30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
انما یکون للجنابۃ لا غیر فبطلانہ ظاھر حتی علی مسلك التعویل فان جنبا معہ حدث ولاماء یکون تیممہ للحدثین قطعا الاتری الی قول شرح الوقا یۃ نفسہ اذاکان بہ حدثان حدث یوجب الغسل کالجنابۃ وحدث یوجب الوضوء یکفی تیمم واحد عنھما[1] اھ وان لم یرد کانت المقدمۃ القائلۃ ان کل جنب یتیمم للجنابۃ خال یۃ عن الافادۃ لانہ معلوم لکل احد ولایصلح تعلیلا ولاتفریعا وبہ استبان ان الامام فی قولہ للجنابۃ لام التخصیص فکان المعنی ان تیمم الجنب المذکور للجنابۃ خاصۃ۔
الافادۃ ۷ : تعلق قولہ بالاتفاق بکون التیمم للجنابۃ ھو الظاھر المتبادر من العبارۃ لانہ انما یفھم عائدا الٰی الجملۃ المذیلۃ بہ۔
اقول : لکن لاصحۃ لہ اصلا لان فرض المسألۃ فی جنب لہ ماء یکفی للوضوء ووجود ماء مامطلقا وان قل وان لم یکف للوضوء ایضا مانع للتیمم مطلقا عند الامام المطلبی سواء کان المتیمم
مضاف الیہ مطلق جنب لینا بھی باطل ہے۔ اس لئے کہ اگر تخصیص مراد ہو یعنی ہر جنب کا تیمم صرف جنابت کےلئے ہوتا ہے اور کسی چیز کےلئے نہیں۔ تو اس کا بطلان ظاہر ہے یہاں تك کہ مسلك اعتماد پر بھی۔ کیونکہ وہ جنب جس کے ساتھ کوئی حدث بھی ہو اور پانی نہ ہو اس کا تیمم یقینا دونوں ہی حدث کےلئے ہوگا خود شرح وقایہ کی یہ عبارت دیکھئے : “ جب اسے دو۲حدث ہوں ، ایك حدث غسل واجب کرتا ہے ، جیسے جنابت اور ایك حدث وضو واجب کرتا ہے تو ایك ہی تیمم دونوں سے کافی ہے “ اھ اور اگر تخصیص نہ مراد ہو تو یہ مقدمہ کہ “ ہر جنب جنابت کا تیمم کرے گا “ غیر مفید ہوجائے گا کیونکہ یہ تو سبھی کو معلوم ہے اور نہ تعلیل بن سکے گی نہ تفریع۔ اسی سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ “ للجنابۃ “ میں لام ، لام تخصیص ہے تو معنٰی یہ ہوگا کہ جنب مذکور کا تیمم خاص جنابت کےلئے ہے۔ (ت)
افادہ ۷ : لفظ “ بالاتفاق “ کا تعلق تیمم کے جنابت کےلئے ہونے سے ہی ظاہر اور عبارت سے متبادر ہے اس لئے کہ سمجھ میں یہی آتا ہے کہ جس جملہ کے ذیل میں یہ لفظ رکھا گیا ہے اسی کی طرف راجع ہے۔
اقول : لیکن یہ بالکل درست نہیں اس لئے کہ مسئلہ اس جنب کے بارے میں فرض کیا گیا ہے جس کے پاس وضو کےلئے آب کافی موجود ہے اور مطلقًا کسی بھی پانی کا موجود ہونا اگرچہ کم ہی ہو ، اگرچہ وضو کےلئے بھی کافی نہ ہو
جنبا اومحدثا لانہ یحمل قولہ عزوجل فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً علی الاستغراق مع الاطلاق فکیف
یوافقنا فی شیئ من الصور علی کون تیمم جنب لہ بعض الماء للجنابۃ بل باطل عندہ لفقد شرطہ وھو عدم الماء مطلقا والباطل لایکون لشیئ اللّھم الا علی مسلك التعویل وجعل الفاء للتفریع ، وفرض التیمم بعد الوضوء لوقوعہ ح عند نفاد الماء ولامساغ لہ علی مسلك التاویل لان فیہ التیمم قبل الحدث فکیف یکون بعد الوضوء وکذا علی مسلك التعویل واخذ لان للتعلیل اذلامعنی لقولك یجب الوضوء لان التیمم ان وقع بعدہ یکون للجنابۃ بالاتفاق ومسلك التعویل نفسہ من الاباطیل فلاصحۃ لتعلقہ بمایلیہ وبہ(۱) استبان قلۃ فھم الذی عــہ زعم ان قولہ بالاتفاق متعلق بوجوب الوضوء اوبکون التیمم للجنابۃ[2] اھ فخیربین الصحیح والباطل ، وقد(۲) اضطرب کلامہ فیہ فاقرفی سعایتہ تعیین تعلقہ بیجب وقال فی عمدۃ فی تقر یر الا یراد الرابع ان فی الصورۃ السابقۃ ایضا التیمم للجنابۃ اتفاقا [3] اھ فجعلہ متعلقا
امام شافعی کے نزدیك تیمم سے مطلقًا مانع ہے خواہ تیمم کرنے والا جنب ہو یا محدث وجہ یہ ہے کہ وہ ارشاد باری
عزّوجل “ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً “ (پھر تم کوئی پانی نہ پاؤ) کو
استغراق مع اطلاق پر محمول کرتے ہیں تو وہ ہمارے ساتھ کسی بھی صورت میں اس پر کیسے اتفاق کرسکتے ہیں کہ وہ جنب جس کے پاس کچھ پانی موجود ہے اس کا تیمم جنابت کےلئے ہوگا بلکہ ان کے نزدیك ایسے جنب کا تیمم ہی باطل ہے کیونکہ تیمم کی شرط مطلقًا پانی نہ ہونا ہی مفقود ہے۔ اور جو باطل ہو وہ کسی چیز کےلئے نہیں ہوسکتا ہاں اگر مسلك اعتماد لیا جائے اور ف کو تفریع کےلئے قرار د یا جائے ،
اور فرض کیا جائے کہ تیمم بعد وضو ہے تو معنی مذکور صحیح ہوسکتا ہے اس لئے کہ اس صورت میں تیمم اس وقت ہوگا جب پانی ختم ہوچکا ہو اور مسلك تاویل پر معنی مذکور کی گنجائش نہیں۔ اس لئے کہ اس میں تیمم قبل حدث ہوگا تو بعد وضو کیسے ہوسکے گا؟ اسی طرح جب مسلك اعتماد مان کر فابرائے تعلیل قرار دیں تو بھی معنی بالا صحیح نہیں بن سکتا۔ کیوں کہ اس تقد یر پر کلام یہ ٹھہرے گا کہ “ وضو کرنا واجب ہے اس لئے کہ تیمم اگر اس کے بعد ہوگا تو بالاتفاق جنابت کےلئے ہوگا “ یہ کلام ہی بے معنی ہے اور مسلک
عــہ : ھو صاحب عمدۃ الرعا یۃ اللکنوی ۱۲
(صاحبِ عمدۃ الرعا یۃ فاضل لکھنوی ۱۲۔ ت)
بمایلیہ ثم ذکر ھذا التخییر ثم قال متصلا بہ اویقال معناہ فالتیمم ثابت اوباق للجنابۃ اتفاقا [4] اھ فعاد(۱) الی الباطل الصریح ولایدری مامعنی(۲) اوعطفا علی التخییر فان ھذا داخل فیہ الا ان یرید انہ مخیربین الحق والباطل اولاتخییر بل علی الباطل عینا۔ ھذا۔
واقول : بل لوکان فرض المسألۃ وجدان الماء بعد التیمم لم یستقم الکلام ایضا اما علی مسلك التعویل فظاھر لان الصورۃ الاخیرۃ فیہ اجتماع الحدثین فاذا وجد اوعدم الماء وتیمم کان عنھما بالوفاق لا عن الجنابۃ خاصۃ عند احد من الفریقین اما مذھبنا فمعلوم واما مذھب السادۃ الشافعیۃ فقال الامام ابن حجر المکی الشافعی فی فتاواہ الکبری من علیہ جنابۃ وحدث اصغر یکفیہ لھما تیمم واحد وھذا واضح جلی لان
اعتماد خود باطل ہے تو جس عبارت کے بعد یہ لفظ ہے اس سے اس کا تعلق کسی طرح درست نہیں۔ اسی سے اس کی کم فہمی بھی عیاں ہوگئی ، جس کا یہ خیال ہے کہ “ لفظ بالاتفاق یا تو وجوب وضو سے متعلق ہے یا تیمم کے جنابت کےلئے ہونے سے متعلق ہے “ اھ یہ کہہ کر صحیح اور باطل کے درمیان تخییر کی راہ اختیار کی۔
اور اس بارے میں قائل مذکور کا کلام اضطراب وانتشار کا حامل ہے ، جس کی تفصیل یہ ہے کہ (۱) سعایہ میں تو یہ صورت متعین رکھی کہ اس کا تعلق “ یجب “ (وجوبِ وضو) سے ہے (۲) اور عمدۃ الرعایہ میں اعتراض چہارم کی تقر یر میں یہ لکھا کہ “ سابقہ صورت میں بھی تیمم جنابت کےلئے ہے اتفاقا “ اھ اس میں اس لفظ کو اسی عبارت سے متعلق قرار د یا جس سے یہ متصل ہے (۳) پھر یہی تخییر والی بات ذکر کی (۴) پھر اسی سے متصل یہ لکھ د یا کہ “ یا یہ کہا جائے کہ اس کا معنٰی یہ ہے کہ پس تیمم جنابت کےلئے ثابت یا باقی ہے اتفاقًا اھ اس عبارت میں پھر باطل صریح کی طرف عود کیا قائل کو یہ پتا نہیں کہ تخییر پر عطف کرکے “ او “ کہنے کا کیا معنٰی ہوگا؟ یہ بھی تو اس میں داخل ہے۔ مگر یہ مقصد ہوسکتا ہے کہ حق اور باطل دونوں کے درمیان تخییر دی جائے یا تخییر بالکل نہ ہو بلکہ ٹھیك باطل ہی متعین ہو یہ ذہن نشین رہے۔ (ت)
واقول : اگر مسئلہ کی صورتِ مفروضہ یہ ہوتی کہ تیمم کے بعد پانی پاجائے تو بھی بات نہ بنتی۔ مسلك اعتماد پر تو ظاہر ہے۔ اس لئے کہ اس میں صورت اخیرہ یہ ہے کہ دونوں حدث جمع ہوں تو وہ پانی پائے اور تیمم کرے یا نہ پائے اور تیمم کرے بہرتقد یر تیمم دونوں ہی حدث سے ہوگا۔ کسی بھی فریق کے نزدیك خاص جنابت سے نہ ہوگا۔ اس بارے میں ہمارا مذہب تو معلوم ہی ہے۔ حضرات شافعیہ کا مذہب ملاحظہ ہو۔ امام ابن حجر مکی شافعی اپنے فتاوٰی کبرٰی میں رقم طراز ہیں : “ جس پر جنابت اور حدث اصغر دونوں ہیں اسے دونوں کےلئے ایك ہی
التیمم عن الحدث الاصغر وعن الاکبر حقیقتھما
تیمم کافی ہے۔ اور یہ روشن و واضح ہے اس لئے کہ تیمم حدثِ اصغر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع