دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 4 | فتاوی رضویہ جلد ۴

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۴

الفاظ بحر کے ہیں : آیت طہارت حکمیہ کے بیان کے لئے آئی ہے ، تو تقد یر کلام یہ ہوگی : پھر تمام نماز کو حلال کرنے والا پانی نہ پاؤ -اور قلیل کے استعمال کرنے سے کچھ بھی حلّت ثابت نہ ہوئی ، کیونکہ حلت حکم ہے ، اور سارے اعضا کو دھونا علّت ہے۔ اور کوئی حکم بعض علّت سے ثابت نہیں ہوتا جیسے حق زکاۃ میں بعض نصاب ، اور حق کفارہ میں بعض بردہ کا حال ہے۔ اسی طرح بہت سی شروح میں مذکور ہے۔ (ت)

اور ظاہرہے کہ جنابت کے ساتھ اگرچہ سَو حدث ہوں وضو کرلینا ہرگز اُسے نماز کے قابل نہیں کرسکتا تو جب اسی قدر پانی پر قدرت ہے اُس کا ہونا نہ

ہونا یکساں۔ اگر اتنا پانی بھی نہ پاتا کیا کرتا۔ صرف تیمم اب بھی صرف تیمم ہی کرے۔

دلیل ہفتم : شرح وقایہ میں جو خود اپنی اور تمام ائمہ کی تصریحات کے خلاف ایك  موہم عبارت واقع ہُوئی جس سے یہ متبادر کہ جنابت کے ساتھ حدث بھی ہو تو وضو کرے اور جنابت کےلئے تیمم عامہ محشین وکبرائے ناظرین یك  زبان اُس کی تاویل کی طرف جھُکے کہ ساتھ سے مراد بعد ہے یعنی جنب نے تیمم کرلیا اس کے بعد حدث ہوا اور پانی قابلِ وضو حاضر ہے تو اب وضو کرے کہ گزشتہ تیمم بعد کے حدث میں کام نہیں دے سکتا جیسے نہالینے کے بعد حدث ہوتا تو وضو کرنا لازم تھا نہ یہ کہ جنابت کا تیمم رفع حدث سابق کو کافی نہیں تیمم کے ساتھ وضو بھی کرنا پڑے کہ یہ بلاشبہہ مذہب کے خلاف اور اس کا بطلان ظاہر وصاف۔ خلاصہ یہ کہ طہارت وحدث میں جو متأخر ہے سابق کو رفع کردیتا ہے تو جنابت کے ساتھ اگر ہزار حدث ہوں جب تیمم کرے گا سب رفع ہوجائیں گے لہذا واجب کہ عبارت شرح وقایہ کو حدث بعد تیمم پر حمل کریں۔ علماء کا تاویل پر ہجوم روشن دلیل ہے کہ حکم وہ نہیں جو اُس کے ظاہر سے مفہوم ولہذا جس نے تاویل نہ پائی اعتراض کرد یا بہرحال اس کا ظاہر کسی نے مسلّم نہ رکھا۔

اللھم الا الفاضل القرہ باغی فی حاشیتہ علی شرح الوقا یۃ کماس یاتی اِن شاء الله تعالٰی۔

اقول :  والعجب من علامۃ الوز یر سکت عنہ فی الایضاح مع شدۃ ولوعہ بالاعتراض علی الامامین الشارح والماتن رحم الله الجمیع حتی تجاوز الی المؤاخذات اللفظ یۃ وسمی متنہ الفقھی الاصلاح والاصولی تغییر التنقیح غیر انہ لاینسب الی ساکت قول اما اثبات الھند یۃ کلام شرح الوقا یۃ ھذا بالتقر یر فمع قطع النظر عن ان غالب الفتاوی المنسوجۃ علی ھذا المنوال جل ھمتھا الجمع والتلفیق ولذا(۱) رجحت علیھا الشروح الباحثۃ بالتنقیح والتحقیق۔     

ہاں مگر فاضل قرہ باغی نے شرح وقایہ پر اپنے حاشیہ میں جیسا کہ ان کا کلام اِن شاءالله تعالٰی آئےگا۔ (ت)

اقول : تعجب ہے کہ علامہ وز یر اس پر ایضاح میں خاموش رہے جبکہ امامین شارح وماتن پر اعتراض سے ان کو بہت ز یادہ دلچسپی ہے-خدا سب پر رحمت فرمائے یہاں تك  کہ لفظی گرفتوں تك  تجاوز کرگئے اور اپنے فقہی متن کا نام “ اصلاح “ اور اصولی متن کا نام “ تغییر التنقیح “ رکھا مگر (یہاں وہ ساکت رہے تو) ساکت کی طرف تو کوئی قول منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ ہندیہ نے شرح وقایہ کا یہ کلام ایك  تقر یر سے ثابت کیا ہے۔ یوں تو اس انداز پر جمع شدہ ز یادہ تر فتاوٰی کا بڑا مقصد جمع وتلفیق ہوتا ہے اسی لئے تنقیح وتحقیق سے بحث کرنے والی شروح کو ایسے فتاوٰی پر ترجیح حاصل ہے۔ (ت)

اقول : وعندی مَثَل المتون عــہ

اقول : میرے نزدیك  فقہ میں متون ،

 

عــہ اقول :  ای کمختصرات(۱) الائمۃ الطحاوی والکرخی والقدوری والکنز والوافی والوقا یۃ والنقا یۃ والاصلاح والمختار ومجمع البحرین ومواھب الرحمٰن والملتقی وامثالھا الموضوعۃ لنقل المذھب لا کامثال(۲) المنیۃ فانھا لاتعد والفتاوی وقد رأیت التنو یر(۳) یدخل روا یات عن القنیۃ مع مصادمھا للمذھب المنصوص علیہ فی کتب محمد کمابینت بعضہ فی کتابی کفل الفقیہ الفاھم فی حکم قرطاس الدراھم وقد(۴) جھل بعض ضلّال الزمان وھو الگنگوھی فی رسالتہ فی الجماعۃ الثانیۃ اذجعل الاشباہ من المتون(۵) ولم یدر السفیہ مامعنی المتن المراد ھنا وزعم بجھلہ ان کل بیضاء شحمۃ وکل سوداء تمرۃ وھذا کتاب الاشباہ مشحونا بالنقول عن الفتاوی وبابحاثہ فمامرتبتہ الافی الفتاوی اوفی الشروح ھذا وقد(۶) عدوا الھدا یۃ من المتون مع انھا شرح بالصورۃ ۱۲ منہ غفرلہ (م)                                                                           

اقول : یعنی جیسے مختصر امام طحاوی ، مختصر امام کرخی ، مختصر امام قدوری ، کنزالدقائق ، وافی ، وقایہ ، نقایہ ، اصلاح ، مختار ، مجمع البحرین ، مواہب الرحمن ملتقی۔ اور ایسی ہی دوسری کتابیں جو نقل مذہب کےلئے لکھی گئی ہیں۔ منیہ جیسی کتاب نہیں کہ اس کا درجہ فتاوٰی سے ز یادہ نہیں اور میں نے دیکھا کہ تنو یر الابصار میں قنیہ سے نقل شدہ روا یات داخل ہیں جب کہ وہ امام محمد کی کتابوں میں منصوص مذہب سے متصادم ہیں۔ جیسا کہ ان میں سے بعض کا میں نے اپنی کتاب “ کفل الفقیہ الفاھم فی حکم قرطاس الدراھم “ میں بیان کیا ہے ایك  گمراہ زمانہ گنگوہی کی بے خبری دیکھیے کہ جماعت ثانیہ سے متعلق اپنے رسالہ میں “ اشباہ “ کو متون سے قرار د یا۔ نادان کو یہ پتا نہیں کہ یہاں متن سے کون سا معنی مراد ہے اور اپنی بے خبری سے یہ سمجھ لیا کہ “ ہر سفید چیز چربی اور ہر سیاہ چیز کھجور ہے “ ۔ ( یا اردو مثل میں : ہر چمکتی چیز سونا ہے ۱۲م۔ الف) یہ کتاب الاشباہ فتاوٰی کی نقول وابحاث سے بھری ہوئی ہے تو اس کا درجہ فتاوٰی ہی کا ہے یا شروح کا۔ یہ ذہن نشین رہے ، اور علما نے ہدایہ کو متون سے شمار کیا ہے باوجودیہ کہ وہ صورۃً شرح ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)

والشروح عــہ۱ والفتاوی عــہ۲ فی الفقہ۔

3شروح اور فتاوٰی کا حال وہی ہے

 

عـــہ١ اقول : کشروح(۱) کتب الاصول الجامعین والاصل والز یادات والسیرین للائمۃ وشروح المختصر المذکورۃ المبنیۃ علی التحقیق ومبسوط الامام السرخسی وبدائع ملك  العلماء والتبیین والفتح والعنا یۃ والبنا یۃ وغا یۃ البیان والدرا یۃ والکفا یۃ والنھا یۃ والحلیۃ والغنیۃ والبحر والنھر والدرر والدر وجامع المضمرات والجوھرۃ النیرۃ والایضاح وامثالھا وتدخل فیھا عندی حواشی المحققین مثل غنیۃ الشرنبلالی وحواشی الخیر الرملی وردالمحتار ومنحۃ الخالق واشباھھا لا کالمجتبی(۲) وجامع الرموز وابی المکارم ونظرائھا بل ولا کالسراج الوھاج ومسکین ۱۲ منہ غفرلہ (م)

عــہ٢۲ اقول مثل الخانیۃ(۳) والخلاصۃ والبزاز یۃ وخزانۃ المفتین وجواھر الفتاوی والمحیطات والذخیرۃ والواقعات للناطفی وللصدر الشھید ونوازل الفقیہ ومجموع النوازل والولو الجیۃ والظھیریۃ والعمدۃ والکبری والصغری وتتمۃ الفتاوٰی والصیرفیۃ وفصول العمادی وفصول الاستروشنی                                               

اقول : جیسے کتبِ اصول کی شرحیں جو ائمہ نے لکھیں (کتبِ اصول یہ ہیں : جامع کبیر ، جامع صغیر ، مبسوط ، ز یادات ، سِیر کبیر ، سیر صغیر) اور (حاشیہ بالا میں) مذکورہ مختصرات کی شرحیں جو تحقیق پر مبنی ہوں -اور مبسوط امام سرخسی ، بدائع ملك  العلماء ، تبیین الحقائق ، فتح القد یر ، عنایہ ، بنایہ ، غا یۃ البیان ، درایہ ، کفایہ ، نہایہ ، حلیہ ، غنیہ ، البحرالرائق ، النہر الفائق ، درراحکام ، دُرمختار ، جامع المضمرات ، جوہرہ نیرہ ، ایضاح۔ اور ایسی ہی دیگرکتابیں- میرے نزدیك  ان ہی میں محققین کے حواشی بھی داخل ہیں جیسے غنیہ شرنبلالی ، حواشی خیر الدین رملی ، رد المحتار ، منحۃ الخالق ، اور ایسے ہی حواشی -مجتبٰی ، جامع الرموز ، شرح ابی المکارم جیسی کتابیں نہیں -بلکہ سراج وہاج اور شرح مسکین بھی نہیں ۱۲ منہ غفرلہ (ت)

اقول : جیسے خانیہ ، خلاصہ ، بزازیہ ، خزانۃ المفتین ، جواہر الفتاوی ، محیطات (محیط نام کی متعدد کتابیں ہیں) ذخیرہ ، واقعاتِ ناطفی ، واقعات صدر شہید ، نوازل فقیہ ، مجموع النوازل ، ولوالجیہ ، ظہیریہ ، عمدہ ، کبری ، صغری ، تتمہ الفتاوٰی ، صیرفیہ ، فصول عمادی ، فصول استروشنی ، جامع صغار ، تاتارخانیہ ، ہندیہ (باقی برصفحہ آئندہ)

مثل عــہ۱ الصحاح عـــہ۲ والسنن عـــہ۳۔

جو حدیث میں صحاح ، سنن

(بقیہ  حاشیہ صفحہ گزشتہ)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن