دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 4 | فتاوی رضویہ جلد ۴

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۴

اس نماز کی ادائیگی پر برقرار رہنا کیسے جائز ہوا؟بلکہ یہ سوال بھی ہے کہ جو عطاء کا ظن رکھتا ہو اس کیلئے آپ نے یہ کیوں کہاکہ نماز توڑدے؟ توڑنا تو اسی کا ہوتاہے جو بندھ چکا ہو اور جس کا انعقاد ہوگیا ہواوریہاں ظن عطااوراس کے ماسوا میں فرق سے کیا فائدہ؟شرط کا ترك تو مطلقًا مبطل ہے اور اُس صورت میں آپ نے نماز کو تام قرار دیا جب اس نےبعد نماز  طلب کیا اور اس نے انکار کردیا اگرچہ اسے عطا کا گمان رہا ہو اس پر سوال یہ ہے کہ آپ نے نماز کو تام کیسے قرار دیا؟جو عمل کسی شرط صحت کے فقدان کی وجہ سے باطل واقع ہوا وہ بعد میں جائز کی صورت میں تبدیل نہیں ہوسکتا۔ ایسے اس کا حال ہے جسے قربِ آب کا ظن تھا اور اس نے پانی تلاش نہ کیا۔ تیمم سے نماز پڑھ لی پھر تلاش کیا تو نہ پایا جب بھی اس کی نماز باطل ہے جیسا کہ سراج وہاج اور جوہرہ کے حوالہ سے بیان ہوا۔ بلکہ جو سوال نمازکی شرط تھا وہ نماز سے مؤخر کیسے ہوگا؟ شرط تو مشروط سے مؤخر

 

عــہ  فان قلت کیف تقول ھذا مع تصریحھم بان(۱) علم المقتدی بحال الامام من سفر واقامۃ شرط صحۃ الاقتداء کمافی الخانیۃ والبحروالدر وغیرھا ثم صرحوا بأنہ لایشترط حصولہ من الابتداء بل یکفی حصولہ بعد الصلاۃ باخبار الامام مثلا انہ            

اگر یہ سوال ہو کہ آپ یہ کیسے کہہ رہے ہیں کہ فقہاء نے صراحت فرمائی ہے کہ مقتدی کو امام کی حالت سفر واقامت کا علم ہونا “ صحت اقتدا کی شرط ہے “ جیسا کہ خانیہ ، بحر اور درمختار وغیرہا میں ہے۔ پھر یہ بھی صراحت فرمائی ہے کہ شروع ہی سے یہ علم ہونا شرط نہیں بلکہ بعد نماز یہ علم ہوجانابھی کافی ہے مثلًا اس طرح کہ امام(بعد نماز)بتادے کہ وہ(باقی برصٖفحہ آئندہ)

المشروط وعلی الاول لم قلتم بطلت صلاتہ بترك السؤال بعدھا وان ظن منعا اوشك فترك المرء بعض مایجب علیہ لایفسد صلاتہ مالم یخل ذلك بشیئ من شروط صحتھا۔

فان قلت کیف حکمتم ببطلان صلاتہ اذاظن العطاء ولم یسأل فمامنہ الاترك مالیس شرطا لصحۃ الصلاۃ۔

اقول :  بلی شرط صحۃ الصلاۃ الطھارۃ وشرط طھارتہ ھذہ ظھور                                                                                                                                                                               

نہیں ہوتی۔ برتقدیر  اول آپ نے یہ کیوں فرمایا کہ بعد نماز ترك سوال سے اس کی نماز باطل ہوگئی اگرچہ اسے انکار کا گمان ہو یا شك کی صورت ہو۔ ترك واجب سے نماز فاسد نہیں ہوجاتی جب کہ یہ صحت نماز کی کسی شرط میں خلل انداز نہ ہو۔

اگریہ سوال ہو کہ جب اسے عطا کا ظن ہو اور نہ مانگے تو آپ نے اس کی نماز باطل ہونے کا کیسے حکم کردیا جبکہ اس نے ایك ایسا ہی کام ترك کیا جو صحت نماز کی شرط نہیں۔

اقول : (میں کہوں گا)کیوں نہیں نماز صحیح ہونے کی شرط طہارت ہے اور اس طہارت کی

 

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)

مسافر کما اشیر  الیہ فی المتون وصرح بہ فی التوشیح والنھایۃ والسراج والتتارخانیۃ والبحر والدر وغیرھا فقدجوزوا تأخر الشرط عن المشروط اقول لیس ھکذا بل التحقیق(۱) فیہ انہ شرط الحکم بصحۃ الاقتداء لاشرط نفسہ وھو مرادما ذکروا من الاشتراط کما افادہ فی الفتح واوضحناہ فی صلاۃ المسافر من فتاوٰنا وبالله التوفیق ۱۲ منہ غفرلہ (م)                                      

مسافر ہے جیسا کہ متون میں اس صورت کی طرف اشارہ آیاہے اور توشیح ، نہایہ ، سراج ، تاتارخانیہ ، بحر اور درمختار وغیرہا میں اس کی صراحت آئی ہے تو ان حضرات نے مشروط سے شرط کا مؤخر ہونا جائز رکھا اقول : (میں جوابًا کہوں گا) معاملہ اس طرح نہیں بلکہ اس بارے میں تحقیق یہ ہے کہ وہ علم صحت اقتدا کے حکم کیلئے شرط ہے خود صحت اقتدا کی شرط نہیں۔ علماء نے جو شرط ہونا ذکر کیا اس سے یہی مراد ہے جیساکہ فتح القدیر  سے یہ مستفاد ہے اور ہم نے اپنے فتاوٰی کے اندر نمازِ مسافر کے بیان میں اسے واضح کیا ہے اور خدا ہی سے توفیق ہے ۲۱ منہ غفرلہ (ت)

العجزوظھورالعجز یزول بظن عطاء لم یظھرخلافہ فاذاظن العطاء حکم بفسادصلاتہ موقوفاالٰی ان یظھر خلافہ فتصح اولا فتفسد باتاکما بینت اٰخرالمسائل فاذالم یسأل لم یظھر فبت فسادھالالاشتراط السؤال بل لفقدان ظھور العجز بخلاف مااذا ظن المنع فانہ لم یوجد معارض لظھور العجز وھو ظاھروکذا اذاشك لکونہ احتمالا لاعن دلیل فلایعارض الظاھر کماحققت اٰخر المسألۃ السادسۃ ولله الحمد۔

اقول :  ثم ھھنا عدۃ اسئلۃ ترد علی ظاھرکلام الامام فی النظرالظاھر اجبنا ان نوردھا ونردھا الاول جعلتم الشك فی الاعطاء والمنع شکا فی القدرۃ والعجز فاذن ظن المنع ظن العجز وقد قلتم ان غلبۃ الظن اقیم مقام حقیقۃ القدرۃ والعجز تیسیرا فاذا ظھرخلافہ لم یبق قائما مقامھما فقد افدتم انہ اذالم یظھرخلافہ یبقی قائمامقامھمافلم قلتم ان من ظن المنع ولم یسأل بعد ولم یعطہ

شرط یہ ہے کہ اس کا عجز ظاہر ہو۔ اور ظہور عجز ایسے ظن عطا سے ختم ہوجاتا ہے جس کے خلاف ظاہر نہ ہو۔ تو جب اسے عطا کا گمان ہوجائے حکم کیا جائے گاکہ اس کی نماز کا فاسد ہونا موقوف رہے گا یہاں تك کہ اس گمان عطا کے خلاف ظاہر ہو تو نماز صحیح ہوجائے گی یا اس کے خلاف ظاہر نہ ہو تو نماز قطعی طورپر فاسد ہوجائے گی جیسا کہ میں نے آخری مسئلہ میں بیان کیا جب اس نے سوال نہ کیا اس کے ظن عطا کے خلاف ظاہر نہ ہوا تو فسادِ نماز قطعی ہوگیا اس لئے نہیں کہ سوال شرط ہے بلکہ اس لئے کہ ظہور عجز مفقود ہے بخلاف اس صورت کے جب انکار کاظن ہو اس لئے کہ ظہور عجز کا کوئی معارض نہ پایاگیا یہ تو واضح ہے اسی طرح جب شك رہا ہو اس لئے کہ یہ احتمال بلادلیل ہے تو ظاہر کے معارض نہ ہوگا جیسا کہ میں نے مسئلہ ششم کے آخر میں اس کی تحقیق کی ہے۔ اور خدا ہی کیلئے حمد ہے۔ (ت)

اقول : اب یہ دیکھئے کہ یہاں امام صدر الشریعۃ کے ظاہر کلام پر بادی النظر میں چند اعتراض وارد ہوتے ہیں جنہیں ہم ذکر کرکے ان کی تردید کردینا چاہتے ہیں۔

پہلا اعتراض : عطاء ومنع میں شك کو آپ نے قدرت وعجز میں شك قرار دیا ہے اس لحاظ سے ظن منع ظن عجز ہوگا جبکہ آپ نے فرمایا ہے کہ غلبہ ظن کو آسانی کیلئے قدرت وعجزکی حقیقت ویقین کے قائم مقام رکھاگیا ہے پھر جب اس کے خلاف ظاہر ہوجائے تو وہ حقیقت قدرت وعجز کے قائم مقام نہیں رہ جاتا اس سے یہ مستفاد ہُوا کہ جب اس کے خلاف نہ ظاہر ہو تو وہ

صاحبہ بطلت صلاتہ مع ان عندہ ظن العجزولم یظھرخلافہ فیکون قائما مقام حقیقۃ العجز۔

الثانی :  رأی الماء وھو یصلی وظن المنع فاتم کماامرتم فلما فرغ وجد صاحبہ قدذھب ولایدری مکانہ فمتی توجبون علیہ السؤال  افی صلاتہ فیجب القطع وقد نھیتموہ ام بعدھا وقد ذھب وغاب فایجاب السؤال ایجاب المحال فوجب القول بادارۃ الحکم علی ظنہ۔

الثالث :  اذا اوجبتم السؤال بکل حال٭ وان لم یسأل حکمتم مطلقا بالابطال٭ فلاشك ان ظنہ بمعزل عن الحکم عند ترك السؤال٭ واذا سأل ظھرت الحقیقۃ وانسلّ الظن عن المجال٭ فمتی اقیم مقامھا ومالہ الاالزوال٭

ان دونوں کے قائم مقام رہتا ہے پھر آپ نے یہ کیسے فرمایا کہ جسے انکار کا گمان ہو اور اس نے ابھی مانگا نہیں اور پانی والے نے اسے دیا بھی نہیں تو اس کی نماز باطل ہوگئی باوجودیکہ اسے عجز کا گمان ہے اور اس کے خلاف ظاہر بھی نہ ہوا تو وہ حقیقت عجز کے قائم مقام رہے گا۔

دُوسرا اعتراض : اس نے نماز پڑھتے وقت پانی دیکھا اور اسے انکار کا گمان ہُوا تو جیسا کہ آپ نے حکم دیا ہے اس نے نماز پُوری کرلی جب فارغ ہُوا تو دیکھا کہ پانی والا چلاگیا اب کہاں ہے پتا نہیں۔ تو اب اس کے ذمہ آپ مانگنا کب واجب کرتے ہیں اگر نماز کے دوران ہی واجب کرتے ہیں تو نماز توڑنا واجب ہوگا جب کہ اس سے آپ نے منع فرمایا ہے اور اگر بعد نماز واجب کرتے ہیں تو اب وہ چلا گیا اور غائب ہوگیا ایسی صورت میں اس سے مانگنے کو واجب کرنا ایك امر محال کو واجب کرنا ہے لامحالہ اس کے ظن ہی پر مدرا حکم رکھنے کا قائل ہونا پڑے گا۔

تیسرا اعتراض : جب آپ نے ہر حال میں مانگنا واجب کیا اور اگر نہ مانگا تو مطلقًا ابطال کا حکم دیا اب دو ہی صورتیں ہیں سوال یا ترك سوال۔ ترك سوال کی صورت میں تو صاف ظاہر ہے کہ اس کے ظن کا حکم سے کوئی تعلق نہیں اور سوال کی صورت میں حقیقت خود ہی منکشف ہوجاتی ہے اور ظن میدان سے نکل جاتا ہے تو ظن کو حقیقت کے قائم مقام کب رکھا گیا جبکہ اس کے حصہ میں زوال کے سوا کچھ بھی نہیں۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن