30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وصدر(۴)الشریعۃ وان عبر فی موضعین بالحدث والجنابۃ
اور کافی وہندیہ میں اگرچہ حدث ولمعہ سے تعبیر کی پھر بھی یہ فرما یا “ اسے اگر وضو میں صرف کیا تو بالاتفاق جائز ہے “ ۔ اور کافی کے اندر آخر میں فرما یا “ پھر اتنا پانی پا یا جو دونوں میں سے ایك کےلئے کافی ہے یعنی بقیہ بدن کے لئے یا مواضع وضو کےلئے “ اھ سراج وہاج اور منحۃ الخالق میں لمعہ کے مسئلہ میں فرما یا “ اگر اس پانی سے وضو کیا تو جائز نہیں “ اھ ،
اور صدر الشریعۃ نے اگرچہ دو جگہ حدث وجنابت سے
غیر ان عبارتہ ابعد العبارات عن احاطۃ الاقسام لتخصیصہ الکلام بلمعۃ فی الظھر فقد اختار القسم السادس من الاقسام السبعۃ عینا وبالجملۃ الظاھر المتبادر من کلامھم رحمھم الله تعالٰی ورحمنا بھم قصر الکلام علی القسمین الاخیرین الذین فیھما الحدث خارج اعضاء الوضوء والله تعالٰی اعلم بمراد عبادہ۔
تعبیر فرما یا سوا اس کے کہ لمعہ پشت سے کلام خاص کردینے کی وجہ سے ان کی عبارت احاطہ اقسام کے معاملہ میں سب سے ز یادہ بعید ہے۔ پھر انہوں نے ساتوں اقسام میں سے قسم ششم خاص طور سے اخت یار کی بالجملہ کلمات علماء سے ظاہر متبادر یہی ہے کہ کلام ان اخیر دو قسموں میں محدود ہے جن میں حدث اعضا وضو کے باہر ہے۔ خدا ان حضرات پر رحمت فرمائے اور ان کی برکت سے ہم پر رحم فرمائے اور خدائے برتر کو اپنے بندوں کی مراد خوب معلوم ہے۔ (ت)
ثمّ اقول : تقسیم اوّل کی ہر قسم میں یہ پانچوں صنفیں نہ ہوسکیں گی۔
قسم اوّل میں صرف دو۲ ہوں گی کہ پانی وضو کو کافی ہے یا نہیں کہ وضو و لمعہ متحد ہیں تو پہلی عــہ۱ تین۳ صنفیں ایك ہیں اور چہارم ناممکن۔ لہذا قسم عــہ۲ اوّل کہ دو۲ نوع آخر سے دو۲ تھی ان دو۲ صنفوں سے چار۴ ہوئی۔
قسم دوم میں تین کہ صرف وضو کو کافی ہو یا مجموع کو کہ لمعہ ہے یا کسی کو نہیں یہاں دوم و چہارم محال تو یہ قسم دو۲ نوع آخر پھر ان تین صنفوں سے چھ۶ ہوئی۔
قسم سوم میں دو۲ نوع آخر کے ساتھ پُورا حدث مستقل ہے تو کامل وضو کا طالب لہذا یہاں بھی تین۳ ہی صنفیں ہوں گی صرف لمعہ کو کافی ہو یا مجموع کو کہ وضو ہے یا کسی کو نہیں۔ یہاں اول وچہارم محال اور دو۲ نوع اول کے ساتھ بعض حدث مستقل ہے تو اپنے ہی قابل پانی چاہے گا اور اب پانچوں صنفیں ہوں گی کہ یہاں اعضائے وضو دو۲ حصّے ہوگئے ایك میں جنابت ہے جو بعد جنابت نہ دھو یا تھا دوسرے میں حدث مستقل اب ہوسکتا ہے کہ پانی۱ صرف اس حدث کو کافی ہو جبکہ یہ حصّہ چھوٹا ہو یا۲ صرف جنابت کو جبکہ وہ حصّہ کم ہو اور دونوں صورتوں میں پانی بڑے کے قابل نہیں یا۳ پورے وضو کو کافی ہوکہ مجموعہ ہے یا۴ ہر حصّے کو جدا جدا جبکہ وہ
عــہ۱ : یا یوں کہیے کہ پہلی دو بھی ناممکن صرف سوم وپنجم ہیں۔ ظاہر ہے کہ مجموع کو کافی ہونے کے یہ معنی کہ اُس سے دونوں ادا ہوسکیں یہ یہاں حاصل ہے ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عــہ۲ : یہ اختلاف تعبیر ملحوظ رہے کہ قسم سے مراد تقسیم اوّل کے اقسام ہیں اور نوع سے تقسیم دوم کے اور صنف سے تقسیم سوم کے ۱۲ منہ غفرلہ (م)
دونوں برابر ہوں یا کم وبیش اور پانی بڑے کو کافی ہے نہ مجموع کو یا۵ کسی کو کافی نہیں جبکہ دونوں برابر ہوں یا پانی چھوٹے سے بھی کم تو دس۱۰یہ چھ۶وہ سولہ۱۶ ہوئیں۔
قسم چہارم : چاروں نوعوں کے ساتھ پانچ ہے کہ مطلوب حدث کل وضو ہو جیسے دو۲ نوع آخر کے ساتھ یا بعض وضو جیسے دو۲ نوع اول کے ساتھ بہر تقد یر اُسے مطلوب جنابت سے کہ بعض وضو وبعض باقی بدن ہے کمی بیشی مساوات ہر نسبت ممکن۔ بیشی یوں کہ جنابت میں رُو وپشت سے دو۲دو۲ انگل جگہ رہی تھی ظاہر ہے کہ اعضائے ثلٰثہ کو اس سے بہت زائد پانی درکار ہوگا و قس علیہ تو یہ قسم بیس۲۰ ہوئے۔
قسم پنجم : ہر نوع کے ساتھ چار رہی ہے کہ تنہا جمیع باقی بدن کل محلِ وضو سے زائد ہے تو یہاں صنفِ دوم ناممکن ہے اور یہ قسم سولہ۱۶۔
قسم ششم : میں بہرحال پانچوں ہونا ظاہر کہ اعضائے وضو کو بعض باقی بدن سے ہر نسبت متصور ، تو یہ بھی بیس۲۰ہے۔
قسم ہفتم : میں صنف دوم محال اور مثل پنجم سولہ۱۶۔ لہذا مسئلہ لُمعہ میں سب صورتیں اٹھانوے۹۸ ہُوئیں ، کتب اکابر میں بہت کم کابیان ہے اگرچہ ظاہر متبادر اقتصار بدوقسم آخر پر رکھیں جب تو بہت کم رہیں گی حتی کہ سب سے زیادہ تفصیل والی کتاب شرح وقایہ میں ۹۸ میں سے صرف پندرہ۱۵ ورنہ احاطہ بہرحال نہیں ہوسکتا کہ اصناف ہی کا احاطہ نہ فرما یا صور درکنار تفصیل مسئلہ اس وقت دس۱۰ کتابوں سے پیش نظر شرح۱ مختصر الطحاوی للامام الاسبیجابی پھر۲ خزانۃ المفتین ، ۳خلاصہ ، ۴کافی پھر۵ہندیہ ، ۶منیہ ، ۷حلیہ پھر ۸ردالمحتار ، ۹سراج وہاج ، ۱۰صدرالشریعۃ۔ سراج سے منحۃ الخالق نے کچھ نقل کرکے باقی کا اُس پر حوالہ کرد یا اور البحرالرائق نے ز یر قول مصنّف لبعدہ میلا ضمنًا صرف ایك صورت کی طرف اشعار فرما یا۔ منیہ نے صرف نوعِ اوّل لی اور اس میں بھی تین ہی صنفیں۔ خلاصہ نے نوع سوم پر اقتصار فرما یا۔ کافی وہندیہ نے نوعِ چہارم میں پانچوں اصناف اور دوم وسوم میں صرف صنف چہارم۔ شرح طحاوی وخزانۃ المفتین وحلیہ وردالمحتار نے دو۲ نوع اخیر میں پانچوں صنف۔ شرح وقایہ نے نوع دوم کا بھی اضافہ فرما یا مگر کلام کو تصریحا صرف قسم ششم سے خاص فرماد یا۔ عبارت یہ ہیں :
منیہ : جنب اغتسل وبقی لمعۃ ولیس معہ ماء تیمم للمعۃ وان وجد ماء بعد ما احدث یغسل اللمعۃ ویتیمم للحدث اذاکان الماء یکفی للمعۃ
منیہ : کسی جنب نے غسل کیا ، لُمعہ رہ گیا اور اس کے پاس پانی نہیں تو لمعہ کےلئے تیمم کرے اور اگر حدث ہونے کے بعد پانی پاجائے تو لمعہ دھوئے اور حدث کےلئے تیمم کرے جبکہ پانی لمعہ کےلئے کفایت کرتا ہو
ولایکفی للوضوء وان کان یکفی للوضوء لاللمعۃ یتوضأ ویتیمم عــہ لاجل اللمعۃ وان کان الماء یکفی لاحدھما علی الانفراد فانہ یغسل اللمعۃ ویتیمم للحدث [1] اھ۔
خلاصہ : اغتسل وبقی لمعۃ یتیمم فان وجد الماء غسل اللمعۃ ولایتیمم فان عــہ احدث قبل غسل اللمعۃ ثم وجد الماء ان کفی ھما صرفہ الیھما وان کان لایکفی لواحد منھما یتیمم للحدث وتیممہ للجنابۃ باق یستعمل ذلك الماء فی اللمعۃ لتقلیل الجنابۃ
اور وضو کےلئے کفایت نہ کرتا ہو۔ اور اگر وضو کےلئے کفایت کرے لمعہ کے لئے نہیں تو وضو کرے اور لمعہ کی وجہ سے تیمم کرے اور اگر پانی تنہا کسی ایك کےلئے کافی ہو تو لُمعہ دھوئے اور حدث کےلئے تیمم کرے اھ۔
خلاصہ غسل کیا اور لمعہ رہ گیا تو تیمم کرے پھر اگر پانی مل جائے تو لمعہ دھوئے اور تیمم نہ کرے۔ اگر لمعہ دھونے سے پہلے اسے حدث ہو پھر اسے پانی ملے اگر دونوں کےلئے کافی ہو تو دونوں میں صرف کرے اور اگر دونوں میں سے کسی کےلئے کافی نہ ہو تو حدث کےلئے تیمم کرے اور اس کا تیمم جنابت باقی ہے۔ وہ پانی تقلیل جنابت کےلئے لَمُعہ میں استعمال کرے گا۔
عــہ$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع