30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عــہ۱ ای قبل یتیمم للحدث لان الوجدان بعدہ یاتی بعدہ منہ غفرلہ (م)
عــہ۲ ای شیئا منھما ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عــہ۳ ای دون الوضوء ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عــہ۴ اقول : ای لہ ولك ان تقول ان(۱) التخییر لاینافی الوجوب کمافی کفارۃ الیمین ۱۲ منہ غفرلہ (م)
یعنی حدث کا تیمم کرنے سے پہلے اس لئے کہ اس کے بعد ملنے کا ذکر آگے آرہا ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
یعنی دونوں میں سے کسی کےلئے کافی نہ ہو ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
یعنی وضو کےلئے کافی نہ ہو ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اقول : یعنی اسے اختیار ہے۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ تخییر منافی وجوب نہیں جیسے کفارہ یمین میں ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
ان یبدء بایھما شاء۔
ولووجد الماء عــہ۱ بعد ماتیمم للمعۃ قبل الحدث فھو علی وجھین ان کفاہ یغسلہ وان لم یکفہ یغسل قدر مایکفیہ وتیممہ علی حالہ ولو وجد عــہ۲ بعد ما احدث وتیمم للحدث فھو علی خمسۃ اوجہ علی ماذکرنا ان کفاھما صرف الیھما وان لم یکفھما غسل اللمعۃ مقدار مایکفیہ وتیممہ علی حالہ وان کفی للمعۃ لاللوضوء یغسل اللمعۃ والتیمم علی حالہ وان کفی للوضوء دون اللمعۃ یتوضوء وان کفی لاحدھما علی الانفراد یغسل اللمعۃ وتیممہ علی حالہ وعلی
پھر اسے حدث ہو پھر پانی ملے جو وضو کےلئے کافی ہو تو اس سے وضو کرے گا (۵) اور اگر تنہا ہر ایك کےلئے کافی ہو ، دونوں کےلئے نہیں ، تو لمعہ دھوئے اس لئے کہ جنابت ز یادہ سخت ہے پھر حدث کےلئے تیمم کرے اور اگر پہلے تیمم کیا پھر لمعہ دھو یا تو جائز نہیں۔ اور اس پر یہ ہے کہ دھونے کے بعد تیمم کرے اور نوادر میں ہے کہ اس پر یہ ہے کہ دونوں میں جس سے چاہے ابتدا کرے۔ اور اگر لمعہ کےلئے تیمم کرنے کے بعد حدث سے پہلے پانی پا یا تو اس کی دو۲ صورتیں ہیں اگر اسے کافی ہو دھوئے اور اگر کافی نہ ہو تو جہاں تك کفایت کرے دھولے اور اس کا تیمم برقرار ہے اور اگر حدث ہونے اور حدث کا تیمم کرنے کے بعد پا یا تو اس کی پانچ صورتیں ہیں اسی طرح جو ہم نے بیان کیں۔ اگر دونوں کو کفایت کرے تو دونوں میں صرف کرے اور
عــہ۱ : ای تیمم لھاثم وجد الماء ولم یحدث بعد ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عــہ۲ : اقول : ای اجنب فتیمم للمعۃ ثم احدث فتیمم لہ ثم وجد الماء لان الوجوہ کلھا مسوقۃ فےما اذا بقی لمعۃ فتیمم لھا ولقولہ وتیمم للحدث فعلم ان التیمم للمعۃ مفروغ عنہ والا لقال تیمم لھما وقداتضح لك بکلام الحل یۃ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
یعنی لمعہ کی وجہ سے تیمم کیا پھر اسے پانی ملا اور ابھی اسے حدث نہیں ہوا ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اقول : یعنی اسے جنابت ہوئی تو لمعہ کا تیمم کیا پھر حدث ہوا تو حدث کاتیمم کیا پھر پانی ملا اس لئے کہ تمام صورتیں اس میں جاری کی جارہی ہیں جب لمعہ رہ گیا ہو پھر اس کا تیمم کرلیا ہو اور ان کے قول وتیمم للحدث (اور حدث کا تیمم کیا) سے بھی یہ معنی متعین ہوتا ہے۔ تو معلوم ہوا کہ لمعہ کے تیمم سے کلام الگ ہے اور اس سے بحث نہیں ورنہ یوں کہتے تیمم لھما (دونوں کا تیمم کرلیا) اور حلیہ کی عبارت سے یہ معنی واضح ہوچکا ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
قیاس قول محمد یتیمم[1] اھ
شرح وقا یۃ اغتسل الجنب ولم یصل الماء لمعۃ ظھرہ وفنی الماء واحدث حدثا یوجب الوضوء فتیمم لھما ثم وجد من الماء مایکفیھما بطل تیممہ فی حق کل واحد منھما وان لم یکف لاحدھما بقی فی حقھما وان کفی لاحدھما بعینہ غسلہ ویبقی التیمم فی حق الاٰخر وان کفی لکل منفردًا غسل اللمعۃ ھذا اذاتیمم للحدثین واحدا اما اذا تیمم للجنابۃ ثم احدث فتیمم للحدث ثم وجد الماء فکذا فی الوجوہ المذکورۃ وان تیمم للجنابۃ ثم احدث ولم یتیمم للحدث فوجد الماء [2] الخ وفیہ ذکر الخمسۃ نحومامر۔
اگر دونوں کے لئے غیر کافی ہو تو جہاں تك کفایت کرے دھولے اور اس کا تیمم برقرار ہے اور اگر لمعہ کےلئے کافی ہو وضو کےلئے نہیں تو لمعہ دھوئے اور تیمم برقرار ہے اور اگر وضوکےلئے کافی ہو لمعہ کےلئے نہیں تو وضو کرے اور اگر تنہا کسی ایك کےلئے کافی ہو تو لمعہ دھوئے اور اس کا تیمم برقرار ہے اور امام محمد کے قول کے قیاس پر تیمم کرے “ اھ۔ شرح وقایہ جنب نے غسل کیا اور پانی اس کی پیٹھ کے لمعہ تك نہ پہنچا اور پانی ختم ہوگیا اور اسے وضو واجب کرنے والا کوئی حدث ہُوا تو اس نے دونوں کا تیمم کیا پھر اسے اتنا پانی مل گیا جو دونوں کےلئے کافی ہو تو اس کا تیمم دونوں میں سے ہر ایك کے حق میں باطل ہوگیا اور اگر کسی کےلئے کافی نہ ہو تو دونوں کے حق میں باقی رہا اور اگر معین طور پر ایك کےلئے کافی ہو تو اسے دھوئے اور دوسرے کے حق میں تیمم باقی رہے گا اور اگر تنہا ہر ایك کے لئے کافی ہو تو لمعہ دھوئے یہ اس صورت میں ہے جب دونوں حدثوں کےلئے ایك ہی تیمم کیا ہو لیکن جب جنابت کا تیمم کرلیا پھر حدث ہوا تو حدث کا تیمم کیا پھر پانی ملا تو مذکورہ صورتوں میں حکم وہی ہے اور اگر جنابت کا تیمم کرلیا پھر حدث ہوا اور حدث کا تیمم نہ کیا پھر پانی ملا الخ اس میں بھی پانچ صورتیں اسی طرح ذکر کی ہیں جو گزریں۔
توضیحاتِ مصنّف : فقیر غفرلہ المولی القد یر چاہتا ہے کہ بتوفیق الٰہی عزّوجل جملہ اٹھانوے۹۸ صور مع احکام مبین کرے اُن کےلئے یہ تصو یر رکھیں کہ اقسام سبعہ پیشانی پر ہوں اور ہر پیشانی کے تحت میں چاروں نوعیں ان رموز حروف میں لکھیں :
ت : تیمم جنابت
ح : حدث
م : تیمم حدث
و : وجدانِ آب
تو ح و کا مطلب یہ ہوا کہ جنابت کا ابھی تیمم نہ کیا تھا کہ حدث ہُوا اور اب بھی تیمم نہ کیا تھا کہ پانی پا یا اور ت ح و یہ کہ جنابت کے بعد تیمم کیا پھر حدث ہوا پھر پانی ملا وقس علیہ پھر ان میں ہر ایك کو اُتنے اصناف پر منقسم کریں جتنی اُس میں محتمل ہیں یہاں لمعہ ووضو وہر دو وہریك وہیچ سے پانی کی کفایت مقصود ہے کہ لمعہ کو کافی ہے یا وضو کو یا دونوں کو یا ہر ایك کو یا کسی کو نہیں اور جہاں پُورا حدث مستقل نہیں وہاں بجائے وضو قدر مستقل لکھا ہے یعنی اُتنا پانی ملا جو صرف اُن اعضا کو کافی ہے جن میں حدث مستقل ہے یعنی اعضائے وضو کا جتنا حصہ جنابت کے بعد دھولیا تھاپھر حدث ہوا یوں یہ تمام صورتیں مفصل ہوگئیں اب احکام کی باری آئی وہ بہت جگہ مشترك ہیں ایك ایك پانچ پانچ یا کم وبیش صورتوں کے لئے ہے لہذا تکرار سے بچنے کو اول اُن احکام کی فہرست نمبر شمار کے ساتھ لکھیں پھر جدول صور میں ہر صورت کے نیچے حکم لکھ کر جو حکم ہو اس کا نمبر تحر یر کردیں کہ اُس کے ذریعہ سے جس صورت کا حکم چاہیں فہرست میں دیکھ لیں وبالله التوفیق۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع