30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اقول : والجواب عن الکل فی حرف واحدان السؤال واجب مھما امکن فاذا تعذر دار الامر علی الظن٭وقولہ(۱) فاذا ظھرخلافہ لیس فی الحکم حتی یؤخذ مفھومہ بل فی تعلیل مسألۃ وکان الواقع فیھاظھور خلافہ فبنی الامر علیہ والله تعالٰی اعلم۔
الثانی القانون البحری
قال رحمہ الله تعالٰی ان المتیمم اذارأی مع رجل ماء کافیا فلا یخلو اماان یکون فی الصلاۃ اوخارجھا وفی کل منھما اما ان یغلب علی ظنہ الاعطاء اوعدمہ اویشك وفی کل منھا اما ان سألہ اولا وفی کل منھا اما ان اعطاہ اولافھی اربعۃ وعشرون فان کان فی الصلاۃ وغلب علی ظنہ الاعطاء قطع وطلب الماء فان اعطاہ توضأ والا فتیممہ باق فلو اتمھا ثم سألہ فان اعطاہ استأنف وان ابی تمت وکذا اذا ابی ثم اعطی وان غلب علی ظنہ عدم الاعطاء اوشك لایقطع صلاتہ فان قطع وسأل فان اعطاہ توضأ والا فتیممہ باق وان اتم ثم سأل فان اعطاہ بطلت وان ابی تمت
اقول : ایك حرف میں سب کا جواب یہ ہے کہ بصورت امکان سوال واجب ہے جب یہ معتذر ہو تو حکم کا مدار ظن پر ہے۔ اور صدر الشریعۃ کا قول “ فاذا ظھر خلافہ “ (تو جب اس کے خلاف ظاہر ہوا)حکم کے تحت نہیں کہ اس کا مفہوم لیا جائے بلکہ وہ ایك مسئلہ کی تعلیل کے تحت ہے اور اس میں واقع یہی تھا کہ اس کے خلاف ظاہر ہوا ، تو بنائے کار اسی پر رکھی اور خدائے برتر خُوب جاننے والا ہے۔ (ت)
دوم : قانون علامہ صاحب البحر
صاحبِ بحر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے فرمایا : “ معلوم ہوا کہ تیمم والا جب کسی آدمی کے ساتھ آب کافی دیکھے تو دو صورتوں سے خالی نہیں یاتویہ دیکھنا اندرون نمازہوگایابیرونِ نماز ہوگا۔ اور ہر ایك میں یا تو دینے یا نہ دینے کا غلبہ ظن ہوگا یا شك ہوگا۔ اور ان میں سے ہر ایك میں یا تو اس سے طلب کیا ہوگا یا نہ کیا ہوگا۔ اور ہر ایك میں یا تو اس نے دیا ہوگا یا نہ دیا ہوگا تو یہ چوبیس۲۴ صورتیں ہوئیں۔ اگر اندرونِ نماز ہو اور دینے کا غلبہ ظن ہو تو نماز توڑ دے اور پانی طلب کرے۔ اگر دے دے تو وضو کرے ورنہ اس کا تیمم باقی ہے اگر نماز پُوری کرلی پھر مانگا تو اگر دے دے ازسرِنو نماز پڑھے اور اگر انکار کردے تو اس کی نماز پُوری ہوگئی۔ اسی طرح جب انکار کردے پھر دے دے۔ اور اگر اسے نہ دینے کا غلبہ ظن ہو یا شك ہو تو نماز
وان کان خارج الصلاۃ فان لم یسأل وتیمم وصلی جازت الصلاۃ علی مافی الھدایۃ ولاتجوز علی مافی المبسوط فان سأل بعدھا فان اعطاہ اعاد والافلا سواء ظن الاعطاء اوالمنع اوشك وان سأل فان اعطاہ توضأ وان منعہ تیمم وصلی فان اعطاہ بعدھا لااعادۃ علیہ وینتقض تیممہ ولایتأتی فی ھذ القسم الظن اوالشك وھذا حاصل مافی الزیادات وغیرھا وھذا الضبط من خواص ھذا الکتاب[1] اھ وتبعہ اخوہ وتلمیذہ المدقق فی النھر اثر عنہ ش واقر۔
اقول : اولا : (۱)بل ھی علی ماسلك ست وستون تضمن کلامہ بیان اربع وخمسین وبقیت علیہ اثنتا عشرۃ وذلك لانہ اما ان یراہ فی الصلاۃ اوقبلھا وعلی کل یظن العطاء اوالمنع اویشك فھی ست وفی کل منھااحدی عشرۃ لانہ اما ان یسأل قبل الصلاۃ او بعدھا اولاولا کیف وقدمر علی ھذا
نہ توڑے۔ اور اگر توڑ دی اور مانگا تو اگر دے دے وضو کرے ورنہ اس کا تیمم باقی ہے۔ اور اگر پُوری کرلی پھر مانگا تو اگر دے دے نماز باطل ہوگئی اور اگر انکار کردے تو تام ہے اور اگر بیرونِ نماز ہو تو اگر نہ مانگااور تیمم سے نماز ادا کرلی تو کلامِ ہدایہ کے مطابق نمازہوگئی اور بیانِ مبسوط کے مطابق نہ ہُوئی اگر بعد نماز مانگا تو اگر وہ دے دے اعادہ کرے ورنہ نہیں خواہ عطا کا گمان رہا ہو یا منع کا یا شك رہا ہو۔ اور اگر مانگا تو دینے کی صورت میں وضو کرے اور انکار کی صورت میں تیمم کرے اور نماز پڑھے۔ اب اگربعد نماز دے دے تو اس پر اعادہ نہیں ، تیمم ٹوٹ جائے گا۔ اس قسم میں ظن یا شك کی صورت ہی نہیں یہ سب اس کا حاصل ہے جو زیادات وغیرہا میں ہے۔ اور یہ انداز ضبط اس کتاب کی خصوصیات سے ہے اھ۔ ان کے برادر تلمیذ مدقق نے النہرالفائق میں اسی کی پیروی کی۔ ان سے علّامہ شامی نے نقل کیا اور برقرار رکھا۔ (ت)
اقول : اولا : بلکہ یہ ان کی روشِ کلام کے مطابق چھیاسٹھ۶۶ صورتیں ہیں جن میں سے چوّن۵۴ صورتوں کا بیان ان کے کلام کے ضمن میں آگیا اور بارہ۱۲ صورتیں رہ گئیں۔ وہ اس لئے کہ یا تو وہ اندرونِ نماز دیکھے گا یا قبل نماز۔ اور بہر دو صورت یا تو اسے عطا کا ظن ہوگا یا انکار کا ، یا شك ہوگا۔ یہ چھ۶ صورتیں ہوئیں اور ان میں سے ہر ایك گیارہ ۱۱ صورتیں ہیں اس لئے کہ وہ یا تو قبل نماز مانگے گا
التقسیم فی قولہ قطع وطلب فلواتم ثم سأل وفی قولہ قطع وسأل وان اتم ثم سأل وفی قولہ فان سأل بعدھاوان سأل ای قبلھا وقال فان لم یسأل ای اصلا (واعنی بالسؤال قبل الصلاۃ قبل تمامھاسواء کان قبل شروعھااوبقطعھا اذارأہ فیھا)وعلی کل من الاولین یعطی اولا وعلی الثالث یعطی قبل الصلاۃ اوفیھا اوبعدھا اولا اصلا فھی ثمان وواحدۃ منھاتصیراربعاوھی مااذا سأل قبلھا فابی فانہ اما ان یعید السؤال بعدھا اولا وعلی کل یعطی اولا فصارت احدی عشرۃ فبلغت ستاوستین وانااصورلك احدی الاسداس لتقیس علیھا سائرھابان تضع ظن المنع مقام ظن العطاء ثم الشك فھی ثلاث وثلثون ثم تضع رأی قبلھا مکان رأی فی الصلاۃ فھی ثلاث وثلثون اخری وھذہ صورتہ۔
یا بعد نماز یا نہ قبل نمازنہ بعد نماز۔ یہ صورتیں کیسے نہ ہونگی جب کہ ان کی روِشِ بیان درج ذیل عبارتوں میں اسی تقسیم پر جاری ہے (دیکھئے ان کی عبارت خط کشیدہ الفاظ ۱۲م۔ الف) (۱) نماز توڑ دے اور پانی طلب کرے اگر نماز پُوری کرلی پھر مانگا (۲) توڑی دی اور مانگا اور اگر پُوری کرلی پھر مانگا (۳) اگر بعد نماز مانگا اور اگر مانگا (۳) اگر بعد نماز مانگا اور اگر مانگا یعنی قبل نماز اور فرمایا : $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع