دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 4 | فتاوی رضویہ جلد ۴

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۴

مسئلہ۲(۱) : حدث مندرج کوئی حکم جُداگانہ نہیں رکھتا جنابت کے اندر مستہلك  ومستغرق ہوجاتا ہے جیسے منی میں مذی۔ اس کی بارہ۱۲ صورتوں سے ۱ و ۷ جن میں جنابت وحدث باہم منطبق ہیں ایك  دوسرے سے باہر نہیں یہ تو حاجت بیان سے مستغنی ہیں کہ پانی پہلی صورت میں وضو یا ساتویں میں تکمیل وضو کو کافی ملا تو ضرور استعمال کرے گا اُسی میں جنابت وحدث دونوں زائل ہوجائیں گے۔ نہ ملا نہ کرے گا دونوں رہیں گے ، ہاں باقی دس صورتوں میں اندراج کا اثر ان احکام سے ظاہر ہوگا۔

مسئلہ ۳ : صورت سوم میں کہ پُورا نہانا درکار ہے اور کُل اعضائے وضو میں حدث ہے جو وضوئے کامل چاہتا اگر نہانے پر قادر نہ ہو کر پانی اتنا نہیں یا نہانا مضر ہے یا نہائے تو نماز کا وقت جاتا ہے اور وضو کےلئے کافی پانی موجود ہے اور اس سے ضرر بھی نہیں اور وقت میں بھی اُس کے گنجائش ہے با اینہمہ وضو نہ کرے صرف تیمم کافی ہے کہ یہ حدث کوئی حکم مستقل نہیں رکھتا۔

مسئلہ ۴ : یوں ہی صورت۶ میں کہ غسل کامل درکار ہے اور حدث صرف بعض اعضائے وضو میں کہ فقط تکمیل وضو چاہتا۔ ممکن ہے کہ اُس کے لئے ایك  ہی چُلّو درکار ہوتا اگر اتنے پانی پر قادر ہو جب بھی استعمال نہ کرے صرف تیمم پر قانع ہو۔

مسئلہ ۵ : یوں ہی صورت ۹ و ۱۲ میں کہ حدث اگر چاہتا تو تکمیل وضو لیکن جنابت اعضائے وضو کا ایك  حصّہ اور اُن کے علاوہ سارا بدن دھونا مانگتی ہے اگر اُنہیں وجوہ سے اس پر قدرت نہ ہو اور تکمیل وضو کو پانی حاضر اور اُس پر قادر جب بھی صرف تیمم کرے۔ غرض تضاعیف۳ کی چاروں۴ صورتیں ایك  حکم رکھتی ہیں۔

مسئلہ ۶ : باقی ۶ صورتوں ۲۔ ۴۔ ۵۔ ۸۔ ۱۰۔ ۱۱ میں جنابت کے لئے جتنا دھونا درکار ہے

اگر اسکے لیے پانی یا وقت نہیں اور حدث کہ دوم میں وضو باقیوں میں تکمیل چاہتا اس کے لئے پانی اور وقت کافی موجود ہیں اور یہ اسی وقت ہوگا کہ مطلوب جنابت مطلوب حدث سے ز یادت معتدبہا رکھتاہو جب تو ان چھ کا بھی وہی حکم ہے کہ وضو و تکمیل کی حاجت نہیں تیمم کرے۔

ولایلزم فیھا ولا فی الصورتین ٩و١٢ تلفیق الطہارت من ماء و تراب بل یسقط ما تقدم ویکون مؤد یا بالتیمم فقط کما قدمنا عن الامام العینی فی الدلیل الاول۔                                  

ان میں اور صورت ۹۔ ۱۲ میں طہارت کو پانی اور مٹی سے خلط کرنا لازم نہیں آتا بلکہ پہلے جو ہوچکا ساقط ہوجائےگا اور وہ صرف تیمم سے ادا کرنے والا ہوگا ، جیساکہ دلیل اول میں امام عینی کے حوالے سے ہم نے پیش کیا۔ (ت)

مسئلہ ۷ : ان چھ۶ صور میں مطلوب جنابت سے عجز بوجہ ضرر ہونا ظاہرًا صورت چہارم و دہم میں متوقع نہیں کہ اس میں سے ایك  حصہ پہلے بوجہ حدث ہوچکا تھا اور باقی کو دھونے پر قدرت اب مفروض ہے کہ مطلوب حدث کے لئے پانی پا یا اور اس کے دھونے پر قادر ہے تو عجز کہیں نہ ہوا لہذا ضرور ہے کہ صورت چہارم میں پورا وضو اور دہم میں جس قدر مطلوب جنابت سے بجا لائے یہاں اگرچہ وضو یا تکمیل وضو کا حکم ہوا مگر نہ حدث بلکہ جنابت کے لئے۔ اور اگر فرض کیجئے کہ اتنی د یر میں اس حصہ اعضائے وضو میں ضرر پیدا ہوگیا جتنا مطلوب جنابت میں مطلوب حدث سے زائد ہے اور تیمم کی اجازت اب بھی نہیں ہوسکتی کہ یہ حصہ سارے بدن کے لحاظ سے بہت کم ہے اور غسل میں جب محل ضرر غیر محل ضرر سے کم ہو یہ جائز نہیں کہ غیر محل ضرر کو دھوئے اور باقی کےلئے تیمم کرے فانہ ہو التلفیق الممنوع ولا امکان لسقوط ما تقدم لعدم ق یام التیمم مقامہ لفقد شرطہ العجز (کیونکہ یہی تلفیق ممنوع ہے اور سابق کے ساقط ہونے کا امکان نہیں اس لیے کہ تیمم اپنی شرط-عجز-کے فقدان کی وجہ سے اس کے قائم مقام نہیں۔ ت)بلکہ محل ضرر پر مسح کرے باقی دھوئے۔ یہی حکم یہاں سے بہرحال حدث کےلئے وضو یا تکمیل یہاں بھی نہیں۔

مسئلہ ۸ : باقی چارصورتوں ۲۔ ۵۔ ۸$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن