دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 4 | فتاوی رضویہ جلد ۴

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۴

اس پر ایك  معاصرعالم- مولوی عبدالحی لکھنوی فرنگی محلی -نے اپنی سعایہ (حاشیہ شرح وقایہ) میں اعتراض کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے : “ مباشرت فاحشہ کی صورت میں اگر ایلاج نہ کیا تو جنب نہ ہوا۔ اور ایلاج کیا تو اس کا وضو ٹوٹ گیا اس لئے کہ دخولِ حشفہ غسل و وضو دونوں ہی کا ناقض ہے- اسی طرح منی نکالنے کی صورت میں اگر منی باہر آئی تو اس کا وضو ٹوٹ گیا اگرچہ جنابت نہ ہوئی اور اگر منی باہر نہ آئی تو نہ جنابت ہے نہ حدث اھ “ یہ اس کا حاصل ہے جو انہوں نے ہماری اس عبارت سے تین گنا میں پھیلا کر لکھا ہے۔ (ت)

دوم : تناقض۔ شامی نے اس کی تقر یر ایسے کلام سے کی ہے جو اشکال اول ہی پر مبنی ہے تو جو اُس کا جواب ہے اِس کا جواب ہے ردالمحتار میں ان کا یہ کلام ہے : “ صدر الشریعۃ کے قول میں اشکال ہے اس لئے کہ جنابت وضو واجب کرنے والے حدث سے جُدا نہیں ہوتی اور پہلے فرماچکے ہیں کہ اس پر تیمم واجب ہے “ وضو نہیں “ تو پھر اس کے بعد یہ کہنا کہ اس پر وضو واجب “ ہے “ دونوں میں تناقض ہے “ اھ۔ پھر اس کا وہ جواب ذکر کیا جو قہستانی کے حوالہ

للتناقض ایضا بوجہ حسن صحیح۔

ونقل ھھنا فی السعا یۃ مایمکن ان یؤخذ منہ تقر یر اٰخر للتناقض غیر مبتن علی الاشکال الاول وھو انہ اذا لم یکن معھا حدث فکیف یوجب الشافعی ھناك  الوضوء [1] اھ۔ فیؤخذ منہ ان الحدث الاصغر وان لم یلزم الاکبر ولکن کلام الصدر الامام فی الصورۃ الاولی ایضا فی جنابۃ معھا حدث بدلیل ایجاب الشافعی الوضوء فجاء التناقض۔

والثالث :  ان قولہ فالتیمم للجنابۃ بالفاء ان کان تفریعا فلامحصل لہ لان کون التیمم للجنابۃ غیر مفرع علی وجوب الوضوء وان کان تعلیلا ورد علیہ ان فی الصورۃ السابقۃ ایضا التیمم للجنابۃ فیلزم ان یجب الوضوء ھناك  ایضا[2]۔

والرابع : ان کون التیمم للجنابۃ بالاتفاق مشترك  بین الصورتین لااختصاص لہ بھذہ الصورۃ [3] اھ۔ نقلھما اللکنوی۔

والخامس :  مخالفتہ لما تقرر فی المذھب کمابیناہ بالدلائل والنصوص                                

سے اشکال پنجم کے تحت آرہا ہے۔ وہ جواب بھی عمدہ وصحیح طرز پر تناقض دفع کردیتا ہے۔

یہاں سعایہ میں وہ نقل کیا جس سے تناقض کی ایك  دوسری تقر یر اخذ کی جاسکتی ہے جو اشکال اول پر مبنی نہ ہو “ وہ یہ کہ جب جنابت کے ساتھ حدث نہ ہو تو وہاں امام شافعی وضو کیسے واجب کریں گے؟ اھ اور اس سے یہ اخذ ہوتا ہے کہ حدث اصغر اگرچہ حدث اکبر کو لازم نہیں لیکن صدر الشریعۃ کا کلام پہلی صورت میں بھی ایسی ہی جنابت کے بارے میں ہے جس کے ساتھ حدث بھی ہو اس دلیل سے کہ اس میں امام شافعی وضو واجب کرتے ہیں۔ تو تناقض ہوگا۔

سوم : ان کی عبارت “ فالتیمم للجنابۃ “ (تو تیمم جنابت کےلئے ہے) میں “ فا “ اگر تفریع کےلئے ہے تو اس کا کوئی حاصل نہیں اس لئے کہ تیمم جنابت کے لئے ہونا وجوبِ وضو پر متفرع نہیں - اور اگر تعلیل کےلئے ہے تو یہ اعتراض ہوگا کہ سابقہ صورت میں بھی تیمم جنابت ہی کے سبب ہے تو لازم آئے کہ وہاں بھی وضو واجب ہو۔

چہارم : بالاتفاق جنابت کےلئے تیمم ہونا دونوں صورتوں میں مشترك  ہے ا سی صورت سے خاص نہیں اھ۔ یہ دونوں اعتراض مولانا فرنگی محلی نے نقل کیے۔

پنجم : یہ اس کے مخالف ہے جو مذہب میں مقرر وثابت ہے جیسا کہ دس دلائل ونصوص سے

العشرۃ ان الحدث مع الجنابۃ لایوجب الوضوء اصلا اذا لم یجد ماء یکفی للغسل الیہ اشار البرجندی بقولہ متصل العبارۃ المذکورۃ اٰنفا۔

لکن الکلام فی انہ ھل یجب فی الصورتین عــہ التوضئ اذا احدث فیہ تردد والظاھر لا ولابد للحکم بالاحتیاج من روا یۃ صریحۃ[4] اھ۔

کماقدمنا عنہ تلو الدلائل وذکرنا انہ لوکان فی نظرہ اذ ذاك  نصوص المذھب لماقنع بالتردد والاستظھار۔ وھذا ھو اعظم الا یرادات وھو الذی احوج العلماء الی تأویل کلامہ رحمہ الله تعالٰی۔ ومحط کلامھم جمیعا ارجاع      

ہم نے اسے بیان کیا۔ مذہب میں یہ ہے کہ جنابت کے ساتھ حدث بالکل موجبِ وضو نہیں جب اتنا پانی دستیاب نہ ہو جو غسل کےلئے کافی ہو اسی کی طرف برجندی نے ابھی ذکر شدہ عبارت سے متصل اپنے درج ذیل کلام سے اشارہ کیا ہے :

 “ لیکن کلام اس میں ہے کہ کیا دونوں صورتوں میں وضو کرنا واجب ہے جب حدث ہوا ہو۔ اس بارے میں تردّد ہے اور ظاہر نفی ہے۔ احتیاجِ وضو کا حکم کرنے کےلئے کوئی صریح روایت ہونا ضروری ہے “ ۔  اھ جیسا کہ دلائل کے بعد ان سے ہم نے یہ عبارت نقل کی اور بتا یا کہ اگر اس وقت ان کی نظر میں مذہب کے نصوص ہوتے تو وہ تردّد واستظہار پر قناعت نہ کرتے۔ یہی سب سے بڑا اعتراض ہے اسی کی وجہ سے حضرات علماء کو صد الشریعۃ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے کلام کی تاویل کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ اور ان سب حضرات کی تاویلات کا مآل یہ ہے

 

عــہ :  ای الاخریین ولعمری لقد اصاب فی تخصیص الکلام بھما وعزل الصورۃ الاولی لان فیھا لاشك  فی وجوب الوضوء اذا احدث کماسیاتی تحقیقہ فی الافادۃ بعونہ تعالٰی ۱۲ منہ غفرلہ (م)

یعنی بعد والی دونوں صورتوں میں۔ اور ان دونوں سے کلام خاص کرکے اور پہلی کو الگ کرکے یقینا انہوں نے صحیح کیا اس لئے کہ پہلی صورت میں حدث ہونے کے وقت وجوب وضو میں شك  نہیں جیسا کہ اس کی تحقیق بعونہٖ تعالٰی افادہ(نمبر) ۱۱ میں آرہی ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)

الحکم بوجوب الوضوء الی الحدث بعد التیمم للجنابۃ غیران لھم فیہ مسلکین :

احدھما تقدیر عــہ المضاف ای                                                                                                                                   

کہ “ وجوب وضو کا حکم اس حدث کی طرف عائد ہے جو تیمم جنابت کے بعد ہو “ -مگر اس بارے میں ان کے دو۲ مسلك  ہیں : طریق اوّل : ( “ اما اذاکان مع الجنابۃ

 عــہ قال فی السعا یۃ فی غا یۃ الحواشی قولہ یجب جزاء اما وکلمۃ کان تامۃ وتقد یر الکلام اما اذا وجد مع تیمم الجنابۃ حدث یوجب الوضوء فیجب الوضوء اتفاقا یعنی احدث بالتیمم للجنابۃ مع وجود الماء الکافی للوضوء فیجب الوضوء مع انہ تیمم الجنب اتفاقا بخلاف الصورۃ المسطورۃ فان فیھا بعد تیمم الجنابۃ لایجب الوضوء فقولہ بالاتفاق متعلق بقولہ یجب وقولہ فالتیمم الفاء للتفریع ای فثبت التیمم للجنابۃ مع وجوب الوضوء فانہ ذکر فی الجامع عن شرح الطحاوی و غیرہ انہ لایجب للجنب صرف الماء الی بعض الاعضاء اوللحدث الا اذا تیمم للجنابۃ ثم وقع منہ حدث یوجب الوضوء لانہ یجب علیہ الوضوء ح لانہ قدر علی ماء کاف بہ ولم یجب التیمم لانہ بالتیمم خرج عن الجنابۃ الی ان یجد            

سعایہ میں لکھا ہے : غا یۃ الحواشی میں ہے : لفظ “ یجب “ “ اما “ کی جزا ہے اور کان تامہ ہے۔ تقد یر کلام یہ ہوگی لیکن جب تیمم جنابت کے ساتھ کوئی حدث پا یا جائے تو بالاتفاق وضو واجب ہے- یعنی تیمم جنابت کے ساتھ ، وضو کےلئے کافی پانی ہوتے ہوئے وہ محدث ہوا تو وضو واجب ہے باوجودیك  ہ یہ جنب کا تیمم ہے اتفاقًا- بخلاف صورت مسطورہ کے ، کہ اس میں تیمم جنابت کے بعد وضو واجب نہیں تو لفظ “ بالاتفاق “ لفظ “ یجب “ سے متعلق ہے۔ اور فالتیمم میں فا تفریع کےلئے ہے یعنی-تو وجوب وضو کے ساتھ ، جنابت کےلئے تیمم ثابت ہوا۔ کیونکہ جامع میں شرح طحاوی و غیرہ سے ذکر کیا ہے کہ جنب کے لئے بعض اعضاء میں پانی صرف کرنا یا حدث کےلئے صرف کرنا واجب نہیں مگر جب جنابت کا تیمم کرلے پھر اس سے کوئی ایسا حدث ہو جو وضو واجب کرتا ہے تو اب اس پر وضو واجب ہوگا اس لئے کہ وہ اتنے پانی پر قادر ہے جو وضو کےلئے کافی ہے- اور تیمم واجب نہیں اس لئے کہ وہ تیمم کرکے جنابت سے نکل چکا ہے یہاں تك  کہ(باقی اگلے صفحہ پر)



[1]   السعا یۃ باب التیمم مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۴۹۰

[2]   السعا یۃ ، باب التیمم ، مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ، ۱ / ۴۹۰

[3]   السعا یۃ ، باب التیمم ، مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ، ۱ / ۴۹۰

[4]           شرح النقا یۃ للبرجندی فصل فی التیمم نولکشور لکھنؤ ۱ / ۴۴

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن