30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
انما تنقض رؤیۃ الماء اذاکان یکفی للوضؤ ان کان محدثا اوالاغتسال ان کان جنبا والا لا وھذا فرع انہ فی الابتداء اذاوجد مالایکفیہ لایستعملہ فی بعض محل الطھارۃ بل یترکہ
پانی دیکھنا اسی وقت ناقض ہوتا ہے جبکہ بے وضو تھا تو اتنا پانی ہو جو وضو کےلئے کافی ہو اور جنب تھا تو اتنا جو غسل کےلئے کافی ہو ورنہ ناقض نہیں اور یہ اس کی فرع ہے کہ ابتدا میں جب اسے ناکافی پانی ملے تو اسے محل طہارت کے ایك حصے میں استعمال
ویتیمم لاغیر وھذا قول اصحابنا ومالك و غیرہ بل حکاہ البغوی عن اکثر العلماء[1]۔
نہیں کرے گا بلکہ اسے چھوڑ دے گا اور صرف تیمم کرےگا۔ یہ ہمارے اصحاب اور امام مالك و غیرہ کا قول ہے بلکہ بغوی نے اسے اکثر علماء سے حکایت کیا ہے۔ (ت)
غنیہ میں ہے :
من علیہ الغسل اذاتیمم ثم وجد ماء لایکفی لغسلہ اوالمحدث ماء غیر کاف لوضوئہ لاینتقض تیممہ ولوکان معہ ذلك قبل التیمم جازلہ التیمم بدون استعمال خلافا للشافعی واحمد رحمھما الله تعالٰی [2]۔
جس کے اوپر غسل فرض ہے جب وہ تیمم کرلے پھر اسے اتنا پانی ملے جو غسل کےلئے ناکافی ہو یا بے وضو کو اتنا پانی ملے جو وضو کےلئے نہ کافی ہو تو تیمم نہ ٹوٹے گا اور اگر قبل تیمم اتنا پانی ہوتا تو بھی اسے استعمال کیے بغیر اس کےلئے تیمم جائز ہوتا بخلاف امام شافعی وامام احمد رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی کے۔ (ت)
اسی طرح کتب کثیرہ حتّٰی کہ خود شرح وقایہ میں ہے :
اذاکان للجنب ماء یکفی للوضوء لاللغسل یتیمم ولایجب علیہ التوضی عندنا خلافا للشافعی رضی الله تعالٰی عنہ[3]۔
جب جنب کے پاس اتنا پانی ہو جو وضو کےلئے کافی ہو غسل کےلئے نہیں ، تو وہ تیمم کرے اور اس پر وضو ہمارے نزدیك واجب نہیں بخلاف امام شافعی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے۔ (ت)
اور سب سے اجل واعظم محرر المذہب امام محمد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا کتاب الاصل میں ارشاد ہے :
اجنبب وعندہ ماء یکفی للوضوء تیمم وصلی [4] اھ اثرہ فی الکفایۃ والغنیۃ فصل مسح الخفین تحت قولہ لایجوز المسح لمن علیہ الغسل[5]۔
جنب ہوا اور اس کے پاس اتنا ہی پانی ہے جو وضو کےلئے کافی ہو تو وہ تیمم کرے اور نماز پڑھے۔ اھ اسے کفایہ اور غنیہ فصل مسح الخفین میں ز یرقول “ لایجوز المسح لمن علیہ الغسل “ نقل کیا۔ (ت)
ظاہر ہے کہ جنابت غالبًا حدث سے جُدا نہیں ہوتی اگر جماع کیا تو اس سے پہلے مباشرت فاحشہ تھی اور احتلام ہوا تو اُس سے پہلے سونا تھا اور مطلقًا انزال بے سبقت خروج مذی نہیں ہوتا یوں ہی بعد ہر انزال بول عادات مستمرہ عامہ سے ہے اور طبًّا بلکہ شرعًا ۱ بھی مطلوب کہ منی منفصل بشہوت کا جو بقیہ ہو خارج ہوجائے ورنہ بعد۲ غسل نکلا تو دوبارہ نہانا ہوگا تو ظاہر ہوا کہ عام جنابتیں حدث سابق وحدث لاحق دونوں اپنے ساتھ رکھتی ہیں پھر تمام کتب کی تصریح کہ جنب غسل سے عاجز ہو اور وضو پر قادر جب بھی وضو نہ کرے صرف تیمم کرے دلیل صریح ہے کہ جنابت کا تیمم اس وقت جتنے بھی حدث موجود ہوں سب کا رافع ہے تو وضو کیا ضرور فقہائے۳ کرام نادر صورت کا اکثر لحاظ نہیں فرماتے جنابت کے ساتھ حدث کا ہونا تو اس درجہ کثیر وغالب ہے کہ مفارقت ہی شاذ نادر ہے تو اس حالت میں اگر تیمم جنابت کے ساتھ حدث کےلئے وضو بھی درکار ہوتا تو یوں عام حکم معقول تھا کہ جنب اگر غسل نہ کرسکے اور وضو پر قادر ہو تو تیمم کے ساتھ وضو لازم ہے کہ صورت نادرہ افتراق کا لحاظ نہ فرما یا نہ کہ غالب کو ساقط النظر فرماکر یوں عام حکم دیں بل فی ش الجنابۃ لاتنفك عن حدث یوجب الوضوء [6] اھ (بلکہ شامی میں ہے : جنابت وضو واجب کرنے والے حدث سے جُدا نہیں ہوتی۔ (ت)
وھذا ظاھرہ اللزوم اقول : ان(۴) حمل علی الغالب والافبلی کمن اجنب ولم یجد الامایکفی للوضوء فتیمم ثم احدث فتوضأ ثم وجد مایکفی للغسل فقد عاد جنبا من دون حدث۔
اس عبارت کا ظاہر یہی بتاتا ہے کہ جنابت اور حدث میں لزوم اقول : اسے اگر اکثر پر محمول کریں تو ٹھیك ہے ورنہ جنابت حدث سے جدا کیوں نہیں ہوتی؟ اس کی مثال یہ ہے کہ کوئی شخص جنب ہوا اور اسے اتنا ہی پانی ملا جو وضو کےلئے کفایت کرسکے تو اس نے تیمم کیا پھر اسے حدث ہوا تو وضو کیا پھر اسے اتنا پانی ملا جو غسل کےلئے کافی ہے اب وہ پھر جنب ہوگیا اس کی جنابت حدث سے جُدا ہے۔ (ت)
دلیل سوم : تصریح فرماتے ہیں کہ جنب کے پاس وضو کےلئے کافی پانی ہو تو اُس پر وضو اُس حالت میں ہے کہ جنابت کےلئے تیمم کے بعد حدث واقع ہو بہت عبارات آگے آتی ہیں
اور نوازل امام فقیہ ابواللیث پھر خزانۃ المفتین میں ہے :
اذا احدث بعد التیمم ومعہ مایکفی
جب اس تیمم کے بعد حدث ہو اور اس کے پاس وضو
للوضوء فانہ یتوضأ بہ[7]
کے لئے بقدر کفایت پانی ہو تو اس سے وضو کرےگا۔ (ت)
فتح القد یر ودرالحکام وشرح نقایہ عــہ برجندی وبحرالرائق حتی کہ خود شرح وقایہ مسح الخفین میں ہے :
واللفظ لہ تیمم للجنابت فان احدث بعد ذلك توضأ [8]۔
الفاظ شرح وقایہ ہی کے ہیں : جنابت کا تیمم کیا اگر اس کے بعد حدث ہو تو وضو کرے۔ (ت)
یہ تقیید صاف بتارہی ہے کہ تیمم جنابت سے پہلے جو حدث ہو اس کےلئے وضو نہیں یہی تیمم اُسے بھی رفع کردےگا بلکہ خود کتاب مبسوط میں ارشاد محرر المذہب بعد بعد عبارت مذکورہ ہے :
فان(۱) احدث وعندہ ذلك الماء توضأ[9]۔
[1] حلیہ
[2] غنیۃ المستملی ، باب التیمم ، سہیل اکیڈمی لاہور ، ص۸۴
[3] شرح الوقا یۃ ، باب التیمم ، مکتبہ رشیدیہ دہلی ، ۱ / ۹۵
[4] الکفا یۃ مع فتح القد یر باب المسح علی الخفین مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۳۵
[5] الکفا یۃ مع فتح القد یر باب المسح علی الخفین مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۳۵
[6] ردالمحتار باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۸۷
[7] خزانۃ المفتین
[8] شرح الوقایہ باب التیمم مکتبہ رشیدیہ دہلی ۱ / ۱۰۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع