دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 4 | فتاوی رضویہ جلد ۴

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۴

حدث دونوں رکھنے والا جب غسل کرے تو یہی غسل وضو سے بھی کفایت کرجاتا ہے اور اگر غسل کےلئے پانی نہ ملنے کی وجہ سے تیمم کرے تو یہ بھی کافی ہوتا ہے-مگر وہ جو غیر اعضائے وضو میں جنابت مقتصرہ اور (اعضائے وضو میں) حدث رکھتا ہے-مثلًا وہ جس نے غسل کیا اور اس کی پیٹھ باقی رہ گئی پھر اسے حدث ہوا تو یہ جب اپنی پیٹھ دھولے اس کا غسل مکمل ہوگیا اور وہ جنابت سے نکل گیا۔ لیکن اس کا اپنی پیٹھ دھولینا وضو سے کفایت نہیں کرسکتا بلکہ اس پر واجب ہے کہ وضو کرے یا اگر پانی نہ ملے تو حدث کےلئے تیمم کرے۔ یہ اسی لئے ہے کہ نجاست معنوی اس نجاست کبرٰی مقتصرہ میں مندرج نہیں۔ (ت)

اگر سوال ہو کہ یہ تو پانی میں ہے کہ وہ بھی جس حصہ تك  پہنچتا ہے اس کےلئے مطہر مقتصر ہے۔ مگر تیمم کا یہ حال نہیں کیونکہ وہ غسل کی طرح پورے بدن کو ہمہ گیر اور عام ہے۔

اقول : ہاں بدن کو عام اور ہمہ گ یر ہے لیکن

الحدث ھو الرفع لاتغییرہ عن صفتہ حتی یجعل المندرج غیرمندرج اوبالعکس بل انما یرفعہ علی ماھو علیہ من الحال ان مندرجا فمندرجا اومستبدا فمستبدا فاذا اغتسل وبقیت لمعۃ فی ظھرہ ثم احدث فتیمم لھما ازالھما مغیَّین الی وجدان الماء وھذہ ثمرۃ عمومہ لاان یدرج نجاسۃ حکم یۃ قائمۃ بالاعضاء الاربعۃ فی نجاسۃ اخری قائمۃ بالظھر فتبقی کل منھما تنتظر الماء الکافی لھا بحیالہ فاذا وجد وضوء وجب علیہ الوضوء ولووجدہ قبل ھذا التیمم لمعہ التیمم للحدث لان کل ناقض بقاء مانع ابتداء ویکون الماء محللا للصلاۃ بالنظر الی ھذا المستقل المستبد ال غیر المنظور فیہ الی الاٰخر ولم یجتمع الماء والتراب علی طھارۃ بل توزعا علی طھارتین مستقلتین فانحلت الشبھات جمیعا والحمدلله ربّ العٰلمین وصلی الله تعالٰی علٰی سیدنا ومولٰنا محمد واٰلہ وصحبہ اجمعین۔ اقول : ومن ھھنا ظھر ولله الحمد ان(۱) من اجنب فتیمم فاحدث فتوضأ فمربنھر                            

حدث میں اس کا عمل یہی ہے کہ اسے دُور کردے یہ نہیں کہ اس کی صفت بدل ڈالے اس طرح کہ مندرج کو غیر مندرج بنادے یا اس کے برعکس۔ بلکہ صرف اتنا کرے گا کہ حدث جس حالت و صفت پر ہے اسی حال پر اسے رفع کردے گا۔ مندرج ہے تو بحالت اندراج ، مستقل ہے تو بحالت استقلال-اب دیکھئے جب اس نے غسل کیا اور اس کی پشت میں لمعہ باقی رہ گیا پھر اسے حدث ہوا ، اب اس نے حدث وجنابت دونوں کےلئے تیمم کیا تو یہ تیمم دونوں کو پانی کی دست یابی تك  کےلئے دُور کردے گا-یہی اس کے عموم اور ہمہ گ یری کا ثمرہ ہے۔ یہ نہیں کہ ایك  نجاست حکمیہ جو اعضائے اربعہ میں ہے اسے دوسری نجاست حکمیہ میں جو پشت میں-ہے مندرج کردے۔ اس لئے دونوں نجاستوں میں سے ہر ایك  اپنے اپنے لےے مستقل طور پر مائے کافی کے انتظار میں رہے گی جس وقت اسے وضو کا پانی مل جائے اس پر وضو واجب ہوجائے گا-اور اگر اس تیمم سے پہلے اسے وضو کا پانی ملتا تو وہ حدث کا تیمم کرنے سے مانع ہوتا اس لئے کہ ہر وہ جو بقائً ناقض ہے ابتداءً مانع ہے-اور پانی اس مستقل مستبد کے لحاظ سے جس میں دوسرے کی جانب نظر نہیں نماز کو مباح کرنے والا ہے-اور ایك  طہارت پر پانی اور مٹی کا اجتماع نہ ہوا بلکہ دونوں دو مستقل طہارتوں پر متفرق اور جُدا جُدا ہیں-تمام شبہات حل ہوگئے اور ساری تعریف خدائے رب العٰلمین کےلئے ہے۔ اور اللہتعالٰی کی طرف سے ہمارے آقا ومولٰی محمد اور ان کی آل واصحاب سب پر درود ہو۔ (ت)

اقول : یہیں سے بحمدہٖ تعالٰی یہ بھی ظاہر ہوا کہ جسے جنابت ہوئی تو اس نے تیمم کیا پھر اسے حدث ہوا تو اس نے وضو کیا پھر کسی در یا کے

و قدر عــہ علی الاغتسال فلم یغتسل عاد جنبا غیر محدث بالحدث الاصغر لان الجنابۃ انما تعود فیما لم یصبہ الماء من اعضائہ وبوضوئہ السابق مر الماء علی اعضاء الوضوء فلا تعود الیھا جنابۃ الابسبب جدید کمابینا فی الافادۃ الاولی ونقلنا التنصیص بہ عن الغنیۃ والبدائع فھذا(۱) ان حدث ولوقبل التیمم للجنابۃ العائدۃ و وجد وضوء وجب علیہ الوضوء قطعا لان ھذا حدث طرأ علی طھر فینقضہ ولایکفیہ تیممہ الاٰن لانہ لجنابۃ مقتصرۃ فی غیر اعضاء الوضوء فلم یندرج الحدث فیہ وبقی مستقلا بحیالہ نعم یرتفع (۲) بتیممہ للجنابۃ العائدۃ ان لوکان عاجزا عن الوضوء ایضا لان التیمم وان کان لجنابۃ قدر ظفر یعم البدن فاذا وجد شرطہ وھو العجز عن الماء فی اعضاء الوضوء ایضا طھرھا ایضا اما وھو قادر علی الوضوء فلا لفقد الشرط ، وبالجملۃ(۳) اذا استقل الحدثان فالتیمم لھما وان کان واحدا بالصورۃ تیممان معنی ینظر فی کل منھما الی شرطہ فحیث تحقق یصح فی حقہ وحیث لا لابخلاف تیمم(۴) جنب ذی حدث مندرج فانہ تیمم                                                                                                                                                                                                                                                                               

پاس سے گزرا اور غسل پر قادر ہوا مگر اس نے غسل نہ کیا تو وہ پھر جنب ہوگیالیکن محدث بہ حدث اصغر نہ ہُوا-اس لئے کہ کہ جنابت ان ہی اعضاء میں عود کرے گی جنہیں پانی نہ پہنچا اور اعضائے وضو پر اس کے وضوئے سابق کی وجہ سے پانی گزرگیا تو ان پر جنابت بغیر کسی سبب جدید کے عود نہ کرےگی جیسا کہ ہم نے افادہ اولٰی میں بیان کیا۔ اور اس کی تصرےح غنیہاور بدائع سے نقل کی-پھر اس کو اگر حدث ہو-اگرچہ لوٹ آنے والی جنابت کا تیمم کرنے سے پہلے ہو-اور وہ آب وضو پائے تو اس پر وضو قطعًا واجب ہے۔ اس لئے کہ یہ ایسا حدث ہے جو طہارت پر طاری ہواتو اسے توڑ دے گا۔ اور اس وقت اس کا تیمم کرنا اسے کفایت نہیں کرسکتا اس لئے کہ وہ اس جنابت کےلئے ہے جو غیر اعضائے وضو میں مقتصرہے تو حدث اس میں مندرج نہ ہوا اور الگ مستقل رہ گیا-ہاں اس کا حدث لوٹ آنے والی جنابت کا تیمم کرنے سے اٹھ جائے گا اگر وہ وضو سے بھی عاجز ہو۔ کیونکہ تیمم اگرچہ ناخن برابر جنابت کےلئے ہو لیکن تمام بدن کو عام ہوتا ہے۔ تو جب اس کی شرط-اعضائے وضو میں بھی

 

عــہ قال الامام فقیہ النفس علم بہ اقول : والمراد القدرۃ فان العلم لایستلزم القدرۃ والقدرۃ تستلزم العلم ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)

امام فقیہ النفس نے فرما یا : در یا کا اسے علم ہوا اقول : مراد قدرت ہے اس لئے کہ علم ہونا قدرت کو مستلزم نہیں اور قادر ہونا علم کو مستلزم ہے ۱۲ منہ غفرلہ۔ (ت)

واحد صورۃ ومعنی لاجل الاندراج وھھنا لا اندراج الا تری الی ماقدمنا عن الکافی الاٰن من ایجاب الوضوء علیہ اذا وجد ماء کافیا بلہ باتفاق الامامین وان قال الامام الثانی بصرف حکم الوضوء عنہ لعارض وسیجیئ فی الرسالۃ التال یۃ ان الاصح قول محمد وھذہ عین الجزئیۃ المطلوبۃ فانہ جنب ذولمعۃ وقد احدث قبل التیمم لھا فوجب الوضوء علیہ وکذلك  ھو مفاد المنیۃ علی نسخۃ المتن کماقدمنا وکذلك  نص علیہ فی شرح الوقا یۃ کما تقدم وقد اقرہ المحشون و الناظرون ولم یستشکلہ احد کما استشکلوا جمیعا قولہ فی صدرالباب٭وماھو الا لان ما ھنا فی حدث مستقل فلایحوم حول ایجاب الوضوء فیہ شبھۃ ولاارتیاب٭ ، وھھنا تعود جمیع الابحاث التی اوردناھا فی الافادۃ العاشرۃ علی طریقۃ السؤال٭ودفعناھابعدم الاستقلال٭فترد الاٰن ولامرد لشیئ منھا ولازوال٭ورحم الله الفاضل البرجندی والعلماء جمیعا اذ صور وجود الجنابۃ من دون حدث بثلاث صور اولھا ھذہ ولما اتی علی استظھار عدم وجوب الوضوء خص الکلام بالاخریین وجعل ھذہ بمعزل عنہ کما نقلنا کلامہ اٰخر الدلائل وتتمتہ فی الاشکال الخامس لان ھذہ لا یرتاب فیھا وجوب            

پانی سے عجز-پائی جائے تو انہیں بھی پاك  کردے گا۔ مگر وضو پر قدرت کی حالت میں پاك  نہ کرے گا اس لئے کہ شرط مفقود ہے-

خلاصہ یہ کہ جب دونوں حدث مستقل ہوں تو ان کےلئے تیمم اگرچہ صورۃً ایك  ہو معنیً دو۲تیمم ہوتے ہیں ہر ایك  میں اس کی شرط پر نظر کی جائےگی جہاں جس کی شرط متحقق ہو اس کے حق میں وہ تیمم صحیح ہوگا جہاں شرط نہ متحقق ہو صحیح نہیں ہوگا۔ مگر حدث مندرج والے جنب کا تیمم اس کے برخلاف ہے اس لئے کہ اندراج کی وجہ سے وہ صورۃً بھی ایك  تیمم ہے اور معنیً بھی اور یہاں اندراج نہیں وہی عبارت دیکھ لیجئے جو ابھی ہم نے کافی کے حوالہ سے پیش کی ہے کہ باتفاق امام اعظم وامام محمدعلیہما الرحمۃ اس پر وضو کےلئے کافی پانی کی دستیابی کی صورت میں وضو واجب ہے اگرچہ امام ثانی(ابویوسف)کا قول ہے کہ اس سے وضو کا حکم عارضہ کے سبب ساقط ہوجائےگا اور آنیوالے رسالہ میں یہ بات آرہی ہے کہ اصح قول امام محمدکا ہے ، اور یہ بعینہٖ ہمارا مطلوب جزئیہ ہے اس لئے کہ وہ لمعہ والاجنب ہے جسے تیمم جنابت سے پہلے حدث بھی لاحق ہو تو اس پر وضو واجب ہوگیا۔ اسی طرح شرح وقایہ میں بھی اس کی تصریح ہے جیسا کہ گزرا۔ اسے محشین اور ناظرین نے برقرار بھی رکھا اور کسی نے اس میں اشکال نہ محسوس کیا جیسے شروع باب میں ان کے قول میں سبھی حضرات نے اشکال سمجھا- اس کی وجہ یہی ہے کہ وہاں جو کلام ہے وہ حدث مستقل کے بارے میں ہے تو اس میں ایجاب وضو کے گرد کسی شك  وشبہہ کا گزر نہیں۔ اور یہاں وہ ساری بحثیں آجاتی ہیں جنہیں ہم افادہ دہم

الوضوء نعم (۱) لوتیمم ثم احدث ولم یتوضأ ثم مر بماء وجاوزہ فھذا وان وجد وضوء لاوضوء علیہ سواء احدث او لم یحدث لان الحدث بعد ماکان مستقلا صار مندرجا لعود الجنابۃ الی اعضاء الوضوء وکذا (۲) کل حدث یحدث بعدہ ما لم یحدث بعد رفع الجنابۃ العائدۃ عن اعضاء الوضوء بعضا اوکلا بماء اوتراب ،

فظھر(۳)ان ماوقع فی مسألۃ الجنب المذکورۃ فی الخانیۃ الشریفۃ من قولہ احدث اولم یحدث سبق قلم من الامام الاجل فقیہ النفس رحمہ الله تعالٰی رحمۃ واسعۃ ورحمنا بہ فی الدنیا والاٰخرۃ اٰمین ولاغر وفلکل جوادکبوۃ٭ولکل صارم نبوۃ٭ ولاعصمۃ الالکلام الالوھیۃ ثم النبوۃ ٭والمسألۃ قد ذکرھا محرر المذھب محمد رضی الله تعالٰی عنہ فی کتاب الاصل لم یذکر فیہ احدث اولم یحدث وھکذا اثرہ فی الخلاصۃ اذ قال رجل(۴) تیمم للجنابۃ وصلی ثم احدث

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن