30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۱۴ : اگر جنابت وحدث مستقل کسی کے قابل پانی نہ پا یا اور تیمم کیا کہ دونوں کےلئے ایك ہی کافی ہوا یہ تیمم جدا جدا اپنی شرط کا پابند رہے گا اگر اتنا پانی پا یا کہ حدث کو کافی ہے اور جنابت کو کافی نہیں حدث کے حق میں تیمم ٹوٹ جائے گا اسے دھونا لازم ہوگا بخلاف صورت مسئلہ۱۲ کہ اُس میں تیمم صورۃً ومعنیً ہر طرح ایك تھا تو حدث کےلئے کافی پانی سے نہ جائے گا جب تك جنابت کو کافی نہ ہو۔
مسئلہ ۱۵ : جنابت کی تطہیر اگرچہ تیمم سے ہوئی ہو پانی سے کوئی حصّہ نہ دھو یا ہو اُس کے بعد جو حدث ہوگا تمام وکمال مطلقًا مستقل رہے گا کہ جنابت رفع ہوچکی معدوم میں موجود کا اندراج کیا معنی مثلًا کسی۱ مریض کو نہانا مضر ہے وضو مضر نہیں اُسے جنابت ہُوئی اور حدث بھی اسے فقط تیمم کا حکم تھا تیمم کرلیا اب پھر حدث ہوا اور وہ یہ خیال کرے کہ مجھے تو حدث کےلئے بھی تیمم ہی کافی ہُوا تھا اب بھی تیمم کرلوں یہ نہیں ہوسکتا کہ جنابت کےلئے تو تیمم کرچکا وہ حدث سے نہ ٹوٹے گا جب تك دوبارہ جنابت نہ ہو اب اگر یہ تیمم جنابت کےلئے کرتا ہے لغو ہے اور اگر حدث کےلئے کرتا ہے تو وضو پر تو وہ قادر ہے اس کےلئے تیمم کیسے کرسکتا ہے لاجرم وضو لازم ہے۔
مسئلہ ۱۶ : ہاں اگر جنب نے پانی نہ پاکر تیمم کیا پھر حدث ہوا پھر قابلِ جنابت پانی پا یا اور استعمال نہ کیا کہ تیمم ٹوٹ گیا اور جنابت عود کر آئی اب یہ صورت اجتماع جنابت وحدث کی ہوگی اور دونوں کہاں کہاں ہیں اس کے لحاظ سے وہی صور اندراج واستقلال جاری ہوں گی جو ان میں سے پائی جائے مثلًا جنابت کےلئے صرف تیمم کیا تھا پھر حدث ہوا پھر جنابت پلٹی تو اب یہ سارے بدن میں ہے جس میں اعضائے وضو بھی داخل لہذا حدث کہ مستقل تھا اب مندرج ہوگیا اورفقط قابلِ وضو پانی کا استعمال اُسے ضرور نہ ہوگا اور اگر بعد جنابت وضو کرلیا تھا پھر پانی نہ رہا تیمم کیا پھر حدث ہوا پھر جنابت پلٹی تو اب یہ حدث مستقل ہی رہے گا کہ اعضائے وضو میں جنابت نہ رہی اور پلٹے گی اُتنی ہی جتنی باقی رہی تھی وقس علیہ(اور اسی پر ق یاس کیا جائے۔ ت) یوں ہی اگر اس عود جنابت کے بعد حدث ہوا تو انہیں تفاصیل واحکام پر رہے گا اگر بعد جنابت و عود اعضائے وضو سے دونوں وقت کُچھ نہ دھو یا تھا حدث بتمامہٖ مندرج ہوجائے گا اور اگر پہلے یا اب وضو کرلیا تھا اس کے بعد حدث ہوا بالکلیہ مستقل رہے گا اور اگر بعض اعضائے وضو دھولئے تھے تو اس قدر میں مستقل باقی میں مندرج۔
والله سبحٰنہ وتعالٰی اعلم٭وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم٭وصلی الله تعالٰی علٰی سیدنا ومولٰنا محمد النبی الکریم الاکرام٭الحبیب الرؤف الارأف الرحیم الارحم٭وعلی اٰلہ وصحبہ سادۃ الامم٭ قادتنا
اور خدائے پاك وبرتر خوب جاننے والا ہے اور اس کا علم بہت تام اور محکم ہے اس کا مجد جلیل ہے۔ اور خدائے برتر درود نازل فرمائے ہمارے آقا ومولٰی محمد نبی کریم اکرم ، حبیب مہربان ، مہربان تر ، رحیم ارحم پر اور ان کی آل واصحاب سرداران اقوام پر جو راہِ راست کی جانب ہماری قیادت کرنے والے
الی الطریق الامم٭وابنہ وحزبہ وامتہ وبارك وسلم٭ابد الاٰبدین٭والحمدلله ربّ العٰلمین٭
ہیں اور ان کے فرزند ، ان کے گروہ و ان کی امت پر اور برکت و سلام سے بھی نوازے ہمیشہ ہمیشہ ، اور تمام تعریف سارے جہانوں کے مالك خدا کےلئے ہے۔ (ت)
_______________________
رسالہ
مجلی الشمعۃ لجامع حدث ولمعۃ ۱۳۳۶ھ
(حدث اور لمعہ رکھنے والے سے متعلق شمع افروز)
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
الحمدلله الذی جلّی الشمعۃ٭شمعۃ الاسلام باوفی لمعۃ٭حمدا بر یاعن الر یاء والسمعۃ٭ اذاظھر انوار من عید الجمعۃ ٭ وفتح بنورہ بصر المؤمن وسمعہ٭واتم بظھورہ قلع کل ضلال وقمعہ٭صلی الله تعالٰی علیہ وبارك وسلم ابد الصلاۃ وسلاما وبرکات تعم ذویہ وتجمع جمعہ٭اٰمین۔ الله
تمام حمد خدا کےلئے جس نے شمع فروزاں کی ، شمع اسلام کو بھرپور تابندگی کے ساتھ جلوہ گرگیا ، ایسی حمد جو ر یا وسمعہ سے پاك ہو اس لئے کہ اس نے اس ذات کے انوار ظاہر کیے جس نے جمعہ کو عید بنا یا اور جس کے نور سے مومن کی بصارت وسماعت کھولی ، اور اس کے ظہور سے ہر گمراہی کا قلع قمع تام کیا اس ذات پر خدائے برتر کی طرف سے درود اور برکت وسلام ہو ، ایسا درود وسلام اور ایسی برکتیں جو حضور کے سبھی لوگوں کو عام اور ان کی پُوری جماعت کو ہمہ گیر ہو الٰہی قبول فرما۔ (ت)
رسالہ الطلبۃ البدیعہ میں مسئلہ لُمعہ کا ذکر آ یا اور اُس میں تفاصیل کثیرہ ہیں کہ کتابوں میں نہ ملیں گی اُن کے بیان میں یہ سطور ہیں وبالله التوفیق (اور یہ اللہ تعالٰی کی توفیق سے ہے۔ ت) جنب نے بدن کا کچھ حصّہ دھو یا کچھ باقی رہا کہ پانی نہ رہا پھر حدث ہوا کہ موجب وضو ہے اب جو پانی ملے اُسے وضو ورفع حدث میں صرف کرے یا بقیہ جنابت کے دھونے میں یا کیا۔ یہ مسئلہ لُمعہ ہے لُمعہ بالضم یہاں وہ حصّہ بدن ہے جو بعد جنابت سےلانِ آب سے رہ گیا۔
اقول : یہاں تین تقسیمیں ہیں :
تقسيم اوّل : بلحاظ محل لمعہ۔ اُس میں سات۷ احتمال ہیں :
(۱) وہ لُمعہ خود یہی اعضائے وضو ہوں انہیں کو غسل میں نہ دھو یا تھا پھر حدث بھی ہوا ، اور یہ صورت وہ ہے کہ کلی اور ناك میں پانی پہنچانا ہوچکا ہو ورنہ صرف اُن اعضا میں جنابت نہ ہوگی جن کا وضو میں دھونا فرض ہے جس پر پانی کی کفایت و عدم کفایت کا مدار ہے کہ یہاں کافی سے وہی مراد ہے جو ادائے فرض کردے ولہذا ۱ محدث اگر اتنا پانی پائے کہ مُنہ ہاتھ پاؤں ایك ایك بار دھولے نہ تثلیث کو کافی ہو نہ مضمضہ واستنشاق کو تو اُس پر وضو فرض ہے تیمم جائز نہیں اور بعد تیمم اتنا پانی پائے تو تیمم ٹوٹ جائے گا۔
(۲) لُمعہ تمام اعضائے وضو مع ز یادت ہوں کہ وضو بھی نہ کیا اور باقی بدن کا بھی بعض حصہ نہ دھو یا تھا اگرچہ اسی قدر کہ مضمضہ واستنشاق نہ کیا تھا۔
(۳) لمعہ صرف بعض اعضائے وضو ہو یعنی ان کے سوا تمام بدن مع دہان وبینی اور ان میں سے بعض دھولیےتھے بعض باقی۔
(۴) لمہ بعض اعضائے وضو مع بعض باقی بدن ہو مثلًا نصف وضو کیا اور باقی نصف بدن دھو یا یا مثلًا صرف منہ دھونا اور مضمضہ باقی تھا۔
(۵) لُمعہ بعض وضو مع جمیع باقی بدن ہوکہ صرف اعضائے وضو سے کچھ دھوئے۔
(۶) لمعہ اعضائے وضو سے جُدا بعض باقی بدن ہو اگرچہ اسی قدر کہ پُورا نہا یا اور مضمضہ واستنشاق نہ کیا۔
(۷) لمعہ جمیع باقی بدن ہوکہ صرف وضو بے مضمضہ واستنشاق کیا۔
تقسیم دوم : بنظرِ ترتیب حدث وتیمم و وجدان آب۔ علما نے کچھ مفصّل کچھ مجمل ان شقوق کی طرف توجہ فرمائی کہ تیمم جنابت کے بعد حدث ہوا یا پہلے اور بعد ہوا تو اُس کےلئے تیمم کے بعد پانی ملا یا پہلے اقول : یہاں چار۴ چیزیں ہیں:
(i) تیمم جنابت
(ii) حدث
(iii) تیمم حدث
(iv) وجدان آب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع