30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پھر اگر زیادات کی عبارت میں فرغ من صلاتہ (وہ اپنی نماز سے فارغ ہو) کا مرجع مطلقا مصلی ہے تو یہ کہنا درست نہیں کہ “ سابقہ عبارتوں میں صریحًا ان دونوں صورتوں کا کوئی ذکر نہیں “ اور اگر اس کا مرجع خاص من ظن منعا اوشک “ (وہ جسے انکار کا گمان یا شك ہو)ہے تو “ باطلاقہ “ (اپنے اطلاق سے) کہنا درست نہیں۔ اس لئے کہ مباین اپنے مباین کے اطلاق میں داخل نہیں ہوتا۔ (ت)
اگر یہ کہو کہ شاید انہوں نے بطور توزیع وتقسیم ذکر کیا ہو تو جسے عطا کا گمان ہو اور نماز پوری کرلے اس کے لئے لفظ “ اشارہ “ رکھا اور جسے انکار کا گمان ہو یا شك ہو اور نماز توڑ دے اس کیلئے لفظ “ اطلاق “ رکھا۔ (ت)
اقول : (میں کہوں گا) یہ بھی صحیح نہیں اس لئے کہ نماز توڑنا نماز پڑھ چکنے اور اس سے فارغ ہونے کے مباین ہے تو “ اطلاق “ میں کیسے داخل ہوگا۔ یہ ذہن نشین رہے اقول : امام صدر الشریعۃ کے پُورے کلام کا ضبط نصف سطر میں یہ ہے کہ “ اگر وہ سوال نہ کرے یا اسے دے دے تو جو تیمم اور نماز اس نے ادا کیا وہ باطل ہوگیا اور اگر انکار کردے تو تام ہوا “ تو پہلی شرط اس صورت کو شامل ہے جب اس نے مانگا نہیں اور اس نے دے دیایانہ دیا اور اس صورت کو بھی جب اس کے
فی کل ذلك ظن منحا اومنعا اوشك ورأہ خارج الصلاۃ اوفیھا فقطع اواتم وان اردنا زیادۃ ماقدم عن الزیادات زدنا فی الشرط الاخری ولواعطاہ بعد الصلاۃ فیبقی العطاء فی الاولٰی مقیدا بما اذالم یکن بعد الصلاۃ عقیب اباء ویبقی للثانیۃ شقان سأل فلم یعط اواعطی بعد الصلاۃ مسبوقا باباء ثم زدنا بعدہ سواء ظن منحا اومنعًا اوشك غیرانہ ان ظن العطاء قطع الصلاۃ والالا۔
اقول : ولایخرج منہ مااذا سأل فلم یعط ولم یاب بل سکت وذلك لماقدمنا ان اعطاہ بعد السکوت قبل ان یراہ یصلی بالتیمم لم یکن السکوت اباہ فدخل فی الاول اعنی اعطاہ وان کان ھذا بعد الصلاۃ فلم یتقدمہ اباء وکان الحکم ح للعطاء دون السکوت والا کان اباء فدخل فی الثانی وکان الحکم ح للسکوت من جھۃ انہ
اپنے اطلاق اور اشارہ سے ان کے حکم پر دال ہیں'ـ' اھ
مانگنے پر اس نے دیا اور دوسری شرط کے تحت وہ صورت رہے گی جب اس کے مانگنے پر اس نے نہ دیا۔ اور کلام اپنے اطلاق سے یہ بھی بتائے گا کہ ان باتوں میں یہ سب صورتیں یکساں ہیں اسے دینے کا گمان رہا ہو یا نہ دینے کا یا شك رہا ہو اور اس نے بیرونِ نماز دیکھا ہو یا اندرونِ نماز دیکھ کر نماز توڑ دی ہو یا پُوری کی ہو۔ اور انہوں نے زیادات کے حوالہ سے جو پہلے بیان کیااگر ہم اس کا بھی اضافہ کرنا چاہیں تو دوسرے جملہ شرطیہ میں یہ الفاظ بڑھادیں “ اگرچہ بعد نماز اسے دے دیا ہو “ تو پہلے جملہ شرطیہ میں دینا اس سے مقیدرہے گا کہ انکار کرکے بعد نمازدینا نہ ہو اور دوسرے جملہ کے تحت دو۲ شقیں رہ جائیں گی(۱)مانگنے پر دیا نہیں(۲)یا انکار کرکے بعد نماز دیا پھر اس کے بعد ہم یہ بڑھادیں “ خواہ اسے دینے کا گمان رہا ہو یا انکار کا ، یا شك رہا ہو مگر یہ ہے کہ اگر دینے کا گمان ہو تو نماز توڑ دے ورنہ نہیں “ ۔ (ت)
اقول : اس سے وہ صورت خارج نہ ہوگی جب مانگنے پر اس نے نہ دیا نہ انکار کیا بلکہ خاموش رہا یہ اس لئے کہ ہم بتاچکے کہ اگر خاموش رہنے کے بعد اسے تیمم سے نماز پڑھتے ہوئے دیکھنے سے قبل دے دیاتو یہ خاموشی انکار نہیں تو یہ اول یعنی “ اعطاہ “ (اسے دے دیا) میں داخل ہے اور اگر یہ بعد نماز ہے تو اس دینے سے پہلے انکار نہ پایا گیااور اس صورت میں حکم عطا کا ہے سکوت کا نہیں۔ ورنہ (اگر بعد سکوت تیمم سے اسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھنے سے پہلے دینا نہ ہوا ) وہ سکوت انکار ہوکر شرط ثانی میں داخل ہوگا۔ اور اس صورت میں حکم
دلیل المنع۔
لکن اولا بقی(۱)مااذاسأل فلااعطی ولاابی بل وعدثم اخلف فان کان ھذاالوعد قبل الصلاۃ اوفیھابطل تیممہ قطعا وان لم یعطہ ولم یدخل فی قولہ ان لم یسأل اواعطاہ لانہ سأل ولم یعط وکذلك ان وقع بعدھاواختیربطلانھا مطلقاوان قلنا کماھوالظاھروالله تعالٰی اعلم ان الصلاۃ ماضیۃ ان ظھر خلفہ فھذہ صورۃ تمام الصلاۃ ولم تدخل فی قولہ ان ابی لان من وعد لایقال انہ منع وابی الاان یدعی ان الوعد عطاء فتدخل فی الاول ولکن یحتاج الی دلیل واین الدلیل بل الدلیل علٰی خلافہ کمابینا۔
فان قلت بل نختار ان الوعد المخلف اباء فتدخل فی الثانی ولعل ھذا غیر بعید بالنظر الی مااٰل الیہ الامر۔
اقول : ان لم یجعل الوعد عطاء لم ینفع وان جعل لم یحتج الیہ وذلك لان الاخلاف ان کان اباء مستند ای من حین وعد
سکوت کا ہے اس وجہ سے کہ وہ دلیل انکار ہے۔
لیکن اولا وہ صورت رہ گئی جب اس نے مانگا تو اس نے نہ دیا نہ انکار کیا بلکہ وعدہ کیا پھر اس کے خلاف کیا تو اگر یہ وعدہ نماز سے پہلے یا نماز کے دوران ہوا ہو تو اس کا تیمم قطعًا باطل ہوگیا اگرچہ اس نہ دیا اور یہ “ ان لم یسأل او اعطاہ “ (اگر اس نے نہ مانگا یا اس نے دے دیا)کے تحت داخل نہ ہُوا۔ اس لئے کہ اس نے مانگااور اس نے نہ دیا اسی طرح اگر یہ وعدہ بعد نماز ہوا۔ اس میں مطلقًا بطلان نماز اختیار کیا گیا ہے اگرچہ ہم نے جیسا کہ ظاہر ہے اور خدائے برتر خُوب جاننے والاہے یہ کہا کہ نماز ہوگئی اگر وعدہ خلاف ظاہر ہوئی کہ یہ نماز تام ہونے کی صورت ہے اور “ ان ابی “ (اگر انکار کیا)کے تحت داخل نہیں اس لئے کہ جس نے وعدہ کیا اس کے بارے میں یہ نہ کہا جائے گاکہ اس نے منع وانکار کیا لیکن اگر یہ دعوٰی کیا جائے کہ وعدہ عطاہے تو یہ صورت شرطِ اوّل کے تحت داخل ہے۔ لیکن اس دعوٰی پر دلیل کی ضرورت ہے۔ اور دلیل کہاں؟ بلکہ دلیل تو اس کے خلاف پر موجود ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا۔ (ت)
اگر یہ کہے کہ ہم یہ اختیار کرتے ہیں کہ وہ وعدہ جس کے خلاف عمل ہو وہ انکار ہی ہے تو یہ صورت شرط ثانی کے تحت داخل ہوگی۔ اور یہ مآل کار کے اعتبار سے کچھ بعید بھی نہ ہوگا۔
اقول : (میں کہوں گا) اگر وعدہ کو عطا نہ قرار دیا جائے تو سُودمند نہیں اور اگر عطا قرار دیا جائے تو اس کی ضرورت نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ وعدہ خلافی اگر انکار مستند ہے یعنی وقت وعدہ سے ،
وردت المسألۃ الاولی حیث وعد قبل تمام الصلاۃ واخلف فقد اثرمع کونہ اباء وان کان اباء مقتصرا ای من حین اخلف ولم یکن اعطاء حین وقع وردت ایضا لانہ سأل ولم یعط فلم توجد شریطۃ الابطال فلم بطلت فلامحید الاجعل الوعد عطاء بعینہ وھو خلاف المعقول والمدلول والله تعالٰی اعلم۔
وثانیا : کون(۱) ماء الطھارۃ مبذولا عادۃ فی کل مکان٭ بطلانہ غنی عن البیان٭ یعرفہ البلہ والصبیان وشان المبسوط یجل عن ارادتہ فوجب ردہ الی ماوفق بہ الائمۃ الجلۃ ابوبکر الجصاص وابوزید الدبوسی وابونصر الاصغار علیھم رحمۃ الغفاران المراد موضع لایعز فیہ الماء فاذن کلام المبسوط حیث یظن العطاء فکیف یقال سواء غلب علی ظنہ الاعطاء اوعدمہ اوشک۔
وثالثا : ھل(۲) السؤال مطلقا سواء ظن ظنا اوشك واجب علیہ غیرمشترط لصحۃ الصلاۃ ام ھو شرطھا علی الثانی کیف صح الشروع فیھا بلاسؤال وکیف جاز المضی فیھا لمن ظن
توپہلا سوال وارد ہوگا کیوں کہ اس نے قبل تمام نماز وعدہ کیااور خلاف کیا تو یہ انکار ہونے کے باوجود اثرانداز ہوا(جب کہ صورتِ انکار میں نماز تام ہوتی ہے) اور اگر انکار مقتصرہو یعنی وقت عدم وفا سے ، اور جب وعدہ ہوا ہے اس وقت دینا نہ ہو تو بھی پہلا سوال وارد ہوگا۔ اس لئے کہ “ اس نے مانگا اور اس نے نہ دیا “ تو ابطال کی جو شرط تھی(نہ مانگا یا اس نے دے دیا)وہ نہ پائی گئی پھر نماز کیوں باطل ہوئی توکوئی مفر نہیں سوااس کے کہ وہ وعدہ کو بعینہٖ عطا قرار دیں اور یہ معقول ومدلول دونوں کے خلاف ہے۔ (ت)
ثانیا : آب طہارت ہر جگہ عادۃً دے دیا جاتا ہے اس کا بطلان بیان سے بے نیاز ہے بے وقوفوں اور بچّوں کو بھی معلوم ہے اور مبسوط کا مقام ایسا معنی مراد لینے سے بلند ہے تو اس کے کلام کو اسی طرف پھیرنا ضروری ہے جس سے امام ابوبکر جصاص ، امام ابوزید دبوسی اور امام ابونصر صغار علیہم الرحمۃ نے تطبیق دی کہ مراد ایسی جگہ ہے جہاں پانی کم یاب نہ ہو اب مبسوط کا کلام یہ ہوگا کہ(ایسی جگہ سوال نہ کیا) جہاں پانی دینے کا گمان ہو۔ پھر یہ کیسے کہاجائےگاکہ (عدم سوال مبطل ہے)خواہ اسے دینے کا ظن ہو یا نہ دینے کا یا شك کی صورت ہو۔
ثالثا : کیا ایسا ہے کہ مانگنا خواہ کوئی گمان ہو یا شك ہو مطلقًا اس پر واجب ہے مگر صحتِ نماز کی شرط نہیں یا اس کی شرط بھی ہے۔ برتقدیر ثانی بغیر مانگے اس کا نماز شروع کرنا کیسے صحیح ہوا؟ اور ظن منع یا شك والے کیلئے
منعااوشك بل وکیف قلتم فیمن یظن العطاء یقطعھا وانما القطع لماانعقد وما ذانفع الفرق ھھنا بین ظن العطاء وغیرہ فترك الشرط مبطل مطلقا وکیف امضیتموھا اذا سأل بعدھا فابی وان کان یظن العطاء فان ماوقع باطلا لفقد شرط من شروط الصحۃ لاینقلب جائزا بعد کمن ظن قربہ ولم یطلب وصلی بالتیمم ثم طلب فلم یجد بطلت ایضا کما تقدم عن السراج الوھاج والجوھرۃ۔
بل کیف یتأخر عنھا سؤال کان شرطالھا عــہ والشرط لایتأخر عن
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع