ بلفظ ضعف فرما یا کہ کہا گیا کہ اول قول محمد دوم قول ابویوسف ہے بعض عــہ۵ نے جزمًا انہیں ان کا
عــہ۱ سراج وہاج منحۃ الخالق شرح وقایہ ردالمحتار مع ان فی اصلہ الحل یۃ تسم یۃ الاصل والز یادات (م)
(بوجود اس کے اس کی اصل حلیہ میں اصل اور ز یادات کا نام ذکر کیا ہے۔ ت)
عــہ۲ شرح طحاوی خزانۃ المفتین ۱۲ (م)
عــہ۴ محیط رضوی سراج منحہ و غیرہ ۱۲ (م)
عــہ۵ کافی حلیہ ہندیہ ردالمحتار مع نقل الحلیۃ ا یاہ عن المحیط و غیرہ بلفظۃ قیل ۱۲ (م)
(اس کے باوجود حلیہ نے اس کو محیط و غیرہ سے لفظ “ قیل “ سے نقل کیا ہے۔ ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع