30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہوتی ہیں ، ان میں سے چھ۶ صورتوں دو ثلاثی اور چار سداسی میں پانی دینا ہے تو یہ تیس۳۰ صورتیں ہیں ،
اور بارہ صورتوں میں قبل نماز یا دورانِ نماز وعدہ ہے ان میں سے آٹھ ثلاثی اور چار سداسی ہیں تو یہ اڑتالیس۴۸ صورتیں ہُوئیں تو کل اٹھتّر۷۸ صورتیں ایسی ہیں کہ کسی کو شك نہ ہوگا کہ ان میں نماز کا بطلان متفق علیہ ہے جس میں ہدایہ ومبسوط کا اختلاف جاری نہیں اس لئے کہ تکمیل نماز سے پہلے عطا اور وعدہ دونوں ہی تیمم سے مانع اس کیلئے ناقض اور نماز کے لئے مبطل ہیں جس میں کوئی اختلاف نہیں خواہ بعد وعدہ وقت میں دے یا بعد وقت یا وعدہ خلافی کرتے ہوئے یا بلا وعدہ خلافی کے نہ دے ان ہی کی مثل وعدہ بعد نماز میں وقت کے اندر دینے کی دو صورتیں ہیں اس لئے کہ دینا باطل کردیتا ہے اگرچہ وعدہ نہ ہوا ، اور وعدہ بھی ہے تو اس کی قوت میں اور اضافہ ہی کرے گا اسی طرح وقت کے اندر عدم عطا کی دو۲ صورتیں جبکہ وعدہ خلافی نہ ظاہر ہو اس لئے کہ وعدہ عطا کا ظن پیدا کرتا ہے اور اس کے خلاف ظاہر نہ ہُوا اور حقیقت کا ادراك ہاتھ میں نہ رہا تو بنائے کار اس کے ظن پر ہوگی تو یہ چار جن میں سب سُداسی ہوکر چوبیس۲۴ ہوئیں سابقہ
عــہ۱ وھی ۷ الی ۱۴۔ (م) (یہ ۷ سے ۱۴ تك ہیں۔ ت)
عــہ۲ ھما ۱۹ ، ۲۳۔ (م) (یہ ۱۹ ، ۲۳ ہیں۔ ت)
عــہ۳ ھما ۲۲ ، ۲۶ (م) (یہ ۲۲ ، ۲۶ ہیں۔ ت)
عــہ۴ ھما ۲۰ ، ۲۴ (م) (یہ ۲۰ ، ۲۴ ہیں۔ ت)
عــہ۵ ھما ۲۱ ، ۲۵ (م) (یہ ۲۱ ، ۲۵ ہیں۔ ت)
الوقت ایضا خلف کماقدمت ، والخامس : عــہ لاوعد ولااعطی فھذہ یجری فیھاالخلاف علی فرض ابقائہ فالمبسوط یقول بطلت لترك السؤال والھدایۃ صحت لان السؤال غیر واجب ولم یوجد عطاء ولاوعداو زال ظن الوعد بالاخلاف ولاجل ان کل ھذہ الخمس سداسیات ھی ثلثون وعلی تشطیر البحر خمسۃ عشر ھذاکلہ علی استظھاری ان الوعد بعدالصلاۃ اذاظھرخلفہ لم یؤثرفی صلاۃ مضت فان لم یسلم لم یبق للخلاف محل غیر صورۃ واحدۃ من السبع والعشرین وھی مااذالم یعد ولم یعط فیکون الغلط فی ثلثۃ وستین من ستۃ وستین وان اکملناباخذ متروکاتہ کمافعلناکان الغلط فی مائۃ واثنین اومائۃ وستۃ وعشرین من مائۃ واثنین وثلثین وھا انالك اصورھا٭ کی یسھل علیك تصورھا٭ وبالله التوفیق٭
کے ساتھ مل کر ایك سودو۱۰۲ ہوگئیں لیکن بحر نے خاص اس صورت پر کلام کیا ہے جب بیرونِ نماز دیکھا ہو تو آدھی رہ گئیں اور ستائیس۲۷ میں سے صرف پانچ بچیں چار وعدہ بعد نماز میں جب کہ بعد وقت دیا ، یا وعدہ خلافی کرتے ہوئے نہ دیا۔ اور بعد وقت دینا بھی وعدہ خلافی ہی ہے جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا۔ اور پانچویں صورت وہ کہ نہ وعدہ ہو نہ عطا۔ یہ وہ صورتیں ہیں جن میں اختلاف جاری ہوگا اگر یہ مانیں کہ اختلاف باقی ہے تو مبسوط کا قول ہے کہ ترك سوال کی وجہ سے نماز باطل ہے اور ہدایہ کا قول ہے کہ صحیح ہے اس لئے کہ سوال واجب نہیں اور عطا نہ پائی گئی نہ ہی وعدہ ہوا یا ہوا ظن وعدہ ، خلف کی وجہ سے زائل ہوگیا۔ چونکہ ان پانچ میں سے ہر ایك سداسی ہے کل تیس۳۰ صورتیں ہُوئیں اور بحر کے آدھے بیان کی وجہ سے پندرہ۱۵ ہوئیں یہ سب اس بنیاد پر ہے کہ میں نے کہا کہ ظاہر یہ ہے کہ بعد نماز وعدہ کے خلاف جب ظاہر ہوجائے تو وہ ادا شدہ نماز میں اثر انداز نہ ہوگا۔ اگر میرا یہ خیال تسلیم نہ ہو تو ستائیس۲۷ میں سے ایك صورت کے سوا کہیں اختلاف نہ رہ جائے گا۔ وہ صورت یہ ہے کہ نہ وعدہ ہو نہ عطا ہو۔ تو چھیاسٹھ۶۶ میں سے تریسٹھ۶۳ میں خطا ثابت ہوگی اور اگر ان کی متروکات کولے کر ہم کامل کریں جیسا کہ پہلے ہم نے کیا تو غلطی ایك سو بتیس۱۳۲ میں سے ایك سوچھبیس۱۲۶ میں ہوگی ان صورتوں کا ایك نقشہ پیش کیا جاتا ہے تاکہ انہیں ذہن نشین کرنے میں سہولت ہو اور خدا ہی سے توفیق ہے۔ (ت)
عــہ وھی ۲۷۔ (م) (یہ ۲۷ ہے۔ ت)

کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع