دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 4 | فتاوی رضویہ جلد ۴

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۴

اگر کوئی شخص احتلام کی حالت میں نیند سے بیدار ہو اور اس کے پاس اتنا پانی ہے جو صرف وضو کےلئے کافی ہے غسل کےلئے نہیں تو وہ تیمم کرے گا ہمارے نزدیك  - بخلاف امام شافعی کے- اس پر وضو واجب نہیں۔ (ت)

صریح تصریح ہے کہ سوتے سے مُحتلم اٹھا جنابت وحدث دونوں تھے اور وضو کے قابل پانی موجود ، وضو نہ کرے صرف تیمم کرے اور یہ کہ جنب کو حدث کےلئے وضو کا حکم دینا ہمارا مذہب نہیں امام شافعی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا مذہب ہے۔

نص دوم : شرح مختصر امام اجل طحاوی للامام علی الاسبیجابی و غیرہ پھر جامع الرموز پھر طحطاوی علی الدر پھر ردالمحتار میں ہے :

الجنب اذاکان لہ ماء یکفی لبعض اعضائہ اوالمحدث عــہ للوضوء تیمم ولم یجب علیہ

جنب کے پاس جب اتنا ہی پانی ہو جو اس کے بعض اعضاء کےلئے کفایت کرسکے۔ یا محدث کو ،

 

عــہ ھکذا ھو فی جامع الرموز وعنہ فی ردالمحتار ووقع نسخۃ ط المصر یۃ طبع المیری بدون لفظ المحدث وھو یشبہ التکرار فما اعضاء الوضوء الابعض اعضاء الجنب ۱۲ منہ غفرلہ (م)

یہ لفظ اسی طرح جامع الرموز میں ہے اور اس سے ردالمحتار میں بھی ایسے ہی نقل ہے اور طحطاوی کے مصری نسخہ طبع میری میں لفظ “ محدث “ کے بغیر ہے اور اس سے تکرار سی معلوم ہوتی ہے اس لئے کہ اعضائے وضو جنب کے بعض اعضاء ہی تو ہیں ۱۲ منہ غفرلہ (ت)

صرفہ الیہ الا اذا تیمم للجنابۃ ثم وقع منہ حدث موجب للوضوءفانہ یجب علیہ الوضوء حینئذ لانہ قدرعلی ماء کان لہ [1]۔

وضو کےلئے۔ تو وہ تیمم کرے اور اس پر اس پانی کو بعض اعضاء کےلئے صرف کرنا واجب نہیں مگر جب جنابت کا تیمم کرلے پھر اس سے کوئی ایسا حدث ہو جو وضو واجب کرتا ہے تو اب اس پر وضو واجب ہے اس لئے کہ وہ وضو کےلئے کافی پانی پر قادر ہے۔ (ت)

صاف ارشاد ہے کہ جنب کو حدث کےلئے وضو صرف اسی وقت ہے کہ جنابت کا تیمم کرچکنے کے بعد حدث ہو اُس سے پہلے جتنے بھی حدث تھے اُن کےلئے وضو کی اصلًا حاجت نہیں۔

اقول : یعنی دونوں حالتوں میں جنب مذکور پر حدث کےلئے وضو نہیں۔ جب تك  تیمم نہ کیا تھا جنب تھا اور حدث کےلئے وضو کا حکم نہ تھا اب کہ تیمم کرلیا پھر حدث ہوا اور اس پر حکم وضو آ یا اس وقت وہ جنب نہیں کہ جنابت کےلئے تیمم کرچکا اور وہ وقوعِ حدثِ اصغر سے نہیں ٹوٹ سکتا عبارت مذکورہ شرح طحاوی کا تتمہ ہے ولم یجب علیہ التیمم لانہ بالتیمم خرج عن الجنابۃ الی ان یجد ماء کافیا للغسل [2]  (اور اس پر تیمم واجب نہیں کیونکہ وہ تیمم کرکے جنابت سے نکل چکا ہے یہاں تك  کہ غسل کےلئے کافی پانی پائے۔ ت)

نص سومعــہ : فتاوٰی امام اجل فقیہ النفس فخر الملّۃ والدّین قاضی خان میں ہے :

جنب تیمم للظھر وصلی ثم احدث فحضرتہ العصر ومعہ ماء یکفی للوضوء فانہ یتوضأ لان الجنابۃ

کسی جنب نے ظہر کےلئے تیمم کیا اور نماز پڑھی پھر اسے حدث ہُوا تو نمازِ عصر کا وقت آ یا اور اس کے پاس اتنا پانی ہے جو وضو کےلئے کافی ہو تو وہ وضو کرے گا

عــــہ : ردالمحتار کی عبارت کہ دلیل پنجم میں گزری کہ جس جنب کو صرف وضو کے قابل پانی ملے اس پر وضو فقط اس وقت ہے کہ تیمم جنابت کے بعد حدث ہو اگر اس تیمم سے پہلے حدث تھا اس کےلئے وضو عبث ہے ، گو یا نص چہارم ہے کہ نصوص ائمہ واکابر ہی اس کے مأخذ ہیں ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)

قد زالت بالتیمم فاذا احدث بعد التیمم ومعہ ماء یکفی للوضوء فانہ یتوضأ بہ فان توضأ للعصر وصلی ثم مربماء وعلم بہ ولم یغتسل حتی حضرتہ المغرب وقداحدث اولم یحدث ومعہ ماء قدر مایتوضأ بہ فانہ عــہ یتیمم ولایتوضأ بہ                             

کیونکہ جنابت تو تیمم سے دُور ہوگئی۔ پھر جب بعد تیمم اسے حدث ہُوا اور اس کے پاس اتنا پانی بھی ہے جو وضو کےلئے کافی ہو تو وہ اس سے وضو کرے گا۔ تو اگر عصر کےلئے وضو کیا اور نماز پڑھی پھر پانی کے پاس سے گزرا اور اس سے باخبربھی ہُوا مگر غسل نہ کیا ، یہاں تك  کہ مغرب کا وقت آگیا اور اسے حدث بھی ہوا یا حدث نہ ہوا۔ اتنا پانی بھی اس کے پاس ہے جس سے وضو کرسکے تو اسے تیمم کرنا ہے وضو نہیں کرنا ہے 

عــہ فقیر کے پاس خانیہ کے چار۴ نسخے ہیں ایك  مطبع العلوم کا مطبوعہ ۱۲۷۲  ہجریہ اس کی جلد اول نہیں۔ دوسرا مطبوعہ کلکتہ ۱۸۳۵ء جسے چوراسی۸۴ برس ہُوئے۔ تیسرا مطبوعہ مصر   ۱۳۱۰ھ کہ ہامش ہندیہ پر ہے۔ چوتھا مطبع مصطفائی   ۱۳۱۰ھ جس کے ہامش پر سراجیہ ہے۔ عجب کہ ان سب میں ومعہ ماء قدر مایتوضأبہ کے بعد الفاظ حکم ساقط ہیں اس کے بعد لانہ لمامر تعلیل ہے عجب نہیں کہ مصری ومصطفائی دونوں نسخے اسی نسخہ کلکتہ سے نقل ہوئے ہوں جس میں عبارت چھُوٹ گئی اگرچہ خود فحوائے عبارت نیز ملاحظہ ارشاد امام محمد کتاب الاصل سے کہ بعونہٖ تعالٰی افادات میں آتا ہے الفاظ ساقطہ ظاہر تھے کہ فانہ یتیمم ولایتوضأ بہ ہوں گے کاتب کی نظر ایك  لایتوضأ بہ سے دوسرے کی طرف منتقل ہوگئی بحمدہ تعالٰی نسخ قدیمہ سے اس کی تصدیق ہوگئی۔ چند سال ہوئے فقیر کے پاس ایك  پُرانا قلمی نسخہ لکھنؤ سے آ یا تھا اس میں بعینہ عبارت یونہی تھی جس طرح فقیر نے خیال کی ومعہ من الماء قدر مایتوضأ بہ فانہ یتیمم ولایتوضأ بہ لانہ لمامر۔ ۔ ۔ الخ اس کے بعد ولد عزیز ذوالعلم والتمیز فاضل بہار مولوی محمد ظفرالدین وفقہ الله تعالٰی لحما یۃ الدین٭ونکا یۃ للمفسدین٭وجعلہ کاسمہ ظفرالدین٭نے اپنے زمانہ مدرسی مدرسہ شمس الہدی بانکی پور میں عظیم آباد کے مشہور کتب خانہ خدابخش خان سے ایك  بہت قدیم قلمی نسخے مکتوبہ ۹۰۰ ہجریہ سے جسے لکھے ہوئے ۴۳۵ برس ہوئے یہ مسئلہ نقل کرکے بھیجا اس میں بھی یہی صحیح عبارت ہے ومعہ ماء قدرما یتوضأ بہ فانہ یتیمم ولایتوضأبہ لانہ لمامر۔ ۔ ۔ الخ۔ دوسری نقل ایك  نسخہ مکتوبہ    ۹۲۷ھ سے بھیجی جسے ۴۰۸ برس ہُوئے اُس میں یوں ہے ومعہ ماء قدرمایتوضأ بہ فانہ یتیمم لانہ لمامر۔ ۔ ۔ الخ اس کا بھی حاصل وہی ہے کمالایخفی ۱۲ منہ غفرلہ (م)

لانہ لمامر بماء یکفی للاغتسال عادجنبا فھذا جنب معہ ماء لایکفی للاغتسال فیتیمم[3] ۔

کیونکہ جب وہ غسل کےلئے کافی پانی پر گزرا تو پھر جنب ہوگیا۔ اب یہ ایسا جنب ہے جس کے پاس غسل کےلئے ناکافی پانی ہے تو اسے تیمم کرنا ہے۔ (ت)

$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن