30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

ولم یذکر فیما اذارأی فی الصلاۃ الا السؤال قبلھا اوبعدھا فبقی ان لایسأل اصلا وصاحبہ یعطیہ قبل الصلاۃ اوفیھا اوبعدھا اولا فھی اربع علی کل من صور الظنین والشك فکانت اثنتی عشرۃ لم یذکرھا۔
فان قلت لافائدۃ فی التشقیق بعد الاباء قبل الصلاۃ بأنہ سأل بعدھااولا وعلی کل اعطی اولافان الحکم لایختلف وھو صحۃ صلاتہ لان العطاء بعد الاباء غیر مفید کمامر فی المسألۃ العاشرۃ۔
اقول : بلی فائدتہ اعطاء ھذاالحکم الاتری الی قولہ فی الضابطۃ فیمااذارأی فی الصلاۃ وکذااذاابی ثم اعطی وفیمااذارأی خارجھافان منعہ واعطاہ
بعدھا لااعادۃ[1] اھ ولذا اخذہ المحقق الحلبی فی شقوق ضابطتہ کماسیاتی ان شاء الله تعالٰی وان فرض فالکلام علی مسلکہ رحمہ الله تعالٰی وھو لم یعتبر فی الاقسام تمایز الاحکام کماسیاتی وان سلمنا فھی ثمان واربعون ثمان فی ست کماتری وقد تضمن کلامہ حکم ست وثلثین وترك اثنتی عشرۃ۔
علامہ صاحب بحر نے اندرونِ نماز دیکھنے کی تقدیر پر صرف مانگنے کا ذکر کیا ہے قبل نماز ہویا بعد نماز۔ اور یہ شکل رہ گئی کہ بالکل نہ مانگا اور پانی والے نے اسے قبل نماز یا اندرونِ نماز یا بعد نماز دے دیا ، یا نہ دیا تو ظنِ عطا ، ظنِ منع اور شك ہر ایك پر یہ چار چار صورتیں ہوکر بارہ۱۲ ایسی ہوئیں جن کو انہوں نے نہیں ذکر کیا۔ (ت)
اگر یہ سوال ہو کہ قبل نماز انکار ہوجانے کے بعد یہ شقیں نکالنے میں کوئی فائدہ نہیں کہ بعد نماز اس نے مانگا یا نہ مانگا اور بہرتقدیر اس نے دیا یا نہ دیا۔ اس لئے کہ حکم مختلف نہیں ، حکم یہی ہے کہ اس کی نماز صحیح ہے اس لئے کہ انکار کے بعد دینا مفید نہیں جیسا کہ مسئلہ دہم میں گزرا۔ (ت)
اقول : کیوں نہیں۔ یہ حکم دینا ہی اس کا فائدہ ہے۔ ضابطہ میں صاحبِ بحر کا کلام دیکھئے ، اندرونِ نماز دیکھنے کے تحت ہے “ اور ایسے ہی جب انکار کردے پھر دے دے “ اور بیرونِ نماز دیکھنے کے تحت ہے “ تو اگر (اس وقت) نہ دیا اور بعد نماز دے دیا تو اعادہ نہیں “ اھ۔ اسی لئے محقق حلبی نے بھی اسے اپنے ضابطہ کی شقوں میں لیا ہے جیسا کہ ان کا کلام اِن شاء الله تعالٰی آئے گا۔ اور اگر بے فائدہ ہی فرض کرلیا جائے تو یہاں کلام صاحبِ بحر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے مسلك پر ہے اور انہوں نے قسموں کے اندر احکام کے جُدا گانہ ہونے کا اعتبار نہیں کیا ہے جیسا کہ اس کا بیان آرہا ہے اور اگر ہم تسلیم ہی کرلیں تو یہ اڑتالیس۴۸ صورتیں ہیں چھ میں آٹھ۔ ۸*۶ = ۴۸ جیسا کہ پیش نظر ہے اور ان کا کلام صرف چھتیس۳۶ صورتوں کے حکم پر مشتمل ہے۔ بارہ۱۲ صورتیں انہوں نے چھوڑدیں۔ (ت )
وثانیا : نقل(۱) التوفیق عن الذخیرۃ عن الجصاص وھو التحقیق فارسالہ مااذا کان خارج الصلاۃ ولم یسأل اصلا خلافیۃ غیرمقطوع فیھا بقول ممالاینبغی۔
وثالثا : قد(۲)مشی علیہ فیمن رأی فی الصلاۃ یقطع ان ظن العطاء والالا ومامبناہ الاذلك التوفیق انہ یجب السؤال ان ظن العطاء والالا کماقدمنافقدمشی علی التوفیق ثم جعل الکل خلافیۃ وانماکان الوجہ ان یحیل ھذہ ایضا علی الخلاف اویقطع القول فی تلك ایضا۔
ورابعا : قولہ(۳) فیمااذارأی خارجھا فسأل فمنع فتیمم فصلی انہ لایتأتی فیہ الظن والشك فیہ شك ای شك فان اراد عدم تأتیھمابعد المنع فالمنع لایختص بھذاالقسم وایضا لاتأتی لھمابعد الاعطاء ایضا بل اولی لانہ تم الامر وفی المنع یحتمل ان یحملہ علی حالۃ راھنۃ ویظن بہ عطاء اومنعااویشك فیمابعدذلك وان اراد مطلقا وھوالظاھرمن کلامہ فعدم تأتیھما بعد المنع لا یمنع تأتیھما قبلہ وقد جعل(۴)الاقسام
ثانیا : ذخیرہ کے ذریعہ امام جصاص سے تطبیق نقل کی۔ وہی تحقیق بھی ہے اس کے باوجود بیرونِ نماز رہ کر بالکل نہ مانگنے والی صورت کو کوئی قطعی قول پیش کیے بغیر اختلافی چھوڑ دینا مناسب نہیں۔
ثالثا : اسی پر اس کے بارے میں چلے ہیں جو اندرونِ نماز دیکھے تو اگر ظنِ عطا ہو نماز توڑدے ورنہ نہیں۔ اس کی بنیاد وہی تطبیق ہے کہ مانگنا واجب ہے اگر عطا کا گمان ہو ورنہ نہیں جیسا کہ ہم نے بیان کیا تو یہاں تطبیق پر چلے پھر سب کو خلافی بنادیا۔ مناسب طریقہ یہی تھا کہ یا تو اِسے بھی اختلاف کے حوالے کرتے یا اُس میں بھی قطعی قول کرتے۔
رابعا : یہ صورت کہ “ بیرونِ نماز دیکھنے پر مانگا تو اس نے نہ دیا پھر تیمم کرکے نماز پڑھ لی “ ۔ اس کے بارے میں انہوں نے فرمایا کہ “ اس قسم میں ظن یا شك کی صورت نہیں “ یہ کلام بڑے شك واعتراض کا محل ہے اگر یہ مراد ہے کہ بعد منع ظن یا شك نہیں ہوتا تو منع اسی قسم کے ساتھ خاص نہیں بلکہ بدرجہ اولٰی نہیں ، اس لئے کہ کام پُورا ہوگیا۔ اور منع میں تو یہ احتمال ہے کہ اس منع کو موجودہ حالت پر محمولہ کرے اور اس کے بعد اس سے دینے یا نہ دینے کا گمان یا شك رکھے۔ اور اگر یہ مراد ہے کہ مطلقًا ظن یا شك نہیں ہوتا۔ یہی ان کے کلام سے ظاہر بھی ہے تو اس پر یہ کلام ہے کہ بعد منع ظن وشك کی صورت نہ ہونا اس سے مانع نہیں کہ قبل منع ظن یا شك رہا ہو۔ انہوں
اولا ستایکون فی الصلاۃ اوخارجھا وعلی کل یظن عطاء اومنعا اویشك ثم فصل کلامنھا الی السؤال وعدمہ والعطاء والاباء فکیف یخرج ھذامن الظن والشك وان خرج کیف تصیر اربعا وعشرین۔
وخامسا : لاتخالف الرؤیۃ فی الصلاۃ وخارجھا فی شیئ من الاحکام ولااقسام الرؤیۃ فی الصلاۃ فیمابینھا غیر انہ یقطع ان ظن العطاء والالا فماکان لیدخل فی الشقوق فیطول الامر وکان یجمع جمیع(۱)ماقالہ بل مع الزیادۃ واحاطۃ الست المتروکۃ ان یقول من علم مع غیرہ ماء یکفی لطھرہ قبل الصلاۃ اوفیھا فان لم یسأل فعلی الخلاف وان سأل فان اعطی توضأ وان کان تیمم انتقض وان کان صلی بطلت وان منع تیمم اولم ینتقض اومضت ولاعبرۃ بالعطاء بعد الاباء فی الوجھین وسواء فی کل ذلك ظن عطاء قطع الصلاۃ والالا فھذا نحوثلث سطورہ بیدان الثلث کثیر۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع