30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور خدا ہی کےلئے حمد ہے کثیر ، پاکیزہ ، برکت والی حمد جیسی ہمارا رب چاہے اور پسند فرمائے۔ اور خدائے برتر کی طرف سے درود ہو سب سے ز یادہ پسندیدہ ذات گرامی پر اور ان کی آل واصحاب پر فیصلہ کے دن تک۔ الٰہی قبول فرما!
رہا امام صدر الشریعۃ کا کلام اور اُس میں تاویلات علمائے کرام ہم اولًا کلام پیشینیاں پیش کریں۔ پھر وہ جو قلب فقیر پر جفیض قد یر سے فائض ہوا ہدیہ انظار انصاف کش۔
قال الامام٭صدر الشریعۃ الھمام٭اعلی الله تعالٰی مقامہ فی
امام بلند ہمت صدر الشریعۃ -خدائے برتر دارالسلام میں انہیں مقام بلند عطا فرمائے اور
دارالسلام٭ورحمنابہ وبسائر الائمۃ الکرام٭فی کل حال ومقام٭مدی اللیالی والا یام٭اول باب التیمم من شرحہ للوقا یۃ اذاکان للجنب ماء یکفی للوضوء لاللغسل یتیمم ولایجب علیہ التوضی عندنا خلافا للشافعی اما اذاکان مع الجنابۃ حدث یوجب الوضوء یجب علیہ الوضوء فالتیمم للجنابۃ بالاتفاق واذاکان للمحدث ماء یکفی لغسل بعض اعضائہ فالخلاف ثابت ایضا[1] اھ
واعترضوہ بخمسۃ وجوہ :
الاول : قال البرجندی فی شرح النقا یۃ بعد نقل کلام الصدر الامام ھو مشعر بانہ قدتکون جنابۃ مع وجود الوضوء ولایخفی ان الجنابۃ تحصل بخروج المنی او بغیبۃ الحشفۃ وخروج الخارج من الذکر وغیبۃ الحشفۃ ناقضان للوضوء۔
والجواب ان الجنب اذاتیمم واحدث ثم توضأ ومر بماء کاف للاغتسال ولم یغتسل ثم بعد عن الماء فانہ صار جنبا ومع عــہ ذلك وضوءہ باق۔
ہم پر ان کی برکت سے اور دیگر ائمہ کرام کی برکت سے ہر حال ومقام میں جب تك گردش شب وروز رہے ہمیشہ رحمت فرمائے -شرح وقایہ اولِ باب التیمم میں فرماتے ہیں : “ جب جنابت والے کے پاس اتنا پانی ہو جو وضو کےلئے کفایت کرے غسل کےلئے نہیں تو وہ تیمم کرے ہمارے نزدیك بخلاف امام شافعی کے۔ اس پر وضو کرنا واجب نہیں- لیکن جب جنابت کے ساتھ کوئی ایسا حدث ہو جو وضوکو واجب کرتا ہے تو اس پر وضو واجب ہے- تو جنابت کےلئے تیمم بالاتفاق ہے۔ اور جب محدث کے پاس اتنا ہی پانی ہو جو صرف اس کے بعض اعضا کے دھونے میں کفایت کرسکے تو اس صورت میں بھی اختلاف ثابت ہے “ ۔ (ت)
ناظرین نے اس پر پانچ طرح اعتراض کیا ہے :
اول : برجندی نے شرح نقایہ میں ، امام صدر الشریعۃ کا کلام نقل کرنے کے بعد لکھا : یہ کلام اس کا پتا دیتا ہے کہ کبھی وضو رہتے ہوئے بھی جنابت ہوتی ہے حالانکہ مخفی نہیں کہ جنابت منی کے نکلنے یا حشفہ کے غائب ہونے سے ہوتی ہے۔ اور ذَکر سے نکلنے والی چیز کا باہر آنا اور حشفہ کا غائب ہونا دونوں ہی ناقض وضو ہیں۔
جواب یہ ہے کہ جنب جب تیمم کرلے اور بے وضو ہوکر پھر وضو کرے اور غسل کےلئے کافی پانی پر گزرے مگر غسل نہ کرے پھر پانی سے دور ہوجائے تو وہ جنابت والا ہوگیا۔ اس کے باوجود اس کا
عــہ اقول : ای لم یعد حدثہ علی وزان ماقدمنا ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اقول : یعنی دوبارہ اسے حدث نہ ہوا ، اسی انداز پر جو ہم نے پہلے بیان کیا ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
ویمکن ان یصور ذلك علٰی قول محمد بان یجامع الرجل المتوضئ امرأۃ ولم ینزل فانہ قداجنب ولم ینتقض عــہ۱ وضوءہ فان المباشرۃ الفاحشۃ غیر ناقضۃ عندہ ولم یوجد عــہ۲ شیئ اٰخر من نواقض الوضوء۔
وعلی قول الشیخین عــہ۳ رضی الله تعالٰی عنھم بان یستمنی بالید ثم یاخذ رأس الذکر حتی لایخرج المنی فقد عــہ۴ اجنب و وضو باقی ہے۔
اس کی صورت امام محمد کے قول پر یہ بھی پیش کی جاسکتی ہے کہ باوضو مرد عورت سے مجامعت کرے اور انزال نہ ہو تو وہ جنابت زدہ ہوگیا اور اس کا وضو نہ ٹوٹا کیونکہ ان کے نزدیك مباشرت فاحشہ ناقض وضو نہیں اور نواقض وضو میں سے کوئی دوسری چیز بھی نہ پائی گئی۔
اور شیخین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما کے قول پر یہ صورت ہوسکتی ہے کہ ہاتھ سے منی نکالے پھر ذکر کا سرا پکڑلے تاکہ منی باہر نہ آئے تو وہ جنب ہوگیا اور ناقضِ وضو
عــہ۱ اقول : قد علمت المعنی فاحتفظ ولاتزل ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عــہ۲ اقول : ای مما ھو حدث اصغر اذ لایقال نواقض الوضوء الاعلیھا فھھنا افصح عن المراد ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عــہ۳ اقول : ھذا(۱) سھو وانما ھو قول الطرفین واطلاق الشیخین علیھما بعید وان(۲) جاء فی بعض المواضع علی الصاحبین
کمابینتہ فی کتابی فصل القضاء ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عــہ۴ اقول : ای(۳) اذاخرج المنی لان الخروج شرط بالاجماع انما النزاع فی اشتراط الشھوۃ عند الخروج اوکفایتھا عند الانفصال بہ قالا وبالاول ابویوسف فاحتمال ارادۃ خلافہ ظن مالایلیق بالعلماء ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اقول : ناظر کو مراد معلوم ہوگئی تو نگہداشت چاہئے اور لغزش سے پرہیز ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اقول : یعنی اس چیز سے جو حدث اصغر ہوکیوں کہ نواقضِ وضو کا اطلاق اسی پر ہوتا ہے تو یہاں اپنی مراد واضح کردی ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اقول : یہ سہو ہے۔ وہ طرفین کا قول ہے اور ان پر اطلاقِ شیخین بعید ہے اگرچہ بعض مقامات میں صاحبین کے لئے شیخین کا اطلاق ہے جیسا کہ میں نے اپنی کتاب “ فصل القضاء “ میں بیان کیا ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اقول : یعنی جب منی باہر آجائے اس لئے کہ باہر آنا بالاجماع شرط ہے نزاع صرف اس میں ہے کہ شہوت یعنی باہر آنے کے وقت ہونا شرط ہے یا بس اپنے مقر سے منی کے انفصال کے وقت (شہوت) ہونا کافی ہے۔ دوم کے قائل طرفین ہیں اور اول کے قائل امام ابویوسف ہیں۔ تو یہ احتمال کہ اس کے خلاف مراد لے لیا ہو ایسا ظن ہے جو علماء کے لائق نہیں ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
لم یوجد ناقض للوضو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع