دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 4 | فتاوی رضویہ جلد ۴

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۴

وعدہ ہوا تو اسے روا نہیں کہ تیمم کرے یا نماز پڑھے خواہ ابتداءً یا دوبارہ۔ جب یہ معلوم ہوگیا تو دیکھئے جب سوال قبل تیمم ہو تو سب صورتیں ہوسکتی ہیں۔ تو اس کی آٹھ صورتیں ہر عطائے آجل غیر وعدہ کی چھ۶ صورتوں کے ساتھ اور وعدہ کی دو صورتیں عدم عطا کی چار۴ اور عطائے آجل کی ایك صورت کے ساتھ کُل انیس۱۹ صورتیں ہوئیں اور ثلاثی ہونے کی وجہ سے ستاون۵۷ ہوئیں۔ اور جب سوال بعد تیمم قبل نماز ہو تو عطائے آجل کی چھ۶ میں سے پہلی شکل نکل جائے گی اور وہ یہ کہ عطا قبل تیمم ہو اب سکوت وانکار ہر ایك میں پانچ صورتیں ہیں چھٹی شکل عدم عطا ہے تو بارہ صورتیں ہوئیں اور وعدہ کی چار صورتیں رہیں جیسے پہلے تھیں یعنی وقت کے اندر دے یا اس کے بعد یا وعدہ خلافی کرتے ہُوئے نہ دے یا بغیر وعدہ خلافی کے نہ دے اور ایك عطائے عاجل والی صورت ہے

 

عــہ  لانہ فی الوعد یعطی فی الوقت اوبعدہ اولایعطی مخلفا اوغیر مخلف ھذہ اربعۃ وفی کل من السکوت والاباء لایعطی اویعطی قبل التیمم اوقبل الصلاۃ اوفیھا اوبعدھا فی الوقت فھی سبعۃ فی کلیھما فاربعۃ مع اربعۃ عشرو واحد ھو العطاء العاجل صارت تسعۃ عشر ۱۲ منہ غفرلہ (م)                      

اس لئے کہ بصورت وعدہ یا تو وقت۱ میں دے دے گا یا بعد۲ وقت دے گا یا وعدہ۳ خلافی کرتے ہوئے یا بغیر وعدہ۴ خلافی کے نہ دے گا۔ یہ چار۴ صورتیں ہوئیں اور سکوت وانکار ہر ایك میں یا تو نہ۱ دے گا یا قبل۲ تیمم دے گا یا قبل۳ نماز یا دورانِ نماز ۴یا بعد نماز ۵ وقت میں اطلاع سے قبل یا بعد۶ ، یا بعدِ وقت ۷ تو دونوں میں یہ سات۷ صورتیں ہیں تو چار۴ صورتیں ، ان چودہ صورتوں کے ساتھ اور ایك صورت عطائے عاجل کے ساتھ کُل انیس۱۹ صورتیں ہُوئیں ۱۲ منہ غفرلہ (ت)

واذا کان بعدھا خرج من عطایا السکوت والاباء الثلثۃ الاُول ففی کل مع عدم العطاء اربعۃ وفی الوعد اربعۃ کالرسم فھی اثنا عشر والعطاء العاجل ھھنا وجھان اعطاہ بعد مارأہ یتیمم ویصلی بہ اولم یطلع علیہ ویحتاج الٰی ھذا التقسیم لدفع توھم ان لورأہ فسکت دل علی المنع فلاینفع العطاء بعدہ وقد ازحناہ فی المسألۃ التاسعۃ فصارت اربعۃ عشرو بالتسدیس اربعۃ وثمانین ففریق السؤال مائتان واربعۃ وتسعون۔

و اذا لم یسأل فیعطی من دون وعد اویعد اولا ولاوھھنا نفس ھذا العطاء علٰی ستۃ وجوہ العطاءِ الاٰجل ثمہ الاولان منھا ثلاثیان وسائر ھن سداسیات کثالث ھذہ الاقسام اعنی لاولا فکانت ستۃ وثلثین والوعد علٰی خمسۃ وجوہ الاولین الثلاثین وثلثۃ تلیھا سداسیات لان الوعد بلاسؤال فی وقت اٰخرلا تعلق لہ بھذہ الصلاۃ فکانت اربعۃ وعشرین ثم فی کل وعد اربعۃ کالرسم فھی ستۃ وتسعون ومع ستۃ وثلثین المزبورات

تو سترہ۱۷ صورتیں ہُوئیں اور تین میں ضرب دینے سے اکیاون۵۱ ہوگئیں۔ اور جب سوال اندرونِ نماز ہو تو اس سے پہلے والے کی طرح یہاں بھی سترہ۱۷ قسمیں ہوں گی مگر یہ کہ ان میں سے ہر ایك میں چھ صورتیں ہیں تو ایك سو دو۱۰۲ صورتیں ہوگئیں ، اور جب بعد نماز ہو تو سکوت وانکار کی عطا والی صورتوں میں سے پہلی تین نکل جائیں گی تو ہر ایك میں عدم عطا کے ساتھ چار اور وعدہ میں بدستور چار رہیں گی۔ یہ بارہ صورتیں ہیں اور عطائے عاجل کی یہاں دو شکلیں ہیں اسے تیمم کرتے اور نماز پڑھتے ہوئے دیکھنے کے بعد دیا یا اس پر مطلع نہ ہوا۔ اور اس تقسیم کی ضرورت یہ وہم دفع کرنے کیلئے ہے کہ اگر اسے دیکھ کر سکوت کرتا تو یہ دلیل منع ہوتا اس کے بعد دینا کار آمد نہ ہوتا۔ مسئلہ نہم میں ہم یہ وہم دُور کر آئے ہیں تو چودہ۱۴ صورتیں ہوئیں جو چھ میں ضرب دینے سے چوراسی۸۴ بنیں۔ اس طرح سوال کی شق میں کُل دوسوچورانوے۲۹۴ صورتیں ہوئیں۔ (ت)

اور جب سوال نہ کرے تو وہ یا تو بغیر وعدہ کیے دے دے گا یا وعدہ کرے گا یا نہ دے گا نہ وعدہ کرے گا۔ یہاں خود یہ عطا وہاں کی عطائے آجل کی چھ۶ صورتوں پر ہے۔ ان میں سے پہلی دو ، ثلاثی ہیں اور باقی سُداسی ہیں جیسے اِن اقسام میں سے تیسری ، یعنی نہ عطا ہو نہ وعدہ۔ تو چھتیس۳۶ صورتیں ہوئیں۔ اور وعدہ میں پانچ صورتیں ہیں پہلی دو ، ثلاثی اور ان کے بعد تین سُداسی۔ اس لئے کہ دوسرے وقت میں بلاسوال وعدہ کو اِس نماز سے کوئی تعلق نہیں تو یہ چوبیس۲۴ صورتیں ہوئیں۔ پھر ہر وعدہ پر بدستور چار۴ صورتیں۔ یہ چھیانوے۹۶

مائۃواثنان وثلثون۱۳۲فصارت مع صور السؤال اربعمائۃ وستۃ وعشرین۔ ۴۲۶

اقول :  واعلم ان الظاھر من کلماتھم نفعناالله تعالٰی برکاتھم قصر النظر علی الاعطاء والاباء فبھماعبروا فی الزیادات وجامع الامام الکرخی وبدائع ملك العلماء وحلیۃ المحقق وضابطۃ الامام صدر الشریعۃ کماسمعت نصوصھم والمحقق الحلبی فی الغنیۃ تارۃ قال فی التصویر اما ان یعطی اویمنع تارۃ قال فی التصویر اما ان یعطی اویمنع وتارۃ قال اماان یعطی اولا فاذا اتی علی الحکم قال ان سأل فاعطی وان سأل فمنع ولم یذکرالواسطۃ کماستسمع نصہ ان شاء الله تعالٰی وکذلك المحقق البحرقال فی الشقوق اعطاہ اولاوفی بیان الاحکام فی ما اذا رأی فی الصلاۃ اتی مرتین بالنفی والاثبات ومرتین بان اعطی وان ابی وفی خارج الصلاۃ مرۃ کالاول ومرۃ کالثانی واخوہ فی النھرلخص کلامہ فعبر فی موضعین عن قولہ وان ابی بقولہ والاولذالم نعدلہ ضابطۃ بحیالھافظھران مرادھم ھھنابنفی الاعطاء ھوالاباء فلایرد علی البحر

صورتیں ہیں اور مذکور چھتیس۳۶ کے ساتھ مل کر ایك سوبتیس۱۳۲ صورتیں بنتی ہیں پھر سوال کی (۲۹۴) صورتوں کے ساتھ مل کر کُل چارسوچھبیس۴۲۶ صورتیں ہوجاتی ہیں۔ (ت)

اقول : معلوم رہے کہ ان حضرات (خدا ہمیں ان کے برکات سے نفع بخشے) کے کلمات سے ظاہر یہ ہے کہ انہوں نے عطا وانکار پر نظر محدود رکھی ہے۔ عطاء وِاباء سے ہی زیادات ، جامع کرخی ، بدائع ملك العلماء ، حلیہ محقق ، اور ضابطہ امام صدر الشریعۃ میں تعبیر آئی ، جیسا کہ ان کی عبارتیں پیش ہوئیں۔ محقق حلبی نے غنیہ کے اندر بیان صورت میں کبھی کہا اما ان یعطی اویمنع (یا تو دے گا یا منع کرے گا) اور کبھی کہا اما ان یعطی اولا (یا تو دے گا یا نہ دے) پھر جب بیان حکم پر آئے تو کہا ان سأل فاعطی وان سأل فمنع (اگر مانگا تودے دیا ، اور اگر مانگا تو مانع ہوا) اور کوئی واسطہ ذکر نہ کیا ، جیسا کہ ان کی عبارت اِن شاء الله تعالٰی پیش ہوگی۔ اسی طرح محقق بحر نے شقوں کو بتاتے ہوئے کہا اعطاہ اولا (اسے دے گا یا نہ دے گا)( اور بیان احکام میں اندرونِ نماز دیکھنے کی صورت میں دوبار نفی واثبات لائے اور دوبار “ ان اعطی وان ابی “ (اگر دیا ، اگر انکار کیا) لائے۔ اور بیرون نماز دیکھنے کی صورت میں ایك بار بطرز اول اور ایك بار بطرز ثانی۔ ان کے برادر نے النہرالفائق میں

ولاعلی الغنیۃ انھما ذکرافی التشقیق العطاء وعدمہ واقتصر البحر فی نصف الاحکام علی العطاء والاباء والغنیۃ لم تذکر غیرھما۔

ولا ان قول البحر مرتین ان اعطاہ توضأ والافتیممہ باق وکذا قول النھر ان لم یعطہ بقی تیممہ صادق بمااذالم یعط بل وعدولم یعط بعدالوعد ایضا مثلا مع ان تیممہ ینتقض باجماع اصحابنا رضی الله تعالٰی عنھم اذاعلم ھذا فمن سبرظھر لہ وفورما ترك البحر من الصور واستبان ان(۱) جعلہ عدم السؤال خلافیۃ بین الھدایۃ والمبسوط مطلقا لایصح فی احد وخمسین من ستۃ وستین لان اقسام عدم السؤال قبل التثلیث والتسدیس سبعۃ وعشرون فی ستۃ عــہ۱ منھا ثلاثیین عــہ۲ واربعۃ سداسیات عطاء الماء فھی ثلثون عــہ۳ ، وفی اثنی عشر الوعد قبل الصلاۃ

انہی کے کلام کی تلخیص کی ہے تودو جگہ ان کے قول “ وان ابی “ (اگر انکار کریں )کی تعبیر “ و الا “ (ورنہ) سے کی ہے اسی لئے ہم نے ان کا کوئی مستقل ضابطہ نہ شمارکیاتوظاہر ہواکہ یہاں نفی عطاء سے ان حضرات کی مراد انکار ہے۔ تو بحر اور غنیہ پر یہ اعتراض نہ وارد ہوگا کہ دونوں نے شقوں کے بیان میں عطا وعدم عطا ذکر کیا اور بحر میں نصف احکام کے اندر عطاء واِباء پر اقتصار کیا۔ اور غنیہ نے عطا واِباء کے سوا کچھ ذکر ہی نہ کیا۔ (ت)

نہ ہی یہ اعتراض ہوگا کہ دوبار بحر کا یہ کہنا “ ان اعطاہ توضأ والافتیممہ باق “ (اگر دے دے وضو کرے ورنہ اس کا تیمم باقی ہے) اسی طرح نہر کا کہنا ان لم یعطہ بقی تیممہ (اگر نہ دے تو اس کا تیمم باقی ہے اس صورت میں

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن