30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ومعہ من الماء قدرمایتوضأ بہ لصلاۃ یتوضأ بہ لصلاۃ اخری فان توضأ بہ ولبس خفیہ ثم مر بالماء ولم یغتسل حتی صارعادم الماء ثم حضرت الصلاۃ ومعہ من الماء قدرمایتوضأ بہ فانہ یتیمم ولایتوضأ فان تیمم ثم حضرت الصلاۃ الاخری وقدسبقہ الحدث فانہ یتوضؤ بہ وینزع خفیہ وان لم یکن مر بماء قبل
میں بطور سوال لائے اور انہیں عدم استقلال کے جواب سے دفع کیا وہ اب پھر وارد ہوں گی اور ان میں سے کوئی نہ رد ہوسکتی ہے نہ ٹل سکتی ہے۔ خدا کی رحمت ہو فاضل برجندی -اور تمام علماء- پر کہ فاضل موصوف نے بغیر حدث کے جنابت پائے جانے کی تین صورتیں پیش کیں جن میں پہلی صورت یہی ہے-اور جب عدم وجوب وضو کے بارے میں اپنی رائے کے اظہار پر آئے تو صرف بعد والی دونوں صورتوں سے متعلق کلام کیا اور اسے معرضِ کلام سے بالکل الگ رکھا جیسا کہ دلائل کے آخر میں ہم نے ان کا کلام نقل کیا اور اس کا تکملہ اشکال پنجم میں ہے کیونکہ اِس سے متعلق وجوب وضو میں کوئی شك نہیں-ہاں اگر تیمم کرلیا پھر اسے حدث ہوا اور وضو نہ کیا پھر (نہانے کے قابل) پانی کے پاس سے گزرا ، اور اسے چھوڑ کر آگے چلاگیا-تو اس شخص کے پاس اگرچہ آبِ وضو موجود ہے مگر اس پر وضو نہیں خواہ اسے حدث ہو یا نہ ہو-اس لئے کہ اس کا حدث پہلے اگرچہ مستقل تھا مگر اب اعضائے وضو میں جنابت لَوٹ آنے کی وجہ سے مندرج ہوگیا۔ اسی طرح عود جنابت کے بعد جو بھی حدث ہوگا(سب مندرج ہوجائے گا ) بشرطیکہ عود کرنے والی جنابت کو پانی یا مٹی کے ذریعہ اعضائے وضو سے کُلًا یا بعضًا رفع کرنے کے بعد وہ حدث نہ پیدا ہوا ہو(کہ ایسا حدث مندرج نہ ہوگا)اس سے ظاہر ہوا کہ جنب کے مذکورہ مسئلہ میں خانیہ شریف میں واقع یہ عبارت “ احدث اولم یحدث “ (اسے حدث ہو یا نہ ہو)امام اجل فقیہ النفس کی سبقت قلم سے صادر ہوئی۔
ذلك مسح علی خفیہ الکل فی الاصل [1] اھ۔ ھذا ماعندی والعلم بالحق عندربی انہ بکل شیئ علیم۔
الافادۃ۱۲ : تقر یری ھذا فتح ولله الحمد بابااٰخر للتاویل فاقول : مع علی معناھا ولانتصرف فی شیئ من الالفاظ ونقول الجنابۃ اذاشملت لم یظھر معھا حدث بل اندمج فیھا واستُھلك کالمذی فی المنی فی حکم الطھارۃ فمعیتھما لاتکون الا باستقلالھما وذلك فی جنابۃ مقتصرۃ لاتشتمل محل الحدث طرأ ولایکون الا بان یتوضأ بعد الجنابۃ کلا اوبعضا ثم یحدث کماتقدم والفرض ان الماء یکفی للحدث لاللجنابۃ فیجب ان تکون
خدائے برتر انہیں اپنی وسیع رحمت سے نوازے اور ان کی برکت سے دُنیا وآخرت میں ہم پر بھی رحم فرمائے۔ یہ کوئی حیرت انگیزامر نہیں کیونکہ ہراسپِ خوش رفتار کو ٹھوکر بھی لگتی ہے اور ہر شمشیربردار کو ناموافقت سے بھی دوچار ہونا پڑتا ہے۔ عصمت تو صرف کلامِ الوہیت پھر کلامِ نبوت کو ہے یہ مسئلہ محرر مذہب امام محمدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے کتاب الاصل (مبسوط شریف)میں بیان کیا ہے۔ اس میں “ احدث اولم یحدث “ ذکر نہ فرما یا۔ خلاصہ میں ان کی عبارت اسی طرح نقل فرمائی ہے جو درج ذیل ہے : “ ایك شخص نے جنابت کا تیمم کیا اور نماز ادا کی پھر اسے حدث ہوا اور اس کے پاس اتنا پانی ہے جس سے وضو کرسکتا ہے تو اس سے دوسری نماز کےلئے وضو کرے گا۔ اگر اس سے وضو کرلیا اور موزے پہن لیے پھر پانی کے پاس سے گزرا اور غسل نہ کیا یہاں تك کہ پانی اس کے لئے معدوم ہوگیا پھر نماز کا وقت آ یا اب اس کے پاس بقدر وضو پانی ہے تو وہ تیمم کرے گا اور وضو نہیں کرے گا۔ اگر اس نے تیمم کرلیا پھر دوسری نماز کا وقت اس حالت میں آ یا کہ اسے حدث لاحق ہوچکا تو اس پانی سے وہ وضو کرے گا اور اپنے موزے اتارے گا-اور اگر اس سے پہلے وہ پانی سے نہ گزرا تھا تو اپنے موزوں پر مسح کرے- یہ سب اصل (مبسوط) میں ہے اھ یہ وہ ہے جو میرے نزدیك ہے۔ اور حق کا علم میرے رب کے یہاں ہے ، یقینا وہ ہر شَے کا علم رکھتا ہے۔ (ت)
افادہ ۱۲ : میری اس تقر یر نے بحمدہ تعالٰی تاویل کا ایك اور دروازہ کھولا فاقول : (تو میں کہتا ہوں) عبارت شرح وقایہ میں مع اپنے معنی پر ہے اور ہم کسی لفظ میں تصرف نہیں کرتے۔ ہم کہتے ہیں جنابت جب شاملہ ہو اس کے ساتھ کوئی حدث ظاہر نہ ہوگا بلکہ اسی میں مل جائےگا اور غائب ومستہلك ہوجائے گا جیسے حکمِ طہارت میں منی کے اندر مذی کے غ یاب واستہلاك کا حال ہے۔ تو حدث وجنابت دونوں ایك ساتھ اسی وقت ہوں گے جب دونوں مستقل ہوں۔ یہ اس جنابت مقتصرہ میں ہوگا جو
الجنابۃ فی محل اکبر من اعضاء الوضوء وحینئذ لاشك انہ اذا وجد وضوء یجب علیہ الوضوء بالاتفاق لان تیممہ یکون للجنابۃ خاصۃ ولا یرفع الحدث لکونہ مستبدا بالحکم والماء کاف لہ والحمدلله حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ٭وصلی الله تعالٰی علی سیدنا ومولٰنا محمّد واٰلہ وذویہ٭اٰمین۔
فظھران معنی کلام الامام ان المحدث علی ثلثۃ انواع الاول من بہ جنابۃ وحدھا سواء لم یکن معھا حدث اصلا کمامر تصویرہ اوکان وھو مغمور مستہلك فیھا کجنب لم یمس ماء اوغسل بدنہ ماعدا اعضاء الوضوء اوغسل غیرھا و غیرحصۃ اخری ثم احدث فی الکل قبل ان یتطھر لھا ، والثانی من بہ جنابۃ معھا حدث کجنب توضأ اوغسل بعض اعضاء وضوئہ فقط اومع غیرھا من سائر البدن کلا او بعضا ثم احدث قبل التیمم لھا او فعل ذلك وفنی الماء وتیمم لھا ثم احدث ثم مر بماء یکفی لھا فلم یغتسل ، والثالث من بہ حدث وحدہ وھوظاہر وھذہ احکامھا اما القسم الاول
پورے محلِ حدث کو شامل نہ ہو اس کی صورت یہی ہوگی کہ جنابت کے بعد کُلًا یا بعضًا وضو کرے پھر اسے حدث ہو جیسا کہ پہلے ذکر ہوا۔ اور فرض یہ کیا گیا ہے کہ پانی حدث ہی کےلئے کفایت کررہا ہے جنابت کےلئے نہیں۔ تو ضروری ہے کہ جنابت اعضائے وضو سے ز یادہ بڑے حصّے میں ہو جب یہ صورت ہو تو بلاشبہہ آب وضو ملنے کے وقت اس پر بالاتفاق وضو واجب ہوگا اس لئے کہ اس کا تیمم خاص جنابت کےلئے ہوگا اور حدث رفع نہ کرے گا کیونکہ حدث تو اپنا مستقل حکم رکھتا ہے۔ اور اس کےلئے بقدر کفایت پانی موجود ہے اور ساری حمد خدا کےلئے ہے کثیر پاکیزہ بابرکت حمد-اور خدائے برتر کی طرف سے ہمارے آقا ومولٰی محمد اور ان کی آل اور ان کے سبھی لوگوں پر درود وہو۔ الٰہی! قبول فرما۔ (ت)اس سے ظاہر ہوا کہ امام صدر الشریعۃ کے کلام کا معنی یہ ہے کہ محدث کی تین۳ قسمیں ہیں :
اوّل : وہ جسے صرف جنابت ہے خواہ اس کے ساتھ کوئی حدث بالکل نہ ہو۔ جیسا کہ اس کی صورت کا بیان گزرا۔ یا حدث ہو تو وہ جنابت ہی میں مخفی ومستہلك ہوجیسے وہ جنب جس نے پانی مَس نہ کیا۔ یا اعضائے وضو کے ماسوا بدن دھولیا۔ یا اعضائے وضو اور کسی دوسرے حصّہ کو چھوڑ کر باقی سب دھولیا۔ پھر ان سبھی صورتوں میں جنابت سے پاکی حاصل کرنے سے پہلے اسے حدث ہوا۔
دوم : وہ جسے ایسی جنابت ہے جس کے ساتھ کوئی حدث بھی ہے۔ جیسے وہ جنب جس نے وضو کرلیا یا صرف بعض اعضائے وضو دھولیے یا بعض اعضائے وضو باقی بدن میں سے کل یا بعض
(اذاکان للجنب) المتفرد بالجنابۃ بدلیل المقابلۃ (ماء یکفی للوضوء لاللغسل) ای ازالۃ الجنابۃ الشاملۃ کمافی الصورۃ الاولٰی او غیرھا کمافی الاخیرتین فانہ (یتیمم لایجب علیہ التوضی عندنا)اذلاحدث معہ یستقل بحکم والفرض انہ لایخرجہ عن جنابتہ فکان وجودہ وعدمہ سواء (خلافا للشافعی) رضی الله تعالٰی عنہ لماعلمت و(اما) القسم الثانی (اذاکان مع الجنابۃ حدث یوجب الوضوء) مستبد بالحکم (فانہ یجب علیہ الوضوء) قطعالان حدثہ مستقل وقدقدر علی ماء یکفی لازالتہ ولایکفیہ التیمم (فا) عـــہ ن ا (التیمم الذی یفعلہ انما یکون (للجنابۃ) خاصۃ لعدم الاندراج فیلزم الوضوء (بالاتفاق و) اما القسم الثالث (اذاکان للمحدث) المتفرد بالحدث (ماء یکفی لغسل بعض اعضائہ
کے ساتھ دھولےے پھر جنابت کا تیمم کرنے سے پہلے اسے حدث ہوا یا اتنا اس نے کیا اور پانی ختم ہوگیا اور جنابت کا تیمم کیا پھر اسے حدث ہوا پھر اتنے پانی کے پاس سے گزرا جو جنابت کےلئے کافی تھا مگر اس نے غسل نہ کیا۔
سوم : وہ جسے صرف حدث ہو یہ ظاہر ہے۔ اور تینوں قسموں کے احکام یہ ہیں۔ لیکن قسم اول (جب جنب کے پاس) وہ جسے صرف جنابت ہو اس قید کی دلیل یہ ہے کہ مقابلہ میں ایسا جنب مذکور ہے جس کے ساتھ حدث بھی ہے(اتنا پانی ہو جو وضو کےلئے کافی ہو غسل کےلئے نہیں)یعنی جنابت شاملہ دُور کرنے کے لئے نہیں جیسا کہ پہلی صورت میں ہے۔ یا غیر جنابت شاملہ کے لئے نہیں جیسا کہ بعد والی دونوں صورتوں میں ہے۔ (تو وہ تیمم کرے گا اور ہمارے نزدیك اس پر وضو واجب نہیں)اس لئے کہ اس کے ساتھ کوئی ایسا حدث نہیں جو مستقل
عـــہ : ھذا علی التعلیل وان جعلنا الفاء للتفریع امکن تعلق قولہ بالاتفاق بمایلیہ علی تقد یر تأخر التیمم عن الوضوء فیکون المعنی (یجب علیہ الوضوء) فاذاتوضأ (فالتیمم) الذی یفعلہ بعد ےبقی (للجنابۃ بالاتفاق)لارتفاع الحدث بالوضوء ونفاد الماء بعدہ ولکن الاول ھو الاولی کمالایخفی ۱۲ منہ غفرلہ (م)
یہ اس تقد یر پر ہے کہ ف برائے تعلیل ہے۔ اور اگر فاء برائے تفریع مانیں تو ان کے قول بالاتفاق کا تعلق اسی عبارت سے ہوگا جس سے یہ متصل ہے اس تقد یر پر کہ تیمم وضو کے بعد ہو تو معنی یہ ہوگا (اس پر وضو واجب ہے) تو جب وہ وضو کرلے (تو تیمم) جسے وہ بعد میں ہی کرے گا(بالاتفاق جنابت کےلئے)باقی رہے گا کیونکہ حدث وضو سے رفع ہوگیا اور اس کے بعد پانی بھی ختم ہوگیا۔ لیکن اول اولٰی ہے جیسا کہ مخفی نہیں ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع