30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۹) لم۱ یکن شیئ وظن العطاء ھو علی وجھین بالرؤیۃ فی الصلاۃ اوقبلھا۔
حکمہ یعيد۔
(۱۰) لم۲ یکن شیئ ولاظن عطاء ھی اربعۃ بالوجھین مع ظن المنع اوالشک۔
حکمہ تمّت۔
وبہ تمت احاطۃ۳ عــہ الاقسام٭ حکم نماز تام ہے۔
(۹) کچھ نہ ہوا اور اسے عطا کا گمان تھا۔ نماز کے اندر یا نماز سے قبل دیکھنے کی تقدیر کی وجہ سے اس کی دو۲ صورتیں ہیں۔ حکم نماز کا اعادہ کرے۔
(۱۰) کچھ نہ ہوا اور اسے ظن عطا بھی نہ تھا۔ دونوں وجہوں کو ظن منع یا شك کے ساتھ ملاکر اس کی چار صورتیں ہوں گی۔
حکم نماز تام ہے۔ اسی سے احاطہ اقسام مع بیانِ احکام مکمل ہوگیا۔
عــہ : وھذا جدول الاجمال باعتبار التقسيم الاول الی خمسۃ اقسام
پانچ اقسام کی طرف تقسيم اول کے اعتبار سے یہ اجمالی نقشہ ہے۔

وھذا بعینہ ماحصل بالتقسيم الاول تحت قانون البحر فتوا فقھما مع شدۃ تباینھما فی الطریق دليل الصحۃ والتحقیق ۱۲ منہ غفرلہ (م)
بعینہ یہی قانون بحر کے تحت تقسيم اول سے حاصل ہوا تو طریق میں شديد مباینت کے باوجود دونوں کا باہم موافق ہوجانا صحت وتحقیق کی دليل ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
مع بیان الاحکام٭ والحمد الدائم لولی الانعام٭ذی الجلال والاکرام٭ وافضل الصلاۃ والسلام٭ علی السيد المنعام٭ واٰلہ الکرام٭ وصحبہ العظام٭ وامتہ الی يوم القیام٭ اٰمین۔
تنبیہ : اتبعنا ھم فی ترك اقسام الوعد باظھار النفاد والوعد الابائی والمنع بعد العطاء مع ذکرھم العطاء بعد المنع۔
فان قيل لااثر لھذہ لمامر ان الوعد بعد النفاد لایعتبر والوعد الابائی لااثرلہ فی الوقت الحاضر بل فی الوقت الموعود بہ والمنع بعد العطاء ان اثر فاباحۃ تيمم منعہ العطاء لاغیر کماقدمت فی المسألۃ العاشرۃ۔
اقول : الیس ھذا اثرا والوعد کيفما کان ان لحقہ العطاء قبل تمام الصلاۃ تحصل الاٰثار الثلثۃ وان کان حصولھا بالعطاء کما بالعطاء قبلہ بعد المنع وان لم يلحقہ جاز تيممّہ وبقی وتمّت الصّلوۃ۔
وقد ذکروا المنع ولااثرلہ الا ھذا وذکر المنع لايغنی عنہ فانہ من الوعد فيشتبہ الامر فیہ
اور دائمی حمد ہے ولی انعام مالك عزّت وبزرگی کيلئے۔ اور افضل درودوسلام بہت انعام فرمانے والے آقا ، اور ان کی کريم آل ، عظيم اصحاب اور ان کی امت پر روزِ قیامت تك الٰہی قبول فرما!
چند اقسم ديگر پر تنبیہ : درج ذيل قسموں کو ترك کرنے میں ہم نے بھی ان ہی حضرات کی پيروی کی۔ (۱)پانی ختم ہونے کا اظہار کرکے وعدہ (۲) وعدہ ابائی (۳)منع بعد عطا -- جبکہ ان حضرات نے عطا بعد منع کو ذکر کیا ہے۔
اگر کہا جائے کہ اس کا کوئی اثر نہیں اس لئے کہ ختم ہونے کے بعد وعدہ کا اعتبار نہیں اور موجودہ وقت میں وعدہ ابائی کا کوئی اثر نہیں بلکہ وقت موعود میں ہے اور دینے کے بعد انکار اگر اثر کرے گا تو یہی کہ وہ تميم جو عطا سے ممنوع ہوگیا تھا اب مباح ہوجائے گا کچھ اور اثر نہ ہوگا جیسا کہ مسئلہ وہم میں بیان ہوا۔
اقول : کیا یہ اثر نہیں۔ اور وعدہ جیسا بھی ہو اگر قبل تکميل نماز اسے عطا لاحق ہوئی تو تینوں اثرات حاصل ہوں گے اگرچہ یہ عطا سے حاصل ہوں گے جیسا کہ اس سے قبل ، منع کے بعد دینے سے اگر عطا نہ لاحق ہو تو اس کا تميم جائز وباقی اور نماز تام ہے۔
علماء نے انکار کا ذکر کیا ہے اور اس کا سوائے اس کے کوئی اثر نہیں اور انکار کا ذکر کارآمد نہیں اس لئے کہ وہ وعدہ سے (انکار)
ثم قد ذکروا العطاء بعد الاباء وخصوہ بالعطاء بعد الصلاۃ وھو لااثرلہ اصلا وانما ذکروہ لبیان خلوہ عن الاثر فان اردنا ايرادھا زدنا فی الضابطۃ ان الوعد باظھار النفاد والوعد الابائی کلاھما لااثرلہ الا اذالحقہ العطاء قبل تمام الصلاۃ ولایسمع منع بعد عطاء الا اذابقی الماء ولم يخرج عن ملك المعطی فیبيح التيمم ان منعہ عہ العطاء واذن تصیر اقسام الوعد سبعۃ لانہ باظھار نفاد الماء اوبدونہ علی الاول یعطی۱ قبل ختم الصلاۃ مؤولا بسھوہ مثلا اولا۲ وعلی الثانی ام ان یعد ابائیا۳ یعطی بعدہ قبل تمام الصلاۃ لان تاجيل وعدہ لايمنعہ عن تعجيلہ اولا۴ واما۵ رجائیا وقع قبل تمامھا او۶بعدہ وفی ھذا ظھر خلفہ اولا۷۔
والمنع ثلثۃ باضافۃ
ہے۔ تو معاملہ اس میں مشتبہ ہو جائے گا۔
پھر عطا بعد انکار کا ذکر کیا ہے اور اسے عطا بعد نماز سے خاص کیا ہے۔ اس کا بھی کوئی اثر نہیں۔ ا س کی بے اثری بتانے ہی کيلئے علما نے اسے ذکر کیا ہے۔ اگر ہم اسے بھی لانا چاہیں تو ضابطہ میں یہ اضافہ کردیں گے کہ ختم ہونے کا اظاہر کرکے وعدہ اور وعدہ ابائی دونوں بے اثر ہیں مگر جب کہ قبل تکميل نماز انہیں عطا لاحق ہو۔ اور منع بعد عطا مسموع نہیں مگر جب کہ پانی باقی ہو اور دینے والے کی ملك سے باہر نہ ہوا ہو تو تميم کو مباح کردے گا اگر عطا اس سے مانع ہو۔ اور اب وعدہ کی قسمیں سات۷ ہوجائیں گی اس لئے کہ وعدہ پانی ختم ہونے کا اظہار کے ساتھ ہوگا یا اس کے بغیر ہوگا برتقدیر اول ختم نماز سے پہلے۔ مثلًا اپنے بھول جانے کا عذر کرتے ہوئے دے دےگا۔ (۲) یا نہیں برتقدیر ثانی (۳) یا تو ایسا وعد ابائی کرے گا جس کے بعد قبل تکميل نماز دے دے اس لئے کہ وعدہ کو مؤجل کرنا اس کی تعجيل سے مانع نہیں (۴) یا ایسا نہ ہوگا (۵) یا وعدہ رجائی کرے گا جو قبل تکميل نماز واقع ہو (۶) یا اس کے بعد ہو ، اور اس میں اس کا خلف ظاہر ہو (۷) یا ایسا نہ ہو۔ اور منع کی تین۳ قسمیں ہوجائیں گی اس کا اضافہ
عــہ : احتراز عن البیع بخیار البائع کماتقدم فی المسألۃ العاشرۃ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
بیع بشرط خیار بائع سے احتراز ہے ، جیساکہ مسئلہ دہم میں گزرا ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
مااذا کان بعد العطاء مع بقاء الماء وملکہ اما خلافہ وھو المنع بعد مانفد اوخرج عن ملك المانع فلايحتاج الی ادخالہ فی الاقسام لانہ يرجی الامن مجنون فتصیر جمیع الاقسام خمسۃ عشر۔
اما انواع ھذہ الخمسۃ المزيدۃ
فاقول : (۱۱) وعد۱ باظھار النفاد واعطی قبل تمام الصلاۃ صورہ ثمان واربعون۔
حکمہ التأثير۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع