دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 4 | فتاوی رضویہ جلد ۴

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۴

اگر ایك کےلئے کافی ہو دُوسرے کےلئے نہیں تو اسی میں اسے صرف کرے اور اگر تنہا ہر ایك کےلئے کافی ہو تو لمعہ کو دھوئے اور حدث کےلئے تیمم کرے اھ ،

کافی وہندیہ کسی جنب نے غسل کیا اور لمعہ رہ گیا تو تیمم کرے ، اگر تیمم کرلیا پھر حدث ہوا تو حدث کا تیمم کرے پھر اگر حدث کا تیمم کرلینے کے بعد اتنا پانی ملا جو دونوں کو کافی ہو تو دونوں میں صرف کرے۔ اور اگر کسی ایك معین کے لئے کافی ہو تو اسی میں صرف کرے اور دوسرے کا تیمم باقی ہے۔ اور اگر کسی ایك کےلئے غیر معین طور پر کافی ہو تو اسے لمعہ میں صرف کرے اور اپنے تیمم حدث کا اعادہ کرے امام محمد کے نزدیك اور امام ابویوسف کے نزدیك اعادہ نہیں اگر یہ پانی ملنے سے پہلے حدث کا تیمم نہ کیا تھا تو لمعہ دھونے سے

عــہ  :  ای تیمم للمعۃ ثم احدث فتیمم لہ ثم وجد الماء ۱۲ منہ غفرلہ (م)

عــہ  :  ای تیمم للمعۃ ثم احدث فوجد الماء قبل ان یتیمم لہ وھو یکفی لاحدھما غیر معین فان غسل اللمعۃ ثم تیمم للحدث جاز بالاتفاق وان عکس ففیہ خلاف ۱۲ منہ غفرلہ (م)

عــہ  :  رجع الی الکلام السابق اکمالا للتخمیس ۱۲ منہ غفرلہ (م)             

یعنی لمعہ کی وجہ سے تیمم کیا پھر اسے حدث ہوا تو اس کا تیمم کیا پھر اسے حدث ہوا تو اس کا تیمم کیا پھر اسے پانی ملا ۱۲ منہ غفرلہ (ت)

یعنی لمعہ کی وجہ سے تیمم کیا پھر اسے حدث ہوا تو اس کا تیمم کرنے سے پہلے پانی ملا جو دونوں میں سے ایك کےلئے غیر معین طور پر کافی ہے۔ تو اگر لمعہ دھولیا پھر حدث کا تیمم کیا تو بالاتفاق جائز ہے اور اگر برعکس کیا تو اس میں اختلاف ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)

پانچویں صورت کی تکمیل کےلئے کلام سابق کی جانب رجوع کیا ۱۲ منہ غفرلہ (ت)

علی بدنہ لمعۃ احدث قبل ان یتیمم تیمم لھما واحدا فان وجد ما یکفی لاحدھما غیر عین صرفہ الی اللمعۃ ویعید التیمم للحدث عند محمد[1]۔

جنب معہ ماء کاف للوضوء تیمم ولم یتوضأ فان عــہ۱ توضأ وتیمم لجنابتہ فاحدث تیمم لحدثہ فان وجد ماء یکفی لاحدھما صرفہ الی الجنابۃ ویعید تیممہ للحدث عند محمد [2] اھ۔

حلیہ وردالمحتار :  الواجد للماء بعد ماتیمم للجنابۃ ثم احدث بعد ذلك علی وجھین احدھما ان یجد الماء قبل عــہ۲ ان یتیمم للحدث فالماء اما ان یکون کافیا للمعۃ والوضوء فیغسلھا ویتوضأ                            

پہلے (حدث کا جیسا کہ ہندیہ میں ہے) تیمم کرلیا تو امام محمد کے نزدیك جائز نہیں اور امام ابویوسف کے نزدیك جائز ہے۔ اور اگر ان میں سے کسی کے لئے کافی نہ ہو تو دونوں کا تیمم باقی ہے۔ کوئی جنب جس کے بدن پر لُمعہ ہے اُسے تیمم سے پہلے حدث ہوا تو دونوں کےلئے ایك ہی تیمم کرے پھر اگر اتنا پانی ملے جو غیر معین طور پر کسی ایك کےلئے کافی ہو تو اُسے لمعہ میں صرف کرے اور امام محمد کے نزدیك حدث کے تیمم کا اعادہ کرے۔

کسی جنب کے پاس وضو کےلئے بقدر کفایت پانی ہے تو وہ تیمم کرے اور وضو نہ کرے پھر اگر اس نے وضو کرلیا اور جنابت کا تیمم کیا پھر اسے حدث ہوا تو اپنے حدث کا تیمم کرے اب اگر

 عــہ۱ اقول : ای عبثا عند ھذا الامام ومن معہ اومقللا للجنابۃ عند الاکثرین اوخارجا عن الخلاف کمابحثت ۱۲ منہ غفرلہ(م)

عــہ۲ اقول : القبل یۃ(۱) لاتقتضی وجود مدخولھا قال تعالی قل لوکان البحر مدادا لکلمٰت ربی لنفد البحر ان تنفد کلمٰت ربی فالمعنی                          

اقول : یعنی اس امام اور ان کے موافق حضرات کے مذہب پر عبث وبے فائدہ طور پر وضو کرلیا یا اکثر حضرات کے نزدیك تقلیل جنابت کےلئے وضو کرلیا یا اختلاف سے نکلنے کےلئے وضو کیا جیسا کہ میں نے بحث کی ۱۲ منہ غفرلہ (ت)

اقول : قبلیت اپنے مدخول کے وجود کی مقتضی نہیں۔ ارشاد باری تعالٰی ہے : “ تم فرماؤ اگر سمندر میرے رب کی باتوں کےلئے روشنائی ہوجائے تو سمندر ختم ہوجائے اس سے قبل کہ میرے رب کی باتیں ختم ہوں “ (باقی اگلے صٖفحہ پر)

واما غیرکاف لاحدھما فیتیمم للحدث واماکاف یا للمعۃ دون الوضوء فیصرفہ الی اللمعۃ ویتیمم للحدث واما کافیا للوضوء دون اللمعۃ فیتوضأ ولایغسل اللمعۃ ولایتیمم لھا واما کافیا لاحدھما غیرعین فیغسل اللمعۃ ویتیمم للحدث الوجہ الثانی ان یجد الماء بعد ان یتیمم للحدث [3] الخ فیہ ذکر الخمسۃ علی نحومامر۔

 شرح طحاوی وخزانۃ المفتین المسافر اجنب فاغتسل ثم علم انہ بقی لمعۃ فانہ یتیمم لانہ لم یخرج عن الجنابۃ              

اتنا پانی ملا جو دونوں میں سے کسی ایك کےلئے کافی ہے تو اسے جنابت میں صرف کرے اور امام محمد کے نزدیك تیمم حدوث کا اعادہ کرے “ اھ

 حلیہ و ردالمحتار وہ جسے تیمم جنابت کے بعد پانی ملے پھر اس کے بعد اسے حدث ہو اس کی دو صورتیں ہیں ایك یہ کہ حدث کا تیمم کرنے سے پہلے پانی ملے تو پانی اگر لمعہ اور وضو دونوں کےلئے کافی ہو تو لمعہ کو دھوئے اور وضو کرے اور اگر پانی کسی ایك کے لئے ناکافی ہو تو حدث کا تیمم کرے۔ اگر لمعہ کے لئے کافی ہو وضو کےلئے نہیں تو پانی لمعہ کےلئے صرف کرے حدث کےلئے تیمم کرے ، اور اگر وضو کےلئے کافی ہو لمعہ کےلئے نہیں تو وضو کرے اور لمعہ کو نہ دھوئے ، نہ ہی اس کےلئے تیمم کرے اور اگر غیر معین طور پر کسی ایك کےلئے کافی ہو تو لمعہ کو دھوئے اور حدث کا تیمم کرے دُوسری

 

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)

تیمم للجنابۃ ثم احدث ثم وجد الماء من دون ان یتیمم قبلہ للحدث والا فالتیمم بعدہ للحدث لیس فیما اذاکفی لھما معا اوللوضوء خاصۃ وقس علیہ قول الخلاصۃ احدث قبل غسل اللمعۃ بل وقول شرح الطحاوی الاٰتی وجد الماء بعد ماتیمم قبل الحدث فان وجود الحدث بعدہ غیر ملحوظ فیہ وان کان لابدمنہ عاش اومات علی قول ان الموت حدث کماھو الراجح عندنا ۱۲ منہ غفرلہ (م)                                                                                                                                                                       

تو معنی یہ ہوا کہ جنابت کا تیمم کیا پھر اسے حدث ہوا پھر پانی پا یا بغیر اس کے کہ اس سے پہلے حدث کا تیمم کیا ہو۔ ورنہ اس کے بعد حدث کا تیمم اس صورت میں نہیں جب دونوں ہی کےلئے پانی کافی ہو یا صرف وضو کےلئے کافی ہو۔ اسی پر خلاصہ کی عبارت “ لمعہ دھونے سے پہلے حدث ہُوا “ کا ق یاس کیا جائے بلکہ شرح طحاوی کی آنے والی اس عبارت کا بھی “ اسے پانی ملا اس کے بعد کہ تیمم کرچکا حدث سے پہلے “ ۔ کیونکہ اس کے بعد حدث کا وجود ملحوظ نہیں اگرچہ اس سے مضر نہیں جئے یا مرے اس قول پر موت حدث ہے جیسا کہ ہمارے نزدیك راجح بھی ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)

لبقاء اللمعۃ ولواحدث قبل التیمم یتیمم تیمما واحدا للمعۃ والحدث جمیعاکما اذا احدث مرارًا لایجب علیہ اکثر من وضوء واحد ولواحدث بعد التیمم ثم وجد الماء عــہ۱ فھو علی خمسۃ اوجہ اذا کفا ھما جمیعا یغسل اللمعۃ ویتوضأ للحدث وان کان لایکفیھما عــہ۲ یغسل مقدار مایکفیہ حتی تقل الجنابۃ ویتیمم ولوکفی للمعۃ عــہ۳ یغسل اللمعۃ ویتیمم للحدث ولوکفی للوضوء دون اللمعۃ ویتیمم للحدث ولوکفی للوضوء دون اللمعۃ یتوضأ ولایغتسل اللمعۃ وھو کالجنب اذاتیمم ثم احدث ثم وجد الماء یکفیہ للوضوء یتوضأ بہ ولوکفی لکل علی الانفراد لاجمیعًا یغسل اللمعۃ لان الجنابۃ اغلظ ثم یتیمم للحدث ولوبدأ بالتیمم ثم غسل اللمعۃ لایجوز وعلیہ ان یتیمم بعد الغسل وفی النوادر ان علیہ عــہ۴                                 

صورت یہ کہ حدث کا تیمم کرنے کے بعد پانی ملے۔ الخ اس میں بھی سابق کی طرح پانچ صورتیں ذکر کیں “ ۔

شرح طحاوی وخزانۃ المفتین مسافر کو جنابت لاحق ہُوئی تو اس نے غسل کیا پھر اسے معلوم ہوا کہ لمعہ رہ گیا تو وہ تیمم کرے اس لئے کہ لمعہ باقی رہ جانے کی وجہ سے وہ جنابت سے باہر نہ ہوا اور اگر قبل تیمم اسے حدث ہوا تو لمعہ اور حدث دونوں کےلئے ایك ہی تیمم کرے جیسے بار بار حدث ہو تو اس پر ایك وضو سے ز یادہ واجب نہیں۔ اور اگر بعد تیمم اسے حدث ہوا پھر پانی ملا تو اس کی پانچ صورتیں ہیں : (۱) جب 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن