30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الشبھۃ الثالثۃ : نصوا قاطبۃ فی صورتی کفا یۃ الماء لللمعۃ وحدھا اولکل منفردا بوجوب استعمالہ فی اللمعۃ وانتقاض تیممہ لھا وانہ یتیمم للحدث ومعلوم قطعا ان ھذا الماء لم یکن محللا للصلاۃ فی الصورتین لبقاء الحدث والاحتیاج لہ الی التیمم فکان یجب ان لاینتقض تیممہ لھا لمامر من نصوص الائمۃ الجھابذۃ فی الدلیل السادس ان المراد فی الکریمۃ ھو الماء الذی اذا استعمل اباح الصلاۃ وھذا لیس بہ ھذا تقر یر الشبھات۔
واقول : فی الجواب بتوفیق الوھاب اما الاخر یان ان کان الحدث فیھما بعد التیمم
صرف چوٹی ہوئی جگہ کےلئے کافی ہے تو اسے دھولے اور حدث کےلئے تیمم کرے یوں ہی اگر دونوں میں سے ہر ایك کےلئے بلاتعین کافی ہو تو بھی اس جگہ کو دھوئے اس لئے کہ جنابت ز یادہ سخت ہے۔ اگر اس نے اس کے برخلاف کیا اور پانی وضو میں صرف کیا تو چھُوٹی ہوئی جگہ کےلئے اسے باتفاق روایت دوبارہ تیمم کرنا ہے نصوص عنقریب آرہے ہیں۔ ان تینوں صورتوں میں دونوں طہارتوں کو خلط کرنا اور دونوں بدل کو جمع کرنا ہی تو ہے۔ اس طرح کہ بیك وقت اس نے پانی اور مٹی دونوں سے طہارت حاصل کی اور پانی کا جنابت کےلئے ، مٹی کا حدث کےلئے ہونا جمع سے مانع نہیں۔ اگر یہ بات نہیں تو دو حدث والے کو جسے آب وضو دستیاب ہے آپ نے وضو سے کیوں روکا (وجہ فرق کیا ہے) وہاں بھی تو دونوں بدل ایك شیئ پر مجتمع نہ ہوئے بلکہ مٹی جنابت کےلئے ہے اور پانی حدث کےلئے ہے۔ (ت)
شبہہ ۳ : جب پانی صرف لمعہ کےلئے کفایت کرے یا جب تنہا ہر ایك کےلئے کفایت کرے دونوں صورتوں میں سبھی علماء نے صراحت فرمائی ہے کہ پانی لمعہ میں استعمال کرنا واجب ہے۔ اس کا تیممِ جنابت ٹوٹ جائے گا اور حدث کےلئے وہ تیمم کرے گا۔ یہ بھی قطعًا معلوم ہے کہ دونوں صورتوں میں یہ پانی نماز مباح کرنیوالا نہ تھا کیونکہ حدث باقی ہے اور اس کےلئے تیمم کی ضرورت ہے۔ تو ضروری کہ اس کا تیممِ جنابت نہ ٹوٹے اس لئے کہ دلیل سادس میں ائمہ ماہرین کی تصریحات گزرچکی ہیں کہ آیت کریمہ میں وہ پانی مراد ہے جو استعمال کیا جائے تو نماز مباح ہوجائے گی اور یہ وہ پانی نہیں۔ یہ شبہات کی تقر یر ہے۔ (ت)
جوابِ شبہات : جوابِ شبہات میں بتوفیق خدائے وہاب میں کہتا ہوں-آخری دونوں
للجنابۃ فالجواب واضح لانہ اذن مستبد قطعا لا یصلح للاندراج لارتفاع الجنابۃ بالتیمم فکیف یندرج الموجود فی المرفوع ولذا اجمعت الامۃ انہ اذا احدث بعد تطھیر الجنابۃ بالغسل اوبالتیمم و وجد وَضوء یجب علیہ الوضوء فاذا لم یندرج فیھا لم یکن الجمع بین البدلین فی طھارۃ واحدۃ بل طھارتین کمن اجنب ولم یجد غسلا فتیمم فاحدث و وجد وضوء فتوضأ ولا یرد ذوالحدثین لاجل الاندراج فیکون جمعا فی طھارۃ واحدۃ وکذلك المراد بالاباحۃ الاباحۃ من جھۃ ازالۃ مانعیۃ لاقاھا وان بقی المنع من جھۃ اخری کماسبق فی من توضأ وعلی فخذہ نجس مانع ولا یرد ذوالحدثین فلیس بہ مانعیتان و وضوؤہ یزیل احدھما وان بقیت الاخری بل مانعیۃ واحدۃ لاندراج الصغری فی الکبری فاذالم یکف للکبری لم یکن محللا للصلاۃ اصلا ولوکان یکفی للصغری۔
واما ان کان الحدث فیھما قبل التیمم کمافی الشبھۃ الاولٰی فاقول : الجواب عنھا جمیعا فی حرف واحد٭ان شاء الله العزیز
شبہات کو لیجئے۔ اگر ان میں حدث تیمم جنابت کے بعد تھا تو جواب واضح ہے کہ اس صورت میں وہ یقینا مستقل ہے۔ جنابت میں شامل و مندرج ہونے کے قابل نہیں کیونکہ جنابت تو تیمم سے ختم ہوچکی ہے تو موجود معدوم میں کیسے شامل ہوگا۔ اسی لئے اس بات پر امت کا اجماع ہے کہ جب غسل یا تیمم سے تطہیر جنابت کے بعد حدث ہو اور آبِ وضو دست یاب ہو تو اس پر وضو واجب ہے۔ جب حدث جنابت میں شامل نہ ہوا تو دونوں بدل کو ایك طہارت میں جمع کرنا نہ ہوا بلکہ دو طہارتوں میں ہوا جیسے وہ شخص جسے جنابت لاحق ہُوئی اور غسل کا پانی نہ پا یا تو تیمم کیا پھر اسے حدث ہوا اور وضو کا پانی پا یا تو وضو کیا-اس پر دونوں حدث والے سے اعتراض نہیں ہوسکتا کیونکہ اس کا ایك حدث دوسرے میں شامل ہے تو وہاں ایك ہی طہارت میں دونوں بدل جمع کرنا لازم آئے گا اسی طرح اباحت سے مراد وہ اباحت ہے جو اس مانعیت کے ازالہ کی جہت سے ہو جس پانی کا اتصال ہوا اگرچہ دوسری جہت سے ممانعت باقی ہو جیسا کہ اس کے بارے میں گزرا جس نے وضو کیا اور اس کی ران پر کوئی مانع نجس موجود ہے۔ اس پر بھی دونوں حدث والے سے اعتراض نہیں ہوسکتا کیونکہ اس کا حال ایسا نہیں کہ اس میں دو مانعیت (ممانعت) ہوں اور وضو ایك کو دور کردے اگرچہ دوسری باقی رہ جائے بلکہ اس میں ایك ہی مانعیت ہے کیونکہ صغرٰی کبرٰی میں شامل ہوگئی ہے تو پانی جب کبرٰی کےلئے ناکافی ہو قطعًا نماز کو مباح کرنے والا نہ ہوسکے گا اگرچہ صغرٰی کےلئے کافی ہو۔ (ت)
لیکن ان دونوں صورتوں میں اگر حدث تیمم سے پہلے ہو ، جیسا کہ شبہہ اولٰی میں ذکر ہے ، تو میں کہتا ہوں اس کا جواب ایك حرف میں ہے
الواجد الماجد٭وقدلوحنا الیہ فی الافادۃ العاشرۃ وذلک(۱) ان الحدث لہ معنیان کماقدمنا فی الطرس المعدل احدھما نجاسۃ حکمیۃ تحل بسطوح الاعضاء الظاھرۃ التی یلحقھا حکم التطھیر حلول سر یان والسطح ممتد منقسم طولا وعرضا فبانقسامھا تنقسم النجاسۃ الحالۃ بھا وعن ھذا یسقط الفرض عما اصابہ الماء مع بقاء النجاسۃ فی الباقی والاٰخر وصف للمکلف وھو تلبسہ بھا فیبقی مادام ذرۃ منھا وھذا ھو الحدث الذی لایتجزی ، واذ(١) کان الاول متجزئاینقسم الی قسمین شامل ومقتصر فالشمول فی الجنابۃ مالم یمس ماء والاقتصار اذا غسل بعض البدن فان النجاسۃ الحکمیۃ تزول من المغسول وتبقی فی غیرہ ، والحدث الاصغر لایعتبر فی غیر الاعضاء الاربعۃ فان کانت الکبری شاملۃ وجب الاندراج لعمومھا تلك الاعضاء ایضا وان کانت مقتصرۃ لم یلزم کأن تکون الجنابۃ فی غیرھن وفیھن الحدث ولایکون الابان یتوضأ الجنب اویمر الماء علی اعضاء وضوئہ وتبقی لمعۃ فی غیرھن ثم یحدث فیعتریھن الحدث ح ولاوجہ للاندراج لتباین المحل والٰی ھذا اشرت بقولی فی المندرج المحل جزء من المحل والمطھر بعض من المطھر وھذا ھو مرادھم ھھنا کمادل علیہ قول الامام صدر الشریعۃ ولم
اگر خدائے غالب غنی بزرگ نے چاہا۔ اس جواب کی طرف ہم افادہ دہم میں اشارہ بھی کرچکے ہیں۔ وہ یہ ہے کہ حدث کے دو۲ معنی ہیں ، جیسا کہ ہم نے الطرس المعدل میں بیان کیا-ایك نجاستِ حکمیہ جو اعضا کی اُن ظاہری سطحوں میں حلول سر یانی کئے ہوتی ہے جنہیں حکم تطہ یر لاحق ہوتا ہے-اور سطح ایك پھیلی ہوئی ، طول وعرض میں منقسم چیز ہے تو سطحوں کے منقسم ہونے سے ان میں حلول کرنے والی نجاست بھی منقسم ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس حصّہ کو پانی پہنچتا ہے اس سے فرض ساقط ہوجاتا ہے اور بقیہ حصّہ میں نجاست باقی رہتی ہے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ حدث مکلف کی ایك صفت ہے اور وہ یہ ہے کہ مکلف نجاست حکمیہ سے متلبس ہے تو جب تك اس نجاست کا ایك ذرّہ بھی باقی ہے یہ حدث باقی رہے گا۔ یہی وہ حدث ہے جو غیر متجزی و غیر منقسم ہے۔ اور اوّل چونکہ متجزی ہے اس کی دو۲ قسمیں ہونگی ، شامل اور مقتصر۔ جنابت میں شمول اس وقت ہے جب پانی مَس نہ ہوا ہو۔ اور اقتصار اس صورت میں ہے جب بدن کا کوئی حصّہ دُھل گیا ہو اس لئے کہ دھوئے ہوئے حصّہ سے نجاست حکمیہ زائل ہوجاتی ہے اور دوسرے حصّہ میں باقی رہتی ہے-
اور حدث اصغر کا چاروں اعضا کے علاوہ میں اعتبار ہی نہیں تو اگر نجاست کبرٰی شاملہ ہے تو اندراج لازم ہے کیونکہ وہ ان اعضا میں بھی عام ہے اور اگر مقتصرہ ہے تو اندراج لازم نہیں۔ مثلًا یہ صورت ہوکہ جنابت اعضائے اربعہ کے علاوہ میں ہو اور ان اعضا میں
یصل الماء لمعۃ ظھرہ [1] خص الظھر بالذکر لیفید ان الکبری فی غیر محل الصغری فلا یصح الاندراج الا تری(۱) ان ذا الجنابۃ الشاملۃ والحدث اذا اغتسل کفاہ عن الوضوء وان لم یجد ماء لغسلہ فتیمم کفاہ ایضا اما صاحب المقتصرۃ فی غیر اعضاء الوضوء والحدث کمن اغتسل وبقیت ظھرہ مثلا ثم احدث فھذا اذا غسل ظھرہ تم غسلہ وخرج عن الجنابۃ لکن لایکفیہ غسلہ ظھرہ عن الوضوء بل یجب علیہ ان یتوضأ اویتیمم للحدث ان لم یجد لہ الماء وماھو الالعدم اندراج الصغری فی تلك المقتصرۃ الکبری۔
فان قلت ھذا فی الماء فانہ(۲) ایضا مطھر مقتصر علی ما یصے بخلاف التیمم فانہ یعم جمیع البدن کالغسل۔
اقول : نعم یعم البدن لکن عملہ(۳) فی
حدث ہو-اور اس کی یہی شکل ہوگی کہ جنب وضو کرے یا اس کے اعضائے وضو پر پانی گزر جائے اور دیگراعضا میں لمعہ رہ جائے پھر اسے حدث ہو تو اعضائے وضو پر حدث عارض ہوجائےگا۔ ایسی صورت میں اندراج کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ (اصغر واکبر کے) محل الگ الگ ہیں۔ اس کی طرف مندرج کے تحت میں نے اپنے ان الفاظ سے اشارہ کیا کہ- “ محل ، محل کا جز ہے۔ اور مطہر ، مطہر کا بعض ہے اور یہا ں پر علماء کی یہی مراد ہے۔ جیسا کہ صدر الشریعۃ کے یہ الفاظ بتارہے ہیں : “ اور پانی اس کی پشت کے لُمعہ (چھُوٹی ہوئی جگہ) تك نہ پہنچا-خاص طور سے پشت کو اس لئے ذکر فرما یا کہ یہ افادہ ہوسکے کہ کبری ، غیر محلِّ صغری میں ہے اس لئے اندراج نہ ہوسکے گا۔ دیکھئے جنابت شاملہ اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع