30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
واضح ہو کہ ان مسائل کا جواب ایك مذہبی قاعدہ پر متفرع ہے۔ وہ یہ کہ ایك ہی طہارت کی ادائيگی بیك وقت پانی اور مٹّی دونوں سے مخلوط کرنا ہمارے اصحاب کے نزدیك نامشروع ہے۔ اس لئے کہ پانی اصل ہے اور مٹی نائب ہے۔ اور ایك حکم کے اندر اصل اور بدل دونوں کو جمع کرنے کی شریعت میں کوئی نظیر نہیں دیکھئے مال کے ذریعہ کفارہ کی ادائيگی روزے سے پُوری نہیں کی جاتی۔ اسی طرح برعکس بھی نہیں يونہی حیض والی کی عدّت مہینوں سے اور مہینوں والی کی عدّت حیض سے تکميل نہیں پاتی۔ (ت)
اختیار شرح مختار پھر خزانۃ المفتین میں ہے :
من بہ جراحۃ وعلیہ الغسل غسل بدنہ الاموضعھا ولايتيمم وکذلك اذاکانت فی اعضاء الوضوء لان الجمع بینھما جمع بین البدل والمبدل ولانظيرلہ فی الشرع [1]۔
جسے زخم ہو اور اس کو غسل کرنا ہے تو وہ جگہ چھوڑ کر اپنے بدن کو دھوئے اور تميم نہ کرے۔ اسی طرح جب اعضائے وضو میں جراحت ہو (تو وہ جگہ چھوڑ کر باقی دھوئے) اس لئے کہ دونوں کو جمع کرنا بدل اور مُبدَل کو جمع کرنا ہے اور شریعت میں اس کی کوئی نظیر نہیں۔ (ت)
بدائع امام ملك العلماء میں ہے :
لوکان ببعض اعضاء الجنب جراحۃ اوجُدری فان کان الغالب ھو السقيم تيمم لان العبرۃ للغالب ولايغسل الصحيح عندنا خلافا للشافعی لان الجمع بین الغسل و
جنب کے بعض اعضاء میں زخم یا چيچك ہو تو اگر اکثر حصّہ سقيم ہے تميم کرے اس لئے کہ اعتبار اکثر کا ہے اور صحيح حصّہ کو ہمارے نزدیك دھونا نہیں ہے بخلاف امام شافعی کے۔ وجہ یہ ہے کہ دھونا اور تميم دونوں کو
التيمم ممتنع الا فی حال وقوع الشك فی طھوریۃ الماء ولم يوجد [2] اھ کلامہ الشريف۔
اقول : عــہ بل ولافيھا(۱) لان الصحيح فی الواقع احدھما والاٰخر معدوم شرعا فلاجمع الاصورۃ۔
جمع کرنا ممتنع ہے مگر جبکہ پانی کی طہوريت میں شك ہو اور یہ شك موجود نہیں۔ (ان کا کلام شريف ختم ہوا) (ت)
اقول : بلکہ اس حالت میں بھی نہیں اس لئے کہ فی الواقع دونوں میں سے ایك ہی درست ہے اور دوسرا شرعا معدوم ہے تو جمع کرنا صرف صورۃً ہے۔ (ت)
کنز الدقائق وتنویر الابصار میں ہے :
لايجمع بینھما اھ ای تيمم وغسل [3] درمختار بفتح الغین لیعم الطھارتین [4] ش عن ح۔
اقول : کل(۲) لیس لمتوھم ان یتوھم الجمع بین التیمم والغسل بالضم۔
دونوں کو جمع نہ کرے گا اھ یعنی تيمم اور غسل (دھونے) کو -- درمختار غسل عین کے فتحہ کے ساتھ تاکہ دونوں طہارتوں کو شامل ہوجائے۔ شامی ازحلبی۔ (ت)اقول : بلکہ کوئی یہ وہم نہیں کرسکتا کہ تیمم اور غسل (بالضم) جمع ہوگا۔ (ت)
دلیل دوم : صاف مطلق ارشاد ہے کہ جنب کے پاس اگرچہ وضو کےلئے کافی پانی موجود ہو وضو نہ کرے صرف تیمم کرے اور یہ کہ مذہب حنفی کا اس پر اجماع ہے شافعی وحنبلی کو نزاع ہے۔ جواہر الفتاوٰی امام کرمانی باب رابع میں ہے :
عــہ ثم رأیتہ فی ش عن البحر قال لان الفرض یتأدی باحدھما لابھما فجمعنا بینھما بالشک[5] اھ ثم رأیتہ بعینہ فی التبیین ۱۲ منہ غفرلہ (م)
پھر میں نے اسے شامی میں بحر کے حوالہ سے دیکھا فرما یا : اس لئے کہ فرض ایك ہی سے ادا ہوتا ہے دونوں سے نہیں تو شك کی وجہ سے ہم نے دونوں کو جمع کیا اھ پھر بعینہٖ یہی میں نے تبیین میں بھی دیکھا ۱۲ منہ غفرلہ۔ (ت)
جنب فی مفازۃ معہ من الماء مایکفی لوضوئہ فانہ یتیمم ولایستعمل الماء [6]۔
کسی بیابان میں جنابت والا ہے جس کے پاس اتنا پانی ہے جو اس کے وضو کےلئے کفایت کرے تو وہ تیمم کرے گا اور پانی استعمال نہیں کرے گا۔ (ت)
نوازل امام اجل فقیہ ابو اللیث پھر خزانۃ المفتین میں ہے :
مسافرا جنب ومعہ ماء یکفی للوضوء فانہ یتیمم [7]۔
کوئی مسافر جنب ہوا اور اس کے پاس اتنا پانی ہے جو وضو کےلئے کفایت کرے تو وہ تیمم کرے گا۔ (ت)
خلاصہ میں ہے :
فان اجنب المسافر ولم یجد من الماء الاقدرما یتوضأ فانہ یتیمم ولایتوضأ عندنا [8]۔
اگر مسافر جنب ہوا اور اسے اسی قدر پانی ملاکہ وضو کرے تو ہمارے نزدیك وہ تیمم کرے گا اور وضو نہیں کرے گا۔ (ت)
کافی میں ہے :
جنب معہ ماء کاف للوضؤ تیمم ولم یتوضأ وعند الشافعی توضأ ثم تیمم [9]۔
جنب ہے جس کے پاس وضو کےلئے بقدر کفایت پانی ہے وہ تیمم کرے اور وضو نہ کرے اور امام شافعی کے نزدیك وضو کرے پھر تیمم کرے۔ (ت)
حلیہ میں ہے :
[1] اختیار شرح مختار آخر باب التميم مطبع البابی مصر ۱ / ۲۳
[2] بدائع الصنائع شرائط تیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۵۱
[3] درمختار ، باب التیمم ، مجتبائی دہلی ۱ / ۴۵
[4] ردالمحتار ، باب التیمم ، مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۸۹
[5] ردالمحتار ، باب التیمم ، مصطفی البابی مصر ، ۱ / ۱۸۹
[6] جواہر الفتاوٰی
[7] خزانۃ المفتین)
[8] خلاصۃ الفتاوٰی ، الفصل الخامس فی التیمم ، نولکشور $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع