دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 4 | فتاوی رضویہ جلد ۴

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۴

بعد سوال یا بلاسوال۲ یا بعد وقت تو ہر ایك میں یہ تین ہیں اور پہلی دونوں ثلاثی ہیں تیسری سداسی ہے اور چہارم کی نصف چوبیس۲۴ اور خامس کی سبھی پینتالیس۴۵ اور سابع کی ستائیس۲۷ اور بارھویں کی اڑتالیس۴۸۔ کل

دوسوچونتیس۲۳۴۔

ان میں سے کچھ غیر مؤثر ہیں کيونکہ بعد وقت ہیں ، یہ سوم کی تہائی بارہ ہیں اور ششم کی تہائی اٹھارہ اس لئے کہ اس میں عطائی دو شکلیں ہیں اور عدم عطا کی ایك شکل ہے اور نصف عطا بعد وقت تو کل کی تہائی ہوئیں۔

اور ہشتم کی چوتھائی اٹھارہ اس لئے کہ اس میں عدمِ عطا کی ایك صورت ، اور عطا کی تین صورتیں ہیں۔ دو صورتیں اس کی ہیں جو وقت کے اندر ہو۔ تو عدم وقت کے لئے کل کی چوتھائی ہوئی اور تيرھویں سے اڑتالیس۴۸ جن کا مجموعہ چھیانوے۹۶ ہوگا اور مؤثرات کے ساتھ تین سوتیس۳۳۰۔ انہیں جمع کرلیا جائے کہ ان کے اندر منع وعطا میں موقع کا اختلاف نہیں۔ فریق ثانی میں تو ظاہر ہے اس لئے کہ عطا بعد وقت ہے تو منع بھی بعد وقت ہی ہوگا۔

اور فریق مؤثرات میں اس لئے کہ فرض یہ کیا گیا ہے ہے کہ استعمال سے پہلے منع کردیا ہو تو اگر تميم سے پہلے دے دیا اسے تميم کرنا روانہ ہوگا یہاں تك کہ تميم کے بعد منع واقع ہو اور اگر نماز سے پہلے دے دیا تو اس کيلئے نماز ادا کرنا روانہ ہوگا یہاں تك کہ منع اندرونِ نماز واقع ہو اور اسی پر قیاس کرلیا جائے۔

ومنھا مافی الوقت ولايؤثر وھی ثلث السادس ثمانیۃ عشر ونصف الثامن ستۃ وثلثون ومن الثالث عشر ثمانیۃ واربعون مجموعھا مائۃ واثنان ففی ھذہ يمکن الافتراق لانہ اذا اعطی فی الوقت ولم يؤثر فلہ ان لایستعمل لماء الاٰن ويدخرہ للوقت الاٰتی فيصح المنع قبل استعمالہ بعد الوقت فھذہ تنقسم الی قسمین المنع فی الوقت وبعدہ فتصیر مائتین۲۰۴ واربعۃ ومع المخزونات خسمائۃ۵۳۴ واربعۃ وثلثین ھذہ وجوہ ھذا القسم الخامس عشر۔

حکمہ اباحۃ التيمم الاٰن ان کان العطاء منعہ ولا اثرلہ علی مامضی من تيمم اوصلاۃ بل ان کان فللعطاء السابق مجموع ھذہ الاقسام الخمسۃ تسعمائۃ واربعۃ وخمسون ومع السابقات الف وثلثمائۃ وثمانون والله تعالٰی اعلم۔

اضافۃ اخرٰی

اقول :  وھھنا وجوہ اُخر فان احوال اربعۃ :

عطا ، وعد ، سکوت ، منع۔ وقد ذکروا العطاء بعد المنع وذکرنا فی وجوہ قوانینھم العطاء بعد الوعد وبعد السکوت وزدنا المنع بعد العطاء فمن

اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جو وقت میں ہوں اور مؤثر نہ ہوں یہ ششم کی تہائی اٹھارہ ہیں اور ہشتم کی نصف چھتیس۳۶ ، اور تيرھویں سے اڑتالیس۔ کل ایك سودو۱۰۲ ہیں۔ ان میں افتراق ہوسکتا ہے۔ اس لئے کہ اگر وہ وقت میں دے اور مؤثر نہ ہو تو اسے حق ہے کہ اس وقت پانی استعمال نہ کرے اور وقت آئندہ کيلئے ذخيرہ کر رکھے تو بعد وقت اس کے استعمال سے پہلے منع صحيح ہوگا۔ تو ان کی دو قسمیں ہوں گی منع۱ اندرون وقت ، منع۲ بعد وقت تو دوسوچار۲۰۴ ہوجائیں گی اور جمع شدہ کو ملاکر پانچ سوچونتیس۵۳۴ ہونگی یہ اس پندرھویں قسم کی صورتیں ہیں۔

حکم : اس وقت تميم مباح ہونا ہے اگر عطا اس سے مانع تھی۔ اور گزشتہ تميم یا نماز پر اس کا کوئی اثر نہیں۔ بلکہ اگر اثر ہوگا تو عطائے سابق کا ہوگا۔ ان پانچوں اقسام کا مجموعہ نوسوچوّن۹۵۴ ہُوا اور سابقہ قسموں کو ملاکر ایك ہزارتین سو اسّی۱۳۸۰ ہوا اور خدائے برتر خُوب جاننے والا ہے۔

اضافہ دیگر

اقول : یہاں کچھ اور صورتیں ہیں۔ اس لئے کہ حالتیں چار۴ ہیں : عطا ، وعدہ ، سکوت ، منع۔

علما نے عطا بعد منع بھی ذکر کیا ہے اور ہم نے ان کے قوانین کی صورتوں کے اندر عطا بعد وعدہ وبعد سکوت بھی ذکر کیا ہے اور منع بعد عطا کا اضافہ کیا ہے۔ تو

وزانھا الوعد ثم الاباء والاباء ثم الوعد والسکوت ثم الاباء اوالوعد فھذہ اربعۃ ترکیبات اُخر ثنائیات اماما فوق الثنائی فلا امکان لاحصائہ جل من احصی کل شیئ عددا والاسترسال فی بیان تقاسيم ھزہ الاربعۃ ایضا مخرج عن القصد ومن عرف تصرفنا فی ابانۃ الاقسام لم یعسر علیہ فلنقتصر علی بیان الاحکام الکلیۃ بانین علی استظھارا تنا السالفۃ غیر قاطعی القول فيما يتعلق بابحاثنا۔

فاقول :  ۱ اذا وعدثم ابی فان کان الوعد قبل التيمم واذن لایکون الاباء ایضا الاقبہ لان الوعد حاجز عن التيمم فھذا الاباء یبيح التيمم وان کان الوعد بعد التيمم نقضہ فلایعيدہ الاباء بل يجيز تجديدہ وکذا ان کان فی الصلاۃ قطعھا فلايصلھا الاباء بعدہ وان کان بعدھا تمت الصلاۃ وزال ماکان يخشی علیہ من جانب الوعد ان لم یظھر خلفہ۔

وان۲ ابی ثم وعد فان وقع الوی قبل تمام الصلاۃ نسخ الاباء ومنع ونقض وقطع وان وقع بعدھا

اسی کے مقابلہ میں وعدہ۱ پھر انکار ، انکار۲ پھر وعدہ ، سکوت۳ پھر انکار ، یا وعدہ۴ بھی ہیں۔ تو یہ چار دوسری ثنائی ترکیبیں ہُوئیں لیکن ثنائی سے اوپر تو ان کا شمار ممکن نہیں بزرگ ہے وہ جس نے ہر چيز کا شمار رکھا ہے۔ اب ان چاروں کی تقسيموں کی توضیع میں چلیں تو اعتدال سے باہر ہوجائیں گے۔ توضيح اقسام میں ہمارا تصرف جس نے سمجھ لیا اس کيلئے یہ مشکل نہ ہوگا۔ تو ہم احکام کلیہ کے بیان پر اقتصار کریں بنائے کلام ہمارے سابقہ استظہاروں پر ہوگی مگر جو ہماری ابحاث سے متعلق ہے اس میں ہم قطعی قول نہ کریں گے۔

فاقول : ۱ جب وعدہ کرے پھر انکار کردے تو اگر وعدہ قبل تميم ہو اور اِس صورت میں انکار بھی قبل تميم ہی ہوگا۔ اس لئے کہ وعدہ تميم میں رکاوٹ ڈالتا ہے تو یہ۰ انکار تميم مباح کردے گا اور اگر وعدہ تميم کے بعد ہو تو اسے توڑ دے گا۔ تو انکار اسے واپس نہ لائےگا بلکہ اس کی تجديد جائز کردے گا اسی طرح اگر وعدہ نماز کے اندر ہو تو نماز کو توڑ دے گا تو اس کے بعد انکار اسے جوڑ نہ دے گا اور اگر وعدہ بعد نماز ہو تو نماز تام ہے اور وہ زائل ہے جس کا وعدہ کی جانب سے خطرہ رہتا ہے کہ اس کے خلاف نہ ظاہر ہو۔

(۲) اور اگر انکار کرے پھر وعدہ کرے تو اگر وعدہ قبل تکميل نماز واقع ہوا انکار کو منسوخ کردے گا اور مانع ، ناقض اور قاطع ہوگا۔ اور اگر بعد نماز ہوا

لم يؤثر لان العطاء بعد الصلاۃ لایضر اذاکان بعد المنع فکيف بالوعد۔

وان۱ سکت ثم ابی فالسکوت کان نفسہ دليل الاباء والاٰن قداتی الصريح۔ وان۲ سکت ثم وعد فان کان السکوت يحتمل ان یکون لاللاباء کماوصفنا فی ابحاثہ فھذا الوعد جعل ذلك المحتمل متعینا فیعمل عملہ من الاٰثار الثلثہ والا لافصح التيمم وتمت الصلاۃ والله سبحنہ وتعالٰی اعلم٭ وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم٭ وصلی الله تعالٰی علٰی سيدنا ومولٰنا محمد واٰلہ و صحبہ وابنہ وحزبہ وبارك وسلم٭ الی ابد الابدین٭ فی کل اٰن وحین٭ والحمدلله رب العٰلمین٭

تو مؤثر نہ ہوگا اس لئے کہ بعد نماز عطا مضر نہیں جبکہ بعد منح ہو۔ تو وعدہ کا کیا حال ہوگا۔

(۳) اگر خاموش رہا پھر انکار کیا تو سکوت خود ہی دليل انکار تھا اور اب تو صريح ہوگا۔ (۴) اگر خاموش رہا پھر وعدہ کیا تو اگر سکوت میں یہ احتمال ہو کہ انکار کی وجہ سے نہ ہوگا جیسا کہ اس کی بحثوں میں ہم نے بتایا تو یہ وعدہ اس محتمل کو متعین کردے گا۔ تو اپنا کام کرے گا کہ تینوں اثرات ڈالے گا۔ ورنہ نہیں تو تميم صحيح اور نماز تام ہوگی۔

اور خدائے پاك وبرتر خوب جاننے والا ہے اس مجدِ بزرگ والے کا علم زیادہ تام اور محکم ہے ، اور خدائے برتر کی طرف سے ہمارے آقا ومولٰی محمد اور ان کی آل ، اصحاب ، فرزند اور گروہ پر ہميشہ ہميشہ ، ہر لمحہ وہر آن درود اور برکت وسلام ہو۔ اور ساری تعريفیں سارے جہانوں کے مالك خدا کيلئے ہیں۔ (ت)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن