30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وثانیًا : بترکھا(۱) اشتملت صورۃ عدم السؤال ما اذا وعد ولم یعط ولیست خلافیۃ اذاوقع الموعد قبل تمام الصلاۃ بل یمنع وینقض ویبطل اتفاقا سواء ظھر خلفہ اولا فھی ستۃ اربعۃ عــہ۱ منھا ثلاثیات واثنان عــہ۲ سداسیان لان کلامہ لایختص بخارج الصلاۃ ککلام البحر فھی اربعۃ وعشرون وکذلک (۲) اذا وعد بعدھا ولم یظھر خلفہ وھما عــہ۳ اثنان کلاھما سداسی فسری الغلط الی ستۃ وثلثین قسما وان لم یسلم استظھاری وجعل الوعد ولوکان بعدُ مبطلا مطلقا زاد اثنان عــہ۴ اعنی اثنی عشر اُخروشمل الغلظ ثمانیۃ واربعین۔
وثالثا : قولہ(۳) وان سأل فمنع یشمل کماصرح بہ السؤال قبل الصلاۃ
ذکر کرتے تو ہمیں مستفید فرماتے اور ان کے احکام میں تردد سے نجات دیتے اور مجھ جیسے کو ان میں نظر کی ضرورت نہ ہوتی۔
ثانیًا : ان صورتوں کو چھوڑ دینے کی وجہ سے عدمِ سوال کی صورت اسے بھی شامل ہے جب وعدہ کیا ہو اور نہ دیا ہو حالانکہ یہ صورت اختلافی نہیں جبکہ وعدہ تکمیل نماز سے پہلے ہوگیا ہو بلکہ یہ بالاتفاق مانع ، ناقض اور مبطل ہے خواہ اس کے خلاف ظاہر ہو یا نہ ہو۔ یہ چھ۶ صورتیں ہیں جن میں سے چار ثلاثی اور دو سداسی ہیں اس لئے کہ ان کا کلام ، صاحبِ بحر کے کلام کی طرح خارج نماز سے خاص نہیں تو کل چوبیس۲۴ صورتیں ہوئیں۔ اسی طرح جب بعد نماز وعدہ ہو اور اس کے خلاف نہ ظاہر ہو اور یہ دو صورتیں ہیں دونوں ہی سداسی ہیں تو چھتیس۳۶ قسموں تك غلطی سرایت کر آئی۔ اور اگر میرا استظہار اور وعدہ کو اگرچہ بعد ہی ہیں ہو مطلقا مبطل قرار دینا تسلیم نہ ہو تو دو۲ یعنی بارہ صورتوں کا اور اضافہ ہوگا اور غلطی اڑتالیس۴۸ صورتوں کو شامل ہوجائے گی۔
ثالثا : ان کا قول “ وان سأل فمنع “ (اگر مانگنے پر اس نے انکار کیا) جیسا کہ انہوں نے
عــہ۱ ھی ۹ ، ۱۰ ، ۱۳ ، ۱۴ (م) (یہ ۹ ، ۱۰ ، ۱۳ ، ۱۴ ہیں۔ ت)
عــہ۲ ھما ۱۷ ، ۱۸ (م ) (یہ ۱۷ اور ۱۸ ہیں۔ ت)
عــہ۳ ھما ۲۲ ، ۲۶ (م) (یہ ۲۲ اور ۲۶ ہیں۔ ت)
عــہ۴ ھما ۲۱ ، ۲۵ (م) (یہ ۲۱ اور ۲۵ ہیں۔ ت)
وبعدھا فیشمل المنع قبلھا وبعدھا فتخصیص المنع بماقبلھا فی قولہ ولافائدۃ الخ لافائدۃ فیہ بل قدیوھم ان لیس الحکم کذا ان منع بعدھا ثم اعطی ولیس کذلك کماقدمنا فی شرح القانون الصدری والمسألۃ العاشرۃ فالوجہ اسقاط لفظۃ قبلھا۔
ورابعًا : لم تکن(۱) حاجۃ الی التشقیق بالظنین والتشکیك من اول الامر لانہ انما تمس الیہ الحاجۃ فیما اذا لم یسأل ولم یعط ولم یعد
وھی خلافیۃ علی فرض الخلاف۔
وخامسًا : حط(۲) کلامہ فی ھذا اعنی الذی جعلہ خلافیۃ علی انہ ان ظن العطاء فالمختار مذھب الصاحبین ای سواء کان الموضع موضع عزۃ الماء اوموضع بذلہ بدلیل اطلاق ھنا والتفصیل فی المنع والشك وان ظن المنع فان کان الموضع موضع العزۃ فالمختار مذھب الامام وان کان موضع البذل اوشك فی موضع العزۃ فقولھما احوط وقولہ اوسع ولاادری لم ترك الشك فی موضع البذل۔
تصریح کی قبل نماز اور بعد نماز دونوں وقت مانگنے کو شامل ہے تو قبل نماز اور بعد نماز انکار کو بھی شامل ہوگا تو اپنی عبارت “ ولافائدۃ فی العطاء بعدھا بعد المنع قبلھا “ (بعد نماز دینے میں کوئی فائدہ نہیں اس کے بعد کہ نماز سے پہلے انکار کردیا ہو) میں منع کو قبل نماز سے خاص کرنے میں کوئی فائدہ نہیں بلکہ اس سے یہ وہم پیدا ہوتا ہے کہ اگر بعد نماز انکار کیا پھر دے دیا تو یہ حکم نہیں حالانکہ ایسا نہیں جیسا کہ قانون صدر الشریعۃ کی شرح اور مسئلہ وہم میں بیان کرچکے۔ تو مناسب یہی تھا کہ لفظ “ قبلھا “ ساقط کردیا جاتا۔
رابعًا : اوّل امر سے ہی دونوں ظن اور شك کی شقیں نکالنے کی کوئی ضرورت نہ تھی اس کی ضرورت تو اس وقت ہوتی ہے جب اِس نے نہ مانگا اور اس نے نہ دیا نہ وعدہ کیا اور یہی اختلافی صورت ہے اگر فرض کیا جائے کہ خلاف ہے۔
خامسا : جس کو خلاف قرار دیا ہے اس میں اپنا کلام اس پر اتارا کہ اگر اسے ظن عطا ہو تو مختار صاحبین کا مذہب ہے یعنی خواہ وہ جگہ پانی کی کم یابی کی ہو یا پانی دئے جانے کی جگہ ہو اس کی دلیل یہاں اس کو مطلق ذکر کرنا اور منع وشك میں تفصیل کرنا ہے اگر اسے ظن منع ہو اگر وہ جگہ پانی کی کمیابی کی ہو تو مختار امام صاحب کا مذہب ہے اور اگر جگہ پانی خرچ کیے جانے کی ہو یا اسے پانی کی کمیابی کی جگہ میں شك ہو تو صاحبین کے قول میں زیادہ احتیاط ہے اور امام صاحب کے قول میں زیادہ وسعت ہے۔ پتا نہیں بذل کی جگہ شك ہونے کا ذکر کیوں چھوڑ دیا۔ (ت)
فان قیل الاصل فی الماء الاباحۃ فلایعتری الشك الافی محل العزۃ۔
اقول : فکیف ظن المنع فی محل البذل فان جاز ذلك لامور خارجۃ فالشك اولٰی۔
وسادسا : لم(۱) کان الاحوط قولھما عند ظن المنع فی محل البذل لافی محل العزۃ فقد حققنا فی المسألۃ السادسۃ ان ذکر الموضع ذکر المظنۃ والمناط حقیقۃ ظنہ ولربما یظن العطاء فی محل المنع والمنع فی محل العطاء ظنًا صحیحًا صادقًا ناشئا عن دلیل معتمد فان ادیرالامر علٰی ظنہ کما ھوالتحقیق سقط الفرق بحال المحل وکان الاحوط قولھما اذاشك فی محل ما مطلقا لا اذا ظن المنع ولوفی محل البذل وان حکم بالمظنۃ مع قطع النظر عن ظنہ فلم جعلتم المختار قولھما فی ظن العطاء ولوکان فی محل العزۃ۔
وسابعا : ان(۲) ارید بالاحوط مافیہ الخروج عن العھدۃ بیقین کان قولھما احوط مطلقا وان اریدبہ الاقوی دلیلا فکیف یکون احوط عند
$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع