30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہ سب ہوا۔ اور میرے پاس شرح وقایہ پر فاضل محمد قرہ باغی کا ایك حاشیہ ہے جسے انہوں نے ۹۳۰ میں مکمل کیا ، یعنی اخی چلپی کی وفات کے پچیس۲۵سال بعد۔ اور اس کی تاریخ تکمیل کےلئے ثم تسویدی کہا ہے اور یہ ۹۷۷ میں یوسف بن حسن بن عبداللہکا کتابت کیا ہُوا ہے اس میں اخی چلپی کاکلام “ قال بعض المحشین “ کے لفظ سے نقل کیا ہے پھر لکھا ہے : “ میں کہتا ہوں مخفی نہیں کہ یہ صورت نکالنے میں تکلّف ہے اور اس عبارت سے اسے اخذ کرنا بعید ہے علاوہ ازیں شارح عنقریب اس مسئلہ کی تصریح اس عبارت میں کریں گے : “ اور اگر وضو کےلئے کافی ہے چھُوٹی ہوئی جگہ کےلئے نہیں تو اس کا تیمم باقی ہے اور اسے وضو کرنا ہے “ اب اگر
القائل یلزم التکرار ولعلہ انما ارتکبہ زعما بان الحدثین لایجتمعان فی شخص ابتداء ولاشك انہما یجتمعان لکن یکفی عنھما تیمم واحد اذا لم یوجد الماء الکافی للوضوء واما اذا وجد فلابد من الوضوء ثم التیمم للجنابۃ والمذکور فی الکتاب ھو ھذا المعنی۔
والعجب منہ انہ لم یلتفت الٰی ھذا المعنی مع ان عبارۃ الشارح بُعیدا ھذا صریح باجتماع الحدثین ابتداءً حیث قال لوکان بہ حدثان کالجنابۃ وحدث یوجب الوضوء ینبغی ان ینوی عنھما لایقال ان الجنابۃ لما اوجب غسل بعض الاجزاء الذی ھو عبارۃ عن الوضوء فلافائدۃ لاعتبار الحدث الذی یوجب الوضوء مع الجنابۃ لانا نقول بعد تسلیم جمیع المقدمات یجوز(۱) اجتماع العلل الشرعیۃ علی معلول واحد شرعی کماصرح بہ صاحب التلویح فقال لو(۲) حلف ان لایتوضأ من الرعاف فبال ثم رعف فتوضأ حنث ولہ نظائر فی الشرع [1] اھ کلام القرہ باغی ببعض اختصار۔
اس عبارت کو اس پر محمول کیا جائے جو قائل نے ذکر کیا تو تکرار لازم آئےگی۔ اور اس نے اس تاویل کا ارتکاب شاید اس خیال سے کیا ہے کہ کسی شخص میں دونوں حدث ابتداءً جمع نہیں ہوتے حالانکہ بلا شبہہ دونوں جمع ہوتے ہیں ، لیکن دونوں کی طرف سے ایك ہی تیمم کافی ہے جبکہ وضو کےلئے آب کافی دست یاب نہ ہو اور دست یاب ہو تو وضو پھر جنابت کا تیمم ضروری ہے۔ کتاب میں یہی بات مذکور ہے۔
قائل پر تعجب ہے کہ اس معنی کی طرف التفات نہ کیا حالانکہ اس کے کچھ ہی بعد شارح کی عبارت اس بارے میں صریح ہے کہ دونوں حدث ابتداءً جمع ہوتے ہیں۔ انہوں نے فرما یاہے : “ اگر اسے دو حدث ہوں جیسے جنابت اور کوئی ایسا حدث جو وضو واجب کرتا ہے تو اسے چاہئے کہ دونوں سے تیمم کی نیت کرے “۔ اگر یہ کہا جائے کہ جنابت سے جب ان بعض اجزاء کا دھونا واجب ہوا جو وضو سے عبارت ہے تو جنابت کے ساتھ وضو واجب کرنے والے حدث کا اعتبار کرنے میں کوئی فائدہ نہیں تو ہم کہیں گے اگر اعتراض کے تمام مقدمات تسلیم کرلیے جائیں تو بھی جواب یہ ہے کہ ایك معلول شرعی پر چند علل شرعیہ کا اجتماع ہوسکتا ہے جیسا کہ صاحبِ تلویح نے اس کی صراحت کرتے ہوئے لکھا ہے : اگر قسم کھائی کہ نکسیر سے وضو نہ کرے گا پھر اس نے پیشاب کیا اس کے بعد نکسیر ٹوٹی پھر اس نے وضو کیا تو اس کی قسم ٹوٹ گئی۔ اور شریعت میں اس کی بہت سی نظیریں ہیں “ ۔ فاضل قرہ باغی کا کلام کچھ اختصار کے ساتھ ختم ہوا۔ (ت)
فھذا کل مارأیت لھم من القال والقیل٭والنقض والتاویل٭والانکار عــہ والتعویل٭
واعلم ان السعا یۃ لیست عندی وانما ارسل الی بعض اصحابی من لکھنؤ نقل نحو ورقۃ منھا متعلقۃ بھذا المقام علی طلبی لکی اری ماعندہ فیہ عسی ان نقل عن کتاب مافیہ غناء فقد کان جمع من الکتب اکثر مما عندی فلما طالعتہ لم ارہ فازبطائل٭ ولاجاز بنائل٭وانما جمع القال والقیل٭ وتکلم علی زوائد بفارغ عن التحصیل٭ اوباغالیط واباطیل٭ولم یھتد لکثیر من الابحاث الراقۃ٭ والانظار الفائقۃ٭واذا اتی علی المقصود جرح الصحیح٭ واعتمد الجریح٭کما ستعرف کل ذلك ان شاء الله المستعان٭والاٰن اٰن ان نفیض فی تحقیق المرام بتوفیق المنان٭
اقول : وبالله الاستعانۃ ومنہ الفیض والاعانۃ ٭الکلام ھھنا فی ثمان یۃ مواضع دفع(۱) النقوض وتقر یر(۲)معنی الکلام علی مسلك التأویل والتعویل اعنی اجراء ہ وبیان(۳) معنی قولہ
یہ وہ سب قیل وقال ، تاویل اعتراض ، اور انکار واعتماد ہے جو میری نظر سے گزرا۔
معلوم رہے کہ سعایہ میرے پاس نہیں میرے ایك دوست نے اس مقام سے متعلق اس کے تقریبًا ایك ورق کی نقل میرے پاس بھیجی جو میں نے اس خیال سے طلب کی تھی کہ اس مقام سے متعلق محشی صاحب سعایہ نے جو کچھ تحر یر کیا ہے وہ دیکھ سکوں۔ ہوسکتا ہے اس میں کسی کتاب سے کوئی اطمینان بخش بات نقل کی ہو۔ کیونکہ ان کے پاس میرے یہاں سے ز یادہ کتابوں کا ذخیرہ تھا۔ مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ انہیں کوئی کام کی بات نہ ملی اور کوئی مفید کلام نہ لاسکے بس قیل وقال جمع کرد یا۔ اور کچھ زائد باتوں پر ایسا کلام کیا ہے جو افادیت سے خالی یا باطل وغلط ہے۔ اور اس مقام سے متعلق بہت سی دلکش بحثوں اور بلند فکروں تك ان کی رسائی نہ ہوئی ، اور مقصود پر آئے تو صحیح کو مجروح اور مجروح کو معتمد بناد یا۔ جیسا کہ یہ سب اِن شاء اللہمعلوم ہوگا اب وقت آ یا کہ بہ توفیق رب منان تحقیق مطلوب کا آغاز کریں۔
اقول : (میں کہتا ہوں) اور خدا ہی سے مدد طلبی ہے اور اسی کی جانب سے فیض ومدد ہے یہاں پر کلام آٹھ مقامات میں ہے : (۱) اعتراضات کا جواب (۲)معنی کلام کی تقر یر مسلك تاویل پر بھی اور مسلك اعتماد پر بھی یعنی ظاہر پر جاری رکھتے ہوئے بھی (۳) کلام شارح
عــہ الانکار لعلامۃ البرجندی والتعویل للفاضل القرہ باغی والنقوض خمسۃ۔ (م)
انکار علامہ برجندی نے کیا ، اعتماد فاضل قرہ باغی نے ، اور اعتراضات پانچ ہیں۔ (ت)
فالتیمم للجنابۃ وان(۴) قولہ بالاتفاق متعلق بھذا ام بقولہ یجب علیہ الوضوء وان (۵) الفاء فی قولہ فالتیمم للتفریع ام للتعلیل٭وبیان(۶) الحسن والقبیح والباطل والصحیح من مسالك التاویل٭وانہ(۷) ھل ثم شبھات ترد علی المرام٭وماکشفھا وحلھا بتوفیق العلام٭وھل(۸) للکلام تاویل اٰخر٭خیر مما ذکرو اظھر٭وھا انا اعطیك بحول الله تعالٰی افادات تحیط بکل ذلک٭وتسلم بك ان شاء الله تعالٰی احسن المسالک٭وما توفیقی الّا بالله خیر مالک٭
الافادۃ١ : کفی بحمدہ عزوجل لحل الاشکال الاول ماقدمت من تصو یر جنب تیمم فاحدث فتوضأ فمر علی ماء کاف لغسلہ[2] وقد ذکرہ البرجندی ایضا
اقول : فھذا جنب لیس معہ حدث یوجب الوضوء لان الوضوء(۱) طرأ علی اعضاء الوضوء فطھرھا مطلقا الی ان یطرأ حدث اٰخر اصغرا واکبر حتی انہ اذاوجد ماء للغسل لم یکن علیہ غسل ھذہ الاعضاء لماسیاتی فی الافادۃ الحاد یۃ عشرۃ ان الحدث الحال
“ فالتیمم للجنابۃ$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع