دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 4 | فتاوی رضویہ جلد ۴

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۴

اقول : یہی امام شافعی کا مذہب ہے خصوصًا لفظ ثمّ (پھر) کے ساتھ۔ کیونکہ اس میں یہ واجب کرنا ہے کہ پانی اگرچہ کم ہی ہو تیمم سے پہلے اسے ختم کرلینا ہے۔ کوئی حنفی کبھی اس کا قائل نہ ہوگا۔ قول قرہ باغی : تعجب ہے کہ انہوں نے اس طرف التفات نہ کیا۔ (ت)

اقول : قرہ باغی نے خود جو تصور کیا اسی پر اس کی بنیاد ہے حقیقت میں وہ متصور ہی نہیں۔

قول محشی مذکور : تمام مقدمات تسلیم کرلینے کے بعد۔
اقول : وہ منع کیا ہیں جو آپ نے تہ کردئے حنفیہ کے نزدیك  تو سارے مقدمات بدیہیات سے ہیں۔
قولہ ایك  معلول پر متعدد علل شرعیہ کا اجتماع ہوسکتا ہے۔

اقول : جیسے ایك  معلول پر چند علتوں کا اجتماع ممتنع نہیں ایسے ہی ایك  رافع سے چند علتوں کا ارتفاع بھی ممتنع نہیں۔ جیسے وہ عورت جس کا حیض منقطع ہوا پھر اسے احتلام ہوا پھر التقائے ختانین ہُوا

علیھا اربع علل وترفع جمیعا بغسل اوتیمم واحد فاذاکان لہ حدثان اصغر و اکبر ولم یجد ماء للغسل فلابد لہ ان یتیمم وتیممہ لکونہ عن جنابۃ مطھر لجمیع البدن ومن البدن اعضاء الوضوء فقط طھرھا ورفع الحدثین کمااذا اغتسل فلیس ھذا التیمم الا قائما مقام الغسل فکما یرتفعان بہ فکذا بنائبہ ولم یعرف من الشرع تیمم یطرؤ علی حدثین فیرفع احدھما ویذر الاٰخر والا لزم لہ اما تیمم اٰخر وھو باطل حتی عند الشافعیۃ کما قدمناہ اوالماء وھو الجمع بین البدل والمبدل الباطل باجماع الحنفیۃ فبلج الحق والحمدلله ربّ العٰلمین۔

فان قلت القیاس علی الغسل مع فارق وذلك  لان ذا الحدثین اذا اغتسل فقد اتی بما امربہ فی کل من الحدثین وھو اسالۃ الماء علی تلك  الاعضاء وکذلك  اذاتیمم فاقدا للماء اما اذاوجد وضوءً فبالتیمم انما یکون اٰتیا بما امر بہ للحدث الاکبر لا بما امر بہ للاصغر لانہ قادر فیہ علی الاصل                      

(قربت ہوئی) پھر انزال ہوا اس پر چار علتوں کا اجتماع ہوا اور ایك  ہی غسل یا تیمم سے چاروں مرتفع ہوجائےگی۔ تو جب کسی کو دو۲حدث ہوں ایك  اصغر ایك  اکبر۔ اور اسے غسل کےلئے پانی نہ ملے تو ضروری ہے کہ تیمم کرے۔ اس کا تیمم چونکہ جنابت سے ہوگا اس لئے تمام بدن کو پاك  کردے گا۔ اعضائے وضو بھی بدن ہی کا حصّہ ہیں تو انہیں بھی تیمم نے پاك  کرد یا اور اکبر و اصغر دونوں حدث رفع کردئے۔ جیسے غسل کی صورت میں ہوتا ہے اور یہ تیمم غسل ہی کے قائم مقام ہے تو جیسے غسل سے دونوں حدث مرتفع ہوجاتے ہیں ویسے ہی اس کے نائب سے بھی مرتفع ہوجائیں گے۔ شریعت میں ایسے کسی تیمم کا نشان نہیں ملتا جو دو حدثوں پر طاری ہو مگر ایك  کو ختم کرے دوسرے کو چھوڑ دے۔ اگر ایسا ہوتا تو اس پر یا تو ایك  دُوسرا تیمم بھی لازم ہوتا اور یہ باطل ہے یہاں تك  کہ شافعیہ کے نزدیك  بھی ، جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا یا پانی (استعمال کرنا) بھی لازم ہوتا اور یہ بدل اور اصل دونوں کو جمع کرنا ہے جو باجماع حنفیہ باطل ہے تو حق روشن ہوگیا اور ساری خوبیاں سارے جہانوں کے مالك  خدا کےلئے ہیں۔ (ت)

اگر سوال ہو کہ غسل پر قیاس ، قیاس مع الفارق ہے اس لئے کہ دونوں حدث والے نے جب غسل کیا تو وہ سب بجالا یا جس کا دونوں حدثوں میں سے ہر ایك  میں اسے حکم د یا گیا وہ ہے ان اعضا پر پانی بہانا (جو غسل سے پُورا ہوگیا)یہی حال اس وقت ہے جب پانی نہ ہونے کی صورت میں تیمم کیا۔ لیکن جب آبِ وضو موجود ہو توتیمم سے صرف اس کی بجاآوری کرنے والا ہوگا جس کا حدثِ اکبر سے متعلق اسے

فکیف یصیر الی البدل وبالجملۃ شرط التیمم العجز عن الماء وقدعجز فی الحدث الاکبر دون الاصغر فکان التیمم مجزئا عن ذلك  لا عن ھذا فافترق الحدثان بقاء وارتفاعا۔

اقول :  ھذا لوکان کل منھما مستبدا بحیالہ ولیس کذلك  فلیس الحدث الااعتبارا شرعیا لاٰثار معلومۃ کمنع الصلاۃ وقد انطوی الاکبر علی جمیع اٰثار الاصغر فکلما منعہ الاصغر منعہ الاکبر بالاولی ولاعکس وارتفاع شیئ یوجب زوال جمیع اثارہ وقدسلمتم ارتفاع الاکبر بھذا التیمم فیجب ارتفاع کل اٰثارہ ومنھا منع الصلاۃ فلزم اباحتھا ولاتباح قط مع حدث فثبت ان ھذا التیمم رفع کل حدث طرأعلیہ۔

فان قلت ارتفاع شیئ انما یوجب زوال اٰثارہ من حیث ھی اٰثارہ ولاینافیہ بقاء بعضھا لمؤثر اٰخر کمن توضأ وفی فخذہ نجاسۃ مانعۃ فلاشك  ان قد صح وضوءہ و زال المنع الذی کان                       

حکم ہوا۔ اس کی بجاآوری کرنے والا نہ ہوگا جس کا حدث اصغر سے متعلق اسے حکم ہوا۔ اس لئے کہ اس میں یہ اصل پر قادر ہے تو بدل کی طرف کیسے منتقل ہوسکتا ہے؟ مختصر یہ کہ تیمم کی شرط پانی سے عاجز ہونا ہے اور اس کا عجز حدثِ اکبر میں تو ہے حدثِ اصغر میں نہیں تو تیمم صرف اس سے کفایت کرنے والا ہوگا اس سے نہ ہوگا اس طرح دونوں حدث بقا اور ارتفاع میں جُدا جُدا ہوجائیں گے (ایك  ختم ہوگا ایك  باقی رہ جائے گا) (ت)

اقول : یہ اس وقت ہوتا جب دونوں حدثوں میں سے ہر ایك  کو مستقل حیثیت حاصل ہوتی۔ اور ایسا نہیں اس لئے کہ حدث کچھ معلوم آثار جیسے منع نماز و غیرہ کے شرعی اعتبار ہی کا نام ہے اور حدث اکبر حدث اصغر کے تمام اثرات پر مشتمل ہے تو اصغر جس سے مانع ہوگا اس سے اکبر بدرجہ اولٰی مانع ہوگا۔ اس کے برعکس نہیں۔ اور کسی چیز کا ختم ہوجانا اسے لازم کرتا ہے کہ اس کے جتنے بھی اثرات ہوں سبھی زائل ہوجائیں آپ کو تسلیم ہے کہ اس تیمم سے حدث اکبر مرتفع ہوگیا تو ضروری ہے کہ اس کے سارے اثرات بھی اُٹھ جائیں ان ہی میں منع نماز بھی ہے تو لازم ہوگا کہ نماز مباح ہو۔ اور نماز کسی حدث کے ساتھ کبھی مباح نہیں ہوتی۔ تو ثابت ہوا کہ اس تیمم نے ہر وہ حدث دُور کرد یا جو اس پر طاری ہُوا۔ (ت)

اگر یہ سوال ہو کہ کسی چیز کا مرتفع ہونا اس کے اثرات دُور ہونے کو واجب کرتا ہے تو اسی حیثیت سے کہ وہ اس چیز کے اثرات ہیں۔ اب ان میں کچھ اثرات کسی دوسرے مؤثر کی وجہ سے باقی رہ جائیں تو یہ اُس کے منافی نہیں۔ مثلًا کسی نے وضو کیا

من قبلہ مع ان المنع لاجل النجاسۃ بحالہ کذا ھنا ھما حدثان قام احدھما باعضاء الوضوء والاٰخر عم ظاھر البدن طرأ ففیھا مانعیتان وفی سائر الجسد مانعیۃ واحدۃ فاذا تیمم وھو واجد لماء الوضوء زالت من اعضاء الوضوء المانعیۃ الکبری لصحۃ مزیلھا بوجود شرطہ وھو العجز عن الماء الکافی للغسل وبقیت الصغری لان المزیل لاصحۃ لہ بالنسبۃ الیھا لفقد شرطہ بالقدرۃ علی الماء الکافی للوضوء وبہ ظھر انہ لیس کاللتی وصفت انھا حاضت واحتلمت وجومعت وامنت وکفاھا غسل او تیمم واحد وکذا من احدث مرارا یکفیہ وضوء واحد وذلك  لان المزیل لیس فاقد الشرط بالنظر الی شیئ منھا فازالھا جمیعا بخلاف مانحن فیہ وبہ اتضح الفرق بین ھذا وبین من لیس لہ الا الجنابۃ فانہ ان وجد وضوء لایتوضؤ لازالۃ المانع یۃ القائمۃ باعضاء الوضوء فانھا لیست الا الکبری وھی لا تتجزی بخلاف الصورۃ الاولٰی وبہ تبین ان لیس فیہ الجمع بین البدلین بل توزیعھما علٰی شیئین کمن صرف الماء الی غسل النجس وتیمم للحدث بل کمن اطعم عن یمین وصام عن اخری وبہ استبان                                                                                                  

اور اس کی ران پر اتنی نجاست ہے جو جوازِ نماز سے مانع ہے۔ تو اس میں شك  نہیں کہ اس کا وضو صحیح ہے اور اس کی جانب سے جو رکاوٹ تھی وہ دُور ہوگئی باوجودیکہ نجاست کی وجہ سے رکاوٹ اب بھی برقرار ہے اسی طرح یہاں وہ دو۲حدث ہیں ایك  تو اعضائے وضو پر لگا ہوا ہے دوسرا پورے ظاہر بدن کو شامل ہے تو اعضاءِ وضو کے اندر دو۲ ممانعتیں ہیں اور باقی سارے جسم میں ایك  ممانعت (مانعیت) ہے جب آب وضوء موجود ہونے کی حالت میں اس نے تیمم کیا تو اعضاء وضو سے مانعیت کبرٰی دُور ہوگئی کیونکہ اسے دُور کرنیوالا امر اپنی شرط غسل کےلئے کفایت کرنیوالے پانی سے عجز کے پائے جانے کی وجہ سے صحیح ودرست ہے۔ اور مانعیت صغرٰی رہ گئی کیونکہ اس کی بہ نسبت جو دُور کرنے والا امر تھا وہ صحیح ودرست نہیں اس لئے کہ اس کی شرط مفقود ہے کیوں کہ وضو کےلئے کافی پانی پر قدرت موجود ہے۔ اسی سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ اس کا معاملہ اس عورت کی طرح نہیں جس کی حالت بیان ہوئی کہ اس میں انقطاع حیض ، احتلام ، جماع ، انزال چار اسباب جمع ہوئے اور ایك  ہی غسل یا تیمم کافی ہوگیا۔ اسی طرح وہ شخص جسے بار بار حدث ہُوا ہو اسے ایك  ہی وضو کافی ہے اس لئے کہ ان میں کی بہ نسبت جو دُور کرنے والا امر ہے وہ فقدان شرط کا شکار نہیں اس لئے اس نے سبھی کو دُور کرد یا بخلاف اس صورت کے جو ہمارے ز یربحث ہے اسی سے اِس شخص میں (جسے دونوں حدث ہیں) اور اس میں جسے صرف جنابت ہے واضح فرق ہوگیاکہ وہ اگر آبِ وضو پائے

انہ لیس عبثا ولااضاعۃ ولا الاشتغال بہ سفھا ولیس کماقالوا من بقاء الحدث کماھو بل زال احدھما۔

اقول : مااَمۡتَنَہ من کلام لولا ان فیہ ذھولا عن حدیث منع الاستبداد عــہ فانك  جعلتھما شیئین مستقلین عند الاجتماع مع ان المتقرر فی الشرع ان(۱) المتجانسین اذا اجتمعا ولم یختلف مقصودھما تداخلا وقداعترفت بہ فی التی وصفت                                               

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن