30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وجامع الصغار والتاتارخانیۃ والھند یۃ وامثالھا ومنھا المنیۃ کماذکرت لا کالقن یۃ(۱) والرحمانیۃ وخزانۃ الروا یات ومجمع البرکات وبرھانہ اما المعروضات(۲) فمابنی منھا علی التنقر والتنقید والتنقیح فھی عندی فی مرتبۃ الشروح کالفتاوی الخیر یۃ والعقود الدر یۃ للعلامۃ شامی واطمع ان یسلك ربی بمنہ وکرمہ فتاوای ھذہ فی سلکھا فللارض من کأس الکرام نصیب اما فتاوی(۳) الطوری والمحقق ابن نجیم فقدقیل انہ لایعمد علیھا والله تعالٰی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عـــہ۱١ الثلثۃ بالثلثۃ علی الولاء ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عـــہ ۲ کصحاح(۴)الشیخین والمنتقی وابن السکن والمختارۃ وعندی منھا موطا مالك ویتلوھاابن حبان لا کالمستدرك ۱۲ منہ غفرلہ
(م)عـــہ٣۳ کسنن(۵) ابی داؤد والنسائی والترمذی وفی مرتبتھا مسند الرؤ یانی ومثلھا بل فوق(۶)
اورایسی ہی کتابیں- ان ہی فتاوٰی میں منیہ بھی ہے جیسا کہ میں نے ذکر کیا -قنیہ ، رحمانیہ ، خزانۃ الروا یات ، مجمع البرکات ، اور ان کی برہان جیسی کتابیں نہیں۔ لیکن معروضات تو ان میں جو چھان بین اور تنقید وتنقیح پر مبنی ہوں وہ میرے نزدیك شروح کے درجہ میں ہیں جیسے فتاوٰی خیریہ اور علامہ شامی کی العقود الدریہ- اور مجھے امید ہے کہ میرا رب اپنے احسان وکرم سے میرے ان فتاوی کو بھی ان ہی کی سلك میں منسلك فرمائے گا کہ اہلِ کرم کے جام سے زمین کو بھی حصہ مل جاتا ہے۔ رہے فتاوٰی طوری اور فتاوٰی محقق ابن نجیم تو ان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ قابلِ اعتماد نہیں -اور خدائے برتر ہی خُوب جاننے والا ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
تینوں ، تینوں کے مقابل پَے بہ پے ہیں ۱۲ منہ غفرلہ (ت) (یعنی سب سے معتبر صحاح پھر سنن پھر مسانید ، اسی طرح متون پھر شروح پھر فتاوٰی۔ م الف)جیسے صحاح شیخین ومنتقی وابن السکن ومختارہ -اور میرے نزدیك ان ہی میں مؤطا امام مالك بھی ہے اور انہی سے متصل صحیح ابنِ حبان بھی- مستدرك جیسی کتب نہیں ۱۲ منہ غفرلہ (ت)جیسے ابوداؤد ، نسائی اور ترمذی کی سنن- ان ہی کے درجہ میں مسندرو یانی بھی ہے اور ان ہی کے مثل بلکہ ان میں
(باقی برصفحہ آئندہ)
والمسانید عــــہ۱ فی الحدیث انما یشعر باعتمادہ٭ علی مایتقرر من مرادہ٭لابخصوص العمل علی ظاھر مفادہ٭والله اعلم بنیات عبادہ٭
اور مسانید کا حال ہے۔ مگر اس سے قطع نظر تقر یر ہندیہ سے یہی پتا چلتا ہے کہ اس کا اعتماد اس مراد پر ہے جو اس تقریر سے ثابت ہوتی ہے خاص اس کے ظاہر مفاد پر عمل معتمد نہیں -اور خدا ہی اپنے بندوں کی نیتیں خُوب جانتا ہے۔ (ت)
شرح نقایہ علامہ برجندی میں بعد نقل کلام شرح وقایہ وبحث وجواب جس کا ذکر اِن شاءالله تعالٰی آگے آتا ہے حکم مذکور پر انکار کرد یا ،
حیث قال اجنب ولم یوجد ناقض الوضوء ھل یجب التیمم والتوضئ جمیعا اذا احدث ومعہ ماء یکفی للوضؤ فقط فیہ تردد والظاھر انہ اذاتیمم للجنابۃ لاحاجۃ الی
ان کے الفاظ یہ ہیں : جنابت ہوئی اور کوئی ناقضِ وضو نہ پا یا گیا تو کیا اس پر تیمم اور وضو دونوں ہی واجب ہوں گے جبکہ اسے حدث ہوا ہو اور اس کے پاس اتنا ہی پانی ہے جو صرف وضو کے لئے کفایت کرسکے۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
بعضھا شرح معانی الاٰثار للطحاوی وکتاب الاٰ ثار لمحمد والحجج لعیسی بن ابان عن محمد وکتاب الخراج لابی یوسف رضی الله تعالٰی عن الجمیع ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عـــہ۱ : اجلھا(۱) مسند الامام احمد ومن ھذۃ الدرجۃ المصنفان ومعاجیم الطبرانی لا کمسندالفردوس وامثالہ ولیس مسندا بھذا المعنی بل ھو تخریج احادیث الفردوس ومن احب تمامہ فلینظر رسالتی مدارج طبقات الحدیث ۱۲ منہ غفرلہ (م)
بعض سے بالاتر امام طحاوی کی شرح معانی الآثار ، امام محمد کی کتاب الآثار ، امام محمد سے روایت شدہ حججِ عیسٰی بن ابان اور امام ابویوسف کی کتاب الخراج ہے۔ اللہتعالٰی سب سے راضی ہو۔ (ت)
ان میں سب سے بزرگ تر مسند امام احمد ہے اور اسی درجہ میں دونوں مصنف (مصنف عبدالرزاق ومصنف ابن ابی شیبہ) اور طبرانی کی معجم کبیر وصغیر واوسط بھی ہیں۔ مسند الفردوس اور اس جیسی کتابیں نہیں۔ وہ اس معنی میں مسند ہے بھی نہیں۔ بلکہ اس میں احادیث فردوس کی تخریج ہے۔ اس سے متعلق پوری بحث کا جسے شوق ہو وہ میرا رسالہ “ مدارج طبقات الحدیث “ ملاحظہ کرے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
التوضی ولابد للحکم بالاحتیاج الیھما من روا یۃ صریحۃ [1]۔
اس بارے میں تردّد ہے۔ اور ظاہر یہ ہے کہ وہ جب جنابت کا تیمم کرلے تو وضو کی کوئی ضرورت نہیں۔ دونوں ہی کی ضرورت ہونے کا حکم کرنے کےلئے کوئی صریح روایت ہونا ضروری ہے۔ (ت)
اقول : فاضل۱ شارح کو تردّد ہُوا اور وضو کی حاجت نہ ہونے کو ظاہر رکھا اور جانب خلاف کسی روایت صریحہ کا انتظار کیا حالانکہ یہ محلِ جزم ہے اور روا یاتِ صریحہ اس طرف موجود کماعرفت وتعرف اِن شاء الله تعالٰی (جیسا کہ معلوم ہوا اور بمشیت خدائے برتر آئندہ بھی معلوم ہوگا۔ ت) اسی کے قریب حاشیہ درمختار میں سید علامہ احمد طحطاوی کا قول ہے :
فی صدر الشریعۃ اذاکان مع الجنابۃ حدث یوجب الوضوء یجب علیہ الوضوء ای اذاوجد الحدث بعد التیمم للجنابۃ کمانص علیہ القھستانی وظاھر ھذا انہ اذاوجد حین التیمم المذکور ماء یکفی للوضوء لایتوضأ بہ للاستغناء بھذا التیمم عنہ وانما یستعملہ اذاوجد الحدث بعد ذلك وھو صریح عبارۃ القھستانی [2] اھ فنقل عنہ ما یاتی اٰنفا۔
اقول : لم(۲) یصل فھمی الی سرجعلہ ظاھر نص القھستانی ثم صریح عبارتہ وھو(۳) صریحھا لاشك ثمّ(۴$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع